Man running fast to jump over precipice between two mountains. Concepts of determination, business, challenge, success, risk etc.

اس زمانے کا بڑا کیسے بنوں!

محمد خان مصباح الدین

 جیسے جیسے وقت گزررہا ہے دنیا کی معاشرت بھی اسی رفتارسے بدل رہی ہے۔ اگرغور کریں توپتہ چلتا ہے کہ آج پوری دنیا کو معیشت کے عفریت نے قابو کیا ہوا ہے، بڑے بڑے بین الاقوامی تجارتی ادارے جو مختلف مصنوعات تیار کرتے ہیں انہوں نے تجارت و معیشت سے لیکر اطلاعات ونشریات اور سیاست تک پر اپنے نوکیلے پنجے گاڑے ہوئے ہیں ۔ یہاں تک کہ جنگ ہو یا انسانی جان بچانے والی ادویات، یہاں بھی ان تجارتی اداروں کا طوطی بولتا ہے۔ اگرچہ یہ ایک طویل بحث ہے مگر اسکا ایک  بھیانک اثر نوجوان نسل پرپڑرہا ہے کہ کس طرح ان اداروں نے دنیا کے ہر عمر کے انسان خاص طورپرنوجوان نسل کو کس ڈگرپرچلا دیا ہے۔ آج ہماری دنیا مادیت پرستی میں اتنی گم ہوچکی ہے کہ اچھے برے کی تمیزکرنے کی صلاحیت اب ناپید ہوتی جارہی ہے۔ ہر طرف لالچ اور دنیا کے حصول کا عالم ہے، ہم بس ایک دوسرے کی نقل میں اپنی تمام ترصلاحتیں حتی کہ رشتے تک داو پر لگا دیتے ہیں ۔

آج ہم نے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو صرف پیسہ کمانے, ایک اسٹیٹس کو حاصل کرنے اور پھر اسکو مستحکم کرنے کے  استعمال پرلگادیا ہے یہ سوچے سمجھے بنا کہ ہم اپنےیا اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کوہم کس طرح سے تاریکی میں دھکیل رہے ہیں ۔ آج شخصی آزادی کے نام پر جوکچھ ہم نے اپنایا ہوا ہے وہ شخصی آزادی دنیا کی کوئی بھی تہذیب یا تعلیم یا فتہ معاشرہ پسند نہیں کرتا ہے۔ ترقی کے جو منازل ہم طے کرنا ہی ترقی سمجھتے ہیں وہ ہماری ناقص عقلی ہے کیونکہ وہ  دراصل انسانی تنزلی ہے.  ہمیں مادیت کی چکا چوند نے بلکل اندھا کردیا ہے اور ہم ترقی کے  اصل میں کیا معنی  ہیں  اسکو بھلا بیٹھے ہیں۔

زیادہ عرصہ نہیں گزرا ہے جب بچوں کی تعلیم و تربیت پروالدین کی گہری نظر ہوتی تھی، کس سے مل رہے ہیں , کیا کررہے ہیں انکو اسکا بخوبی اندازہ ہوتا تھا زیادہ توجہ ظاہری دکھاوے کی ترقی کے بجائے باطنی و ذہنی ترقی پر توجہ دی جاتی تھی ادب و آداب، سماجی و معاشرتی اونچ نیچ، مذہبی اور اخلاقی ذمہ داریوں پرتب ہی کام شروع کردیا جاتا تھا جب بچہ تھوڑا بہت سیکھنے کی عمر پر پہونچتا۔ تعلیم کے لئے اگرچہ کوشش ہوتی کہ کسی اچھے اسکول سے حاصل کریں مگر اس بات کو مدنظررکھا جاتا کہ اسکول کا ناصرف نصاب کیسا ہے بلکہ تعلیم دینے والے اساتذہ کی علمی صلاحیت و کردار کو بھی چھان پھٹک کردیکھا جاتا تھا۔ جوان ہوتے بچے بچیوں کو انکے حدود کے تعین کا ادراک بھی دلایا جاتا تھا گرچہ بہت سے گھرانوں میں آزادی رائے اور شخصی آزادی بھی حاصل تھی مگر وہ بھی اسی حد میں تھے جو کسی بھی انسان کو انسان کا شرف دے سکے۔ گرچہ وہ وقت بھی برائیوں اور بے راہ روی سے پاک نہیں تھا مگر اسکا وہ حال بھی نہیں تھا، جو آج کے معاشرے میں ہے۔  اب برائی برائی  کے طورپرنہیں بلکہ “ترقی یافتہ” ہونے کی دلیل بنتی جا رہی ہے۔ جب ہم نے رنگ برنگی نئی نئی اشیاء کودل لبھانے والے اشتہارات کی صورت میں دیکھا تو انکے حصول کی چاہ ہوئی گویا یہ ایک انسانی خصلت ہے جو ازل سے ابد تک رہے گی مگر یہ کہ ہم اپنی چادر کے مطابق پاوں پھیلاتے اور ثابت کرتے کہ:

