شخصیت کا ارتقامذہبی مضامین

حُسنِ اخلاق سے نورِ مجسّم ہوجا

زاہدالاسلام

اللہ تعالٰی نے عالمِ انسانیت کی ابتداکرنے کے بعد ایک انسان کو زندگی کے مختلف مراحل میں ڈالا۔ بچپن سے لیکر موت تک کی زندگی کے اُن مختلف مراحل میں سے گزرنے کے لیے اُسے رہنمایَی کی ضرورت پڑتی ہے جسکے بغیر، اگر میں کہوں اُسکا آگے بڑھنا بہت ہی دشواراور کٹھن ہے، تو بے جا نہ ہوگا۔ زندگی کے مختلف شعبہ جات، جیسے کہ معاشرت، معیشیت، سیاست، اور بین الاقوامی تعلقات میں ہدایت ورہنمایَی پانے کیلیے اللہ تعالٰی نے مختلف موقعوں پراُن ہی لوگوں میں سے اپنے خاص اور برگزیدہ بندوں کو چُناجو اپنا فرضِ منصبی یعنٰی اللہ تعالٰی کا پیغام، انسانیت تک پہنچاکر سُرخ رو ہوےَ۔ چنانچہ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے:’’اور ہم نے ہر اُمّت میں ایک رسول بھیج دیا، اور اُس کے ذریعہ سے سب کو خبردار کیا کہ اللہ کی بندگی کرو اورطاغوت کی بندگی سے بچو۔ اس کے بعد ان میں سے کسی کو اللہ نے ہدایت بخشی اور کسی پر ضلالت مسلّط ہوگیَی۔ پھر ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ جُھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوچکا ہے۔ ‘‘ (سورہ النّحل:۳۶۔ ۱۶)۔ اسی طرح قرآن میں ایک اور جگہ اللہ فرماتے ہیں:’’یہ لوگ جنہوں نے تمہاری بات ماننے سے انکار کردیا ہے، کہتے ہیں کہ اِس شخص پر اس کے رب کی طرف سے کویَی نشانی کیوں نہ اُتری؟۔ ۔ ۔ تم محض خبردار کرنے والے ہو، اور ہر قوم کے لیے ایک رہنما ہے۔ ‘‘ ( سورہَ الرّعد:۰۷۔ ۱۳)۔

حضرت آدم ؑ سے لیکراس اُمّت کے آخری نبی حضرت محمّدﷺ تک ہر پیغمبر کے یہاں مبعوث ہونے کا صرف ایک ہی مقصد تھا کہ انسانیت تک اللہ تعالٰی کا پیغام پہچایے جانے سے اُنھیں ہدایت و رہنمایَی حاصل ہو۔ ان ہی تعلیمات نے انسانیت کو زندگی کے مختلف شعبہ جات میں ہدایت و رہنمایَی فراہم کرنیے میں اپنا کلیدی رول ادا کیا۔ اُن مختلف شعبہ جات میں سے اخلاقیات ایک اہم اور قابلِ قدر شعبہ ہے، جسکے بغیر باقی تمام شعبہ جات کی کویَی وقعت نہیں ہے۔ قریباً تمام مذاہب میں کم و بیش تین(۳) امور، یعنٰی، ۱)عقیدہ، ۲)رسم و رواج، ۳)اخلاقیات پاےَ جاتے ہیں، حالانکہ اختلافات ایک ہی مذہبی روایت کے اندر مختلف شاخوں، مکتبوں، مسلکوں کے درمیان بھی پاےَ جاتے ہیں جومختلف افعال کی پُرزور تاکید کرتے ہیں۔ مثلاً، ایک گروہ رسم و رواج اور دُوسرا عقیدہ پر زور دے سکتا ہے لیکن اخلاقی ڈھانچہ کو فروغ دینا اُن دونوں کا مشترک لایَحہ عمل ہوتا ہے۔ مگریہ معاملہ ہمیشہ نہیں رہا ہے بلکہ ہوا ایسا کہ مذاہبِ عالم کے درمیان آپس میں اختلافات ہونے کے مقابلے میں ایک ہی مذہب کے اندربعض اوقات اخلاقیاتی تفرّق حد سے زیادہ تجاوز کرگیا۔ یا بالفاظِ دیگر یوں کہا جاسکتا ہے کہ ایک ہی مذہب کے اندر الٰہیات کے متعلق اتّفاق ہونے کے ساتھ ساتھ صحیح اور غلط کے بہت سارے تصوّرات بھی پنپتے ہیں۔

