متفرقات

سادگی کا نکاح!

آج ہم اپنے نکاحوں پرایک نظرڈالیں، کتنے ایسے لوازمات ہیں، جن کے پوراکرنے میں بیٹی کے والدین تومقروض ہوتے ہی ہیں، اب بیٹے کے والدین بھی قرض لینے پرمجبورہورہے ہیں۔ گھوڑے جوڑے کی رقم،دلہا اوردلہن کے پورے خاندان والوں کے لئے کپڑے، نکاح کے کھانے میں ایک بڑی تعدادکی ضیافت، پھراس ضیافت میں کئی طرح کی ڈشز کا اہتمام، ہال کرایہ پرلے کرہال میں نکاح خوانی کی رسم، دلہن کولانے کے لئے باراتی لے جانے کارواج، جہیز کے نام پرلاکھوں روپے کے اسباب اورپھرولیمہ میں عدمِ استطاعت کے باوجودپورے محلہ کی دعوت یہ سارے وہ رسوم اورلوازمات ہیں، جن کے بوجھ تلے بیٹے اوربیٹی کے والدین اس طرح دب جاتے ہیں کہ تاعمراپنی کمرپھرسیدھی کرنے کی طاقت نہیں رہ جاتی۔

مزید پڑھیں >>

نوشاد عثمانی: ایک ہمہ جہت شخصیت

گزشتہ روز قبل آپ سے میری ملاقات انڈیا گیٹ پر جو ہوئی تھی اور میں نے کہا تھا کہ اسٹار نیوز والے نوشاد عثمانی صاحب جو اُنہیں آپ جانتے ہیں ؟ توآپ نے کہا کہ ہاں وہ تو نبی کریم  ہی میں رہتے ہیں ان ہی سے ملنے آیا ہوں انہوں نےکہا کہ جی جناب بالکل مل کرہی جائیں گا پہلے ہم لوگ چلتے ہیں چائے نوش فرما لیتے ہیں حافظ جی نے کہا ہاں بھائی وہیں چلیں آپ نوشاد عثمانی صاحب کو فون بھی کر لیجئے گا چائے آنے سے قبل ہی محترم نوشاد عثمانی صاحب کو فون کیا 

مزید پڑھیں >>

ٹشو پیپر کا مقدر

وہ اپنے منافقانہ و خود غرضانہ ’طرز زندگی ‘ کے بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ مغرب کے عشرت کدوں میں پلنے والی مکروہ تہذیب و ثقافت کے پروردہ لوگ جنہوں نے نام نہاد روشن خیالی آزادی اور جمہوردوستی کے ظاہراً خوش نما نقابوں اور لبادوں میں خود کو چھپا رکھا ہے،آج پہلی بار خود کو خطرے میں محسوس کر رہے ہیں !فرعون نے بھی جب موسیٰؑ کی پاکیزہ دعوت کو چیلنج کیا تھا تو اسی طرح چلا اٹھا تھا کہ ’وہ  مصریوں کی مثالی تہذیب و طرز زندگی کے دشمن ہیں ‘! آج کے فرعون بھی اسی لیے پاگل ہو رہے ہیں کہ وہ’ وقت کے موسیٰ ‘کی آمد کو قریب دیکھنے لگے ہیں !

مزید پڑھیں >>

شراب و منشیات: سماجی ناسور! (تیسری قسط)

 آج بین الاقوامی سطح سے لے کر ملکی سطح تک ہر سال ایک خاص دن انسداد منشیات کا منایا جاتا ہے۔ گزشتہ سال منعقدہ اسی طرح کی ایک تقریب سے سابق صدر جمہوریہ ہندمسٹر پرنب مکھرجی نے مخاطب ہوتے ہوئے کہا تھا کہ منشیات کے شکار لوگوں کی شناخت،رہنمائی، کائونسلنگ اور نشے کی لت چھڑانے کے ساتھ ساتھ ان کی دیکھ بھال اور باز آباد کاری کے لیے بھی مکمل خدمات فراہم کی جانی چاہیں ۔ وہیں یہ بات بھی آپ پر واضح ہے کہ شراب نوشی اور منشیات کی لعنت دراصل ذہنی،طبی اور معاشرتی مسئلہ ہے۔ جس سے نمٹنے کے لیے جامع طریقہ کار کی ضرورت ہے۔ جامع علاج اورپروگرام کا مقصد صرف متاثرہ لوگوں کی شراب نوشی اور منشیات چھڑانے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ بلکہ اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ منشیات کے شکار لوگوں کو منشیات سے آزاداورجرائم سے آزاد ی فراہم کرنے کے بعد روزگار سے وابستہ کیا جائے تاکہ وہ معاشرے کے لیے کار آمد ممبر بن سکیں۔

مزید پڑھیں >>

میاں بیوی کے اچھے اور برے تعلقات کے اثرات و نتائج (تیسری قسط)

حاصل کلام یہ کہ مرد کا ناگزیر حالات میں طلاق کا اختیار دیا گیا ہے لیکن شریعت کا حقیقی منشا یہ معلوم ہوتا ہے کہ انتہائی نا گفتہ بہ حالت میں بھی جہاں نصیحت، ہجر فی المضاجع اور ضرب و تعزیر بھی ناکام ہو جائیں اور نظر بظاہر طلاق کے سوا کوئی صورت نظر نہ آتی ہو وہاں بھی وہ اصلاح احوال کیلئے ایک اجتماعی کوشش کا حکم دیتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے!

