شخصیت کا ارتقاصحتنقطہ نظر

سُستی ہزار نعمت ہے!

وسیم احمد

بچپن میں اپنے بڑوں سے سنا تھا کہ سستی ایک بری عادت ہے، اور بچوں کو اس عادت سے بچنا چاہیے۔ بڑے ہوئے تو اپنی کلاس کے اکثر سست الوجود دوستوں کو کامیاب سیاستدان، سرکاری افسر اور فنکار بنتے دیکھا تو اپنی محنت اور جاں فشانی پر نہ صرف افسوس ہوا بلکہ یہ صدمہ بھی جان کو لاحق ہوگیا کہ ’’محنتِ لاحاصل‘‘ کے چکر میں ناحق اپنی جوانی برباد کی۔ رہی سہی کسر مطالعے کی عادت نے پوری کردی، جس کی وجہ سے کچھ ایسی کتابیں پڑھنے کو ملیں جن میں پوری تحقیق سے یہ ثابت کیا گیا تھا کہ سستی ایک مفید عمل ہے؛ اگرچہ عقل مندی سے کی جائے۔

آنے والی نسلوں کو محنت کی بری عادت سے بچانے اور انہیں محنت کے نقصانات سے آگاہ کرنے کےلیے فوراً یہ فیصلہ کیا کہ ہر ذی شعور اورمحنتی شخص تک یہ مفید معلومات پہنچائی جائیں۔ اکثر حضرات چوں کہ سستی کے فوائد سے ناواقف ہیں، اسی لیے ذیل کی سطور میں سستی کا تجزیہ اور اس کے فوائد بیان کیے گئے ہیں۔ امید ہے کہ قارئین اس معلومات کو فائدہ مند پائیں گے۔

بات آگے بڑھانے سے پہلے اگر سستی اور کاہلی کے فرق کو سمجھ لیا جائے تو مناسب ہوگا۔ کاہلی اور سستی کو عموماً ہم معنی الفاظ سمجھا جاتا ہے جو غلط ہے۔ کاہلی سے مراد کسی کام کی مطلوبہ مشقت سے بچنے کی عادت کے ہیں، یعنی کاہل انسان کام کی مشقت کو اٹھانا ہی نہیں چاہتا۔ جبکہ سستی سے مراد کسی کام کو آہستہ اور دھیمی رفتار سے کرنے کے ہیں۔ یعنی سست انسان کام تو کرتا ہے لیکن اس رفتار پر جو اس کےلیے سہل ہو۔ اسی لیے لفظ سستی کے ساتھ سست روی اور سست پیمائی کا لفظ بھی کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔

آپ نے اکثر نوٹ کیا ہوگا کہ شاعر، مصنف، پینٹر، فلسفی، سائنسدان، مفکر اور دیگر تخلیقی صلاحیتوں کے مالک لو‎گ عموماً سست طبع واقع ہوتے ہیں۔ یہ رجحان محض اتفاقی نہیں، بلکہ سستی کے تخلیقی عمل سے گہرے تعلق کا مظہر ہے۔ یہاں یہ واضح کر نا ضروری ہے کہ تخلیقی عمل سے مراد ہر وہ کام ہے جو کسی نئے تصور، خیال، ایجاد، سائنسی نظریئے، فن پارے، ادب اور فلسفے کی تخلیق کےلیے کیا جائے۔ سستی کا تخلیقی عمل میں ایک نہایت مثبت کردار ہے، جو اگر سمجھ میں آجائے تو ایک کارگر حکمت عملی کے طور پر اختیار کیا جاسکتا ہے۔

سستی کے دو ممکنہ طریقہ کار ہیں:

