متفرقات

ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں

 انسان اورحیوان میں بہت مماثلتیں ہیں۔ مثلاً سانس لینے کے لئے ہوا کی ضرورت، زندگی کی نشوونما کےلئے پانی اور خوراک کی طلب، دیکھنے کے لئے آنکھیں، سننے کے لئے کان، انسانوں کی طرح نظام انہضام چلنے کے لئے پاﺅں وغیرہ لیکن اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل عطاءکرکے اشرف المخلوقات بنا دیا۔ اس عقل کے باوجود اگر انسان کا دل پتھر بن جائے اس کا ضمیر مردہ ہو جائے یا کسی نے اپنی انسانیت کا گلاگھونٹ رکھا ہے تو اس نے گویا انسان کا محض لبادہ اوڑھ رکھا ہے اندر سے وہ کیاہے؟ یہ اس کی فطرت ہی بتاسکتی ہے.

مزید پڑھیں >>

بیٹیاں بوجھ نہیں بلکہ رحمت ہیں!

بچوں کی نگہبانی و نگرانی کریں کہ ان کے ہاتھوں میں جدید ٹیکنالوجی کے آلات دینے کے بعد اس کا مزید اہتمام کریں کہ کہیں بچہ بری سوسائٹی و گروپ کا حصہ نہ بن جائے، تعلق و واسطہ قریبی عزیزوں اور دوستوں کے علاوہ قائم کرنے سے منع کیا جائے۔اجنبی افراد کی شیطانی نظروں سے حفاظت کے ٹھوس انتظامات کیے جائیں۔

مزید پڑھیں >>

لبرل ازم LIBERALISM  

لبرل ازم مذاہب کا دشمن ہے یہ براہ راست مذاہب سے ٹکراتا ہے کیونکہ لبرل ازم انسان سے اس بات کا تقاضا کرتا ہے کو وہ خود کو صرف اور صرف لبرل تصور کا پابند بنائے۔ مذہب اپنی فطرت میں انسان کو اپنے سامنے جھکنے کا حکم دیتا ہے۔ کوئی بھی مذہب انسان کو مقتدر قرار نہیں دیتا اور اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ اپنی مرضی اور خواہشات کے مطابق عمل اختیار کرے۔ مذہب انسان کو ایک مخصوص نظم و ضبط کا پابند کرتا ہے چاہے وہ نظم و ضبط اس کی پوری زندگی کا احاطہ کرتا ہو یا صرف اخلاقی اور روحانی مسائل تک محدود ہو۔

مزید پڑھیں >>

گفتگو ہی انسان کو۔۔۔۔!

اللہ تعالی نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور تمام مخلوقات میں انسان کو  ممتاز بنایا ہے۔ اللہ رب العالمین نے ہر جاندار کو زبان دی ہے لیکن بولنے کا، اچھے میاری الفاظ چننے، استعمال کرنے اور شیرین زبان میں گفتگو کرنے کا شرف صرف انسانوں کو ہی عطا کیا ہے۔ انسان کی مختلف خصوصیات میں سے ایک خصوصیت گفتگو ہے۔ اسی کی وجہ سے انسان اپنی دلی کیفیات کا اظہار کرتا ہے۔ شیرین گفتگو ایک فن ہے یہ ایک ایسا عمل ہے جس سے انسان یا تو دل میں اترتا ہے یاپھر دل سے اتر جاتا ہے۔ گفتگو ہی سامنے والے کے عیب و ہنر کردار اور خاندان کا پتہ دیتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

میں کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کروں

ہم کسی ایسے جرم کی ذمہ داری کسی ایک کے کاندھوں پر نہیں لاد سکتے، ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں یہاں کم از کم اپنی نسلوں کی پرورش اور تربیت کی ذمہ داری خود ہی اٹھانی پڑے گی، اسکولوں اور ٹیوشن سینٹروں میں دی جانی فیسوں کے ساتھ اب انکے تحفظ کی بھی فیس شروع کئے جانے کا امکان روشن ہوچکا ہے۔ ہم لوگ اخلاقیات کی قدروں سے انحراف کرنے کی سزا ضرور بھگتینگے، ہم خود کو مشرق سے مغرب میں منتقل کرنے کی سزا ضرور بھگتنینگے۔ ہم بے راہ روی کو سماجی ترقی کا نام اور ساتھ دینے کی سزا ضرور بھگتینگے۔ ہم گھر وہی رکھنے اور پتے بدلنے کی سزا

