دیگر نثری اصنافشخصیت کا ارتقا

آئینہ جھوٹ نہیں بولتا

سیدہ تبسم منظور

ایک گیت بڑا پیارا ہے:

آئینے کے سو ٹکڑے کر کے ہم نے دیکھے ہیں۔

ایک میں بھی تنہا تھے ہم سو میں بھی اکیلے ہیں۔۔۔سو میں بھی اکیلے ہیں۔

 ہاں سچ ہے کہ آئینہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔ اس کے سامنے پھر کوئی بھی ہو چاہے بادشاہ ہو یا گدا۔۔۔۔۔۔۔ جو جیسا ہے وہ ویسے ہی اس کی حقیقت بیان کردیتا ہے۔۔۔۔۔وہ کبھی کسی کی چغلی نہیں کرتا۔۔۔۔۔۔ کبھی یہ نہیں کہتا کہ ابھی آپ سے پہلے فلاں شخص آکر گیا۔  ہاں یہ آئینہ صرف ظاہر بیان کرتا ہے باطن نہیں ۔ پر اس آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر باطن بھی دیکھنا چاہئے۔ آئینہ وہ با کمال شے ہے جس کی فطرت میں اللہ رب العالمین نے سچ کو عیاں اور ظاہر کرنا لکھا ہے۔ وہ وہی ظاہر کرتا ہے جو اس کے روبرو ہوتا ہے۔ بالکل ویسا ہی ظاہر کرتا ہے جیسا حقیقت میں ہوتا ہے ۔نہ اسے لالچ ہے کہ سامنے والے کی خوشنودی حاصل کرکے کسی انعام کا حقدار بنے نا ہی کوئی خوف ہے کہ کسی کی ناراضگی کا شکار ہوکر چکنا چور ہوجائے۔ نادان انسان اپنی شخصیت کی خامیوں کی حق بیانی کے صلہ میں آئینے کو اپنے غصے کا شکار بناتا ہے۔جبکہ ہونا تو یہ چاہیے کے آئینے کی حق بیانی سے متاثر ہوکر اپنے اندر موجود خامیوں کو دور کرکے خوبیوں میں تبدیل کرنے کی تدابیر کرنی چاہیے۔ نا کہ آئینے کو اپنے غصے کا شکار بنانا چاہیے۔آئینے کی اپنی ذمے داری ہے۔۔۔۔ جس کو قبول نا ہو وہ آئینے کے سامنے کھڑا نا ہو۔

  آئینہ ایسی چیز ہے جو ہماری زندگی میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔حقیقت میں آئینے کا کام صرف اتنا ہے کہ وہ ہمیں اپنے آپ کے سامنے کھول کر رکھ دیتا ہے۔ جس قدر ہم آئینے کو دیکھتے رہیں گے ، اتنا ہی یہ ہمارے نقوش زیادہ سے زیادہ واضح کرتا جائے گا۔ آئینے کے سامنے ہی ہم اپنا ظاہری بناؤ سنگھار بھی کرتے ہیں۔ اور یہی وہ کام ہے جو شاید ہمیں سب سے زیادہ پسند ہےاور آئینے کا زیادہ تر استعمال بھی اسی کے لیے ہوتا ہے۔ کسی تقریب میں جانا ہو تو گھنٹوں آئینے کے سامنے کھڑے رہتے ہیں۔ کئی خواتین کے پرس میں بھی یہ موجود ہوتا ہے۔ جب بھی کہیں وقت ملتا ہے فوراً اسے نکال کر اپنے آپ کو دیکھنا شروع کر دیتی ہیں۔ اس دنیا میں ہمارے لیے ایسے باطنی آئینے بھی موجود ہیں جن کا کام ہی آئینے کی طرح ہمارے اندر کی خوبصورتی کو ہمارے سامنے لاناہے۔ یہ ہماری شخصیت ،ہمارے کردار، ہمارے صحیح غلط کو ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں۔۔۔۔ ہماری محبت، نفرت اور عقیدت سب کچھ کھول کر رکھنا ان باطنی آئینوں کا ہی کام ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان باطنی آئینوں کا زیادہ استعمال کریں کیوں کہ یہ ہمارے وہ محبان ہیں جو ہم سے سچی محبت کرتے ہیں اور اس دنیا میں ان سے زیادہ مخلص کوئی نہیں۔ یہ باطنی آئینے بھی بڑے کمال کی چیز ہوتے ہیں۔ ہماری ذات کے سب رنگ۔۔۔۔ ہر پہلو، ان کے سامنے عیاں ہوتے ہیں۔ وہ ہماری خامیوں پر ہم سے نفرت نہیں کرتے بلکہ ہم سے زیادہ یہ ان کی پردہ داری کرتے ہیں۔ لیکن صد افسوس کہ ہم ان کی قدر نہیں کرتے،ان کا صحیح استعمال کرنا ہی نہیں جانتے۔۔۔۔ ہم انہیں برا جانتے ہیں اور ہم نے شیشے کے بنے آئینوں کی فطرت کے لوگوں کی باتوں پر خوش ہوتے رہتے ہیں۔