اسلام کا آغاز چودہ سو سال قبل دُنیاےَ عرب میں ہوا جب حضرت محمّد ﷺ پر غارِحرا میں پہلی دحی نازل ہویَی۔ رفتہ رفتہ ایک عرب پرستاروں کو اپنے ساتھ لیے آگے بڑھا اور دُنیا کے ہر کونے میں اپنے پیر جماےَ۔ اگرچہ اسلام کے اکثر پیروکار، جنہیں مسلمان کہتے ہیں، افریقہ اور ایشیا کے براعظموں میں پاےَ جاتے ہیں(بشمول سابق سویت یونین اور شمال مغربی چین)لیکن امریکہ، آسٹریلیہ اور یورپ میں رہنے والے مسلمانوں کی تعدادمیں بیسویں صدی کے آخری دور میں کافی اضافہ ہوا۔ حال ہی میں مختلف اقوام اور برادریوں، جو عالمی اُمّتِ مسلمہ کو تشکیل دیتے ہیں، نے قومی اور ثقافتی شناخت سے تعلق رکھنے والے ورثہ کو برقرار رکھنے کے لیے تبادلہَ خیال کا اظہار کیا۔ کیونکہ جہاں یہ رجحان گھریلو یا بین الاقوامی ردِ عمل اور تنازعہ کے ساتھ متحد ہوگیا، اس نے اسلام کے کلیدی کردار کے بارے میں اُلجھنیں اور غلط فہمیاں کھڑی کردی۔ جسکی وجہ سے یہ ضروری بنا کہ تاریخی بصیرت کو فروغ دینے میں اسلامی اقدار اور اُن کے بُنیادی فرایَض نے اپنی جگہ کیا رول نبھایا اور ساتھ ہی یہ جاننا ضروری ہے کہ اسلام کے اخلاقی سوچ میں تنوع کی صفّت کس حد تک پایَی جاتی ہیں۔

عربی حرف ’’اخلاق‘‘ ’’خلق‘‘ کی جمع ہے جو ایک شخص کے کردار کی علامت ہے جسکے نتیجے میں ایک شخص کی تعمیر یا تبدیلی ہوسکتی ہے۔ عصرِ حاضر میں لفظ ’’اخلاقیات‘‘ کو انگریزی کا حرف ’’اتھیکس‘‘(Ethics) تصوّر کیا جاتا ہے۔ جس کے معنٰی و مفاہیم انگریزی میں مبہم ہے کیونکہ یہ فلسفہ کی شاخ کے میں بارے میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ یہاں ہم اسکو بُنیادی اخلاقیات کے معنٰی میں لیں گے۔ بقولِ سیّد مودودی ؒ کے اخلاقیات تمام علوم و فنوں میں دو حصّوں پر مشتمل ہیں، ایک حصِہ تو خالص ان معلومات پر مشتمل ہوتاہے جو انسان کو دُنیا اور اس کی زندگی اور خُود اُس کی اپنی زندگی کے مختلف زمانوں میں حاصل ہوتی ہیں اور دوسرا حصّہ اس چیز کا ہوتا ہے کہ حاصل شدہ معلومات کو ہر گروہ اور ہر قوم اپنے ذہن اور اپنے طرزِ فکر اور اپنے نقطہَ نظر کے مطابق مرتب کرتی ہے۔ جہاں تک دُنیا میں اخلاقیات کاتعلق ہے ان میں کویَی فرق نہیں۔ فرق اس صورت میں واقع ہوتا ہے کہ ان اخلاقیات کو جمع اور مرتب کرنے والا اپنی سوچ اور نظریہ کے مطابق ضابطہَ اخلاق مرتّب کرتا ہے۔ اخلاقیات کو اچھی اور پاک زندگی گُزارنے کے علم کے طور پر لیا گیا ہے۔

