شخصیت کا ارتقامذہبی مضامین

دورِ آزمائش اور اسلامی تعلیمات

مولانا محمد غیاث الدین حسامی

 اس دنیا کے اندر ہر انسان کی کتاب ِ زندگی میں آزمائش اور مصیبت کا لفظ ضرور لکھا ہوا ہوتا ہے، بچہ ہو کہ بوڑھا ، جوان ہو کہ اڈھیر ، مرد ہوکہ عورت ہر ایک کو زندگی کے کسی نہ کسی مرحلہ میں آزمائشی دور سے گذرنا پڑتاہے ، پھر یہ آزمائش و مصیبت کبھی انفرادی ہوتی ہےکہ آدمی اپنی حالت اور حیثیت کے اعتبار سے آزمایا جاتا ہےتو کبھی اجتماعی ہوتی ہے کہ پوری قوم و ملت کو آزمایا جاتا ہے،اور کبھی آزمائش دین کی بنیاد پر ہوتی ہے تو کبھی دنیا وی اعتبارسے ہوتی ہے،الغرض اس دنیا ئے رنگ و بو میں ہر ایک اپنی حیثیت کے لحاظ سے آزمایا جاتاہے ۔

 مسلمان اس دنیا کی دیگر قوموں سے بلند مقام پر فائز ہے ، اور الہی تعلیمات کی وجہ سے امتیازی شان رکھنے والی قوم ہے ، اسلئے اس کا امتحان اور آزمائش بھی بڑا سخت ہے ، ہر زمانہ میں ایمان والوں کو آزمایا گیا اور بڑے تکلیف دہ دور سے گذارا گیا ، حضرت نوح علیہ السلام کو اسلئے تکالیف دی گئیں کہ وہ بتوں کی عبادت کو چھوڑکر ایک اللہ کی عبادت سے اپنی زندگی کو روشن کرلئے ، اور اپنی پوری زندگی اللہ کے بندوں کو اللہ کی طرف بلانے میں صرف کردئیے ، اس کے بدلہ میں قوم نےکہا’’قَالُوا لَئِنْ لَمْ تَنْتَهِ يَا نُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمَرْجُومِينَ‘‘اے نوح اگر تم اپنی اس تبلیغ سے باز نہیں آؤگے تو تم کویقیناپتھر مار مار کر ہلاک کردیاجائےگا (شعراء ۱۱۶) اور قوم نے ایسا ہی کیا ، حضرت شعیب علیہ السلام کو اسلئے مصیبت میں مبتلا کیا گیا کیونکہ آپ اپنی قوم کو اللہ کی عبادت کی طرف بلائے ، اور ناپ تول میں کمی سے ان کو باز رکھتے ، قوم نے ان کی بھلائی پر کہا ’’لَنُخْرِجَنَّكَ يَا شُعَيْبُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَكَ مِنْ قَرْيَتِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا‘‘اے شعیب ہم تم کو اور تمہارے ہاتھ پر ایمان لانے والوں کو ضرور اپنی بستی سے نکال دیںگے یا پھر تم لوگ ہمارے مذہب کو قبول کرلو(الاعراف ۸۸)قوم کی طرف سے آزمائشوں کا سلسلہ شروع ہوا تو حضرت شعیب ؑ اپنے وطن کو خیر باد کئے ، ایمان کی بنیاد پر حضرت موسی علیہ السلام کو آزمایا گیا ، فرعونیوں نے حضرت موسیؑ اور آپ پر ایمان لانے والوں کو خوب مصائب میں مبتلا کیا ، جس کی تفصیل قرآن کریم کی آیتو ںمیں لکھی ہوئی ہے ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اسلئے آگ میں ڈالا گیا کیونکہ آپ نمرود کی خدائی کے منکر ہوکر خدائے واحد کی توحید پر قائم رہے ، پوری قوم مخالف ہوگئی یہاں تک کہ بت پرست باپ کی طرف سے دھمکی آئی کہ ’’قَالَ أَرَاغِبٌ أَنْتَ عَنْ آلِهَتِي يَا إِبْرَاهِيمُ لَئِنْ لَمْ تَنْتَهِ لَأَرْجُمَنَّكَ وَاهْجُرْنِي مَلِيًّا‘‘ اے ابراہیم کیا تو مجھے اپنے معبودوں سے پھیرنا چاہتا ہے، اگر تو اس سے باز نہیں آیا تو میں تجھے پتھر مار مار کر ہلاک کردوںگا ، اور ایک لمبے زمانے تک مجھ کو چھوڑکر چلاجا (سورۂ مریم ۴۶)غرض یہ کہ ہر نبی کو آزمایا گیا اورایمان والوں کو مصائب میں مبتلا کیا گیا، یہاں تک کہ خاتم الانبیاء سید الکونین محبوبِ رب العالمین حضرت محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی آزمائشی دور سے گذارا گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خو د اپنی اس حالت کو بیا ن کرتے ہیں ’’ لَقَدْ أُوذِيتُ فِي اللَّهِ وَمَا يُؤْذَى أَحَدٌ‘‘ مجھے اللہ کے راستہ میں اتنی تکلیف دی گئی کہ مجھ سے پہلے کسی کو اتنی تکلیف نہیں دی گئی ہے ( ترمذی حدیث نمبر۲۴۷۲) وہ کونسی آزمائش ہے جو آپ ﷺ کے حصہ میں نہ آئی ہو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی قوم کی طرف سےجس قدر اذیت کا سامنا کرنا پڑاوہ ناقابل بیان ہے، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کی، مذاق اڑایا،آپ کو ساحر ، مجنون اور دیوانہ کہا، لوگوں کو آپ کے دین سے ہٹانا چاہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وطن چھوڑنے پر مجبور کیا، آپ کے خلاف اعلانِ جنگ کیا، لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اور آپ کی دعوت کے خلاف بھڑکایا، اور دارِ ہجرت یعنی مدینہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل و عیال اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ مقیم ہو گئے تھے،وہاں آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگیں لڑیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتمہ کرنے کے ناپاک منصوبے بنائے گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو مٹانے کے لئےسرتوڑ کوششیں کی گئی ، اسی طرح انہوں نے مدینہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن یہودیوں اور منافقوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ابھارا، سب نے اکٹھے ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف چالیں چلیں اور منصوبے بنائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ معاہدے کیے اور توڑے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مشرکوں کے ساتھ ساز باز کی اور دھوکے اور مکاری سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کرنے کی کوشش کی،ان تمام حالات میں آپ ﷺ ثابت قدم رہے اور اپنے رب کی طرف پورے انہماک کے ساتھ متوجہ رہے ،

