آسٹریا- (27اپریل: قومی دن کے موقع پر خصوصی تحریر)

ڈاکٹر ساجد خاکوانی

جمہوریہ آسٹریاجنوبی،وسطی یورپ کاایک پہاڑی علاقوں پرمشتمل ملک ہے،اسکے مغرب میں سوئزرلینڈ،شمال مغرب میں جرمنی،شمال میں جمہوریہ زچ ،شمال مشرق میں سلواکیہ،مشرق میں ہنگری،جنوب مغرب میں اٹلی اورجنوب میں سلوانیہ ہے۔اس ملک کاکل رقبہ کم و بیش بتیس ہزار مربع میل ہے اور’’وینا‘‘ اسکا دارالخلافہ ہے جہاں ملک کی بیس فیصد آبادی مکین ہے،یہ شہریورپ کے مشہور شہروں میں سے ایک ہے۔اپنی جغرافیائی اہمیت کے اعتبار سے آسٹریا اگرچہ ایک چھوٹاساملک ہے لیکن وسطی یورپ میں ہونے کے باعث پورے یورپ کی تجارت کے راستے اسی ملک سے ہوکر جاتے ہیں۔تجارت یورپ کے مشرق اور مغرب کے درمیان ہویا شمال اور جنوب کے ممالک کے درمیان،آسٹریا وہ ملک ہے جو یورپ کے چاروں اطرف کو شاہراہ تجارت کی سہولیات فراہم کرتاہے اوراسی وجہ سے آسٹریاکا سڑکوں ،دریائی راستوں اور ریلوے کانظام بہت عمدہ ہے۔آسٹریااگرچہ سمندر سے محروم ہے لیکن یہ جھیلوں کی سرزمین ہے اور ایک بہت بڑا دریااس ملک کے پہاڑوں میں بے شمار ندی نالوں سمیت بہتاہے۔نو سے بیس ڈگری سینٹی گریڈ یہاں کا درجہ حرارت رہتاہے اور پانچ سے دس فٹ سالانہ برف باری بھی یہاں ریکارڈ کی جاتی ہے۔آسٹریاکادوتہائی رقبہ جنگلات پر مشتمل ہے اور اس لحاظ سے یہ یورپ کاسب سے امیر ملک ہے۔یہاں کے جنگلات میں ہرن اورخرگوش بہت کثرت سے پائے جاتے ہیں اور سال بھر کے کچھ مہینوں میں انکاشکار ممنوع کردیاجاتاہے۔الوں اور شاہینوں کی بعض نایاب نسلیں یہاں پائی جاتی ہیں۔تیل،کوئلہ،لکڑی ،لوہااور کاپر سمیت زنک بھی یہاں کی مشہور معدنیات اور قدرتی خزانے ہیں۔
آسٹریاکے وسطی اور مغربی علاقوں میں رہنے والے لوگ یہاں پر صدیوں پہلے سے آئے ہوئے ہیں،یہ لوگ جن قبائل کی نسل ہیں وہ قبائل اس علاقے کی زرخیزی کے باعث یورپ کے دیگر علاقوں سے ہجرت کر کے یہاں پہنچے تھے۔مشرقی علاقہ میں چونکہ موسم کی شدت کے باعث زراعت نسبتاََمشکل ہے اس لیے ان نووارد قبائل نے اس سرزمین کا مغربی علاقہ منتخب کیا۔آسٹریامیں باقائدہ ثقافتی زندگی کے آثار800ق م میں ملتے ہیں،’’کلٹی ‘‘نسل کے لوگ یہاں 400ق م میں واردہوئے اور انہوں نے ’’نوری کام‘‘نام کی سلطنت کی بنیاد ڈالی،آسٹریاکی سرزمین پر یہ کسی سلطنت کا سب سے پہلاوجود تھا۔15ق م میں یہاں پر رومی افواج نے قبضہ کرلیا۔کئی صدیوں تک یہ علاقہ رومیوں کے زیرتسلط رہاانہوں نے یہاں متعدد نئے شہر آباد کیے جو آج تک انہیں ناموں سے قائم ہیں،رومیوں کاسب سے بڑا کارنامہ آسٹریامیں سڑکوں کی تعمیر ہے اس زمانے کے دریافت کیے ہوئے راستے آج بھی دو شہروں کے درمیان رابطے کاذریعہ ہیں۔پانچویں صدی میں جرمنوں کے زبردست حملوں کے باعث یہاں سے رومی اقتدارکابستر گول ہوگیا۔اس سے قبل چوتھی صدی کے وسط میں یہاں پر مذہب عیسائیت بھی جڑیں مضبوط کر چکاتھا۔رومن کیتھولک چرچ کے متعدد پادری یہاں مذہب عیسائیت کی تبلیغ کے لیے آئے بعد میں پروٹسٹنٹ چرچ نے بھی یہاں کے لوگوں میں بہت اثرونفوذحاصل کیا۔