C.S.Lewis اپنی کتاب The Abolition of Man میں کہتے ہیں:’’انسانی دماغ میں نیَے اقدار کی تزیَین کرنے کے مُقابلے میں ایک نیا رنگ تصوّر کرنے کا، یا واقعی، ایک نیا سورج اور اس کے لیے نیا آسمان بنانے کی طاقت نہیں ہے۔ ‘‘ (p.56-57)۔ Calvin D.Linton نے ہر جگہ اخلاقی معیار کے مستقل استحکام پر تبصرہ کیا ہے: ’’ تمام اخلاقی معیار ات میں مماثلت کا ایک بُنیادی نمونہ ہوتا ہے۔ وہ چیزیں قتل، زنا اور جھوٹ ہیں جن کی مذمت ہمیشہ سے کی جاتی ہیں۔ اخلاقی احساس کی عالمی حیثیت اور متنوع ثقافتوں کے معیارات میں مماثلت ایک عام اخلاقی ورثہ کا حامل ہے جسکی وضاحت مادیت پرستی یا طفعی حالت نہیں کرسکتی ہے۔ ‘‘ (صفحہ۔ ۶۲۰)۔

مسلمانوں کا نقطہَ نظر یہ ہے کہ اخلاقی معیار خود مُختار(Arbitrary) ہیں جو خدا کے فرمان میں سے ایک مصنوعی چیز ہے جسکی تبدیلی اللہ کی مرضی سے ہی ہو سکتی ہے۔ قرونِ وسطٰی کے مسلمان علماء اس موضوع کو’’ علم الاخلاق‘‘ کا نام دیتے ہیں جو اخلاقی اصولوں، اقدار اور مقاصد اور ان سب موضوعات پر بحث کرنے کا بھی احاطہ کرتا ہے۔ مذہب اخلاقیات کا مطالبہ کرتا ہے اور اسلام سے قبل معاشرے میں اخلاقی اقدار کا تسلیم کرنا ہی مذہب میں داخل ہونے کے برابر تھا۔ اگرچہ اسلام کے اخلاقی مطالبات دورِجاہلیت کے اخلاقی معیارات سے کہیں زیادہ ہیں۔ یہی چیز مذہب اور اخلاقیات کے درمیان تعلقات کی پیچیدگیوں کا ایک اچھا تعارف فراہم کرتا ہے۔ ایک طرف سے تمام مذاہب میں کچھ اخلاقیات کے پہلو پنہاں ہوتے ہیں جو اپنے ماننے والوں کو اچھایَی اور بُرایَی کا معیار فراہم کرتے ہیں، فضایَل اور رضایَل کی معلومات دیتے ہیں، اور اس بات سے بھی آشنا کرتے ہیں کہ کس کام کی یہاں قدر ہے اور کونسی عمل بیکار اور راییَگان ہوجاتی ہے۔ دوسری طرف مذہبی اخلاقی تعلیمات، اخلاقی خلا کو پورا نہ کرنے کے بجاےَ اپنے مدعوعین کے اخلاقی ضمیر کو جنجھوڑنے کی جدوجہد اور کوشش کرتی ہیں، جسکی وجہ سے جُزوی طور پر اخلاقیات کی تصدیق اور اصلاح ہوجاتی ہے۔ قرآن میں اس کی مثال بدرجہ اتم موجود ہے، جس میں امر بالمعروف ’نیکی کا حکم ‘‘ دینے کا اعلان کیا ہے اور نہی عن المنک ’’بُرایَوں سے بچنے ‘‘ کی بھی تاکید کی گیَی ہے جس کے بارے میں اخلاقی ضمیر کویَی واضح عالمی فیصلے کی پیشکش نہیں کرتا ہے۔ علاوہ ازیں قرآان نے اقتصادی اور سماجی زندگی میں نا انصافی کو روکنے پر زور دیا ہے۔ مثال کے طور پر مسلمانوں کو خاندان اور رشتہ داروں پر، یتیم پر، غریب پر، مسافر پر، ضرورت مند پر، اور غلام کو آزاد کرنے پر اپنے مال کو خرچ کرنے کی تاکید کی گیَی۔ اس طرح کے اعمال سماجی ضمیر کو فروغ دینے اور سماجی اور سامراجی وسایَل کو غیر مراعات یافتہ طبقے سے شریک کرنے کے لیے مسلمانوں کی ذمہ داری کی وضاحت ہوجاتی ہے۔ قرآن میں اس کے لیے لفظ ’’زکوٰۃ‘‘ کی اصطلاح کا استعمال کیا گیا جں کے معنٰی ’’دینا، فضیلت، اضافہ اور صفایَی‘‘ کے ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جو رفتہ رفتہ ایمان کے پانچ ستون میں سے نماز، روزہ اور حج کی طرح ایک ستون کی حیثیت اختیار کر گیا۔