 غرض یہ کہ آزمائش ہر ایک کی زندگی کا مقدر ہے اس حالت سے ہر ایک کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصاً گزرنا ہےجیسے کہ قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے فرمایا : أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لا يُفْتَنُونَ- وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ‘‘کیا لوگ یہ سوچتے ہیں کہ وہ ایمان کی بات کہنے کی وجہ سے چھوڑ دیئے جائیں گے اور انہیں آزمایا نہیں جائے گا ، یقیناً جو لوگ اُن سے پہلے گذر چکے ہیں ہم نے اُن کو بھی آزمایا تھا (اور ان کو بھی آزمائیں گے) سو اللہ ضرور معلوم کرے گا جو (اپنے ایمان میں) سچے ہیں اور اُن کو بھی جو جھوٹے ہیں(العنکبوت ۳۔۲)اسی طرح ایک جگہ اللہ نے فرمایا ’’لتبلون فی اموالکم وانفسکم ولتسمعن من الذین اوتو الکتب من قبلکم ومن الذین اشرکو اذی کثیرا ان ذالک من عزم الامور‘‘جسکا مفہوم یہ ہےکہ مال اور جانوں کے ساتھ تمہیں آزمایا جائیگا اور یہود و نصاری اسی طرح مشرکین تمہیں تکلیف دہ اذیت ناک باتیں سناتے رہیںگے، تم صبر اور تقوی کا دامن تھام رہو اسلئے کہ یہ بڑی ہمت کا کام ہے(آل عمران ۱۸۶) اسی طرح ایک موقع پر فرمایا ’’وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْْء ٍ مِّنَ الْخَوفْ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الأَمَوَالِ وَالأنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِیْنَ‘‘اور ہم تمہیں ضرور آزمائش میں مبتلا کریں گےکچھ خوف اور بھوک کے ذریعہ ، مال و اولاد اور رزق میں نقصان کے ذریعہ اور اے محمد ﷺ صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجیے۔(البقرۃ۱۵۵)اسی طرح فرمایا ’’أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّةَ وَلَمَّا یَأْتِکُم مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْاْ مِن قَبْلِکُم مَّسَّتْہُمُ الْبَأْسَاء وَالضَّرَّاء وَزُلْزِلُواْ حَتَّی یَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِیْنَ آمَنُواْ مَعَہُ مَتَی نَصْرُ اللّہِ أَلا إِنَّ نَصْرَ اللّہِ قَرِیْبٌ‘‘کیا تم یہ سمجھ بیٹھے ہو کہ جنت میں یونہی داخل ہو جاوٴگے ؛حالاں کہ ابھی تک تمہارے پاس وہ حالات نہیں آئے ، جو تم سے پہلے لوگوں کے پاس آئے:انھیں دشمن سے جنگ اور بیماری کی مصیبتیں اتنی پہنچیں کہ ان کی بنیادیں ہل گئیں؛یہاں تک کہ وقت کے رسول اور ایمان والے کہنے لگے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی ؛سنو اللہ کی مدد قریب ہے(البقرۃ ۲۱۴)

