متفرقات

پانچ اہم کرکٹرس جو 2017 میں رشتۂ ازدواج سے منسلک ہوئے

2017 میں جتنی شہرت وراٹ کوہلی اور انوشکا شرما کی شادی کو ملی اتنی شہرت تاریخ میں شاید ہی کسی کرکٹر یا فلمی ستارے کو ملی ہوگی۔ اٹلی میں شادی اور رومانیہ میں ہنی مون منانے والے ہندوستان کے شہرت یافتہ کرکٹر اور بالی ووڈ کی مایہ ناز اداکارہ انوشکا شرما جس شان سے رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئے اور جس شاہی انداز میں دہلی و ممبئی میں تقریبِ ولیمہ کی، یقیناً ناقابل بیان اور ناقابل فراموش ہے۔ بہر حال، 2017 میں وراٹ کوہلی کے علاوہ بھی کئی کرکٹروں نے شادی کی اوراپنی خوشگوار زندگی کا آغاز کیا۔ ان کرکٹروں میں سے پانچ اہم کرکٹر اور ان کی شریک حیات سے متعلق مختصر معلومات ہم اپنے قارئین کے لیے یہاں پیش کر رہے ہیں۔ جن پانچ کرکٹروں کا انتخاب کیا گیا ہے ان میں سے تین ہندوستان سے ہیں اور ایک ایک آسٹریلیا اور انگلینڈ سے۔

مزید پڑھیں >>

موبائل فون ضرورت یا عادت

 موبائل فون دور حاضر کی اہم ترین ضرورت ہے اسکی افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن انٹرنیٹ کی دنیا نے جہاں زندگی کو آسان بنایا یے وہیں کچھ منفی اثرات بھی مرتب کئے ہیں ہمیں اپنے اور اپنے بچوں کے تئیں اس منفی اثرات سے محتاط رہنے کی بھی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں >>

ہم جنس کی شادی یا ہم جنس پرستی

اسلام کی طرح بدکاری کی سزا سابقہ آسمانی مذاہب میں بھی یہی تھی کہ بدکاری کے مرتکب شادی شدہ افراد کو سنگسار کر دیا جاتا تھا۔ جناب نبی اکرمؐ نے جہاں زنا کی سزا بیان کی ہے وہاں لواطت کے اس عمل قبیح کی سزا یہ بیان فرمائی ہے کہ ’’فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کر دیا جائے‘‘۔ امت کے تمام فقہی مکاتب فکر میں یہ فعل حرام سمجھا گیا ہے اور اس کی سزا موت بیان کی گئی ہے۔ صرف اتنا فرق ہے کہ احناف کے نزدیک موت کی یہ سزا شرعی حد کے طور پر نہیں بلکہ تعزیر کے طور پر ہے، جبکہ باقی فقہاء نے اسے حد شرعی قرار دیا ہے۔ لیکن اس فعل کے حرام اور قبیح ہونے اور اس کے مرتکب افراد کو سخت سزا دینے پر سب فقہاء کا اتفاق ہے۔

مزید پڑھیں >>

سیکولرزم (Secularism) یعنی لادینیت

سیکولرزم جمہوریت کا ایک اہم جزو ہے اس کی شرح یہ ہے کہ اگر کسی کا ضمیرگواہی دیتا ہے کہ خدا ہے اور اس کی پرستش کرنی چاہیے تو وہ اپنی زندگی میں انفرادی حد تک بخوشی اپنے خدا کی عبادت کرے،اگر کسی کا ضمیر مانتا ہے کہ کوئی رسول ہے، کوئی آسمانی کتاب یا صحیفہ ہے اور اس پر ایمان رکھنا چاہیے تو وہ بس ان پر ایمان اور یقین اپنی ذات کی حد تک ہی محدود رکھے اور اسے دوسروں تک لے جانے کی جرات نہ کرے،ان کے ساتھ اپنا صرف پرائیویٹ تعلق رکھے باقی دنیا اور اس کے معاملات سے خدا، رسول اور کتاب و مذہب کے کسی قسم کے تعلق کو جوڑنے کی کوشش نہ کرے اگر کوئی ایسا کرنے کی جسارت کرے گا تو وہ مذہبی انتہا پسند قرار پائے گا۔

مزید پڑھیں >>

اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے!

اس جہان رنگ وبو کا نظام بغیر کسی تعطل کے اپنے مدار پر مسلسل گردش کررہا ہے ۔۲۰۱۷ ؍ کاسورج اپنی تمام تر یقین و گمان کی کشمکش کے ساتھ غروب ہوکر اب ہماری تاریخی باقیات کا ایک حصہ بن چکا ہے ۔اب ایک نئے سال کا آغاز ہوچکاہے۔چونکہ انھیں گردش ایام ماہ و سال کی فطری تدوین اوراس شب وروز کی آمد ورفت سے انسان اپنی زندگی میں واقع ہونے والی تبدیلی اور رونما ہونے والے خوشگوار اور ناخوشگوار واقعات وحادثات سے بہت کچھ حاصل کرتا ہے۔ہم نے اس نئے سال کا خیرمقدم بڑے پُرجوش اندازمیں کیا ۔لوگوں نے ایک دوسرے کو نئے سال کے آمد کی مبارک باد بھی پیش کی۔

مزید پڑھیں >>

 سال 2018ء اور مسلمان!

