تعلیم و تربیتشخصیت کا ارتقا

عہدوں کی نمائش

عہدوں کی نمائش پسندیده عمل نہیں ہے، لیکن یہ دیکھ کر افسوس ہوتا کہ خالص دنیا داروں اور بے دینوں کی طرح دین دار لوگ بھی اس میں ملوّث ہیں۔

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

اصلاحِ معاشرہ کا بڑا جلسہ تھا۔ اس میں شرکت کے لیے بڑی بڑی شخصیات آئی ہوئی تھی۔ خوب صورت اسٹیج سجایا گیا تھا۔ میز کے پیچھے 10 اونچی کرسیاں لگائی گئی تھیں۔ تلاوتِ کلام پاک کے بعد جلسے کے منتظم نے استقبالیہ کلمات پیش کیے۔ انہوں نے اسٹیج پر بیٹھی ہوئی تمام شخصیات کو خوش آمدید کہا اور ہر ایک کے نام کے ساتھ اس کے عہدے کا بھی تذکرہ کیا۔ بعض شخصیات کئی عہدوں پر فائز تھیں۔ ظاہر ہے ، جن لوگوں نے اپنی پوری زندگیاں دین کی خدمت اور علم کی اشاعت کے لئے وقت کر رکھی ہوں، ان کا کئی کئی عہدوں پر فائز رہنا ان کی شان کے عین مطابق تھا۔ منتظم نے ان کے تمام عہدوں کا تذکرہ کرنا ضروری سمجھا۔ استقبالیہ کلمات کے بعد تقریروں کی باری تھی۔ ہر مقرر نے اپنی تقریر شروع کرنے سے پہلے اسٹیج پر بیٹھی ہوئی تمام شخصیات کے نام ان کے عہدوں سمیت لے کر انھیں مخاطب کیا۔ کسی مقرر نے اپنی تقریر کے دوران اگر کسی شخصیت کا نام کئی مواقع پر لیا تو ہر موقع پر نام کے ساتھ اس کےتمام عہدے بھی بیان کیے۔ اصلاحِ معاشرہ کے اس جلسے کے لیے پہلے زبردست پبلسٹی کی گئی تھی۔ پورے شہر میں قدِ آدم پوسٹرز لگائے گئے تھے ، جن میں تمام مقررین کے نام ان کے عہدوں سمیت درج تھے۔ انہی پوسٹرز کو دیکھ اور پڑھ کر عوام کی یہ بھیڑ اُمڈ آئی تھی۔ میری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ جب جلسہ گاہ میں موجود بیش تر لوگوں کو مقررین کے عہدوں کا پہلے سے علم تھا اور جن کو علم نہیں تھا ان کو پہلی بار سن کر علم ہوگیا تھا تو بار بار انھیں دہرانے کی ضرورت کیا تھی؟

عہدہ کسی شخص کے تعارف کا ایک ذریعہ ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس شخص کی مصروفیات کیا ہیں؟ اور وہ سماج میں کیا خدمت انجام دے رہا ہے ؟عہدہ سے کسی شخص کی عظمت اور قدر و منزلت بھی آنکی جا سکتی ہے۔ اس لیے جنہیں معلوم نہ ہو ان کے سامنے کسی شخص کے عہدے کا تذکرہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ، لیکن جاننے والوں کے سامنے کسی شخصیت کے عہدے کا بار بار تذکرہ کیا جائے تو شبہ ہوتا ہے کہ شخصیت کا اس کے عہدے سمیت تعارف نہیں کرایا جا رہا پے، بلکہ عہدے کی نمائش کی جا رہی ہے۔

کچھ لوگ اپنی صلاحیتوں کی بنا پر لیڈر بنتے ہیں اور کچھ کو دوسرے لوگ اپنی کوششوں سے لیڈر بناتے ہیں۔ ایک لیڈر کئی ‘لیڈرچوں’ کی جدّوجہد ، مہم جوئی اور کمپیننگ کی پیداوار ہوتا ہے۔ اسی طرح کچھ شخصیات اپنی صلاحیتوں ، اخلاص و للہیت اور دینی و سماجی سرگرمیوں اور خدمات کی بنا پر شہرت و نام وری حاصل کرتی ہیں اور کچھ شخصیات کو ان کی B ٹیم شہرت و نام وری کے مقامِ بلند تک پہنچاتی ہے۔ اس سلسلے میں عہدوں کے بار بار تذکرے اور ان کی پبلسٹی سے بہت مدد ملتی ہے۔

کسی شخصیت کے سامنے اس کے عہدوں کا تذکرہ کیا جائے تو اسے اچھا لگے اور اس سے لذّت پائے، یہ خود پسندی اور فریبِ نفس ہے۔ کسی شخصیت کے سامنے بلا ضرورت اس کے عہدوں کا تذکرہ کیا جائے اور بار بار کیا جائے، یہ تملّق اور خوشامد پرستی ہے۔ ان دونوں چیزوں کا شمار اخلاقِ ذمیمہ میں ہوتا ہے۔ اللہ کے رسولﷺ نے ان کی مذمّت کی ہے اور ان سے اجتناب کرنے کا حکم دیا ہے۔

عہدوں کی نمائش پسندیده عمل نہیں ہے، لیکن یہ دیکھ کر افسوس ہوتا کہ خالص دنیا داروں اور بے دینوں کی طرح دین دار لوگ بھی اس میں ملوّث ہیں۔ وہ بھی اپنے عہدوں کی خود نمائش کرتے رہتے ہیں اور اگر وہ خوش قسمتی سے کسی مدرسے کے ناظم، کسی تعلیم گاہ کے شیخ الجامعہ، کسی ادارے کے نگرانِ اعلیٰ ، کسی تنظیم کے سربراہ یا کسی جماعت کے امیر ہوں تو مفت میں انھیں اپنے ماتحتوں میں خاصے لوگ ایسے مل جاتے ہیں جو اس طرح ان کے عہدوں کی پبلشٹی کرتے ہیں گویا انھیں پبلشٹی انچارج بنایا گیا ہو۔

ضرورت ہے کہ جلسوں اور خاص طور پر دینی اجتماعات میں اصحابِ مناصب کے مناصب کا بار بار تذکرہ نہ کیا جائے۔ کوئی ضروری نہیں کہ ہر مقرر پہلے اسٹیج پر بیٹھے ہوئے تمام افراد کا نام ان کے عہدوں سمیت لے، پھر اپنی گفتگو شروع کرے، بلکہ مناسب یہ پے کہ مختصر حمد و ثنا کے بعد راست اپنے موضوع پر آجائے۔ ایسا کیا جائے تو سامعین بار بار ایک ہی چیز نہیں سنیں گے اور ان کا بہت سا وقت بھی بچے گا۔

مزید دکھائیں

محمد رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی معروف مصنف اور دانش ور ہیں۔ موصوف تصنیفی اکیڈمی، جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری اور سہ ماہی مجلہ تحقیقات اسلامی کے نائب مدیر ہیں۔

متعلقہ

Close