 ذخیرۂ احادیث میں بھی آپ ﷺ نے بیشتر جگہ مسلمانو ںکی آزمائش کے بارے میں بتلایا ہےاور محدثین نے اس طرح کی تمام حدیثوں کو اور قرب ِ قیامت پیش آنے والا تمام حالات کو اپنی کتابوںمیں جمع کیا ان تمام احادیث کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آزمائش اور ابتلاء بہتری اور خوشخبری اور وعدۂ جنت کا ذریعہ ہے ، چنانچہ آپ صلي الله عليه وسلم نے فرمايا : "من يرد اللہ بہ خيرا يصب منہ”‘‘\اللہ تعالی جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے مصيبت ميں گرفتار کرديتا ہے (بخاری ، حدیث نمبر۵۶۴۵)گويا کہ بندہ مومن کا مصيبت سے دوچار ہونا اس کے لئے نيک بختی ہے، محبت الہی کی علامت ہے، اسی طرح آپ صلي الله عليه وسلم نے يہ بھی فرمايا: "إذا أراد اللہ بعبدہ الخير عجل لہ العقوبة فی الدنيا وإذا أراد اللہ بعبدہ الشرأمسک عنہ بذنبہ حتی يوافی بہ يوم القيامة‘‘اللہ تعالی جب اپنے بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تواس کے گناہوں کی سزا دنيا ميں ہی دے ديتا ہے، اور جب اللہ تعالی اپنے بندے کے ساتھ عدم رحمت کا ارادہ فرماتا ہے تواس کے گناہ کی سزا روک ليتا ہے، اُس کا پورا پورا بدلہ قيامت کے دن دے گا،اور ايک دوسری روايت ميں آپ صلي الله عليه وسلم نے فرمايا: "إن عظم الجزاء مع عظم البلاء وأن اللہ اذا أحب قوما ابتلاھم فمن رضی فلہ الرضاء ومن سخط فلہ السخط” يعنی جتنی بڑی مصيبت ہوگی اُتنا ہی بڑا ثواب ملے گا، اور اللہ تعالی جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو اسے مصيبتوں ميں ڈال ديتا ہے، جو شخص اس سے راضی ہوا اور اپنا معاملہ اللہ کے حوالے کرديا تواس کے لئے رضامندی ہے اور جو ناراض ہو اس کے لئے ناراضگی ہے(صحیح الجامع)پھر یہ کہ مومن کو اس بات کا بھی یقین رکھنا ہے کہ آزمائش میں ہونا مصائب میں گرفتار ہونا اللہ کی مرضی سے ہوتا ہےجیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے حضرت عبد اللہ بن عباسؒ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا :يَا غُلَامُ وَاعْلَمْ أَنَّ الأُمَّةَ لَوْ اجْتَمَعَتْ عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَنْفَعُوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ لَكَ، وَلَوْ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَضُرُّوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْكَ‘‘ اے لڑکے! تم اس بات پر یقین کرلو کہ اگر پوری امت جمع ہوکر تجھے نفع پہنچانا چاہے تو نہیں پہنچا سکتی سوائے اس کے جو اللہ نے تمہارے حق میں لکھ دیا ہے ، اور اگر پوری امت جمع ہوکرتمہیں نقصان پہنچانا چاہے تو نہیں پہنچاسکتی سوائے اس کے جو اللہ نے تمہارے حق میں لکھ دیا ہے (ترمذی حدیث نمبر ۲۵۱۶)

