سکون قلب نہیں تو کچھ بھی نہیں

محمد شاہنواز ندوی

 سکون قلب سب سے بڑی نعمت ہے، جس کے لئے ہر کوئی پریشان ہے، دولت کی ریل پیل ہے لیکن سکون قلب حاصل نہیں تو کچھ بھی نہیں، رہن سہن آرام و آسائش کی ساری چیزیں موجود  ہیں لیکن سکول قلب نہیں تو کچھ بھی نہیں، سواری کے لئے اعلی سے اعلی اور بیش قیمت مرسڈیز گاڑیاں ہیں لیکن سکون قلب نہیں تو کچھ بھی نہیں، نہایت ہی خوبصورت اور حسین عمارتیں تو ہیں لیکن سکون قلب نہیں تو کچھ بھی نہیں، مہنگے اور ریشمی لباس زیب تن کئے ہوئے ہیں لیکن سکون قلب نہیں تو کچھ بھی نہیں، الغرض دنیا کی بیش قیمت چیزوں کے حاصل ہونے کے باوجود بھی اگر چند لمحے کی نیند کے لئے دوائیوں کا سہارا لینا پڑے تو ایسی سہولیات کا کیا فائدہ؟  عیش و عشرت کی ساری چیزوں کے ہاتھ لگ جانے کے بعد بھی اگر دل کو از خود سکون حاصل نہ ہو بلکہ  طبیعت کی خوشحالی اور فرحت و انبساط  کے لئے کسی قہقہ باز کی محفل میں جانا پڑے تو پھر ایسی پر لطف زندگی کا کیا حاصل ؟

در اصل جن چیزوں کو خوشی و شادمانی حاصل کرنے کے آلات تصور کئے جاتے ہیں وہ بے چینی پھیلانے کے لئے بنائے گئے ہیں۔ اگر اس حقیقت کے بارے میں غور کیا جائے تومعاملہ دو دو چار کی طرح صاف ہوتا ہوا نظر آئیگا  کہ کس طرح لوگ اپنی خوشی حاصل کرنے کے بجائے اپنے ہی ہاتھوں اپنے رنج و الم کا سامان مہیا کر رہے ہیں ؟ آئے  اس بارے میں غور کرتے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں لوگوں نے فرحت قلب کے لئے رنگا رنگی پروگراموں کا سہار ا لینا شروع کیا ہے، اپنے کام کاج سے فارغ ہونے کے بعد غموں کا بوجھ  ہلکا کرنے کے لئے اپنی پسند کے مطابق کوئی موسیقی سننا پسند کرتا ہے تو کوئی ٹیلی ویزن میں ہنسی و مذاق کے پروگرام کو دیکھتا ہے۔ کوئی موج  ومستی  کرنے کے لئے فحش و عریاں فلموں کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو کوئی کارٹون اور دیگر فحش پروگرام کی طرف راغب ہوتا ہے۔بلکہ کچھ لوگ تو ان چیزوں سے بھی آگے بڑھ کر ناچ گانے اور دیگر برائیوں کے اڈے کا رخ کرتے ہیں۔ اور وہ سمجھتے ہیں کہ ایسا کرنے سے دل کو سکون مل جائيگا۔

