تعلیم و تربیتشخصیت کا ارتقا

مدارس کے طلبہ و طالبات کی خدمت میں

یاد رکھیے!خدمت سے خُدا ملتاہے، اپنے اساتذہ کی خدمت کے مواقع تلاش کریں اور خدمت کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیں۔

مولانا محمد جہان یعقوب

عزیزطلبہ وطالبات!

علوم دینیہ کی نرسریوں میں قدم رکھنے پرہم آپ کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتے ہیں اور دعاگوہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو علوم نبوت میں سے وافر حصہ عطا فرمائے اور آپ کے والدین اور سرپرستوں کو اس مادیت کے دور میں آپ کو دینی علوم کی تحصیل کے لیے، جس میں بظاہر دنیوی اعتبار سے کوئی نقد فائدہ ہے اور نہ ہی کسی روشن ودرخشاں مستقبل کی اس دنیا میں امید، فارغ کرنے پر، جو یقینامجاہدے سے کم نہیں، جزائیے خیر عطافرمائے اور ان کے رزق میں برکتیں، وسعتیں اور کشادگیاں عطا فرمائے۔ انھوں نے یہ مجاہدہ صرف اس لیے برداشت کیا ہے، تاکہ آپ ان کے لیے ذخیرہ ٔآخرت بن سکیں، انھوں نے احادیث میں پڑھ اور سُن رکھا ہے کہ ایک عالم دین  ایسے سیکڑوں لوگوں، جن پر ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے جہنّم واجب ہوچکی ہوگی، کی شفاعت کرکے انھیں اپنے ساتھ جنّت میں لے جائے گا۔ وہ اسی شفاعت کی امید میں اتنا بڑا مجاہدہ کررہے ہیں۔ انھوں نے احادیث میں یہ بھی سآن رکھا ہے کہ باعمل حافظِ قرآن کے والدین کو قیامت کے دن ایسا تاج پہنایا جائے گا، جس کی روشنی کے آگے سیکڑوں سورج کی روشنی بھی ماند اور ہیچ ہے، وہ اس اعزاز کی امید رکھتے ہیں۔ انھیں عزّت وکرامت کے اس تاج کی بارگاہِ الٰہی سے امید ہے، جو حافظ ِ قرآن کے ماں باپ کو پہنایا جائے گا۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے کے قدموں کے نیچے بھی فرشتے اعزاز واکرام کے طور پر اپنے پر بچھائیں۔ یہ ہیں وہ امیدیں، آرزوئیں اور امنگیں، جن کے حصول کے لیے انھوں نے آپ کو دینی مدارس میں بھیجا ہے۔ اگر یہ باتیں ہر وقت آپ کے دل ودماغ میں موجود اور ذہن میں مستحضر ہوں گی، تو ان شاء اللہ !آپ اپنے شب وروز کا ہر لمحہ اس احتیاط سے گزاریں گے، کہ ان اعزازات کے نہ صرف خود مستحق بن سکیں گے، بلکہ اپنے والدین اور سرپرستوں کی امنگوں پر بھی پورا اترسکیں گے۔ اللہ تعالیٰ آپ کا حامی وناصر ہو۔ آمین!

ذیل میں اکابر کے تجربوں اور نصائح کی روشنی میں آپ کی خدمت میں ایک دستورُالعمل پیش کرنے کی سعی کی ہے، جس کے مطابق اپنے شب وروز گزارنے کی آپ میں سے ہر طالب ِ علم کو، چاہے وہ قرآن مجیدحفظ وناظرہ کا طالبِ علم ہو، یاتجوید وقراء ات کا، یادرسِ نظامی کے کسی بھی درجے کا طالبِ علم ہو۔