 حالیہ چند سالوں میں ہندوستا ن کےسیاسی اور معاشرتی حالات جس تیزی کے ساتھ بدل رہے ہیں اورفرقہ پرست طاقتیں اپنی بالادستی قائم کرنے کے لئے کوشاں ہیں اورمنصوبہ بند طریقہ پر جو ماحول مسلمانوں کے خلاف بنایا جارہا ہے،وہ کسی باشعور انسان سے پوشیدہ نہیں ہے،کبھی اسلامی تعلیمات کو زک پہونچانے کی ناپاک کوششیں کی جارہی ہیں تو کبھی صاحب ِاسلام ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کی جاتی ہے ،کبھی مساجد و مدارس کے خلاف بازار گرم کیا جاتا ہےتو کبھی قرآن مجید کے احکام میں مداخلت کی باتیں کی جاتی ہے ،مسلمانوں کے پرسنل لا کو ختم کرنے کی سازشیں رچی جارہی ہیں، اسلامی تہذیب و ثقافت سے میل نہ کھانے والی چیزوں کو مسلمانوں پر زبردستی تھوپا جارہا ہے، یوگا ، سوریہ نمسکار اور اس جیسی خالص ہندوانہ تہذیب کو سماج کا حصہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ،اور مسلمانوں سے جئے شری رام کانعرہ لگانے کی زبردستی خواہش کی جارہی ہے ، علماء اور حفاظ کے ساتھ توہین آمیز رویہ اِختیار کیا جارہا ہے، ہندوتوانظریہ کو تھوپنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس کے نہ ماننے والوں کوہجومی حملہ میں قتل کیا جارہا ہے،اور اسلام کے عائلی نظام کو عورتوں کے حق میں غیر منصفانہ اور ظالمانہ بتایا جارہا ہے، شریعت کے احکام پر عمل کرنے کی آزادی سلب کی جارہی ہے،یہ وہ تلخ حقائق ہیں جو ایک طرف باشعور اور دلِ درد مند رکھنے والے مسلمان کوتڑپانے کے لئے کافی ہیں، اس سے نہ صرف مسلمانوں میں مایوسی اور نا امیدی کی کیفیت پائی جارہی ہے بلکہ منصف اور حقیقت پسند برادرانِ وطن بھی فکر مند نظر آرہے ہیں، ان حالات میں ہندوستانی مسلمانوں کے لئے اسلامی تعلیمات کے روشنی میں چند باتوں کا خاص خیال رکھنا ضروری ہیں ، (۱) اللہ کی طرف رجوع ہونایہ سب سے پہلی چیزہے جو ہمارے لیے انتہائی ضروری ہے ، ہم دونوں جہان کے پروردگار کے ساتھ اپنا رشتہ استوار کریں ،بندوں کے حقوق کے ساتھ ساتھ اللہ کے حقوق بھی ادا کریں ، اپنی عبادتوں اور دعاؤں میں اضافہ کریں ؛ کیوں کہ ہر مشکل آسان کرنے والی ذات صرف  اللہ تعالی کی ہے ، اللہ کا پاک ارشاد ہے ’’یَاأَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ اسْتَعِیْنُواْ بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَةِ إِنَّ اللّہَ مَعَ الصَّابِرِین‘‘اے ایمان والوں! صبر اور نماز کے ذریعہ اللہ کی مددچاہو، بے شک اللہ تعالی صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے(البقرۃ ۱۵۳)اس آیت میں نماز سے مراد اللہ کی طرف رجوع ہونا ہے اور ہر معاملہ میں اللہ کی طرف متوجہ ہونا ؛ لہذا ہمیں زیادہ سے زیادہ اللہ تبارک وتعالی سے لو لگانا چاہیے اور عبادتوں کا خوب اہتمام کرنا چاہیے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’الْعِبَادَةُ فِي الْهَرْجِ كَهِجْرَةٍ إِلَيَّ‘‘ قتل و غارت گری اور مشکل