سوال یہ ہے کہ کیا ایسا کرنے سے بے قرار دل کو قرار اور پریشان دل کو سکون کی دولت حاصل ہو جائیگی؟ ہر گز نہیں، اگر وقتی طور پر اسے سکون مل بھی جائے لیکن اس کا برا اثر دیر تک کے لئے باقی رہے گا۔ وہ اس طرح کہ ایک شخص اپنی موج  ومستی کی خاطر اپنے گھر میں بے ہودہ بروگراموں کو پیٹھ کر دیکھ رہا ہوتا ہے، جہاں اس کے اہل خانہ کے تمام افراد موجود رہتے ہیں، سامنے اسکرین پر فحش اور نیم عریاں لباس زيب تن کئے ہوئے رقص و سرور کی ملکہ  اپنی نازک اداوں سے ناظرین کے دل کو سکون پہونچانے کی کوشش کرتی ہیں، وہ حتی الامکان اپنے آپ کو جاذب نظر بنا کر پیش کرنے کی کوشش کرتی ہے، اس لئے کہ اس کا مقصد سوائے اس کے کچھ اور نہیں کہ ناظرین کو خوش کر کے زیادہ سے زیادہ شہرت بٹوری  جائے، اپنی مقبولیت کا پرچم لہرا یا جائے، ناظرین کے دل و دماغ پر اپنا گہرا اثر چھوڑا جائے، جس کی وجہ سے اس کی قیمتوں میں اضافہ ہو وغیرہ۔ لیکن جو شخص ان چیزوں کا دلدادہ ہے، اور سر عام ایسے کلچر و تہذیب کو اپنے گھروں میں رواج دینے کی مذموم کوشش کرتا ہے، شاید اس کو پتہ نہیں کہ اس کا وبال کہاں کہاں تک پہونچے گا؟ اس سے اہل خانہ میں کیا پیغام عام ہوگا ؟۔

آج فیشن کے نام پر وہ تمام کا م انجام دئے جاتے ہیں جن پر شریعت اسلامی نے پابندی لگا رکھی ہے۔ جن چیزوں کے کرنے کی اجازت  نہیں دی ہے وہی چیزیں معمول بہ ہیں۔ اگر بات تعلیمی میدان کی ہو تو یہاں بھی لوگوں نے اسلامی تعلیمات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنی اولاد کو صرف اور صرف عصری تعلیم پر توجہ دینے اور اسے حاصل کرنے پر ایڑی چوٹی کا زور لگا رکھا ہے۔ ایک انسان کے لئے بنیادی طور پر جس تعلیم کی ضرورت ہے وہ صرف اور صرف دینی تعلیم ہے، جس کے بغیر وہ اپنے خدا کو نہیں پہچان سکتا ہے۔ جس کے بغیر اپنی عبادت میں کشش نہیں پیدا کرسکتا ہے، جس کے بغیر اپنے معاملات کو بہتر نہیں بنا سکتا ہے، جس کے بغیر اپنے اخلاق و کردار کو نہیں سنوار سکتا ہے۔ لیکن جس گھر میں اسلامی کلچر کی کوئی قدر و قیمت نہ ہو، جہاں تعلیمات اسلامی کی کوئی قدر نہیں ہو تو پھر بتائیں کہ وہاں امن وامان کی فضا کیسے قائم ہوگی ؟ وہاں سکون و اطمینان کا ماحول کیسے قائم ہوگا۔

سکون قلب کے بارے میں اللہ تعالی نے اپنے قرآن کریم میں صاف طور پر ارشاد فرمایا کہ ” سنو  ! دل کا سکون صرف اللہ کو یاد کرنے ہی میں ہے”۔ اللہ تعالی کی طرف سے تاکید کے ساتھ یہ بات کہی گئی ہے۔ جس کے سچ ہونے میں ذرہ برابر بھی شک کی گنجائش نہیں ہے۔ اس کا جیتا جاگتا مظہر ہر اس جگہ دیکھنے کو ملتا ہے جہاں یاد الہی کی پاسداری کی جاتی  ہے، جہاں نمازوں کا اہتمام اور قرآن کریم کی تلاوت کا خیال رکھا جاتا ہے۔ ورنہ جہاں دن و رات بے ہودہ قسم کے پروگرام اور محفلوں کی پذیرائی ہوتی ہے وہاں فطری طور پر سکون و اطمینان کا فقدان ہوتا ہے، وہاں ادب و احترام کا مزاج نہیں پایا جاتا ہے۔ وہاں نہ تو بڑوں کی بات مانی جاتی ہے نہ ہی چھوٹوں پر رحم کیا جاتا ہے۔ بلکہ وہاں بد تمیزی اور بے پردگی کا دروازہ چوپٹ کھلا رہتا ہے۔