آسٹریا بیاسی لاکھ سے کچھ زائد آبادی کا ملک ہے اور آبادی میں اضافے کا تناسب 0.052%ہے۔ملک کی آدھے سے زیادہ آبادی دیہاتوں کی باسی ہے ۔98%آبادی جرمن بولتی ہے اور اسکے علاوہ ترکوں کی ایک معقول تعداد بھی یہاں آباد ہے جبکہ ادارالخلافہ میں بہت سی دیگر قوموں اور ملکوں سے آئے لوگ بھی رہائش پزیر ہیں۔90%لوگ مذہب عیسائیت کے ماننے والے ہیں جبکہ بقیہ آبادی دوسر ے مذاہب کی پیروکارہے اور ایک قلیل تعداد ایسی بھی ہے جو کسی مذہب پر چلنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔یہودیوں کے دعوے کے مطابق ہالوکاسٹ کے دوران یہودیوں کی بہت بڑی تعداد ماری گئی تھی جبکہ 1990ء میں یہودی کم و بیش دس ہزار کی تعداد کوپہنچ گئے تھے۔ ’’گراز‘‘یہاں کادوسرابڑاشہر ہے جو بلکان کے صدر دروازے کاکردار اداکرتاہے،’’لنز‘‘نامی شہرایک اہم صنعتی مرکزہے،’’انزبرق‘‘ریلوے سروس کا بہت بڑامرکزہے اور پورے آسٹریامیں یہیں سے ریلوے ٹریفک جاری ہوتی ہے آسٹریامیں ریلوے لائین کی کل لمبائی 6383کلومیٹر ہے۔’’سلزبرگ‘‘کی پہچان فن موسیقی ہے،آسٹریاکی روایتی موسیقی اور دیگر تہذیبی شعارکویہاں کثرت سے مطالعہ کیاجاسکتاہے اور’’کل جنفرٹ‘‘اٹلی اور بلکان کی طرف جانے والے راستے کا شہر ہے۔’’ڈنوبے‘‘یہاں کا مشہور دریاہے اوراس دریا کی دوسری اہمیت یہ ہے کہ جرمنی اوربحراسود کے درمیان یہ واحد بحری راستہ فراہم کرتاہے۔’’ڈنوبے سٹیم شپ کمپنی‘‘اس دریاکے راستے مسافروں اور سامان کی ترسیل کے لیے رسل کی سہولیات فراہم کرتی ہے۔آسٹرین ائرلائنزنے1958میں اپنی تجارت کاآغازکیااوراب اس کمپنی کی پروازیں دنیابھر کے ہوائی اڈوں پر پہنچتی ہیں۔ملک بھرمیں تیس ہوائی اڈے ہیں جوملکی اور غیرملکی پروازوں کو فنی سہولیات فراہم کرتے ہیں۔
1920ء کے آئین میں بہت زیادہ تبدیلیاں کر کے تو1929میں اسے نافذ کیاگیا جس کے تحت آسٹریاایک جمہوری مملکت ہے ۔آئین کے مطابق نو کی تعدادمیں نیم مختار ریاستیں اس ملک میں قائم کی گئیں۔1934ء میں اس جمہوری آئین کوبدل کر ایک چانسلر کے تحت ملک کو دینے والا قانون منظور کرلیاگیا،1938ء میں نازی جرمنوں نے اسے ہٹلر کے ماتحت کر دیا،1945میں دوبارہ 1929والی ترامیم پر مشتمل آئین نافذ کردیاگیا۔دوسری جنگ عظیم کے بعدایک معاہدے کے تحت 27اپریل 1945کو یہاں پر’’کرل رینر‘‘کی سربراہی میں ایک آزاد ریاست وجود میں آ گئی۔آسٹریاکاصدر چھ سالوں کے لیے منتخب ہوتاہے،وہ ایک فیڈرل چانسلراورکابینہ کاتقرربھی کرتاہے اور اپنے اختیارات اس کابینہ کے ارکان میں تقسیم کردیتاہے۔صدرکو اسمبلی توڑنے کااختیار بھی حاصل ہے اوربحیثیت صدروہ ملک کی افواج کاسربراہ بھی ہوتاہے۔یہاں کی پارلیمان دو ایوانوں پر مشتمل ہے نیشنل کونسل اور فیڈرل کونسل۔نیشنل کونسل میں قانون سازی ہوتی ہے جبکہ فیڈرل کونسل میں ریاستوں کے نمائندے بیٹھتے ہیں۔نیشنل کونسل کے183اراکین ہیں جنہیں ملک بھر کے 19سال سے زائد عمر کے لوگ منتخب کرتے ہیں۔جبکہ26سال سے زائد عمر کے لوگ الیکشن میں کھڑے بھی ہوسکتے ہیں۔