1۔ کام کی پیشرفت کو آہستہ رکھا جائے۔ اور

2۔ کام کو ادھورا چھوڑ دیا جائے اور مستقبل میں مکمل کرنے کا ارادہ کیا جائے۔

تخلیقی امور میں وقت کی اہمیت کم ہے بہ نسبت تخلیقی معیار کے۔ یعنی ہم کسی بھی فن پارے کو اس کے فنی معیار پر پرکھتے ہیں، نہ کہ اس بات پر کہ وہ کتنے وقت میں مکمل کیا گیا۔ ہم میر، غالب اور اقبال کی شاعری پڑھتے وقت یہ معیار نہیں اپناتے کہ شاعر نے اپنا کلام کتنے وقت میں مکمل کیا، بلکہ ہم کلام کی اثر انگیزی اور دل پذیری کو معیار ٹھہراتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تخلیق کار کےلیے وقت کی قید ثانوی حیثیت رکھتی ہے۔

ہر تخلیق کار کا تخلیقی کام اس کی میراث ہوتا ہے، اور اس کی اندرونی شخصیت کا اظہار بھی۔ ہزاروں ہی تخلیق کار ‎شب و روز نت نئی ایجادات، تخلیقات، تصورات اور فن پار‎وں کو تخلیق کرتے رہتے ہیں، لیکن ان میں سے چند ہی تخلیقات لازوال کا درجہ پاتی ہیں؛ جبکہ اکثر وقت کی دھول تلے دب کر فنا ہو جاتی ہیں۔ وہ کیا عوامل ہیں جو کسی تخلیق کو لازوال بناتے ہیں؟ اس پر محققین نے خاصی تحقیق کی ہے اور ‏‏غیر متوقع طور پر سستی بھی ان عوامل میں سے ایک ہے جو کسی نئی تخلیق کو لافانی بنانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

ذہنِ انسانی ایک کثیرالمقصد آلہ ہے جو فوکس اور ارتکاز کے نتیجے میں ایک تیر کی طرح اپنے ہدف کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اور اگر بے مقصد چھوڑ دیا جائے تو پھلجھڑی کی طرح جا بجا روشنیاں بکھیرتا ہے۔ اسی لیے آپ نے نوٹ کیا ہوگا کہ جب آپ کسی توجہ طلب کام میں شدت سے مصروف ہوتے ہيں تو وقت گزرنے کا احساس نہیں ہوتا اور ہم دنیا و مافیہا سے بے خبر ہوجاتے ہیں، کیونکہ جس وقت ہمارا ذہن اپنی پوری توانائی توجہ طلب کام پر صرف کر رہا ہوتا ہے تو اس وقت ذہن کی زمان و مکاں کی تبدیلی کو محسوس کرنے کی صلاحیت بہت محدود ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس جب ہم اپنے ذہن کو بےخیالی اور ذہنی آوارگی میں چھوڑ دیتے ہیں تو ہمارا ذہن لاشعور کے تحت اپنی منزل آپ ہی متعین کرتا ہے، اور نت نئے خیالات و تصورات کو جنم دیتا ہے جو شاعری، فلسفہ، فنون لطیفہ اور سائنسی ایجادات کی شکل میں دنیا کے سامنے ظاہر ہوتے ہیں۔ انسانی ذہن کے یہ دونوں ہی اسلوب نہایت اہم ہیں، لیکن تخلیقی امور میں ذہنی آوارگی اور بے خیالی کا کردار زیادہ اہم ہے۔

یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا کی سائنسدان کالینا کرسٹوف نے اپنے تحقیقی مقالے ’’ذہنی آوارگی اور بے ساختہ خیالات‘‘ میں لکھا ہے کہ انسانی ذہن بے خیالی میں بھی دو طریقوں سے کام کرتا ہے: کبھی وہ ایک خیال سے دوسرے خیال پر بے ربطی سے چھلانگ لگاتا رہتا ہے؛ تو کبھی وہ بار بار کسی ایک ہی خیال یا جذبے کی طرف لوٹ کر واپس آتا ہے۔ ’’دن میں خواب دیکھنے کی صلاحیت ہی ہماری تخلیقی سوچ اورعمل کا ذریعہ ہے، جو اس وقت میسر ہوتا ہے جب ذہن کسی ‏شعوری دباؤ کے تحت نہ ہو۔‘‘