سکون قلب کے لئے یہ بات ضروری اور لازمی ہے کہ انسان کا تعلق اللہ تعالی کے ساتھ گہرا ہو،  اپنی تمام تر پریشانیوں کا حل اسی سے حاصل کرے، جس کے لئے کامل ایمان اور پختہ یقین کی ضرورت ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ جو دل خوف خدا سے معمور ہے، جو دل یاد الہی کا مخزن ہے، جو ہر آن اسی کے خوف سے دھڑکتا ہے اور اس کی رحمت  سے مطمئن رہتا ہے، ایسے شخص کے لئے سخت سے سخت حالات بھی نہایت ہی معمولی اور ادنی درجہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ اپنی غیر معمولی پریشانی کو دیکھ کر آہ و بکا نہیں کرتا ہے، نہ ہی واویلا مچاتا ہے نہ ہی خدا کی رحمت سے مایوس ہو کر در بدر کی ٹھوکریں کھاتا ہے، بلکہ اپنے کامل یقین اور محکم اعتماد کی وجہ سے ہر حال میں بھی پرسکون اور مطمئن رہتا ہے۔

آج مسلمانوں میں مغربی کلچر و ثقافت اپنی جڑیں مضبوط کرتی جارہی ہیں۔ وہ دبے انداز میں لوگوں کے دلوں میں رچتی بستی جارہی ہیں، جس کی وجہ سے اسلامی ثقافت اور تہذیب و تمد ن مسلمانوں کو نہیں بھانے لگی ہے۔ جس کی وجہ سے سماج میں برائیاں اپنا پاوں پسار چکی ہیں، آئے دن ایسے ایسے واقعات کے بارے میں خبر ملتی رہتی ہے جنہیں سننے کے بعد عقل حیران رہ جاتی ہے کہ آخر اس قوم کو ہو کیا گیا ہے؟۔ آخر کس چیز نے اسے اپنے ایمانی تقاضوں کو پورا کرنے سے دور رکھ دیا ہے؟۔

اس قوم نے اپنی پسند اور ناپسند کا معیار شریعت اسلامی کی پسند اور ناپسند کو نہیں بنایا ہے بلکہ اس نے زمانہ میں رائج رسم و رواج کو اپنی دلی پسند ید گی کا محور بنایا ہوا ہے۔ جس بنا پر پتہ ہی نہیں چلتا ہے کہ ایک سچا مسلمان کے گھرانے میں اور ایک بے دین و لادین کے ماحول میں تفریق کیسے کی جائے ؟۔ آج جہاں کہیں بھی چلے جائیں  مسلمانوں کی اکثریت اسلامی مزاج سے ناآشنا ہے، ایسا محسوس ہورہا ہے کہ شریعت کی باتیں مسلمانوں کے لئے گلے کا کانٹا بن گئی ہیں۔ جسے وہ نگل نہیں پاتے ہیں۔ مسجدیں ویران  ہیں، نمازوں کا اہتمام نہیں ہے، حلال و حرام میں تمیز نہیں، لوٹ کھسوٹ، رشوت گبن کا بازار گرم ہے، فحش کاری زنا کاری اپنے شباب پر ہے۔ بھلی بات سننے کےلئے کسی کے پاس فرصت نہیں، انصاف کا خون کیا جارہا ہے، مظلوم اور بے کسوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں۔ مسجدوں میں امامت اور قیادت کے جھگڑے چل رہے ہیں۔ صدارت اور سیادت کے لئے اپنی آستین چڑھائے ہوئے ہیں۔ ایک دوسرے سے حسد نفرت اور عداوت میں ملوث ہیں۔ سلام و کلام پر بندش لگی ہوئی ہے۔ برائی پر انگلی اٹھانا اس وقت کی سب سے بڑی مصیبت ہے، گویا جو جس حال میں ہے وہ اسی میں مست ہے۔