ہر انسان خود کو آئینے میں دیکھتا ہے۔۔۔۔۔۔ خود کو سنوارتا ہے ۔۔۔۔۔ اپنی خوبصورتی پر نظر رکھتا ہے۔۔۔۔ اور بہت ہی خوش ہوتا ہے۔ لیکن اگر کوئی ہمیں آئینہ دکھادے تو ہمیں بہت برا لگتا ہے۔۔۔۔خون کھول اٹھتا ہے ۔۔۔۔ اس لئے نہیں کہ آئینہ خراب ہے ۔۔۔۔۔بلکہ اس لئےکےاس میں ہمارا عکس ہے نا وہ خوفناک نظر آتا ہے ۔۔۔۔۔ توہم دوسروں پر چیخنے چلانے لگتے ہیں۔ قصور آئینے کا نہیں یا آئینہ دکھانے والے کا نہیں۔۔۔ بلکہ ہم سچ دیکھنا اور سننا پسند ہی نہیں کرتے۔۔۔۔۔نہ ہی خود سے وابستہ کوئی بھی کمزوری دیکھنا یاجاننا چاہتےہیں۔

ان ظاہری اور باطنی آئینوں کے ساتھ ساتھ ایک آئینہ ہمارے اندر بھی موجود ہے جوہماری شخصیت کو نکھارنے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ہمارے اندر کا آئینہ جتنا صاف اور شفاف ہو گا اتنی ہی ہماری شخصیت نکھرتی جائیگی۔یہ آئینہ ہمارا دل ہے۔ دل ایک آئینہ ہے جہاں مثبت احساسات اور جذبات کا عکس ہمارے چہرے پر نمایاں ہوتا ہے اسی لیے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آئینے کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں تو اپنا عکس دیکھتے ہیں لیکن کوئی لمحہ ایسا بھی آجاتا ہے کہ جب آئینہ عکس کے مقابل آ جاتا ہے۔ یعنی ظاہری عکس کے بدلے ہمیں باطن دکھائی دیتا ہے۔۔۔۔ ہمارے اندر کا عکس آئینے میں اتر کر ظاہر کو دھندلا دیتا ہے۔۔۔۔ یا پھر روشن کردیتا ہے۔۔۔۔ یا پھر کبھی ہمارا ادھورا عکس ہماری ذات کے ادھورے پن کو ابھار کر سامنے لاتا ہے۔ دل کی صفائی کئے بنا کیا خوبصورت عکس ممکن ہے۔ ہم دل کے آئینے کو شیشے سے بنے آئینے کی طرح استعمال کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ہر کوئی دوسرے کی غلطیاں گنواتا ہوا نظر آتا ہے۔۔۔۔۔ اپنی غلطیوں پر نظر ہی نہیں ہوتی۔۔۔۔ اور نہ ہی کسی کے کہنے پر اپنی غلطی کو قبول کیا جاتا ہےاور نہ ہی قبول کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔

کوئی بھی آئینہ ہو وہ ہماری شخصیت کے بارے میں بیان کرتا ہے۔وہ آئینہ جتنا شفاف ہوگا اتنے صحیح عکس کو سامنے لائے گااور ہم اپنے آپ کو بدل سکتے ہیں۔ دوسروں کو نہ دیکھیں ۔ اپنے آئینے درست کریں ۔ آپ کو خود میں موجود تمام باتیں صاف صاف نظر آئیں گی ۔ جب ایسا ہوگا تو آپ کہیں گے کہ میں کامیاب انسان ہوں۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close