شخصیت کا ارتقا

خود کو بدلنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں

عالم نقوی

دنیا کو بدلنا تنہا ہم میں سے کسی کے بس میں نہیں کیونکہ اس کا موجودہ’ فسادِ ظلم ‘  ہمارے ہی کرتوتوں کا نتیجہ  ہے۔ جھوٹ، کرپشن (ہر طرح کی چھوٹی  سے چھوٹی اور  بڑی سے بڑی   بے ایمانی و بد دیانتی)، صلہ رحمی کے بجائے قطع رحمی، کسی تخصیص کے بغیر عمومی خدمت خلق کے بجائے مردم بیزاری  اور غیر منصفانہ  و بے جا اَقربا پروری، ہر طرح کی لسانی اور مسلکی  عصبیت، فرقہ پرستی، نسل پرستی، قوم پرستی اور اِسراف  یہ سب ’ظلم ‘ہی کی  وہ مختلف شکلیں ہیں جنہوں نے اللہ کی اس خوبصورت زمین کو بد ترین’ فساد‘ سے بھر رکھا ہے۔ اور فرد کی اصلاح کے بغیر کسی  اجتماع کی اصلاح  ممکن نہیں۔ حکمراں بھی آسمان سے نہیں اترتے، وہ معاشرے کی عمومی اخلاقی حالت کا’ آئینہ ‘ہوتے ہیں۔ اگر  کسی ملک کے حکمراں حد درجہ  جھوٹے، مکار، ظالم اور بدعنوان (کرپٹ ) اور مُسرِفین و مُترِفین میں سے  ہیں تو سمجھ لیجیے کہ اس ملک کی اکثریت بھی  اُتنی ہی جھوٹی مکار ظالم، بد عنوان  اور  دس کی جگہ سو اور ہزار کی جگہ لاکھ خرچ کرنے والی مُسرف  اور مترف  ہو گی !

 مشکل یہ ہے کہ کوئی خواہ کتنا ہی برا کیوں نہ ہو وہ خود کو دودھ کا دُھلا ہی سمجھتا ہے۔ ہمارے اندر کرپشن کے جراثیم کس حد تک سرایت کیے ہوئے ہیں  اس کی جانچ کے لیے کسی نے سوشل میڈیا پر ایک ’پیمانہ ‘ پوسٹ کیا ہے ہم اس کی افادیت کے پیش نظر  اپنی بات کو آگے بڑھانے سے پہلے، ذیل میں اُسے نقل کر رہے ہیں:

’’اگر آپ ہوٹل میں چائے پیتے ہوئے گھر کی بنسبت اپنی پیالی میں زیادہ چینی ڈالتے ہیں تو دیگر معاملات میں بھی آپ کے بد عنوان ہونے کا  قوی امکان ہے۔

اگر آپ پبلک واش روم میں گھر کی بنسبت زیادہ ٹشو پیپر استعمال کرتے ہیں تو یقین جانیے کہ آپ کے اندر ایک چور چھپا بیٹھا ہے جو موقع ملنے پر  آپ سے  کوئی بڑی چوری  بھی کر وا سکتا ہے۔

اگر آپ اپنی پلیٹ میں اپنی بھوک سے زیادہ کھانا صرف اس لیے ڈالتے ہیں کہ اس کا انتظام آپ نے نہیں کسی اور نے کیا ہے یا اس کھانے کا  بل کسی دوسرے کی جیب سے جا  رہا ہے تو آپ خود غرض بھی ہیں اور لالچی بھی۔

اگر آپ عام طور پر قطار کو توڑ کر آگے جانے کی کوشش کرتے ہیں تو اس کا قوی امکان ہے کہ اگر آپ کو اقتدار حاصل ہو  یا کوئی قوت والا عہدہ ہاتھ آجائے   تو آپ اپنی  بالا دستی والی  خصوصی حیثیت کا ناجائز فائدہ ضرور اٹھائیں گے۔

اگر عام طور پر ٹریفک جام میں آپ قطار توڑ کر دوسری گاڑیوں سے آگے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ اس  امر کی علامت ہے کہ اگر آپ کو کبھی سرکاری پیسے کا رکھوالا بنایا گیا تو آپ اس میں غبن ضرور کریں گے کیونکہ آپ کو قانون اور ضابطے پر عمل سے نفرت ہے !