لہذا ضرورت اس بات کی ہے ہم اور آپ اپنے تمام کاموں کو اسلامی دائرہ میں رہتے ہوئے انجام دیں۔ دنیا کی رنگیین فضا میں گم ہونے سے بہتر ہے کہ اپنے حقوق کی ادائیگی میں لگے رہیں، کیونکہ یہ دنیا جس کو جتنی ملنی ہے وہ مل کر رہے گی۔ اللہ تعالی کی محبت اور اس کی اطاعت سب سے بڑی چیز ہے۔ آج وہ انسان سب سے زیادہ پریشان ہے جس کے دل میں ایمان کی کمی ہے۔ اپنی پریشانی کا حل صرف مادی اسباب سے نکالنا چاہتا ہے، وہ ایک لمحہ کے لئے بھی عبادت الہی کی طرف مائل نہیں ہوتا۔ خد ا کا یقین سب سے بڑی طاقت ہے۔ جس دل میں جتنا زیادہ خدا کا خوف اور اس کا یقین ہوگا وہ اتنا ہی پر سکون اور اطمیانا بخش رہے گا۔ وہ اپنی چھوٹی اور بڑی تمام طرح کی مصیبتوں کے لئے جہاں اسباب و علل کا سہارا لیتا ہے وہیں خدا سے اس بات کی تمنا بھی رکھتا ہے کہ شفا تو اسی کی جانب ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو یہ کمزور و ناتواں انسان کیسے  زندہ رہ سکتا ہے ؟۔ اس کے لئے کوئی تو مدد گار چاہئے، جس کے سہارے اپنی زندگی گزارے۔ آج ہم اور آپ اپنے دنیا کے محسن و منعم کو خوش کرنے کے لئے اس کی ہر بات کو ماننے کےلئےہر ممکن  تگ و دو کرتے رہتے ہیں۔ لیکن جس خالق کائینات نے ہمیں پیدا کیا، جس نے ہمیں خوبصورت چہرہ اور بے شمار نعمتوں سے مالا مال کیا اس کے بارے میں ذرہ برابر بھی نہیں سوچتے ہیں۔ اس نے اتنی ساری نعمتوں کے بدلے میں ہم سے کس چیز کا مطالبہ کیا ؟ یہی نہ کہ دن میں پانچ مرتبہ اسکی عبادت کی جائے۔ اس کے  ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے۔اس کی طاقت کو پہچانا جائے۔ اس کی قدرت کے نظارے پر غور کیا جائے۔ اس  نے کس حسن ترتیب سے یہ دنیا سجائی ہے اس کا مشاہدہ کیا جائے۔ صرف اس کی ہی عبادت کو لازم پکڑ ا جائے۔ اپنے دل میں کسی اور کے معبود ہونے کا خیال نہیں لایا جائے۔

اس لئے اللہ نے جس بات کی تعلیم دی ہے وہ عین فطرت انسانی کے موافق اور مطابق ہے۔ اور جن چیزوں سے گریز کرنے کی تلقین کی وہ اس سے بچنا فطرت سلیم کی ضرورت ہے۔ سچ تو یہی ہے کہ ہم اور آپ اسلامی کلچر اسلامی تہذیب و ثقافت کے بغیر کسی دوسری چیز سے ذرہ برابر بھی سکون و اطمینان نہیں حاصل نہیں کر سکتے ہیں  چاہے سکون کی حصولیابی کے لئے کتنی ہی موج و مستی کر لی جائے چاہے کتنی ہی  ہنسی اور مزاق کی محفلوں میں شرکت کر لی جائے بجائے سکون کے غم اور رنج و الم ہی ملے گا۔

⋆ محمد شاہنواز ندوی

مدیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے