شخصیت کا ارتقانقطہ نظر

عمر یوں ہی تمام ہوتی ہے

محمد سعد 
جدت پسند حضرات کے مطابق نئے سال کا سورج نئی امنگوں اور جذبات کے ساتھ طلوع ہوتا ہے۔حالاں کہ ایسا نہیں ہے کیوں کہ سورج وہی ہے ۔طلوع بھی اپنے وقت پر ہوتا ہے ۔ہر کسی کو برابر روشنی پہنچاتا ہے ۔گردش کے ایام متعین ہیں ۔سال کے مہینے بارہ ہیں ۔صرف افکار بدل گئے ہیں ۔ہم ہر چیز میں جدت اور نیا پن چاہتے ہیں ۔نیا سال منانا اسی کی پیداوار ہے ۔لوگوں کی اکثریت نئے سال کی منصوبہ بندی کرتی ہے۔کسی کو معاش کی فکر ہوتی ہے ،تو کسی کو تعلیم کی ۔ہر شخص ایک نئی فکر کے ساتھ صبح کرتاہے۔اور نئے سال کی بہتر شروعات کرنا چاہتا ہے ۔خوشی منانا غلط نہیں ہے ۔لیکن اس میں غلط طریقہ اختیار کرنا برا ہے۔

ہم نئے سال کا جشن تومنارہے ہیں۔ کیا ہم نے کبھی سال کے گزرنے کا غم منایا کہ ہماری زندگی سے ایک سال کم ہو گیا؟ کیا ہم نے اپنا محاسبہ کیا کہ رواں سال (2016) ہم نے کتنی نیکیاں کیں اور کتنے گناہ کیے ؟کہیں ایسا نہ ہو کہ نیکیاں کم پڑ جائیں اور ہم گناہوں تلے دب جائیں ۔ہر گزرنے والا دن ہماری زندگی سے کم ہورہا ہے۔ہمیں اس پرجشن منانے کے بجائے افسوس ہونا چاہیے ۔ ؎

صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے
عمر یوں ہی تمام ہوتی ہے

آپ غور کریں رب تعالیٰ نے جتنی نعمتیں ہمیں دی ہیں ۔ان کے استعمال کرنے کا وقت دن بدن کم ہوتا جا رہا ہے ۔خصوصا ہماری عمر گھٹتی جارہی ہے ۔ جوانی اور قوت زوال پذیر ہے۔ گو کہ ہر چہار جانب نقصان اٹھانے کے بعد بھی ہم جشن منا رہے ہیں ۔دنیا کی ہر چیز ایک وقت مقررہ پر فنا ہونے والی ہے۔اس کے متعلق رب تعالیٰ سورہ رحمٰن آیت نمبر27 میں ارشاد فرماتا ہے :‘‘زمین پر جتنے ہیں سب کو فنا ہے ’’۔(کنزالایمان)
اس آیت میں لفظ ‘‘ مَن ’’ آیا ہے ،جوعربی میں جاندار کے لیے استعمال ہوتاہے۔ یعنی ہر جاندار کوفنا ہونا ہے ۔کوئی اس سے بھاگ نہیں سکتا ۔ہمیں چاہیے کہ ہم کیے ہوئے گناہوں سے توبہ کریں اور نئے سال کی آمد پر گناہ نہ کرنے کا عہد کریں ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق ہر وہ دن عید کا دن ہے جس میں کوئی گناہ نہ ہو۔

نیاسال شروع ہونےوالا ہے ۔ملک کا نوجوان جشن منانے کی تیاری کر رہا ہے ۔ 31دسمبر کی رات ملک کے بڑے شہروں میں عیاشیوں کا بازار گرم ہوتاہے۔ دعوتیں اڑائی جاتی ہیں۔مبارک باد کے پیغامات کا تبادلہ ہوتا ہے ۔شراب اور رقص و سرودکی محفلیں سجتی ہیں ۔طوائفوں کے کوٹھے آباد ہوتے ہیں ۔نئے نئے طریقوں سے برائیاں کی جاتی ہیں۔پٹاخے ،ہوائی فائرنگ اور سڑکوں پر موٹرسائیکلوں کے کرتب بغیر فرمائش کے مفت دکھائے جاتے ہیں۔سڑکوں پر گاڑیوں کے سلنسرسے چنگاریاں نکالی جاتی ہیں ۔زور زور سے ہارن بجائے جاتے ہیں۔اس رات کثیر حادثات رونماں ہوتے ہیں۔جانیں تلف ہوتی ہیں ۔گناہوں میں بے دریغ پیسے خرچ کیے جاتے ہیں ۔اگر ان فضول خرچیوں کا جائزہ لیں تو حیرت ہوگی کہ انسانی جان ،مال اور وقت بڑی مقدار میں کہاں صرف ہورہا ہے؟اور اس موقع سے ہر وہ کام کیے جاتے ہیں،جو اسلام اور انسانیت کے خلاف ہیں ۔

اسپتال میں مریضوں کی تکالیف کا خیال نہیں کیا جاتا ۔اُس وقت انسانیت کہاں چلی جاتی ہے ؟بوڑھوں کا خیا ل نہیں کیا جاتا ۔کیا ان نوجوانوں کے گھر بوڑھے نہیں ہیں؟یاانہیں بوڑھا نہیں ہونا ہے ۔ ان خرافات کے باوجود یہ کہتے ہیں کہ ہم آزاد شہری ہیں اورہماری آزادی میں کسی کو مداخلت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔موج و مستی میں آ کرکہیں بھی، کچھ بھی کیا جا سکتا ہے۔ایک انگریز دانش ور کا قول ہے کہ ‘‘تمہاری آزادی وہاں ختم ہو جاتی ہے ،جہاں دوسرے کی ناک شروع ہو تی ہے ’’۔آپ کی آزادی وہیں تک ہے جہاں دوسروں کے حقوق کی پامالی نہ ہو ۔خدارا! دوسروں کی آزادی کا خیال کریں۔ دوسروں کی مدد کریں ۔یہی انسانیت اور بھائی چارگی کا تقاضہ ہے ۔اپنے پیسوں کو جائز کاموں میں خرچ کریں ۔اپنی اور دوسرں کی جان کے محافظ بنیں ۔ 2016 ختم ہونے والا ہے اور 2017 آنے والا ہے ۔ اگر نوجوان مسلمانوں کے حالات کا جائزہ لیں اور ان سے پوچھیں کہ کون سا اسلامی سال چل رہا ہے؟توان کا جواب ‘‘نا’’ میں ہوگا ۔اسی طرح اسلامی مہینے کے بارے میں ان سے سوال کیاجائے تو صحیح طریقے سے بتا نہیں سکتے ۔مسلم نوجوانوں کی افسوک ناک حالت ہے ۔نوجوانوں کو چاہیے کہ دنیوی علوم کےساتھ ساتھ دینیات کابھی مطالعہ کریں ۔

نئے سال کی خوشی منانے سے پہلے ایک سوال ذہن میں آتا ہے کہ یہ خوشی منانے کاموقع ہے بھی یا نہیں؟رات گیارہ بج کرانسٹھ منٹ اور بارہ بجنے کےدرمیان صرف ایک سیکنڈ کا فاصلہ ہے۔اس ایک ساعت میں دنیا میں کون سی ایسی عجیب تبدیلی واقع ہو جاتی ہے کہ ہم اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھتے ہیں اور عجیب و غریب ،غیر سنجیدہ حرکات پر اتر آتے ہیں۔ایسا طرز عمل اسلامی تعلیمات کے بالکل مخالف ہے۔اسلامی تعلیمات اور اسلاف کی زندگیاں یہ بتاتی ہیں کہ کسی بھی کام کے آغاز میں خالق حقیقی کو یاد کیا جائے۔یہاں تو ہم اللہ عزوجل کو بھول کر اس کی نافرمانی کرتے ہیں اور اس کے عذاب سے بھی نہیں ڈرتے ۔ ایسا جشن کہاں تک درست ہو سکتاہے۔ہمیں ایسی خوشی منانے سے ضرور بچنا چاہیے جس میں اللہ عزوجل کی نافرمانی ہو ۔کیوں کہ اللہ کی نافرمانی میں اس کی ناراضگی ہے،اور دنیا و آخرت کی ناکامی بھی ۔اللہ نے ہمیں زندگی دی ہے ۔مال ودولت اور بےشمار نعمتیں عطا کی ہیں ۔تو ہمیں چاہیے کہ نعمتوں کے قدر دان بنیں اور ان کا صحیح استعمال کریں۔کیوں کہ اللہ کی بارگا ہ میں ان کا حساب دینا ہے۔جیسا کہ رب العزت نے قرآن مقدس کی سورہ تکاثر آیت نمبر ۸ میں ارشاد فرمایا :‘‘پھر بے شک ضروراس دن تم سے نعمتوں سے پرسش ہوگی’’۔(کنزالایمان)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ نعمتوں کے بارے میں سوال ہوگا۔مال کے بارے میں سوال ہوگا کہ کہاں سےحاصل کیا اور کہاں خرچ کیا؟ ایسے ہی تمام نعمتوں کے بارے میں سوال ہوگا۔ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی نعمتوں کی قدر کریں اور اپنی زندگی کا محاسبہ کرتے رہیں۔ اپنے کیے ہوئے گناہوں سے توبہ کریں ۔ نئے سال کی آمد پر گناہ نہ کرنے کا عہد کریں ۔خود بھی لہو لعب اور خرافات سے بچیں،دوسروں کو بھی بچائیں ۔حقوق اللہ اور حقوق العباد احسن طریقے سے ادا کرنےکا عہد کریں ۔یہ بہت اہم ہے کہ ہم ذاتی محاسبہ کریں کہ گزرے ہوئے سال میں ہم پر کسی کا قرض تو نہیں ؟ہم نے کسی کو تکلیف تونہیں دی ؟اور کسی کا حق تو نہیں مارا؟اگر ایسا ہے تو ہمیں چاہیے کہ قرض کی ادائیگی میں جلدی کریں ساتھ ہی نوکروں ،ماتحتوں اور پڑوسیوں کے حقوق کی بھی ادائیگی کرلیں۔اگر ہم نے ایسا کر لیا تب بہتر طریقے سے نئے سال کا آغاز کر سکیں گے ۔

ٹیگ
مزید دکھائیں

متعلقہ

Close