متفرقات

 قیدیوں  کی رہائی میں جمعیۃ علماء ہندکا کردار

گزشتہ سال13 نوجوانوں کو پکڑا گیا، جمعیۃ علماء کی طرف سے اب تک10 نوجوانوں کو رہا کرایاگیااور گزشتہ 6 فروری کو بھی شاکر انصاری نامی نوجوان کو باعزت بری کروایا گیا۔معروف صحافی طارق انور صاحب کے بقول ’’میڈیا رپورٹ کے مطابق اس وقت جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولاناسید ارشدمدنی دہشت گردی سے متعلق54 کیسوں کی عدالتوں میں پیروی کررہے ہیں

مزید پڑھیں >>

مشرق اور مغرب کی تفریق ختم ہونے والی ہے

وقت کو جیسے گزرنا ہو وہ اسی طرح گزرتا ہے، ہماری خداداد صلاحیتیں وقت کو اچھا اور برا بنا لیتی ہیں۔ حضرتِ انسان کو اشرف المخلوقات کے درجے پر فائز کیا گیا ہے، درجے کی مناسبت سے فطرت میں جلد بازی کا عنصر قدرت ہی سمجھ سکتی ہے۔ اس جلد بازی کا شکار لگ بھگ ہر فرد ہی ہے۔ وہ بھی جو کچھ نہیں کر رہا اور وہ بھی جو سب کچھ رہا ہے۔

مزید پڑھیں >>

تعلیم کی اہمیت

دین اسلام کسی خاص علاقہ یا فراد سے تعلق نہیں رکھتا۔ بلکہ یہ عام انسانیت کی نجات بخشنے کے لئے آیا ہے جسے فطرت انسانی کے اصولوں پر بنایا گیا ہے۔ تاکہ مسلما ن کے ماسوا دنیا کی ہر ایک فرد ہمالیائی کامیابی کوپہونچ سکے۔

مزید پڑھیں >>

ہائے رسم و رواج کے کھوکھلے پردے

رسم ورواج کو عقل کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو سمجھ میں یہ آتا ہے کہ یہ خودساختہ بنائ ہوئ وہ خوش گپیاں ہیں کہ پرانے دور میں وقت گزارنے کا ایک دل پذیر ذریعہ تھا، جو بدلتے موسموں کی طرح بتدریج پُربہار بنتا ہی چلا گیا۔

مزید پڑھیں >>

مشکلات ترقی کا زینہ ہیں!

دور حاضر میں بڑھتے ہوئے وسائل کے ساتھ ساتھ روز نت نئے مسائل بھی جنم لے رہے ہیں ۔ آج کے دور میں مسائل ہی نہیں بلکہ مشکلات بھی نئے نئے بدنما چہرے لئے ابھررہی ہے۔ گذشتہ دنوں کی بنسبت آج لوگ زیادہ رنج و الم کا شکار ہیں ۔ اسی وجہ سے زندگی سے مایوس ہوکر اپنی جان گنوانے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں محسوس کرتے۔ خصوصامغربی ممالک (Western countries)میں حادثاتی موت بہت زیادہ دیکھنے کو آتی ہے جوکہ سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک شمار کئے جاتے ہیں ۔ اب اسے ترقی کہیں یا تنزلی ؟

مزید پڑھیں >>

صفا بیت المال انڈیا:خدمت ِ خلق کا ایک مثالی ادارہ

قرآن وحدیث میں اس کی بڑی اہمیت بیان کی گئی کہ انسان صرف اپنی ذات کی حد تک محدود نہ رہے وہ خلق خدا کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے والا، اور ہر ایک کی بھلا ئی چاہنے والا ہو، دنیا کے عام انسان ممکن ہے کہ اپنے لئے جیئے اور ان کی محنتوں کا محور خود ان کی ذات ہو ؟لیکن ایک مسلمان وہ دنیا میں سب کے لئے جینے کی کوشش کرتا ہے۔ اور سچی بات یہ ہے کہ لوگوں کے قلوب کو اگر اسلام کی طرف پھیرنا ہے اور ان کے دلوں میں اسلام کی محبت اور پیغمبر اسلام کی عظمت کو بٹھانا ہے کہ تو خدمت خلق بہت آسان راستہ ہے۔