پارلیمان کے اراکین متناسب نمائندگی کے تحت اس ایوان میں پہنچتے ہیں اور وہاں کی ریاستیں اپنی نمائندگی کے لیے متناب نمائندگی کے تحت اپنے اپنے منتخب نمائندے فیڈرل کونسل میں بھی بھیجتی ہیں۔قانون سازی کے لیے سفارشات پہلے نیشنل کونسل میں لائی جاتی ہیں اور پھر فیڈرل کونسل سادہ اکثریت سے انہیں منظور یامسترد کر دیتی ہے۔نوریاستیں اپنے اپنے گورنرزکے تحت اپنی حکومتیں چلاتی ہیں،یہ گورنرمنتخب ہوتے ہیں جبکہ اسی طرح مقامی حکومتیں بھی منتخب نمائدوں کی مددسے اپنا رئیس البلدیہ منتخب کر کے توسے اپنا اپنا کاروبارسلطنت چلاتی ہیں۔
آسٹریامیں عدلیہ کے معاملات انتظامیہ سے الگ کر دیے گئے ہیں۔یہ وہ تصور ہے جو تاریخ انسانی میں سب سے پہلے حضرت عمر نے پیش کیاتھا۔آسٹریامیں رومی قانون کچھ ترمیمات کے ساتھ نافذ ہے اور یہاں عدلیہ پر کوئی حکومتی دباؤ نہیں ہوتا۔ججوں کی تقرری کی ذمہ داری ایک جوڈیشیل پینل پر ہے ،جوڈیشیل پینل اپنی سفارشات کابینہ کو بھیجتاہے جہاں سے ججوں کی تقرری،تبالہ اور مدت ملازمت میں اختتام کے فیصلے جاری ہوتے ہیں۔آسٹریامیں تین ہائی کورٹس ہیں اور ایک آئینی عدالت بھی ہے جس میں انتخابات سمیت بنیادی حقوق سے متعلق اپیلوں کی سماعت کی جاتی ہے۔آسٹریامیں 18سے50سال تک کے لوگ فوج میں ملازمت کے اہل ہیں،عموماََ چھ ماہ کی فوجی تربیت ہر شہری کو دی جاتی ہے اور اس طرح آدھی سے زیادہ قوم فوج کا حصہ ہے۔6سے 15سال کی عمر میں تعلیم کاحصول لازمی ہے،اس کے علاوہ تعلیم بالغاں کی بھی بہت بڑی مہم ساراسال ملک میں جاری رہتی ہے،شرح خواندگی98%ہے۔آئین کے مطابق یہاں اظہار رائے کی آزادی کااحترام کیاجاتاہے اور متعدد اخبارات و رسائل اور ٹیلی ویژن چینل آزادی سے سے اپنے دائرہ کار کے اندر رہ کر قوم کو حالات سے آگاہی اور تفریح طبع کاسامان فراہم کرتے ہیں۔
آسڑیا یں مسلمانوں کی آمد کا سلسلہ 1960کے بعد شروع ہوا،ترکی،بوسنیا،ہرزگوینیااورسربیاسے زیادہ تر مسلمان اس زمانے میں یہاں پر آئے اب عرب اور پاکستان کے مسلمانوں کی ایک معقول تعدادبھی موجود ہے۔2010کی مردم شماری کے مطابق آبادی میں 6%مسلمان ہیں جوکہ چار سے پانچ لاکھ کے درمیان بنتے ہیں جبکہ صرف دارالحکومت ’’وینا‘‘میں7.82%مسلمان ہیں۔آسٹریا کے انتہائی مغربی علاقے کی متعدد شہروں میں مسلمانوں کی بہت زیادہ تعداد ہے جو تقریبانوفیصد تک جا پہنچتی ہے۔آسٹری حکومت نے مسلمانوں کو مذہبی گروہ کی حیثیت سے تسلیم کیاہواہے۔1979ء میں مسلمانوں نے یہاں پر اپنی مقامی تنظیم بنائی،اب اس تنظیم کو سرکاری اسکولوں میں مذہبی تعلیم دینے کی اجازت بھی مل گئی ہے۔اس تنظیم کو ’’چرچ ٹیکس‘‘وصول کرنے کا قانونی اختیار حاصل ہے لیکن آج تک اس اختیارکو استعمال نہیں کیاگیا۔یہاں کی مساجد کو مسلمانوں کی مذہبی زندگی میں بہت اہم مقام حاصل ہے،مسلمانوں کے متعددگروہ اور تنظیمیں اپنی اپنی مساجد کاانتظام سنبھالے ہوئے ہیں۔

(یو این این)



⋆ ڈاکٹر ساجد خاکوانی

ڈاکٹر ساجد خاکوانی
ڈاکٹر ساجد خاکوانی پاکستان کے نامور کالم نگارہیں۔