متفرقات

میں آئینہ ہوں

رسول اللہﷺ کی ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ ’’مسلمان مسلمان کا آئینہ ہے‘‘ گویا یہ ایک ایسی شئی ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہر برائی اور بدی سے محفوظ رکھنے کا سامان مہیا کر رکھا ہے۔ایک مسلمان جب تک اپنے اس ’’آئینہ‘‘ کا استعمال کرتا ہے تو اس کی مدد سے اسے ہر بدی اور برائی سے نجات ملتی ہے۔ کیوں کہ ہر وہ داغ جو انسان فطری طور پسند نہیں کرتا، جب ایک مسلمان پر اس کا داغ اس کا آئینہ اظہار کرے تو فطری تقاضے کے تحت وہ اس داغ سے پاک ہونا پسند کرے گا۔ اس طرح ایک مسلمان بے داغ زندگی لے کر بے داغ سماج کا شہری بنے گا، اور جو شہری بے داغ ہو اس سے سماج میں پاکی وصفائی کا ماحول قائم ہو گا۔

مزید پڑھیں >>

مولانا ابوالکلام آزاد ؒ کا مشورہ!

جب مولانا نے مسلمانوں کو کوئی اپنی پارٹی نہ بنانے اورکانگریس کے ساتھ مل جل کر کام کرنے کا مشورہ دے رہے تھے کیا اس وقت مولانا کے ذہن میں یہ بات بھی رہی ہوگی کہ یہ کانگریس مسلمانوں کو قسطوں میں کٹواتی رہے گی اورآرایس ایس کو زندہ کھے گی اورتقویت پہونچاکر مسلمانوں کوڈراتی رہے گی اوربلاشرکت غیرے مسلمانوں کا ووٹ بٹورتی رہے گی اورٹھاٹ سے حکومت کرتی رہے گی یقیناًمولانا کے ذہن میں یہ بات نہیں رہی ہوگی ورنہ مولانا اتنے ناعاقبت اندیش نہ تھے کہ مسلمانوں کو مشورہ دیتے کہ جوپارٹی تم کو کٹواتی رہے کسی حال میں اس کا ساتھ نہ چھوڑنا!

مزید پڑھیں >>

گستاخِ رسولؐ: فتح کا فتوی یا فتح کا فتنہ

طارق فتح اسلام پر گفتگو کرنے کا ہرگز ہرگز بھی اہل نہیں ہے۔ اس کی دین کے حوالے سے معلومات اتنی بھی نہیں جتنی مدرسے کے ایک ادنی طالب علم کی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دین کے حوالے سے ایسی ایسی باتیں بیان کرتا ہے جو سراسر اسلام مخالف ہوتی ہیں ۔ جس سے اسلام کی غلط ترجمانی ہورہی ہے۔ اس لیے اس کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کے ساتھ ساتھ ان غلط فہمیوں کے ازالے کی بھی شدید ضرورت ہے۔جو وہ مسلم اور غیر مسلموں کے ذہنوں میں پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

مزید پڑھیں >>

اختلاف: کب رحمت کب زحمت؟

اختلاف اگر اختلاف رہے تو رحمت ہے، لیکن اگر اختلاف خلاف بن جائے تو زحمت بن جاتا ہے۔ اختلاف توصحابہ میں بھی تھا لیکن خلاف نہیں تھا۔ اگر ہم یہ بات ذہن میں بٹھا لیں کہ کبھی بھی کسی علمی اختلاف کو باہمی خلاف میں نہیں بدلیں گے تو پھر اختلاف نقصان دہ نہیں رہتا۔حضرت عمرؓ اور عبداللہ بن عباس کا آپس میں سو سے زائد مسائل میں اختلاف تھا لیکن اس اختلاف کی وجہ سے کبھی ایک دوسرے پر فتوے نہیں لگے اور نہ ہی ملنا جلنا ختم ہوا۔

مزید پڑھیں >>

اسلام میں جھاڑ پھونک کی حقیقت (آخری قسط)

سورۃ الفلق‘ اور’ سورۃ الناس‘ قرآن مجید کی آخری دو سورتیں ہیں ، مُصحف میں الگ ناموں سے لکھی ہوئی ہیں لیکن ان کے درمیان باہم اتنا گہرا تعلق اور ان کے مضامین ایک دوسرے سے اتنی قریبی مناسبت رکھتے ہیں کہ ان کا ایک مشترکہ نام مُعَوِّذَتَیْن (پناہ مانگنے والی سورتیں ) رکھا گیا ہے۔ امام بیہقی نے دلائل نبوت میں لکھا ہے کہ یہ نازل بھی ایک ساتھ ہوئی ہیں ، اسی وجہ سے دونوں کا مجموعی ناممُعَوِّذَتَیْن ہے

مزید پڑھیں >>

فیروز اللغات کا تنقیدی جائزہ (آخری قسط)