سست روی اور سست پیمائی کا دانستہ یا ناداستہ استعمال بہت سے صاحبانِ فن اور مشہور ہستیوں نے کیا ہے۔ موجودہ دور میں جناب مشتاق احمد یوسفی مرحوم نے اس تکنیک کو نہایت خوبصورتی سے استعمال کیا۔ وہ اپنا ہر مضمون نہایت سست روی سے مکمل کرتے تھے۔ مکمل کرنے کے بعد وہ مضمون رکھ چھوڑتے، جسے وہ مضمون کو ’’پال میں لگانا‘‘ کہا کرتے تھے۔ ایک مدت بعد اسے دوبارہ پڑھتے تھے، اگر قابل اشاعت سمجھتے تو اس پر مزید کام کرتے۔ ان کی لکھنے کی رفتار کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ’’زرگزشت‘‘ کا پہلا باب لکھنے میں انہیں تقریباً ایک سال (1971) لگا، جبکہ باقی کتاب انہوں نے اگلے پانچ سال میں مکمل کی اور یوں زرگزشست 1976 میں شائع ہوئی۔ اسی طرح ’’آبِ گم‘‘ تقریباً 12 سال کے طویل عرصے میں مکمل کی۔ اس سست روی اور عرق ریزی کا نتیجہ ایک لازوال مزاح کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ اس کے برعکس ڈاکٹر یونس بٹ (جو دور جدید کے مشہور مزاح نگار ہیں) پچھلے 20 برسوں میں تقریباً دو درجن سے زائد کتابیں لکھ چکے ہیں۔ میرا مقصد یہاں یونس بٹ کے اسلوب نگار‎ش پر تنقید نہیں بلکہ ایک لازوال تخلیق کاری کا موزانہ ایک عمومی تخلیق کاری سے کرنا ہے، اور سست روی کے مثبت کردار کو اجاگر کرنا ہے۔

دور ماضی میں بھی تخلیق کاروں نے سست روی کو عظیم فنی اور تخلیقی کاموں کےلیے استعمال کیا، جس کی سب سے اعلیٰ مثال لیونارڈو ڈاونچی ہے جس نے 16 سال کے عرصے میں اپنی مشہور پینٹنگ ’’مونالیزا‘‘ مکمل کی۔ لیونارڈو ڈاونچی نے مونالیزا 1503 میں شروع کی اور 1519 میں مکمل کی۔ اس 16 سال کے عرصے میں لیونارڈو نے دن رات مونا لیزا ہی پر کام  نہیں کیا، بلکہ وہ دوسرے پروجیکٹس میں بھی شامل رہا۔ وہ مونالیزا پر اسی وقت کام کرتا جب اس کا دل چاہتا، اور جب دل نہیں چاہتا تو دوسرے مشاغل میں اپنا وقت صرف کرتا۔ مونالیزا پرکام کا وقفہ کبھی مہینوں تو کبھی برسوں پر مشتمل ہوتا۔ مونا لیزا کی طرح ’’لاسٹ سپر‘‘ بھی اس کی ایک لازوال تخلیق ہے۔ لیونارڈو نے تقریباً 15 سال صرف اس کی منصوبہ بندی اور بنیادی خیال کی تکمیل میں صرف کیے۔ یہاں یہ بات بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ لیونارڈو ڈونچی کا دور آرٹ کی حیاتِ نو کا دور تھا اور اس دور میں سیکڑوں ہی آرٹسٹ اٹلی میں فن پارے بنانے میں مصروف تھے۔ چند ایک کے سوا، آج ہم ان آرٹسٹوں کے نام سے بھی ناواقف ہیں۔

