شخصیت کا ارتقا

اپنا کمال دیکھائیے

وردہ صدیقی

(نوشہرہ کینٹ)

 5اپریل 2014؁ء اٹک شہر کی مدینہ مسجد اور جامعہ حمیدہ للبنات کیلئے خوبصورت یادگار اور پرنور دن تھا۔ چار سو نکھرا نکھرا منظر تھا۔ سب کے چہرے خوشی سے تمتما رہے تھے، نظریں کسی خاص شخصیت کی منتظر تھیں، اور کیوں نا ہوتیں کہ اس روز مدینہ مسجد اٹک شہر میں ایک عظیم ہستی حضرت مفتی ابو لبابہ شاہ منصور صاحب دامت برکاتھم العالیہ تشریف لانے والے تھے۔ ان کی تشریف آوری کا مقصد عوام و خواص کو ہاتھ کے اشاروں کی مدد سے عربی بول چال کا آسان اور نیا انداز سیکھانا تھا۔

 وہ کیا ہی مبارک دن تھا۔۔۔۔۔۔ وہ کیا ہی بابرکت ساعات تھیں۔ ۔۔ جو اپنی تمام تر رعنائیوں۔ ۔۔ ایمان کو جلا بخشتی۔ ۔۔ حضرت مفتی صاحب کی خداداد صلاحیتوںکا منہ بولتا ثبوت تھیں۔

 اس شام ہر شخص اس جبل استقامت، علم کی کہکشاں، ادب کے حسین شہ بارے کی نسل نو کے خاطر مساعی و جدوجہد، کٹھن اسفار، انداز خطابت، حکمت ودانائی اور فضل و کمال کا دل سے معترف ہوکر گیا۔ اس کورس میں شامل ہونے والے ہر خوش قسمت نے اپنے دل کے پیالے کو حضرت کے نصائح اور حکمتوں کے لئولئوو المرجان سے مزین کیا ہوا تھا۔

اگلی صبح استاد محترم جناب مولانا قاضی محمد اسعد الحسینی مدظلہ العالیہ ابن قاضی محمد ارشد الحسینی دامت برکاتھم العالیہ صحیح البخاری کے درس کیلئے تشریف لائے تو سب سے پہلے گزشتہ روز کے کورس پر تبصرہ فرمایا اور حضرت مفتی ابو لبابہ شاہ منصور صاحب کی صلاحیت وقابلیت کی خوب تعریف کی۔ ساتھ ہی ہمیں چند نصائح بھی ارشاد فرمائے۔ جوزندگیوں میں تبدیلی لانے اور کامیابیوں کی ضامن ہیں۔

حضرت استاد محترم فرمانے لگے : ” ہر انسان میں چند کمالات ہوتے ہیں۔ اگر وہ اپنے پوشیدہ کمالات کو ظاہر کرکے کمال دکھائے تو باکمال بن سکتا ہے۔

 آپ اپنے اندر کا کمال ڈھونڈیں۔ جب اسے تلاش کر چکیں تو اس کا حصول ضروری بنالیں۔ پھر اس کی خاطر راستے میں آنے والی آڑچاہے وہ پہاڑ کی طرح مضبوط ہوکو روئی کے گولے کی طرح دھن دیں۔ مشکل اور ناممکن کا لفظ اپنی زندگیوں سے نکال دیں۔ تبھی آپ ترقی کی حسین وادی میں جگہ پاسکتے ہیں۔

یاد رکھیں !آپ سے آپ کا کمال کوئی نہیں چھین سکتا۔ اگر آپ میں کمال ہے تو آپ محتاج نہیں ہیں۔۔۔۔۔ لوگ جگہوں کے انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں۔ اگر واقعی آپ میں کمال ہے تو جگہوں والے آکر خود  آپ کو اپنی جگہ پر لے جائیں گے۔ حضرت مفتی صاحب کی مثال آپ کے سامنے ہے۔