سماجی سطح پر، ایک خاندان کی اہمیت کو قرآن نے دوبالا کرنے کے لیے نوزایََدہ بچیوں کو زندہ درگور کرنے سے روکا اور خواتین کے حقوق کی بازیابی کے لیے اقدامات اُٹھاےَ، جایَداد رکھنے کے حقوق، وراثت کے حقوق، معاہدہَ شادی کے حقوق کی پاسداری کی گیَی۔ بیویوں کی کثرت (Polygyny) محدود اور باقاعدہ کی گیَی۔ مرد کو چار بیویوں کی اجازت دی گیَی، لیکن صرف اس صورت میں کہ وہ اُن کے ساتھ یکساں سلوک کرے۔ یہ وہ اقدامات تھے جن کے نتیجے میں خواتین کی حیثیت بڑھ گیَی۔ مسلمانوں نے ساتویں صدی کے سیاق و سباق میں اسے روایتی طور پر سمجھا تھا کہ اسلام کی توسیع کے ساتھ پیدا ہونے والی سماجی اور ثقافتی تنوع کو حل کرنے کے لیے لازمی لچک کے لیے کویَی گنجایَش نکالنے کی ضرورت ہے۔ تاہم جدید طبقے سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں نے یہ برقرار رکھا کہ قرآنِ کریم نے حدِ خواتین کی اصلاح کے لیے یک زوجی(Monogamy) اورمعاشرے میں خواتین کے بہتر کردار ادا کرنے پر زور دیا۔