نئے سال کی آمد پر ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنی ساری طاقت و قوت عالمِ اسلام کے دفاع کے لئے اکٹھا کریں گے، اب آئندہ کی زندگی میں ہم عالمِ اسلام کی بھلائی کے لئے ہر قدم اٹھائیں گے- اور ہندوستان میں موجود مسلمانوں سے جھوٹی ہمدردی کا دعویٰ کرنے والی منافق سیاسی پارٹیوں، جھوٹے مفاد پرست مسلم رہنماؤں اور فرقہ پرست طاقتوں کو بهی منہ توڑ جواب دیں گے....ان شاء اللہ

مزید پڑھیں >>

 اسی روز و شب میں اُلجھ کر نہ رہ جا

 سال ۶2017 کی رخصتی اور سالِ نو ۶2018 کا آغاز۔ کیا یہ وقت خوشیاں منانے کا ہے؟ ملّت کے نوجوان، ہمارے وطنی بھائیوں بہنوں کے ساتھ مل کر نئے سال کے جشن کی تیاریوں میں مصروف ہیں ۔ ۶2018 کا طلوع ہونے والا سورج ہمارے لیے کیا سوغات لائے اس سے ہم ناعلم ہیں لیکن کہیں یہ ہماری زندگی کا آخری سورج نہ ثابت ہو اور یہ سال ہماری سانسوں کے لیے آخری لمحات نہ بن جائے۔

مزید پڑھیں >>

اے نئے سال بتا تجھ میں نیا پن کیا ہے؟

یہ سوچتے ہوئے بھی بہت شرمندگی محسوس ہوتی ہے کہ آخر مسلمانوں نے کیوں اپنے گلے میں مغربی تہذیب کا قلادہ ڈال کر، انکے اشاروں پر ناچنے اور انکے فسق آموز و فجور آمیز راستے پر چلنے کو اختیار کر لیا اور کیوں انہیں اسلامی تعلیمات برے معلوم ہونے لگے؟ اور اسی طرح "سیکڑوں باتوں کا رہ رہ کے خیال آتا ہے" جو ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے؛ کیوں کہ میری کوتاہ بیں نگاہوں نے تو کبھی کسی یہودی و عیسائی کو مسلمانوں کے تیوہار و پرب اور کسی مذہبی تقریب و جشن میں شریک ہوتے نہیں دیکھا؛ لیکن افسوس ہے ان کم فہم و نا اندیش مسلمانوں کی مغربی تقلید پر، کہ وہ عیسائیوں کے ہر خرافاتی تیوہار و یہودیوں کے بیہودہ جشن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے کر نہ صرف اپنے وقار کو مجروح کرتے ہیں، بلکہ اپنے دین و مذہب کا مذاق بناکر اسکی شان و شوکت اور جاہ و حشم کو مغرب کے نام پر بھینٹ بھی چڑھاتےہیں اور  ساتھ ہی اپنے مسلمان ہونے پر گویا نا شکری کا کھلا ثبوت بھی پیش کرتے ہیں ـ

مزید پڑھیں >>

زندگی کو کیسے کام یاب بنائیں؟

کسی بھی کام یا مشن میں دو ہی امکانات ہیں ۔ کامیابی یا ناکامی۔ کامیابی کی صورت میں ہمیں اپنی محنت کا بدلہ اپنے سامنے ہی مل جاتا ہے لیکن ناکام ہونے کی صورت میں ہمیں شدید کرب و اذیت کی کیفیت سے گزرنا پڑتا ہے۔ ان دونوں حالتوں میں اگر ہم صبر و شکر کا دامن تھامے رکھیں تو کبھی گمراہ نہیں ہوں گے۔ کامیابی پر شکر ادا کرنا اور ناکامی پر صبر کرنا بھی نیکی ہے۔ کیوں کہ قرآن کے مطابق اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے اور جس کے ساتھ خدا ہو اسے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے۔

مزید پڑھیں >>

سالِ نو کا جشن اور اسلامی تعلیمات

 ایک سال کا اختتام اور دوسرے سال کا آغاز اس بات کا کھلا پیغام ہے کہ ہماری زندگی سے ایک سال کم ہو گیا، حیات مستعار کا ایک ورق الٹ گیا اورہم موت کے مزید قریب ہوگئے، اس لحاظ سے ہماری فکر اور ذمہ داری اور بڑھ جانی چاہیے، ہمیں پوری سنجیدگی کے ساتھ اپنی زندگی اور وقت کو منظم کرکے اچھے اختتام کی کوشش میں لگ جانا چاہیے اوراپنا محاسبہ کرکے کمزوریوں کو دور کرنے اور اچھائیوں کو انجام دینے کی سعی کرنی چاہیے؛مگر افسوس صد افسوس! اس کے برعکس دیکھا یہ جاتا ہے کہ عیسوی سال کے اختتام اور نئے سال کے آغاز پرمغربی ممالک کی طرح ہمارے ملک کے بہت سارے مسلم اور غیر مسلم بالخصوص نوجوان لڑکیاں اور لڑکے،دھوم دھام سے خوشیاں مناتے ہیں،

مزید پڑھیں >>