وطن سے محبت صرف جذبات اور احساس میں نہیں ہونی چاہیے بلکہ ہمارے کردار میں بھی نظر آنی چاہے ہمیں اس کے لیے دعا کرنی چاہیے کہ ہمارے ملک کو اﷲ ہمیشہ سلامت رکھے اور لوگوں کے دلوں میں وطن کی محبت کو اﷲ ہمیشہ زندہ رکھے۔ ہم نے وطن کے لیے کیا کیا اور ہمار ا معاشرے میں کیا کردار ہے جو ہم نے وطن کے لیے ادا کیا ان سب چیزوں پر غور کرنے کی ضررت ہے تبی ہم ایک عظیم ریاست قائم کر سکیں گے۔

مزید پڑھیں >>

انصاف معاشرتی توازن کی اکائی!

دراصل انصاف ہی معاشرے کا توازن برقرار رکھنے کی بنیادی اکائی ہے۔ اس مضمون کا بنیادی مقصد ہرقیمت پر انصاف کی عمل داری کو یقینی بناناہے جو کہ اسلامی شعار کے عین مطابق ہے اور یہ اسی دور کی باتیں ہیں۔ وہ تمام معاشرے یا ممالک جو آج ترقی کی منزلیں طے کرکے ترقی یافتہ بن چکے ہیں ان کے یہاں انصاف بلا تفریق کیا جاتا تھا اور کیا جاتا ہے۔ جبکہ ہمارے یہاں تو تفریق ہی تفریق ہے۔ 

مزید پڑھیں >>

سب کو معیشت کی پڑی ہے معاشرہ بگڑگیا!

انسان اپنی ترجیحات طے کرتا ہے پھر ان پر عمل کرنے کیلئے کمر بستہ ہوتا ہے۔ بھوک افلاس دنیا کا سب سے بڑا مسلۂ ہے اور نا معلوم کب سے ہے، شائد یہ مسلۂ تاریخ کی تاریکی سے جڑا ہوا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے،انسان کی بھوک بھی بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ دنیا اکیسویں صدی سے گزر رہی ہے جسے جدید ترین ایجادات کی صدی کہا جاسکتا ہے۔ اتنی جدت کے بعد بھی دنیا میں بھوک اور افلاس کا خاتمہ نہیں ہوسکا۔

مزید پڑھیں >>

وی آئی پیز سیکورٹی: عوام کا محافظ کون؟

سرکاری وسائل کا ناجائز اپنے مقاصد کیلئے استعمال اور امانت میں خیانت کرنے والا انسان سکون نہیں پا سکتا، لوگوں کی معصومیت و اعتماد سے کھیلنے والے فرد کوکبھی خوشیاں حاصل نہیں ہو سکتیں۔ بظاہر نظر آنے والی خوشیاں نظر کا فریب ہیں ضمیر کی آواز پر کان دھریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے اندر کی تنہائیاں چیخ چیخ کر ہمیں اپنے غلط ہونے کا احساس دلاتی ہیں۔ ہم سب اپنی ذات اور مفادات کے پجاری بن چکے ہیں، ہم بس اپنی خواہشات ہی کی پرستش کر رہے ہیں، خود ستائی و خود فریبی کا شکار ہو کر ایسے ایسے کام کر بیٹھتے ہیں جن سے صرف ہم نہیں ہم سے وابستہ کئی زندگیاں تباہ ہو جاتی ہیں۔

مزید پڑھیں >>

 تاکہ جوانی رہے تیری بے داغ۔۔۔!

اگر جنسی اس بے راہ روی کے سیلاب پر بند لگانا ہے تو مسلم معاشرہ کوبھی آگے آنا ہوگا جونوجوان معاشی کمزوری کی وجہ سے نکاح کی استطاعت نہ رکھتے ہوں ان کی امدادواعانت کرنی ہوگی، زکاۃ اور دیگر اسلام کے مالی واجبات کے ذریعہ ان نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرناہوگا، ان کوآمادۂ نکاح کرنا ہوگا، اسطرح معاشرہ عفیف اور پاکیزہ ہوگا، جس کے اچھے اثرات نہ صرف اس فردِواحد سے وابستہ ہونگے، بلکہ سارامعاشرہ ان اچھے اثرات سے مستفید ہوگا، خودمسلمانوں کی فلاحی اور رفاہی تنظیموں کوبھی اجتماعی شادیوں کے نظم کے ذریعے سماج اور معاشرہ کی ایک بڑی ضرورت کو پوراکرناہوگا۔

مزید پڑھیں >>