سوال یہ ہے کہ سست روی سے تخلیقی معیار کیونکر بہتر ہو جاتا ہے؟ ہوتا کچھ یوں ہے کہ تخلیق کار جب کسی فن پار‏ے پر کام شروع کرتا ہے اور اس کی تکمیل میں سست روی اختیار کرتا ہے تو نہ صرف وہ اپنی شعوری صلاحیتوں کو استعمال کرتا ہے بلکہ اپنے لاشعور کی تخلیقی صلاحیتوں کو بھی مصروف عمل رکھتا ہے۔ سست روی انسان کو وہ ذہنی وسعت عطا کرتی ہے جس کی وجہ سے تخیل مروجہ زمان و مکان کی قید سے آزاد ہوکر انجان راہوں کا سفر اختیار کرتا ہے، اور اس سفر کے نتیجے میں عموماً نئی اور عظیم ایجادات، اختراحات، تصورات اور نظریات پیدا ہوتے ہیں۔ اسی طرح جب تخلیق کار کسی نئے خیال یا تصور پر کام شروع کرتا ہے اور اسے نامکمل چھوڑ دیتا ہے تو وہ خیال شعور کے پس منظر میں چلا جاتا ہے اور انسانی ذہن لاشعوری طور پر اس خیال پر مصروف عمل رہتا ہے۔ سست روی اتنا وقت عطا کردیتی ہے کہ نت نئے خیالات اور آپشنز پیدا ہوجاتے ہیں۔

جتنا زیادہ وقت کسی فنی اور تخلیقی کام کو کرنے کےلیے میسر ہوتا ہے، اتنا ہی زیادہ اعلیٰ معیار کی جدت طرازی انسانی ذہن تخلیق کر پاتا ہے۔ اس عمل کی ایک عمدہ مثال انیسویں صدی کے مشہور جرمن کیمیادان آگسٹ کیکیولے سے دی جاسکتی ہے جس نے ’’بینزین‘‘ نامی مرکب (کیمیکل) کی ساخت ایک خواب میں دریافت کی تھی، حالانکہ وہ اس بارے میں کئی سال سے مصروفِ تحقیق تھا۔ کیکیولے اپنی پوری شعوری کوششوں کے باوجود بھی بینزین کی کوئی ایسی سالماتی ساخت تجویز کرنے میں ناکام تھا جو کیمیائی اصولوں کے مطابق درست بھی ہو۔ یہی سوچ بچار کرتے دوران ایک رات اس نے خواب میں دیکھا کہ بندروں نے ایک دوسرے کی پونچھ پکڑ کر ایک حلقہ بنایا ہوا ہے۔ صبح جب آنکھ کھلی تو خواب اسے یاد تھا اور یہ خیال بھی ذہن میں تھا کہ بینزین کے ایٹموں کو ایک حلقے کی صورت ترتیب دیا جائے تو شاید اس کی سالماتی ساخت کا معما حل ہوجائے… اور ایسا ہی ہوا۔ یہ کیکیولے کے لاشعور کا کارنامہ تھا جس نے خواب میں اس کی رہنمائی کی اور وہ بینزین کی اچھوتی سالماتی ساخت دریافت کرکے نامیاتی کیمیا (آرگینک کیمسٹری) کے میدان میں ایک نئے باب کا اضافہ کرنے میں کامیاب ہوا۔

سُستی اگرچہ عمومی طور ایک منفی رویّے کے طور پر جانی جاتی ہے لیکن فنی اور جدت طرازی کے کاموں کےلیے ایک نہایت مؤثر حکمت عملی کا درجہ رکھتی ہے۔ فنّی اور تخلیقی امور میں اہمیت صرف اور صرف معیار کی ہوتی ہے۔ اس لیے صاحب فن کےلیے بہتر ہے کہ وہ اعلیٰ معیار کی تخلیق کاری ہی کو اپنا مقصد جانے اور وقت کی حدود و قیود سے آزاد ہوکر اپنی تخلیقات کو اوجِ کمال پر لے جانے کی کوششیں کرتا رہے۔ سستی اس مقصد کے حصول کا ایک مفید ذریعہ ثابت ہوسکتی ہے، بشرطیکہ عقل مندی سے کی جائے۔

مزید دکھائیں

وسیم احمد

مضمون نگار 1998 میں این –ای- ڈی ینیورسٹی سے پاس آوٹ ہوئے اور گزشتہ 8 سالوں سے دوحہ، قطر میں ڈایریکٹر آف انجینیرنگ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close