     ایسی نہیں ہے بات کہ قد اپنے گھٹ گئے

    چادر کو اپنی دیکھ کے ہم خود سمٹ گئے

لیکن ہم نے قناعت کو فولاد کے صندوق میں بند کرکے سمندر کی تہہ میں پھینک دیا اور اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئےہراچھے برے کام کو اپنایا، رشوت، کرپشن، حقدار کا حق کھانا، کمیشن، الغرض جہاں سے پیسہ ملے اسے حاصل کرلو کا اصول اپنا لیا، یہ بھی بھول گئے کہ اسکا اثر کہیں نا کہیں تو نکلے گا۔

  کہاں گزار دی سانسیں جواب مانگے گا

 وہ جب بھی ہم سے ملے گا حساب مانگے گا

جیسے جیسے دنیا ایک گلوبل ویلیج بنتی گئی ویسے ویسے  لوگوں کو روزمارکیٹ میں آنے والی اشیاء کی معلومات حاصل ہونا شروع ہوگئی، جنکے پاس پیسہ تھا وہ تو خرید لیتے مگر جنکے پاس پیسہ نہیں وہ کف افسوس ہی ملتے۔ پھر ان اشیاء نے معاشرے میں طبقاتی فرق کو اور گہرا کرنا شروع کردیا جسکی ابتداء گھر, محلے سے لیکر اسکولوں میں بھی شروع ہوئی۔  مگر اس میں سارا ہاتھ صرف تجارتی اداروں کا ہی نہیں ہےبلکہ اسکی بھاری ذمہ داری والدین پربھی عائد ہوتی ہے کہ وہ بچوں کو ہر دنیاوی چیزلیکر دینے کے لیے دن رات ایک کرنے کو تیار رہتے ہیں اچھا برا جیسے بھی بن پڑے کہ بس ہمارا بچہ فلاں کے بچے سے کسی بھی طرح کمترنظر نا آئے مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ والدین کی اصل ذمہ داری بچوں کی اچھی تعلیم و تربیت ہے۔

آج یہ حال ہوچکا ہے کہ والدین اپنے بچوں کی مصروفیات سے بلکل ہی لا تعلق ہوچکے ہیں ، وہ کہاں جاتے ہیں ,کیا کرتے ہیں انکو کچھ نہیں پتا ہے۔ مادیت پرستی کی اس دوڑ میں اسکول جانے والی بچیاں اور بچے صرف ایک موبائل فون یا اچھے کپڑے کیلئے جنسی بے راہ روی کا شکار بہت تیزی سے ہورہے ہیں ،۔ ٹیوشن سنٹرکا کہہ کر لڑکیاں اور لڑکے کہاں جاتے ہیں اسکا انکے والدین کو کوئی علم نہیں ہے بچوں کے پاس نئے نئے موبائل فون کہاں سے آتے ہیں یا انکے فون کا بیلنس ہروقت کیسے پورا ہوتا ہے اس سے والدین ناواقف ہیں کہنے کو باپ ایک لگی بندھی تنخواہ کماتا ہے اور ماں ہروقت مہنگائی کا رونا روتی ہے مگربچے اکیلے رکشوں ٹیکسیوں میں گھومتے ہیں کرایہ کہاں سے آتا ہے والدین پوچھنا گوارہ نہیں کرتے ہیں ۔ چلیں مان لیں کہ باپ تو سارا دن روزی روٹی میں لگا ہوتا ہے مگر ماں کہاں ہوتی ہے؟ ویسے تو ماں بہت دعویٰ کرتی ہے کہ اولاد کے پاوں تو پالنے میں ہی پہچان لیتی ہے توپھر اسوقت پہچان کہاں چلی جاتی ہے جب بچہ یا بچی بے راہ روی کا شکار ہوجاتی ہے؟ خود سوچیں جو بچے اس عمر میں ! جسمیں انکو بہت سنبھال سنبھال کرچلانا پڑتا ہے جنسی بے راہروی، غنڈہ گردی اور دوسرے گندے کاموں میں پڑگئے توانکی کیا زندگی ہوگی اور یہ اپنی آنے والی نسلوں کوکیا دینگے؟ آخر میں جب وہ اپنی اولاد کو اپنی طرح بے راہ روی کا شکار ہوتے دیکھینگے تو یہی کہنے پے مجبور ہونگے کہ;