فیروز اللغات نے اسلامی اور عربی اصطلاحات کے صحیح معانی اور مفاہیم کے بیان کا اہتمام نہیں کیا ہے۔ اکثر اصطلاحات وتراکیب کو غلط ضبط کیا گیا ہے وہیں کوئی اصول اور ضابطہ یا کوئی معیار قائم کرنے کی کوشش نہیں کی گئی ہے۔ کسی کا لفظی معنی بتایا تو کسی کا مفہوم، کسی کی تشریح کردی تو کسی اصطلاح میں اپنے حساب سے کوئی اور معنی پہنادیا۔ کسی آیت کے ٹکڑے کی طرف اشارہ کیا کہ قرآنی آیت ہے تو بہت ساری آتیوں کو یوں ہی چھوڑ دیا۔اوپر دی گئی مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ ان عربی اور اسلامی اصطلاحات پر کام کرنے والے کے لیے عربی زبان کی نزاکت کا علم ہونا اور اسلامیات سے صحیح واقفیت ہونا بہت ضروری ہے ورنہ وہ یوں ہی غلطیوں کا ارتکاب کرے گا۔

مزید پڑھیں >>

عمر یوں ہی تمام ہوتی ہے

جدت پسند حضرات کے مطابق نئے سال کا سورج نئی امنگوں اور جذبات کے ساتھ طلوع ہوتا ہے۔حالاں کہ ایسا نہیں ہے کیوں کہ سورج وہی ہے ۔طلوع بھی اپنے وقت پر ہوتا ہے ۔ہر کسی کو برابر روشنی پہنچاتا ہے ۔گردش کے ایام متعین ہیں ۔سال کے مہینے بارہ ہیں ۔صرف افکار بدل گئے ہیں ۔ہم ہر چیز میں جدت اور نیا پن چاہتے ہیں ۔نیا سال منانا اسی کی پیداوار ہے ۔لوگوں کی اکثریت نئے سال کی منصوبہ بندی کرتی ہے۔کسی کو معاش کی فکر ہوتی ہے ،تو کسی کو تعلیم کی ۔ہر شخص ایک نئی فکر کے ساتھ صبح کرتاہے۔اور نئے سال کی بہتر شروعات کرنا چاہتا ہے ۔خوشی منانا غلط نہیں ہے ۔لیکن اس میں غلط طریقہ اختیار کرنا برا ہے۔

مزید پڑھیں >>

ٹیکوں سے اب بھی دور لاکھوں بچے!

ٹیکہ کاری وائرس اور بیکٹیریا سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے بچائو کا سستا اور کارگر طریقہ ہے۔ سرکار کی جانب سے تمام ٹیکے پرائمری ہیلتھ سینٹر، سب سینٹر اور آنگن واڑی مراکز پر مفت فراہم کئے جاتے ہیں ۔ وزیراعظم محفوظ زچگی مہم کے تحت تمام حاملہ خواتین کا بچے کی ولادت سے پہلے مفت جانچ اور دیکھ بھال کا انتظام کیا جاتا ہے۔ کئی ریاستوں میں اسمارٹ کارڈ کے ذریعہ حاملہ عورتوں کی پرائیویٹ اسپتالوں میں مفت جانچ اور علاج کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔ حاملہ خواتین کو بچے کی پیدائش سے پہلے اور اس کے بعد ٹیٹنس کا ٹیکہ دیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

سوشل میڈیا

ہونا یہ چاہیے تھا کہ ان تمام سہولیات ، آسائشوں ، آسانیوں اور خوش حالی کی وجہ سے آج کی زندگی زیادہ اطمینان بخش ہوتی۔آج کی دنیا زیادہ پرسکون اور پرامن ہوتی۔ آج کے لوگوں میں زیادہ محبت اور بھائی چارہ ہوتا۔ مگر کیا وجہ ہے کہ تمام آسانیوں کے باجود ، تمام آسائشوں کے باوجود، تمام خوش حالی اور دولت کی ریل پیل کے باوجودسبھی پریشان حال ہیں ۔چھوٹے بڑے ، اچھے برے، عالم وجاہل سبھی قلق واضطراب کا شکار ہیں ۔ کسی کو کسی سے بات کرنے کی فرصت نہیں ۔ اپنوں کو اپنوں سے ملنے کا وقت نہیں ۔ٹائم میں برکت نہیں ۔ وقت میں دم نہیں ۔ روز وشب تو جیسے لمحوں میں بدل گئے ہوں ۔روحانیت جیسے مر گئی ہو۔ اپنائیت جیسے کہیں گم ہوگئی ہو۔انسانیت مارے شرم کے جیسے ادھر ادھر گلی کوچوں میں منہ چھپائے پھر رہی ہو۔

مزید پڑھیں >>

لڑ نے وا لو ں میں صلح کرا نا ثواب کا کام ہے!

تشدد کا بڑ ھتارجحا ن صلح سے دوری لمحہ فکر یہ !:ہما رے معا شرے میں ہی کیا پورے ملک، پوری دنیا میں تشدد کا بڑھتا رجحان انتہائی تشویش کا باعث ہے۔اللہ ربا لعز ت نے اپنے بندوں کو صلح کر انے کا حکم دیا اور صلح کرنے کرا نے والوں کو پسند فر ما نے کی خوش خبری بھی سنائی (القر آ ن، سور ہ الحجرات: 9) تر جمہ: اگر مسلما نوں کے دو گروہ آپس میں جنگ کریں تو ان کے در میا ن صلح کرا دیا کرو، پھر اگر ان میں سے ایک ( گرو ہ)دوسرے پر زیادتی اور سر کشی کرے تو اس(گروہ) سے لڑو جو زیا دتی کا مر تکب ہو رہا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے،پھر اگر وہ رجوع کر لے تو دو نو ں کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کرا دو اور انصاف سے کام لو، بے شک اللہ انصا ف کر نے والوں کو پسند فرماتا ہے۔

مزید پڑھیں >>