مسلم سیاست کی تشکیل کے بعد یہ ضروری تھا کہ غیر مسلم طبقے کے ساتھ بالعموم اور یہودیوں اور عیسایَیوں (اہلِ کتاب) کے ساتھ بالخصوص اپنے تعلقات اور رویے کے مسلہَ کو واضح طور سے حل کیا جاےَ۔ مسلم طبقے کی خاصیت اور اس کی پیشگی حیثیت کو تسلیم کرتے ہوےَ قرآن نے انسانی معاشرے میں مختلف فرقوں کے لیے وسیع احترام کی حوصلہَ افزایَی کرتے ہوےَ متعدد اختلافی امورکے بارے میں بحث کرنے کے بجاے متّفق اخلاقی مقاصدکی حمایت کرتے ہوےَ اعلان کیا: ’’پھر اے محمّدﷺ! ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب بھیجی جو حق لے کر آیَی ہے اور الکتاب میں سے جو کچھ اس کے آگے موجود ہے اُس کی تصدیق کرنے والی اور اس کی محافظ و نگہبان ہے۔ لہٰذا تم خُدا کے نازل کردہ قانون کے مطابق لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو اور جو حق تمہارے پاس آیا ہے اُس سے مُنہ نہ موڑکر ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو۔ ۔ ۔ ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے ایک شریعت اور ایک راہِ عمل مقرر کی۔ اگر چہ تمہارا خُدا چاہتا تو تم سب کو ایک اُمّت بھی بنا سکتا تھا، لیکن اُس نے یہ اِس لیے کیا کہ جو کچھ اُس نے تم لوگوں کو دیا ہے اس میں تمہاری آزمایَش کرے۔ لہٰذا بھلایَیوں میں ایک دُوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو۔ آخر کارتم سب کو خدا کی طرف پلٹ کر جانا ہے، پھر وہ تمہیں اصل حقیقت بتادے گاجس میں تم اختلاف کرتے ہو۔ ‘‘ (سورہَ المایَدہ:۴۸۔ ۰۵)۔ الٰہی اخلاقی ضروریات اور انسانی زندگی کے درمیان مماثلت کا اظہار نبی کریمﷺ کی احادیثِ مبارکہ میں ہوتا ہے جو قرآنِ کریم کے اقدار اور احکامات کی وضاحت اور تصدیق کرتا ہے۔ نبی کریمﷺ کے پاک اور مقدِس زندگی کے حالات و واقعات، اقوال و افعال، عادات و اطوارمسلمانوں کے روز مرہ کی زندگی کے لیے ابدی نمونہ کی نمایَندگی کرتا ہے۔ اسلامی تاریخ کی کتابوں میں احکامات اور ممنوعات کو اخلاقی اصطلاحات میں بیان کیا گیا، جن کی وضاحت مندرجہ ذیل پانچ اقسام کرتے ہیں۱)فرایَض کی پابندی:اسلام کے بُنیادی فرایَض مثلاً نماز، روزہ اور زکوٰۃ کو پابندی کے ساتھ ادا کرنا۔ ۲)نوافل کی ادایَیگی:وہ اعمال جو فرایَض تو نہیں لیکن اُنکے کرنے کی بہت زیادہ تاکید کی گیَی، مثلاً صدقہ دینا، دوسروں پر رحم کرنا، دُعا کرنا، وغیرہ۔ ۳)وہ اعمال جن کے بارے میں قانوں غیر جانبدارانہ نقطہَ نظر کو قبول کرتا ہے اور جن کرنے کے لیے اجر یا سزا کی کویَی توقع نہیں۔ ۴)ایسے اعمال جن کی حوصلہ شکنی اور مذمت تو کی گیَی ہے، لیکن سختی سے منع بھی نہیں کیا گیا۔ علماء اور فقہاء اس قسم کے زُمرے میں آنے والے افعال کے بارے میں مختلف الرّاے ہیں۔ ۵) ایسے اعمال جن کو حرام قرار دیا گیا اور جن سے بچنے کی تاکید کی گیَی ہے مثلاً قتل، زنا، توہینِ رسالت، چوری، نشہ آور چیزیں، وغیرہ۔ علماء اور فقہاء نے اسکو مزید دو(۲)اقسام، حقوق اللہ اور حقوق العباد میں واضح کیا۔ ہرگُناہ اور جرم کے ارتکاب میں قانون اور مذہب کو مدِ نظر رکھتے ہوےَ سزا سُنایا جاتا ہے مثلاً چوری کرنے والے کا ایک ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے، جبکہ معمولی صورتوں میں کوڑے مارنے کی سزا دی جاتی ہے۔ اور کبھی کبھار معمولی سی کوتاہی کو توبہ کرنے سے ہی معاف کیا جاتا ہے۔