  صرف اک قدم اٹھا تھا غلط راہ حیات میں

     منزل تمام عمر مجھے ڈھونڈھتی رہی

یہ توذمہ داری تھی والدین کی لیکن اگرہم اجتماعی طورپر دیکھیں تو کیا کوئِی ایسی شخصیت موجود ہے جسکو مشعل راہ بنا کر نوجوان نسل کو بگڑنے سے بچایا جائے؟ آج میڈیا کے اس دور میں کیا کوئی ایسا پروگرام یا معلومات ہم پاتے ہیں جو ہماری نوجوان نسلوں کے سدھار میں کام آئے؟ جواب ہوگا نہیں کیونکہ ہمارا میڈیا جن لوگوں کو رول ماڈل بنا کرپیش کرتا ہے انکی ریاکاری اور سیاہ کار کارنامے، آج کے اس انٹرنیٹ کے زمانے میں صرف ایک کلک سے دور ہوتے ہیں ۔ ہر وہ شخص جو اخلاق باختہ ہو اسکو کبھی مذہبی اسکالر تو کبھی کوئی اسلامی پروگرام کا میزبان بنا دیا جاتا ہے جسکا کام اخلاق سدھارنا نہیں بلکہ پروگرام دیکھنے والے کی تھوڑی بہت بچی ہوئی عقل و عزت کو ٹھکانے لگانا ہوتا ہے، اسکے علاوہ چینلز پر چلنے والے اخلاق سے گرے انتہائِی بے ہودہ اشتہارات مزید زوال پزیری کی طرف دھکیلنے کا سبب بن رہے ہیں ۔

آج آپ ٹی وی اپنے بہن بھائیوں یا والدین کے ساتھ بیٹھ کرنہیں دیکھ سکتے ہیں کیونکہ آپ کو نہیں پتہ کہ کس وقت کوئی ایسا اشتہار آجائے جس سے باپ بھائی اپنے بیٹی بہن کے آگے شرمندہ یا بیٹی بہن باپ بھائی کے آگے شرمندہ ہوجائیں ۔ ہمیں بہت شوق ہے نا مغرب کی پیروی کرنے کا توہمیں یہ بھی دیکھ لینا چائیے کہ وہاں کے مادرپدرآزاد معاشرے نے انکو اتنا اخلاق باختہ کردیا ہے کہ وہ اپنی تہذیب کا رونا رو رہے ہیں آج پوری دنیا میں لڑکیوں سے جنسی زیادتی میں سب سے آگے شامل ملکوں میں اعلی درجہ رکھتا ہے انکی مثال ایسی ہی ہوگئی ہے کہ کوا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھی بھول گیا۔ اس سے پہلے کہ یہ مثل ہم پر لاگو ہو ہمیں اپنا قبلہ درست کر لینا چائیے۔   ہم ایک تہذیب یافتہ اور اسلامی تعلیمات سے آراستہ قوم ہیں اگر ہم سمجھتے ہیں کہ دینی تعلیم کی وجہ سے ہم ترقی سے دور ہیں تو ہمیں ایسے ذہن پر افسوس کرنا چاہیئےکہ ہم نے اسلام کو صحیح معنوں میں سمجھا ہی نہیں .کیونکہ اسلام مکمل ضابطئہ حیات ہے, زندگی کا ایسا کوئی مسئلہ اور پہلو ہو ہی نہیں سکتا جس کا حل اسلام کے پاس نہ ہو کیونکہ ہوا میں تیر چلانے سے کچھ نہیں ہوتا,اسکے لیے عزم مصمم کیساتھ اسلام کو سمجھنا ضروری ہے.

