شخصیت کا ارتقامعاشرہ اور ثقافت

سفرِ زندگی

عبدالرحیم ندوی

عیش ہی عیش ہے نہ سب غم ہے 

زندگی اک حسین سنگم ہے

جی ہاں زندگی! یہ مجموعہ ہے مسرت و حزن کا، اضطراب و اطمینان کا، بےقراری اور سکون کا، فراغت و مصروفیت کا. تمام اضداد یہاں پائے جاتے ہیں یکے بعد دیگرے آتے اور چلے جاتے ہیں کوئی بھی کیفیت ہمیشہ باقی نہیں رہتی. زندگی ایک ایسا سفر ہے جو مسلسل جاری و ساری ہے کبھی کوئی سایہ دار درخت یا آرادم دہ جگہ مل جائے تو سکون و چین اپنا دامن پھیلادیتے ہیں تو وہیں کبھی موسم کی سختی اور راہ کی دشواری قلق و آلام کی وجہ بن جاتی ہے لیکن منزل انہیں کے قدم چومتی ہے جو صرف تقدیر پر تکیہ لگانے کے بجائے تدبیر کا بھی سہارا لیتے ہیں جو عملِ پیہم اور سعیِ مسلسل کو اپنی ذات کا امتیازی وصف بنالیتے ہیں.

گو آبلے ہیں پاؤں میں پھر بھی اے رہروو 

 منزل کی جستجو ہے تو جاری رہے سفر

سفر کوئی جامد و ساکت شئے نہیں ہے جو ہر ایک کہ لئیے یکساں ہو بلکہ ہر ایک کا سفر مختلف ہوتا ہے کسی کو منزل جلد مل جاتی ہے تو کسی کو محنت و مشقت کے باوجود انتظار و صبر سے بھی کام لینا ہوتا ہے.

کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزل 

کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہا

ایک عقلمند و دانا صحتمند دل و دماغ کا حامل انسان اپنے آلام و تکالیف میں بھی خوشیوں کی وجہ ڈھونڈ لیتا ہے حالات کے موافق تدابیر اختیار کرکے زمانے کا رخ موڑ دیتا ہے وہ کبھی شکست تسلیم نہیں کرتا حالات کے آگے نہیں جھکتا لوگ اس کے سامنے اس کے زخموں کو دیکھ کر آنسو بہاتے ہیں لیکن وہ برابر یہ کہتا ہے

دھوپ کی سختی تو تھی لیکن فرازؔ 

زندگی میں پھر بھی تھا سایہ بہت

سفر میں تھک کر بیٹھ جانا، شکست تسلیم کرلینا، حالات کے آگے جھک جانا، شش و پنج میں مبتلا ہوجانا، آنسو بہانا، غموں پر واویلہ مچانا خود بھی پریشان ہونا اوروں کو بھی مبتلائے عذاب کرنا بہادروں کا شیوہ نہیں بلکہ بہادر اور جری انسان نہ تو راستے کی ناہمواری کا گلہ کرتا ہے اور نہ ہی صعوبتوں کی پرواہ. اس کی نگاہ نہ منزل پر ہوتی ہے اور نہ ہی مصائب پر وہ بس سفر ہی کو سب کچھ سمجھتا ہے.

نہ منزلوں کو نہ ہم رہ گزر کو دیکھتے ہیں 

عجب سفر ہے کہ بس ہم سفر کو دیکھتے ہیں

کامرانی و سربلندی ایسے سخت جان مسافروں کے قدم چومنے سے پہلے انہیں خوب آزماتی ہے کبھی منزل کا دور دور تک کوئی پتہ نہیں ہوتا کبھی ٹھوکریں لگتی ہے کبھی گہرے زخم تڑپاتے ہیں کبھی طوفان پیش قدمی پر شکنجہ کسنے کی کوشش کرتے ہیں کبھی زلزلے پاؤں اکھاڑنا چاہتے ہیں تو کبھی رفیقانِ سفر داغِ مفارقت دے جاتے ہیں.

سفر میں ایسے کئی مرحلے بھی آتے ہیں 

ہر ایک موڑ پہ کچھ لوگ چھوٹ جاتے ہیں

سفر میں سمت کا تعیّن اور ہر موڑ پر صحیح فیصلہ انسان کو فتح سے قریب کرتا ہے یہاں محض جذبات اور ارادوں سے کام نہیں چلتا بلکہ تجربات کی روشنی میں اٹھایا گیا قدم اور دانشمندی کارگر و مفید ہوتی ہے ایک غلط فیصلہ آپ کو منزل سے کوسوں دور کردیتا ہے اور کامیابی ایک سراب بن جاتی ہے ایک خواب بن جاتی ہے.

صرف اک قدم اٹھا تھا غلط راہ شوق میں 

منزل تمام عمر مجھے ڈھونڈتی رہی

خود اعتمادی اور مثبت سوچ و فکر سفرِ زندگی کا اسلحہ ہے خوف اور ناامیدی ایک مسافر کے لئیے سمِّ قاتل ہے کیفیات کی تبدیلی کے سبب کبھی سفر آسان لگتا ہے تو کبھی مشکل.

کبھی میری طلب کچے گھڑے پر پار اترتی ہے 

کبھی محفوظ کشتی میں سفر کرنے سے ڈرتا ہوں

زندگی کا فلسفہ سمجھئیے خوشی و غم عروج و زوال وسعت و تنگی زندگی کا حصہ ہے جو زندگی کے فلسفے کو نہیں سمجھتا وہ صدائیں لگاتا ہے کہ.

اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا 

زندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا

لیکن حقیقت پسند اور صابر و شاکر بندہ زندگی کا سامنا کرنے کے لئیے ایک جانباز اور بے خوف سپاہی کی طرح تیار رہتا ہے وہ سر اٹھا کر قدم بڑھاکر عزم و حوصلہ کی تصویر پیش کرکے غموں پر قابو پالیتا ہے.

اک اک قدم پہ رکھی ہے یوں زندگی کی لاج 

غم کا بھی احترام کیا ہے خوشی کے ساتھ

مسکرانا سیکھئیے یہ فضائیں ہمیں زندگی کا پیغام سنانا چاہتی ہے یہ مہکتے گلاب ہمیں تازگی کا سبق دیتے ہیں چہچہاتے پرندے لبوں کو جنبش دینا سکھاتے ہیں بلند و بالا پہاڑ پیش قدمی کی دعوت دیتے ہیں جنگل کے درندے رفتار و قوت کی اہمیت کا اندازہ دلاتے ہیں پھر کیوں آپ افسردہ ہوے جارہے ہیں؟ جمود و سکوت کا نام موت ہے زندگی نہیں….. اور آپ زندہ ہے…. مُردہ نہیں!

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close