سب سے پہلی چیزہمیشہ یہ بات ذہن نشین رکھیں، کہ آپ علوم ِنبوّت حاصل کررہے ہیں، یہ کوئی مادّی علم نہیں، بلکہ روحانی علم ہے اور روحانیت کے حصول کے لیے آپ کا ظاہری وباطنی طور پر ہرقسم کی گندگیوں اور غلاظتوں سے پاک صاف ہوناضروری ہے، کیوں کہ میلے کچیلے، گندے اور گدلے برتن اس لائق نہیں ہوتے کہ ان میں کوئی صاف ستھری چیز ڈالی جائے۔ آپ کے لباس کا جس طرح ظاہری گندگی ونجاست سے پاک ہونا ضروری ہے، اسی طرح آپ کی آنکھوں، آپ کے کانوں، آپ کی زبان کا بھی گناہوں کی گندگی وغلاظت سے پاک صاف ہونا ضروری ہے۔ موبائل اور انٹرنیٹ کے فتنے کے اس دور میں نظر، شنوائی اور کلام کی پاکی یقینامجاہدے کی بات ہے، لیکن علوم ِ نبوّت کانور اپنے باطن میں اتارنے کے لیے آپ کو یہ مجاہدہ کرنا ہوگا، اس کے بغیر اللہ کا نورنہیں ملے گا۔ اس حقیقت کو امام شافعی ؒ نے چند اشعار میں بڑی جامعیت سے بیان کیا ہے، جن کا لبّ لباب یہ ہے، کہ:میں نے اپنے استادِمحترم حضرت وکیعؒ سے حافظے کی کم زوری کی شکایت کی، توانھوں نے مجھے وصیت کی:گناہ چھوڑدو، اس لیے کہ یہ علم اللہ تعالیٰ کا نور ہے، اور اللہ تعالیٰ کا نور گناہ گار کونہیں ملتا۔ جس علم کے حصول کے دوران گناہوں سے پرہیز کی کوشش نہیں کی جاتی، وہ علم کبھی پائے دار نہیں بنتا، اگر حاصل ہوبھی جائے، تو کارآمد نہیں بنتا، بلکہ بسا اوقات ایسا علم گم راہی کا بھی باعث بن جاتا ہے۔ حدیث پاک میں ہے:علم عمل کو آواز دیتا ہے، اگر کسی سینے میں علم ہو، مگر وہ جسم عمل سے خالی ہو، تو وہاں سے علم بھی رخصت ہوجاتا ہے۔ یہ بات بھی یاد رکھیں، کہ شیطان آپ کے دل میں یہ وسوسہ ڈالنے کی کوشش کرے گا، کہ ابھی تو تعلیم پر توجہ دو، عمل کے لیے بہت وقت پڑاہے، بعد میں عمل بھی کرلینا۔ اکابر نے اپنے تجربات کی روشنی میں یہ بات لکھی ہے کہ جو طالبِ علم دورانِ طالبِ علمی عمل کی عادت نہیں ڈالتا اور گناہوں سے اجتناب نہیں کرتا، فراغت کے بعد بھی اسے عمل کرنے اور گناہوں سے بچنے کی توفیق نہیں ملتی، کیوں کہ مدرسے وجامعہ کی مثال ماں کے پیٹ کی سی ہے، جس میں بچے کا جسم بنتا ہے، جو بچہ ماں کے پیٹ سے ناقص الاعضاء پید اہو، دنیا بھر کے ڈاکٹر مل کر بھی اس کے اس نقص کودور نہیں کرسکتے، اسی طرح جو طالبِ علم مدرسے وجامعہ کے ایمانی ونورانی اور علمی وروحانی ماحول میں رہ کر خود کو نیک عمل کا خوگر اور گناہوں سے بچنے کا عادی نہیں بنالیتا، وہ بعد میں دنیا کے مادیت بھرے ماحول میں بھی اس جوہر سے محروم ہی رہ جاتا ہے۔ الّاماشاء اللہ!

اپنے اساتذہ ٔ کرام، مدرسے وجامعہ کے منتظمین اور دیگر عملے کاادب واحترام ہے۔ اس میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتیں۔ اسی طرح کتاب، کاپی، تپائی اور ڈیسک، تختہ سیاہ، کمرۂ جماعت، رہائشی کمرہ یہ سب بھی آپ کے حصول ِ علم میں ممدّومعاون ہیں، ان تمام آلاتِ علم کا احترام کریں۔ حتی الامکان باوضو حالت میں کتاب کا مطالعہ وتکرار کریں، صبح کمرۂ جماعت میں بیٹھنے سے پہلے وضو کرلیا کریں، استاد اورکتاب کے سامنے  آلتی پالتی مار کر، یا کسی بھی ایسی ہیئت میں نہ بیٹھیں، جو ادب کے خلاف ہو، بلکہ مؤدّب بیٹھنے کی کوشش کریں۔ دورانِ درس ہاتھ میں موجود پینسل اور قلم وغیرہ سے کھیلنا، بار بار گھڑی دیکھنا، اِدھر اۃدھر متوجّہ ہونا، بات چیت کرنا، اپنے لباس اور جسم کے ساتھ کھیلنا، یہ تمام امور بے توجّہی اور بے ادبی کے زمرے میں آتے ہیں، ان سے حتی المقدور بچنے کی کوشش اور اہتمام کریں۔