   طلب جو ہو تو پہونچتا ہے مرد منزل تک

    اگر ہو عزم مصمم تو کیا نہیں ہوتا

جب ہم اپنے مطلب کے حصول کیلئے پوری ذہنی صلاحیت رکھتے ہیں تو پھر قرآن بھی خود پڑھکر رہنمائی بھی حاصل کر سکتے ہیں کیونکہ اسلام آسانی کا مذہب جو ہر شخص کو سجھنے کی دعوت دے رہا ہے کہ میں آسان ہوں آو سمجھو  مگر کچھ لالچی,اسلام اور ایمان کی تجارت کرنے والوں نے اسے مشکل بنا کر قوم کو بے راہ روی کا شکار بنا دیا ہے۔۔ اسلام انسانی ترقی سے نہیں روکتا ہے مگر ترقی وہ کرنی چاہیے جو ہمیں انسان ہی رہنے دے جانور نا بننے دے۔ تجارتی اداروں سے تو توقع نہیں ہے کہ وہ بہتری کیطرف  کوئِی توجہ دیں کیونکہ دنیا کے تمام بڑے تجارت انکے ہاتھ میں ہے جو صرف خود کو خدا کی پسندیدہ قوم سمجھتے ہیں لہذٰا یہ ذمہ داری پھر والدین اور ہم پر خود پر لاگو ہوتی ہے کہ ہم دنیا میں ترقی یافتہ مادی طورپربعد میں مگر اخلاقی اور مذہبی طورپر پہلے نمبرپرپہچانے جائِیں ۔ راہ میں بچھے کانٹے جو ہم نے خود بوئے ہیں ہمیں خود کاٹنے ہیں اپنے لئے اور اپنی آنے والی نسلوں کیلئے_

 اس زمانے کا بڑا کیسے بنوں

  اتنا چھوٹا پن میرے بس کا نہیں

⋆ محمد خان مصباح الدین

محمد خان مصباح الدین

ایک تبصرہ

  1. ہمارے بچے موجودہ جدید سائنسی و مادی دور میں اپنے دین اور تہذیب و ثقافت کے حوالے سے مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ اس حوالے سے ان بچوں کے اٹھائے جانے والے سوالات کے مناسب اور بڑے احسن طریقے سے جواب دینے میں والدین کی کوششیں بھی بیشتر اوقات ناکافی ہوتی ہیں۔ معصوم ذہنوں میں آنے والے سوال ہوتے تو بہت چھوٹے اور سادہ ہیں لیکن اُن کے جواب بعض اوقات اتنے بھی آسان نہیں ہوتے ۔ اس لئے ضرورت ہے کہ ان کے ذہن میں اٹھنے والے سوالوں کے ایسے جواب دیئے جائیں کہ وہ مطمئن ہوجائیں۔
    ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے ہر قسم کی فرقہ بندی، رنگ و نسل اور ذات برادری سے ہٹ کر ایک مضبوط قومی جذبے اورخالص اسلامی اصولوں پر مبنی طرز حیات اختیار کریں۔
    بچے جو کہ مستقبل کے معمار ہیں اُن کی تعلیم و تربیت اس اندازسے کی جائے کہ وہ اچھے انسان، محب وطن اور باوقار شہری بنیں ۔اُن کے ذہن میں کوئی الجھن نہ ہو۔ وہ اپنے دل اور دماغ کے اطمینان کے ساتھ اپنی زندگی بسر کریں۔

    بچوں کے سوالات کہ ہم مسلمان کیوں ہیں۔ اسلام کسے کہتے ہیں۔ اسلام ہی سچا مذہب کیوں ہے۔ ایمان کسے کہتے ہیں۔ پیغمبر اب کیوں نہیں آتے۔ اللہ تعالی نظر کیوں نہیں آتے۔ غیر مسلمانوں کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہیے۔ ہماری دعائیں کیوں قبول نہیں ہوتیں۔ مثالی شخصیت کیسے بن سکتے ہیں۔ مومن کسے کہتے ہیں۔ اللہ نے کن چیزوں سے منع کیا ہے۔ ہمارے پیارے رسول اور دیگر کئی اور سوالات جو بچے اکثر پوچھتے ہیں________

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے