شخصیت کا ارتقا

آئینے کے سامنے

سالک ادیب بونتی

‌ربِّ کریم کی یہ کائنات حسن وجمال کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے جوہزاروں رنگ دھنک،لاتعداداجزائے گُل چمن، انگنت اسبابِ رونقِ انجمن اور رازہائے ہستی کے گہرے نکات فکروفن کےبےبہاخزانوں پر ورق درورق اور پرت درپرت تخلیق عالم پرمحیط ہے.

‌کیاکبھی آپ نے سوچاہے کہ یہ محفِل حظ وناز کیوں اور کس کےلیےہے؟

‌سادےلفظوں میں اگرکہیں تو یہ محاسنِ کائنات اشرف المخلوقات کےلیے دعوتِ تدبروتفکرہیں.

‌مگرہم ہیں کہ قدرت کی دلفریب منظرکاری،دلنشین پیکرنگاری اور لاجواب وضعداری سےصرف نظرکرتےہوئے پاس پڑوسیوں کی عیب جوئی،ہرزہ سرائی اور دل آزاری میں ہمہ تن مصروف ہیں سچ ہے کہ

‌سب کی نظریں ہیں غیرپر پیارے

‌اپنی ہی ذات کی خبر کم  ہے

‌آئینہ  غیر   کے  لیے   ہے   مگر

‌اپنےدن  رات کی   خبر  کم ہے

‌کیاہی اچھاہوگا کہ تدبرکائنات کی طرف توجہ مبذول کی جائے،اپنےپرایوں کی کامیابی اور ناکامی پر گھنٹوں تبصرےکی محفِل جمانےسے کئی درجہ بہترہوگا کہ ہم اپنی ذات کوآئینےکےسامنےپیش کریں،اصلاح سماج اور اصلاح فکروفن پرجتنی زبان اتنی باتیں کل روزِ محشر بہت مہنگی ثابت ہوسکتی ہیں.

‌یہ بھی تو سوچیےکبھی تنہائی میں ذرا

‌دنیاسے ہم نے کیا لیا دنیا کو کیا دیا

‌لاشعوری میں نہ جانے ہم کس پر کتناکیچڑاچھال دیتےہیں حدتویہ ہےکہ ہم کبھی اس بارےمیں سوچتےبھی نہیں اور نہ سوچناچاہتےہیں.

‌حدیث رسول کہتی ہے کہ گناہ کوحقیرنہ سمجھو کیونکہ یہی چھوٹے چھوٹے گناہ وبال جان بن جائیں گے.

‌بالخصوص دل آزاری و حق تلفی سے دور دو رہیں تو ہی اپنابھلاہے کیونکہ

‌آسماں پہ جابیٹھے تم کویہ خبربھی ہے

‌عرش کےہلانےکوایک آہ کافی ہے

‌ہنسی مذاق سےشروع ہونےوالی یاروں کی بزم میں کیاکیاگُل کھلتےہیں آئیےدیکھتےچلیں.

‌عیب جوئی:

 بات سے بات نکلتی جاتی ہے اور ہم جھوٹی واہ واہی کےلیے کس پر، کب اور کونسا عیب تراش اور تلاش لیتےہیں کہ ہمیں اس کی بھنک تک نہیں لگتی..اور یہ سارا کھیل گمان اور بہتان کی بنیادپر چلتاہے جوشریعت میں سرار ممنوع ،غضبِ الہٰی کاباعث اور سماج کےلیے مسلسل دردِ سر کاسبب ہے ـ

‌لطیفہ گوئی:

 بسااوقات ہم ہنسنےہنسانےکےدھن میں بےسروپا لطیفےاگلنےلگتےہیں جودرحقیقت جھوٹ کےمنقش اسلوب میں لپٹےہوتےہیں ـ ایسانہیں کہ ہم نہیں جانتےکہ جھوٹ کبیرہ گناہ ہے بلکہ ہم کویہ بھی علم ہےکہ کبیرہ گناہ کی پاداش میں سخت عذاب کاسامناکرناےگا. پر لاپرواہی اور بےخیالی کےجادونےہمیں اپنے بس میں کر رکّھاہے.

‌ذات اورشخیصیت پرحملہ:

کبھی توہم وقتی لطف کودوبالاکرنےکےلیےدوسرےکی ذات پرانگلی اٹھانےلگتےہیں…. فلاں یہ کرتاہے…فلاں وہ کرتاہے …. وغیرہ ـ

‌اور کبھی طبقہ بندی کےساتھ کسی کی ذات پرٹوٹ پڑتےہیں …ـ

‌تم ایسےہو….تمھاراگھرانہ ایساہے……تمھاراخاندان ایساہے……وغیرہ

یادرہےکہ کسی کوبےسبب رسواکرنا خداکی نظرمیں بدترین عمل ہے ـ

‌دشنام تراشی:

‌بالعموم بےمقصدمجلس میں جب کوئی موضوعِ کلام ہاتھ نہیں لگتا توہم کسی نہ کسی شخص پردشنام تراشی کرکےاپنی جھوٹی اناکی تسکین کاساماں ڈھونڈتےہیں  جبکہ نبی پاک نےدشناتراشی اور گالی گلوچ کو کفرکاحصّہ بتایاہے ـ

اظہارحسد:

‌جب دو سے چار افراد جمع ہوتے ہیں اور کسی کی خوشحالی،مقبولیت،کامیابی یاترقی کافسانہ چھِڑجاتاہےتو دھیرےدھیرےہمارےدل میں حسدکاجذبہ ابھرنےلگتاہےاور پھر زبان چلنےلگتی ہے…. ارے اس نے ایسا کیاہوگا.  کامیابی کہاں اور یہ کہاں …اس نے فلاں حربہ اپنا یا ہوگا…. ویساکیاہوگا…. یہ اس کےبس کاتونہیں ضرور دال میں کچھ کالاہے. وغیرہ

‌ان لایعنی مباحثوں سے کوئی اچھااثر نہ ہمارےسماج پرمرتب ہوتاہے اور نہ ہی خوداپنی ذات کوکوئی فائدہ نصیب ہوتاہے…بلکہ رفتہ رفتہ ہم سکون کوترس جاتےہیں، چین کےبجائے بےقراری، اضطراب اور پژمردگی ہمارےذہن ودل پربراجمان ہوجاتےہیں.

‌اب سوال یہ ہے کہ ان لغوکلاموں سےکیسےبچیں؟

‌ہاں! یہ مشورہ ہے صاحب…

‌بس اپنی ذات کی خبرلیں….

‌اپنامحاسبہ کریں…

‌وقت اس دنیاکاسب سے قیمتی سرمایہ و خزانہ ہے اسے اپنی تعمیرحیات اوراپنے ارتقائےہنرمیں لگائیں.

‌ہفتہ بھرمیں کم ازکم ایک شام خوداحتسابی کےنام کیجیے اور خودکودل کی عدالت میں کھڑاکرکےاپنی ذات سے مشکل سےمشکل سوالات کیجیےاور اس وقت تک خود کو جھنجوڑیے جب تک سچ کاعنوان سامنےنہ آجائے…اور جس دن ہم سچّائی سے آنکھیں ملانے کی تاب پیداکرلیں گے یقیناً ہم درست طورپریہ فیصلہ لینےکےقابِل ہوجائیں گے کہ "ہمیں کیاکرناچاہیے اورکیانہیں”

‌جویہ کرسکوتوکرنا

‌کبھی حق سے نامکرنا

‌یہی طرز معتبرہے

‌سداسچ میں جینامرنا

اگرہم دوسروں کےبجائے خود اپنی ذات کوآئینےکےسامنےکھڑاکرلیں اور خود کو سچ کامتلاشی بنادیں  توپھر چہرےسےداغ دورکرنےمیں وقت نہیں لگے گا،اوراگر آئینہ غیرکوہی دِکھاکرخوش ہوتےرہےتواپنےچہرےکا داغ کبھی صاف نہیں ہوگا…!

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close