مزید پڑھیں >>

نوجوان اپنی صلاحیتوں  کو دین کے لیے استعمال کریں

اسلام دنیوی ترقی سے منع نہیں کرتا،اور نہ ہی مختلف میدانوں میں کمال حاصل کرنے سے روکتا ہے، بلکہ حالات اس بات کا شدید تقاضے کررہے ہیں ہر بلندی پر مسلمان پہنچے ،ہر کامیابی حاصل کرے ،ہر اونچا مقام پانے میں پیچھے نہ رہے ،لیکن ان تمام کے ساتھ ہماری صلاحیتیں اپنے دین کے لئے لگے ،ہماری فکروں میں دین سمایا ہوا ہو،ہماری تمنائیں تعلیماتِ محمدی کو عام کرنے کی ہوں ۔الحمدللہ امت میں قابل اور باصلاحیت نوجوانوں اور بڑوں کی کمی نہیں ہے ،ہر فن کے ماہر اور ہر خوبی کے حامل افراد بڑی مقدارمیں موجود ہیں ،ٹیکنالوجی میں خوب مہارت رکھنے والے اور حالات ِ زمانہ پر گہری نگاہ رکھنے والے بھی دست یاب ہیں ،اور دل میں درد اور تمنائیں بھی رکھنے والے جیالے بھی ہیں۔

مزید پڑھیں >>

ای احمد ایماندار سیاست کے امین تھے

انڈین یونین مسلم لیگ کے سابق قومی صدراوررکن پارلیمنٹ ای احمد کا گزشتہ شب دہلی کے رام منوہر لوہیا اسپتال میںانتقال ہو گیا۔ واضح رہے کہ گزشتہ روزا آئی یو ایم ایل کے قومی صدر اور رکن پارلیمنٹ ای احمد کو پارلیمنٹ میں بجٹ سیشن کے دوران دل کا دورہ پڑنے کے بعددہلی کے رام منوہر لوہیااسپتال میںداخل کروایاگیا تھا۔جہاںان کا تقریباً8، 9گھنٹے تک علاج کے بعد رات پونے دو بجے انتقال ہوگیا۔

مزید پڑھیں >>

مسلمانوں میں قیادت کا بحران: اندیشے اور امکانات

آزادی کے بعد مسلمان ہمیشہ قیادت کے بحران کا شکار رہے ہیں ۔ قدآور لیڈر تو بہت ہوئے مگر قومی سطح پرکوئی مسلمانوں کی رہبر ی نہیں کرسکا۔ اسکی بڑی وجہ یہ رہی کہ دانشور طبقہ تقسیم ہندکے پاکستان منتقل ہوگیا اور ہندوستانی سیاست میں صرف وہی افراد متحرک رہے جو کانگریس کی وفاداری کی بنیاد پر پاکستان نہیں جاسکے۔ آزادی کے فورا بعد کوئی ایسا نمائندہ چہرہ نہیں تھا جو قومی سطح پر انتخاب میں کامیاب ہوکرمسلمانوں کی قیادت کا بیڑہ اٹھانے کا حوصلہ رکھتا ہو

مزید پڑھیں >>

چیلنجوں کا جواب

عصرجدید نے جب سے اپنے بال وپرپھیلاناشروع کیے ہیں، مسابقت اورمقابلہ آرائی کی ایسی ہوڑمچی ہوئی ہے کہ انسان پربس آگے نکل جانے کی دُھن سوارہے۔ اس مقابلہ آرائی میں اس کے پاس اتنا وقت بھی نہیں کہ وہ پیچھے مڑکردیکھے اوراس بات کاجائزہ لے کہ آخر کتنا سفرطے ہواہے اورابھی منزل کتنی دورہے۔ یہ مسابقہ اور مقابلہ چیلنجوں اورسوالوں کے بطن سے پیداہواہے اورسب کامنتہاے سفر ’’جواب‘‘کی چوٹی سرکرناہے، ایساجواب جوآج کی نفسیات کے عین مطابق ہو، جو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ہواورجوزمانے کے شانہ بشانہ چلنے کے لائق ہو،مگریہاں سوال یہ ہے کہ اس جدوجہد، دوڑ دھوپ اور محنت و مشقت سے کیاانسان واقعی چیلنجوں کے جواب کی طرف بڑھ رہاہے؟

مزید پڑھیں >>