مزید پڑھیں >>

IND VS SA: کارواں کیوں لٹا کیپ ٹاؤن ٹیسٹ میں؟

ہم فوری طور پر یعنی چوتھے دن ہی ہدف حاصل کرنے میں لگے نظر آئے. ہم جوش میں ہم بھول گئے کہ وہ صورتحال ٹھنڈا کرکے  کھانے والی تھی. ایسی خوشگوار صورتحال تھی کہ اگر یہ اصول بنا لیتے کہ شروع کے دس بیس اوور میں رن بنانا ہی نہیں ہے اور صرف وکٹ محفوظ رکھنا ہے تو کوئی فرق نہیں پڑنا تھا کیونکہ وقت کی کسی طرح کی کوئی فکر تھی ہی نہیں. ہماری حکمت عملی صرف گیند بازوں کو تھكانے کی بننی تھی. اس کے لئے چاہے وراٹ کوہلی اور ساہا کو ہی اوپننگ کرنے کیوں نہ آنا پڑتا.

مزید پڑھیں >>

ایک یادگار و حوصلہ بخش ملاقات

گاڑی رکنے کے بعد لوگ نیچے اترنے لگے، آنکھیں کسی کو تلاش کررہی تھیں کہ اچانک ایک مسکراتا ہوا چہرہ نظر آیا، سادہ لباس زیب تن کیے، ہاتھ میں ایک چھوٹا سا بیگ لئے نیچے اتر رہا تھا۔۔۔ تبھی خوشی سے ایک آواز منہ سے بے ساختہ نکل پڑی؛ ابوالاعلی بھائی آگئے.. جی ابوالاعلی بھائی sioآف انڈیا کی مرکزی مجلس شوری کے رکن ابوالاعلی سید سبحانی .... پہلے ہی ہم جذبات سے لبریز تھے لیکن بعد میں جذبات انتہا کو پہنچ گئے... سبھی کا تعارف ہوا اور آرام گاہ کی طرف افراد تنظیم کے ساتھ گاڑی میں روانہ ہوگئے۔

مزید پڑھیں >>

اسٹریٹ چلڈرن اور معاشرہ

اسٹریٹ چلڈرن کا لفظ سب سے پہلے 1948میں ایلن بال نے اپنی کتاب ہسٹری آف ابینڈ نڈ چلڈرن میں استعمال کیا۔ بچوں کے حقوق کے کنونشن آرٹیکل 271کے مطابق ریاست کا بنیادی حق ہے کہ اس کی ہر بنیادی ضرورت باالخصوص تعلیم، صحت، خوراک، رہائش وغیرہ کا بندوبست کرے۔ہر سال 20نومبر کو بچوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔پاکستان میں اٹھارہ سال تک کے بچوں کی تعداد 49فیصد ہے۔ یونیسف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 45لاکھ بچے یتیم ہیں جن کی عمریں 17سال سے سے کم ہیں۔

مزید پڑھیں >>

یا رب مجھے 2017 جیسا سال نہ بنائیو: 2018 کی فریاد

حالات میں تو کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ انسانوں کی سوچ میں کوئی بدلاؤ نہیں آیا ہے۔ اس لیے اندیشے تو ہیں۔ لیکن ہمیں قنوطیت پسندی کے بجائے رجائیت پسندی کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ ہمیں پرامید ہونا چاہیے، ناامید نہیں۔ اس کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے جو اس کائنات کا خالق ہے۔ جس نے ہمیں اور تمھیں بھی بنایا اور جس نے انسانوں کو بھی بنایا ہے۔ میری دعا ہے کہ تمھارا حشر میرے جیسا نہ ہو اور جب تم واپس ہونے لگو تو لوگ یہ نہ کہیں کہ بڑا خراب سال گزرا ہے۔ بڑا برا سال گزرا ہے۔ لوگ یہ کہیں کہ یہ سال بہت اچھا رہا۔ بڑا پرامن رہا۔ بڑا پرسکون رہا۔اچھا خدا حافظ دوست اپنا خیال رکھنا‘‘۔

مزید پڑھیں >>

اپنے بڑھا پے کا انتظام کیجئے!

آج کل ہمارے معاشرہ میں  بوڑھے ماں باپ کے سلسلے میں  جو زیادتیاں  اور حق تلفیاں  ہو رہی ہیں ان کے پیش نظر  یہ چند حدیثیں پیش کی جا رہی ہیں ،  تاکہ ان کی روشنی میں  ہمیں اپنا چہرہ دیکھنے کی  توفیق ہو، اور آئندہ صحیح اسلامی خطوط پر  ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کر نے کا  جذبہ پیدا ہو۔

مزید پڑھیں >>