 حضرت مفتی صاحب ان عظیم ہستیوں میں سے ہیں جو اپنے ارادوں میں مضبوط اور اپنی دھن کے پکے ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو امت محمدیہ کا درد لئے ان کی صلاح وفلاح کے خاطر نگر نگر گھومتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی راہ کی رکاوٹوں کو خندہ پیشانی سے عبور کرتے چلے جاتے ہیں۔۔۔۔ گھمبیر اور سخت حالات کی کڑک ان کے مضبوط ارادوں کو متزلزل نہیں کر سکتی۔۔۔۔

؎ شریعت غم ہستی سنوارنے والے

 تجلیوں کو فلک سے اتارنے والے

 خدا گواہ کہ کانٹوں پر رقص کرتے تھے

چمن چمن کا مقدر نکھارنے والے

 دلوں کو بخش گئے ہیں قرار کی دولت

تمام عمر تڑپ کر گزارنے والے

یہ وہ لوگ ہیں جو چٹان جیسی ہمت و طاقت رکھتے ہیں اور دنیا میں کسی بھی منزل کا حصول ناممکن نہیں ہے۔ بس۔۔۔۔۔۔۔ شرط یہ ہے کہ محنت، استقامت اور نیک نیتی کو اپنا اوڑھنا بچھونا اور شعار بنالیا جائے۔

جی۔۔۔۔۔!تو میں کہہ رہا تھا کہ کمال آپ کا ذاتی فعل ہے وہ آپ کے ساتھ رہے گا باقی سب بے جان چیزیں ہیں، سب یہیں رہ جائیں گی۔ انسان خودبھی اس دنیا سے رخصت ہوجائے گا مگر اپنے کمال کی وجہ سے ہمیشہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

 محنت کریں محنت۔۔۔۔۔!!!

 یہ سب محنت سے حاصل ہوتا ہے۔ مسلسل محنت، کام کی لگن، شوق اور قابلیت انسان کوکوہِ ہمالیہ کی بلندیوں تک پہنچا دیتی ہے۔ یاد رکھنا۔۔۔!منزل ہمیشہ ان  لوگوں کے قدم چومتی ہے جو اپنے ارادوں میں اٹل اور پکے ہوتے ہیں۔ زمانے کے حادثات کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں۔

دوسری بات:

 یاد رہے کہ آپ اور آپ کا ہر پل تاریخ کا حصہ بننے والا ہے۔ آپ کے اعمال لوگوں کے لئے نمونہ ہیں۔ لہذا ہمیشہ اپنے کام سے کام رکھیں۔ دوسرے کیا کر رہے ہیں اس پر نظر نہ رکھیں۔ فلاں نے یہ کیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔فلاں نے وہ کیا۔ ۔۔۔۔!

نہیں!بلکہ آپ کیا کررہے ہیں اس کو مدنظر رکھنا چاہیے۔

ہائے فلاں نے یہ کردیا۔۔۔وہ کردیا۔۔۔!

اس صورت میں فقط رونے اور محرومیت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ایسے لوگوں کو کبھی کامیابی نہیں ملتی۔ وہ ترقی نہیں کرسکتے۔ ۔۔۔۔میدان عمل میں کوئی کردار پیدا نہیں کرسکتے۔ ایسے لوگوں کو بار بار زوال اور پستی کا سامنا کرنا پڑتا ہے”۔ (ختم شد)

میں نے آپ سے یہ نصائح اس لئے بیان کی ہیں کہ یہ الفاظ ایک صالح اور باعمل عالم دین کی زبان مبارک سے ادا ہوئے ہیں۔ جو اپنے اندر ایک جادوئی اثر رکھتے ہیں۔ان نصائح نے میری زندگی میں بے شمار تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ اور میں یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ آپ میں سے جو شخص بھی ان الفاظ پر غور و تدبر کرے اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کرے گا تو اللہ سے قوی امید ہے کہ وہ اپنے اندر کی چھپی صلاحیتوں کو بیدار کر کے کمال حاصل کر لے گا۔اب جو بھی ان نصائح کو پڑھ کر کمال حاصل کر لے اس سے درخواست ہے کہ مجھے اور میرے اساتذہ کو اپنی ادعیہ میں ضرور یاد رکھے۔۔۔۔!

اللہ پاک ہمیں اچھے اور بھلے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور نیک لوگوں کی صحبتیں باربارنصیب فرمائے (آمین )

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close