اگر آپ اپنے گھر کا کوڑا کسی دوسرے  گھر کے  سامنے  ڈالتے ہیں یا گھر کے گندے پانی کی نکاسی کا بہتر انتظام کرنے کے بجائے  اس کا رخ کسی دوسرے کے گھر کی طرف موڑ دیتے ہیں تو آپ اپنے سماج  اور  اپنے ملک کو نقصان پہنچانے والا کوئی بھی کام کر سکتے ہیں   بلکہ اپنے معاشرے کے بگاڑ  کے ذمہ داروں میں آپ سر فہرست ہوں گے۔

 اگر آپ کو یہ تحریر پسند نہیں آرہی ہے تو یقینی طور پر آپ بد دیانت اور کرپٹ ہیں۔ آپ موقع ملتے ہی اپنے  معمولی سے فائدے  کے لیے بھی دوسروں کا نقصان کرنے سے نہیں چوکیں گے۔ ‘‘

 ہمارے ساتھ ملک و دنیا میں جوکچھ  ہورہا ہے  اس کی ذمہ ہم خود ہیں۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ ہمارے دائمی دشمن کون ہیں، اور ہمیں ان سے رشتہ ولایت استوار کرنے اور   مؤمنین کو چھوڑ کر اپنے اُنہیں دشمنوں کو اپنا ولی و سر پرست  بنانے  سے منع کیا گیا ہے لیکن ہمارا عمل سراسر خلاف قرآن ہے۔  ا اللہ کے دشمنوں، اپنے دشمنوں اور اپنے تمام نادیدہ دشمنوں سے اپنے دفاع کے لیے ہمیں ’حصول قوت ‘ کا حکم دیا گیا ہے لیکن ہم اپنے اس Over all Self  Empowermentکے قرآنی حکم سے مطلق بے بہرہ ہیں۔ ماب لنچنگ کی تمام  دہشت گردانہ شیطانی وارداتوں  میں جو چیز شرمناک اور عبرتناک طور پر مشترک ہے وہ یہی کہ کسی پٹنے والے اور مار کھانے والے نے اپنے دفاع  کرنے  ( یعنی سلف ڈفنس کے قانونی اور دینی حق کا استعمال کرنے )  کی کوئی ادنی ترین کوشش بھی نہیں کی۔اگر ان بدبختوں نے اپنے دونوں ہاتھ پاؤں اور  اللہ کی دی ہوئی اپنی طاقت و صلاحیت کا اپنی استطاعت بھر  دفاعی استعمال کیا ہوتا تو صورت حال  آج بالکل مختلف ہوتی !

لہٰذا، حقیقت یہی ہے کہ خود کو بدلنے کے سوا، حالات کو موافق بنانے کا  اور کوئی دوسرا  صالح طریقہ   نہیں۔

دنیا بھر میں پھیلے ہوئے اور پوری دنیائے انسانیت کو اپنے قاہرانہ و ظالمانہ شکنجے میں جکڑے ہوئے وقت کے تمام فرعونوں، نمرودوں، شددادوں، ہامانوں، قارونوں اور یزیدوں  کا ایک ہی علاج ہے : حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کی اعلیٰ ترین ادائگی، صرف ڈاڑھی ٹوپی اور اونچا پیجامہ اور حجاب  ہی نہیں  بلکہ ’صداقت و امانت اور خدمت و عدالت سمیت  نبی کریم ﷺ کے ’’اُسوہ حسنہ‘‘ پر پوری طرح عمل درآمد کی کوشش،۔ جھوٹ، ظلم، اسراف، تبذیر اور ہر طرح کے کرپشن  سے مکمل اجتناب، اور’کامل  حصول قوت ‘( Over All Self Empowerment )جس میں اپنی استطاعت بھر  جسم کی قوت، علم کی قوت، مال کی قوت اور خارجی دفاعی آلات کی قوت کا حصول، سب شامل ہیں!

 میں اپنے علم کی محدودیت پہ نازاں ہوں

  نہیں کچھ اور تری راہ کے سوا معلوم

فھل من مدکر َ ؟!

مزید دکھائیں

عالم نقوی

مضمون نگار ہندوستان کے معروف تجزیہ نگار اور سینیر صحافی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close