شخصیت کا ارتقا

لوگ کیا کیا سوچیں گے؟

ابوالاشبال ابن فیضی

انسان حیوان ناطق ہے، یہ واحد مخلوق ہے جسے اللہ نے سوچنے سمجھنے اور کچھ کرنے کی صلاحیت دیا ہے، جسے انسان اپنی زندگی میں اپنے مطابق، سماج و معاشرے کے مطابق استعمال کرتا ہے یا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اور یہ سب سے بڑا فرق ہے جو انسان کو دوسرے تمام مخلوقات سے جدا کرتی ہے  اور یہ چیزیں اللہ کی طرف سے انسان کے لئے بہت بڑی نعمت ہے۔ لیکن اسے انسان اپنی زندگی میں کس طرح استعمال کرتا ہے یہ اہم ہے۔

عام طور پر موجودہ دور میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان کی بھلائی کے لئے کم ہی سوچتا ہے یا سوچتا ہی نہیں ہے۔ ایسے میں ایک سوال یہ اٹھتا ہے کہ پھر لوگ سوچتے کیا ہیں؟  ایک شخص کی دوسرے شخص کے تعلق سے کیا ذہنیت ہوتی ہے؟

عام طور پہ دیکھا جاتا ہے کہ اگر کوئی شخص کچھ کر رہا ہوتا ہے تو اس کے ذہن میں فوراً یہ بات آتی ہے کہ لوگ کیا سوچیں گے؟  اور یہیں پہ انسان سست پڑ جاتا ہے۔ کہ اگر میں اِس کام میں ناکام ہو گیا تو لوگ کیا سوچیں گے۔ دیکھا جائے تو ایک دو شخص ہی نہیں بلکہ پورا کا پورا سماج و معاشرہ اسی بات پہ آ کر رک جاتا ہے کہ لوگ کیا سوچیں گے۔

ایک آدمی کچھ نیا کرنے کی سوچتا ہے تو وہ اس لئے کچھ نہیں کرتا ہے کہ لوگ کیا سوچیں گے؟ ایک باپ اپنے بیٹے کو کچھ اس لئے نہیں کہہ پاتا ہے کہ بیٹا بڑا ہو گیا ہے اگر اسے کچھ کہا تو لوگ کیا سوچیں گے؟ شادی میں لڑکی کا باپ اس ٹینشن سے بیمار پڑ جاتا ہے کہ اگر کسی پکوان کی کمی رہ گئی تو لوگ کیا سوچیں گے؟ کسی میٹنگ میں اگر تمام لوگوں سے مشورہ مانگا جائے تو اس میں سے اکثر لوگ فقط اس لئے خاموش رہتے ہیں کہ لوگ کیا سوچیں گے؟

غرض یہ کہ ہر جگہ اور ہر موقع پر ہر شخص یہی سوچتا ہے کہ لوگ کیا سوچیں گے؟

اور شاید آپ بھی۔۔۔۔ لیکن میں ایسا نہیں سوچتا ہوں کیونکہ جب میں یہ سوچنے لگوں گا کہ لوگ کیا سوچیں گے، تو پھر لوگ کیا سوچیں گے؟ (انکے پاس سوچنے کے لئے کیا بچے گا)

اور وہ اس لئے کہ ہر میدان میں کامیابی و ناکامی اللہ کے ہاتھ میں ہے، اس لئے میرے نزدیک یہ سوچنا کہ لوگ کیا سوچیں گے سب سے بُری سوچ ہے۔

اور اگر آپ کو یہ سوچنا ہے کہ لوگ کیا سوچیں گے تو اس وقت سوچو جب تم کسی کے ساتھ کچھ غلط کرنے کا ارادہ کر رہے ہو، اگر یہ سوچنا ہے کہ لوگ کیا سوچیں گے تو اس وقت سوچو جب تم اپنے والدین کی نافرمانی کر رہے ہو، اگر یہ سوچنا ہے کہ لوگ کیا سوچیں گے تو اس وقت سوچو جب تم پڑوسیوں اور رشتے داروں کے حقوق ادا نہ کر رہے ہو، اگر یہ سوچنا ہے کہ لوگ کیا سوچیں گے تو اس وقت سوچو جب تم مزدوروں کو ان کا بدلہ نہ دے رہے ہو،وغیرہ وغیرہ۔۔۔

اس کے علاوہ آپ کبھی یہ مت سوچو کہ لوگ کیا سوچیں گے۔ کیوں کہ لوگوں کی یہی سوچ ہے کہ وہ آپ کے بارے میں غلط سوچیں۔

اگر آپ یہ سوچنے لگیں گے کہ لوگ کیا سوچیں گے تو آپ کبھی زندگی میں آگے نہیں بڑھ پائیں گے۔ بس شرط یہ ہے کہ آپ کچھ کرتے رہیے اور ہمت مت ہارو۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ایسے حالت میں لوگوں سے مشورے نہ لو یا مشورے نہ دو،

آپ لوگوں کو اچھے سے اچھا مشورہ دو، اگر لوگوں کی سمجھ میں آیا تو اسے قبول کریں گے، اور آپ بھی لوگوں سے مشورے لو اور آپ کو اچھا لگے تو فوراً اپنی زندگی میں اس کا استعمال کرنا شروع کر دو۔

خواہ وہ کسی جاہل و انپڑھ کی بات ہو، خواہ وہ کسی چھوٹے شخص کی بات ہو، بس آپ یہ دیکھو کہ اس میں سچائی اور فائدہ کتنا ہے۔ یہ مت سوچو کہ لوگ کیا سوچیں گے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ جب آپ کچھ کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو آپ کیا سوچتے ہیں؟

کہیں آپ بھی تو یہی نہیں سوچتے کہ لوگ کیا سوچیں گے؟؟؟

مزید دکھائیں

ابوالاشبال ابن فیضی

جامعہ ملیہ اسلامیہ

متعلقہ

Close