حالات کے عبادت کرنا میری طرف ہجرت کرنےکی طرح ہے( یعنی ہجرت کے برابر ثواب ملتا ہے) ( باب فضل العبادة في الهرج ، حدیث نمبر ۲۹۴۸)(۲)صبر اور استقامت: قرآن مجید میں اللہ تبارک وتعالی اور احادیث شریفہ میں ہمارے نبیﷺنے کئی مقامات پر مصائب اورمشکلات میں مضبوطی کے ساتھ صبر کا دامن تھامے رہنے کی تاکید کی ہے ، کیونکہ صبر کے بڑے فوائدہیں اور یہ بہت مجرب اور قیمتی خدائی نسخہ ہے ؛ چناں چہ ایک مقام پر اللہ تعالی فرماتے ہیں :” بے شک اللہ تعالی صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔“ اور جس کے ساتھ اللہ تعالی ہو ، اسے بڑی سے بڑی مصیبت نقصان نہیں پہنچا سکتی ، دوسری جگہ اللہ کا ارشاد ہے :”اور صبر کرنے والوں کو( جنت کی) خوشخبری سنا دیجیے،اگر ہم صبر کریں گے تو یہ ہمارے لئے  حالیہ برے حالات سے ان شاء اللہ نکلنے کا ذریعہ ہوگا،(۳)توبہ و استغفار :ہمارے لیے موجودہ نا گفتہ بہ حالات ایک اہم کام یہ ہے کہ اپنے گناہوں سے توبہ اور استغفار کی کثرت رکھیں، کیو نکہ توبہ اور استغفار تمام مصائب کے دور کرنے کا آسمانی نسخہ ہے ،جیسا کہ نبی اکرمﷺ کا ارشاد گرامی ہے ’’ من لزم الاستغفار جعل اللہ لہ من کل ضیق مخرجا ، ومن کل ہم فرجا، ورزقہ من حیث لایحتسب‘‘ جو استغفار کو لازم پکڑ لے ، اللہ تعالی ہر تنگی سے اس کے لیے راستہ نکالیں گے اور ہر غم سے نجات عطا فرمائیں گے اور اسے روزی ایسی جگہ سے عطاکریں گے ،جہاں سے اس کو وہم وگمان بھی نہ ہوگا (ابوداوٴد:۱۵۱۸) لہذا ہمیں گناہوں سے سچے دل سے توبہ کرنی چاہیے اور تقوی شعار بننا چاہیے نیز استغفار کی کثرت رکھنی چاہیے (۴)اسلام کی خوبیوں سے برادران وطن کو واقف کرانا:اوران سب کاموں کے ساتھ نہایت اہم اور ضروری کام یہ ہے کہ ہم برادران وطن کو اسلام کی خوبیوں سے واقف کرائیں ،کیونکہ ہمارے ملک میں کئی مذاہب کے ماننے والے ہیں اس لئے اسلام کی تبلیغ اور اسلام کے پیغام کو پہنچانے کاکوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیں ، اسلام کے تعارف کے لیے قدیم وجدید تمام وسائل استعمال کیے جائیں ، اور اسلام کے تعلق سے جو غلط فہمیاں پھیلائی جارہی ہیں اسے پیار اور محبت کے ساتھ دور کریں تبھی اسلام کا صحیح تعار ف برادرانِ وطن کے سامنے آئے گا ، اور موجودہ حالات میں اس کام کی ضرورت و اہمیت زیادہ ہے ، اسلئے کہ اللہ نے ہمیں اپنی مقدس کتاب میں خیر امت کہا ہے ، جس کا کام ہی یہ ہے کہ وہ خیر اوربھلائی کا سفیر بنے، اور خدا سے بچھڑے ہوئے لوگوں کو خدا سے ملائے جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا کہ’’کُنْتُمْ خَیْْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ‘‘ تم بہترین امت ہو ، تمہیں بھیجا گیا ہے، لوگوں کی بھلائی کے لیے ، تم اچھی باتیں پھیلاتے ہو اور برائی کی روک تھام کرتے ہو(آل عمران۱۱۰)

ghiyasuddinhusami92@gmail.com

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close