اخلاقیات، انسانی اقدار کے متعلق فلسفہ کی وہ شاخ ہے جس کے معنٰی و مفاہیم وقت اور جگہ کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔ جو اعمال کی اچھایَی اور بُرایَی کو سمجھانے کے علاوہ اسکے اچھے اور بُرے نتایَج سے بھی آگاہ کرتی ہے۔ وسیع اصطلاح میں اخلاقیات انسانی عمل میں اقدار کے عقایَد کو کہا جاتا ہے۔ یہ زندگی کے قوانین، جس کے ذریعے سے لوگ زندگی گزارتے ہیں، کو کہا جاتا ہے۔ اخلاقیات انسانی تہذیب کا جزو لاینفک رہا ہے۔ بدھ مت کی تعلیمات کے مطابق اخلاقی اصولوں کو اس معیار پر پرکھا جاتا ہے کہ کیا یہ اصول خود یا دُوسروں کو نقصان پہنچانے والی کاروایَی(چاہے زبان سے تعلق رکھتی ہو یا عمل سے) تو نہیں؟ اگر ہے، تو پھر اس کاروایَی سے بچنے کی تاکید کی جاتی ہے۔ اخلاقی اقدار، انسانی فطرت اور قدرتی ماحول میں پنہاں ہے، جن کے بغیر زندگی ایک بے لگام گھوڑے کی مانند اور اُن کے ہوتے ہوےَ زندگی راحت و اُلفت ہے اور اس کی بدولت انسانی زندگی کا سفر آسان ہوتا ہے۔

دُنیا کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اخلاقی اقدار تمام اقوام کے اندر ایک مشترک اور مرکزی موضوع رہا ہے۔ چنانچہ علم الاخلاق ایک باضابطہ تعلیمی نصاب کا حصّہ بن چکا ہے جس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انسانی زندگی میں صحیح اور غلط کا معیار اسی پر مبنی ہے۔ جب بھی کھبی ان کی خلاف ورزی کی جاتی ہے تب ہم زندگی کے اصلی اور حتمی مقصد(یعنٰی خُدا کے ساتھ اپنا تعلق استوار کرنا) کو کھو دیتے ہیں۔ یہ انسان کے اندرونی حصِہ یعنٰی رُوح سے تعلق رکھتی ہے۔ ہندووَں کے مطابق ایک انسان کا مقصدِ عمل اُتنا ہی اہمیت کا حامل ہے جتنا کہ وہ عمل۔ دل صاف، ہوس اور لالچ سے پاک ہو، تب جو کام ایک انسان اپنے فرایَض کو پورا کرنے کے لیے انجام دیتا ہے، اُن میں اعلٰی اخلاقی قدر ہوتی ہے اور تمام مخلوقات کے لیے نفع بخش اور بے ضررہے۔ یہ خُدا کی طرف سے ہمارے لیے مشکلات پیدا کرنے کے لیے نہیں ملے کیونکہ اُس ذات کی مقدّس صفت یہ ہے کہ وہ اچانک سے اپنی خواہش تبدیل کرکے معیار تبدیل نہیں کرتا۔ بلکہ خُدا کی صفّت یہ ہے کہ وہ بُرایَی یا اخلاقی بے حسی کو برداشت نہیں کرتا۔ لہٰذا اگر ہم خُدا کو راضی کرنا چاہتے ہیں اوراُس سے دور کرنے والے گُناہوں سے بچیں توہمیں اُن کے اخلاقی احکامات کے مطابق عمل کرنا ہوگا۔

مزید دکھائیں

Zahid Ahmad

زاہد احمد ڈار المعروف زاہد الاسلام کشمیر کے معروف کالم نگار ہیں۔ بنیادی طور پر آپ ریسرچ اسکالر اور سنجیدہ مقرر ہیں۔ آپ کی نگارشات برصغیر کے مؤقر جریدوں اور روزناموں میں شائع ہوتی ہیں۔

2 تبصرے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close