درس کوپُوری توجّہ سے سننا، اگلے سبق کا پہلے سے مطالعہ کرنا، پڑھے ہوئے سبق کا تکرار کرنا، جو سمجھ میں نہ آئے وہ اپنے دوسرے ہم جماعت احباب اور اساتذۂ کرام سے پُوچھنا۔ ۔ ۔ ۔ یہ وہ امور ہیں، جن کی آپ کو روزِ اوّل سے پابندی کرنی ہے۔ اس میں کوئی وقفہ یاسُستی نہ ہونے پائے۔ عام طور پر طلبہ شُروع میں سُستی کرتے ہیں، یوں اُن پر اسباق کا اچھا خاصا بار پڑتاہے، پھر رات بھر بیٹھ کر پڑھنے سے بھی وہ اسباق قابو میں نہیں آتے، اس کوتاہی سے بچنے کی فکر پہلے دن سے ہی ہونی چاہیے، جس کا طریقہ یہی ہے کہ چاہے استذہ یاد کرنے کے لیے کہیں یا نہ کہیں، سبق سُنیں یا نہ سُنیں، آپ اپنا سبق روزانہ کی بنیاد پر یاد کریں، مشقوں کو روزانہ کی بنیاد پر حل کریں، مطالعہ روزانہ کی بنیاد پر کریں، دیا ہوا کام روزانہ کی بنیاد پر کریں۔ ہوسکے تو ہفتے بھر کا پڑھا ہوا سبق جمعرات کے دن، جب شام کو تکرار مطالعے کی ترتیب نہیں ہوتی، اپنے طور پر دُھرالیں۔ اگر آپ نے اس دستورُالعمل پر مواظبت اختیار کیے رکھی، تو آپ کو کسی امتحان اور ٹیسٹ وجائزہ امتحان کی کوئی فکر ہوگی، نہ کسی قسم کا ڈر خوف، اس طرح آپ کا سبق بھی پُختہ سے پُختہ تر ہوتا جائے گا۔ جو سبق استاد کے سننے یاجائزہ وامتحان کے ڈر سے ’’آئی بلاٹالنے‘‘کی غرض سے یاد کیاجاتا ہے، وہ پائے دار نہیں ہوتا، جلد حافظے سے محو ہوجاتا ہے۔ اس کامشاہدہ حفّاظِ کرام کو دیکھ کر بہ خوبی کیاجاسکتاہے:جو حفّاظ سال بھر اپنی منزل یاد کرنے اور اُسے نوافل میں پڑھنے کا اہتمام کرتے ہیں، انھیں رمضان المبارک میں تراویح میں قرآن پاک سنانے کے لیے کوئی اضافی محنت نہیں کرنی پڑتی، بلکہ ایک دو بار تلاوت کافی ہوجاتی ہے، اس کے برعکس جو حفّاظ سال بھر قرآن مجید سے لاتعلق رہتے، پنی منزل یاد کرنے اور اُسے نوافل میں پڑھنے کا اہتمام نہیں کرتے، ان کو تراویح میں قرآن پاک سنانے کے لیے انتہائی محنت کرنی پڑتی ہے، اپنے تمام معمولات کی کلّی یاجزوی طور پر قربانی دینی پڑتی ہے، حفظ کی درس گاہ میں بیٹھنا پڑتاہے، اس کے باوجود ان کی اغلاط اوّل الذکر حفّاظ کے مقابلے میں زیادہ آتی ہیں۔ اسی پر پابندی سے اسباق کو یاد کرنے والے اور صرف امتحان کے لیے اسباق کو یاد کرنے والے طلبہ کی حالت کو قیاس کیا جاسکتاہے۔

یاد رکھیے!خدمت سے خُدا ملتاہے، اپنے اساتذہ کی خدمت کے مواقع تلاش کریں اور خدمت کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیں۔ اسی طرح مدرسے وجامعہ کی خدمت کا کوئی بھی موقع آجائے، مثلاً:قربانی کے ایّام میں کھالیں جمع کرنا، گوشت کی تقسیم یا اس کے علاوہ بھی مدرسہ وجامعہ جو بھی خدمت آپ کے سپرد کرے، اس کی بجاآوری اپنی ذمے داری سمجھ کرکریں، چاہے اس میں کوئی مالی ومادی فائدہ نظر آئے یا نہ آئے۔ بڑوں کی دعاؤں سے بڑھ کرکوئی سرمایہ نہیں، لہٰذا ان کی دعائیں لینے کی کوشش کریں، اور خدمت بھی دعائیں لینے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔

دینی علم بھی آپ سے وقت اور محنت مانگتا ہے۔ اگر آپ نے اپنے قیمتی وقت کی قدر نہ کی، بلکہ اسے لایعنی کاموں، سیاسی بحثوں، موبائل وانٹرنیٹ بینی، فضول گپ شپ اور آوارہ گردی کی نذر کردیا، تو آپ کا علم کبھی بھی پُختہ نہیں ہوسکتا۔ امام ابویوسفؒ کاقول ہے:آپ کو علم کو اپنا سب کچھ دیں گے، توعلم آپ کو اپنا تھوڑا بہت حصہ دے گا۔ شیطان کی کوشش ہوگی کہ آپ کو لایعنی کاموں، باتوں، مشاغل میں لگائے، تاکہ آپ کا وقت علم دین کے حصول کے بجائے کہیں اور صرف ہو۔ اس شیطانی چال کا مقابلہ بھی اوّل روز سے کرناہے۔ اس کا نسخہ یہ ہے کہ آپ اپنی حیثیت اور مقام پہچان لیں۔ آپ کوئی عام انسان نہیں۔ اللہ رسول کے مہمان ہیں۔ آپ نے علوم ِ نبوّت کو حاصل کرنے کے لیے اپنا گھر بار، عزیز واقارب اور دوست احباب، نیز گھر کی تمام آسائشوں کو چھوڑا ہے۔ جب یہ بات مستحضر رہے گی، تو ان شاء اللہ!آپ اپنا ایک ایک لمحہ اپنے اصل مقصد کے حصول کے لیے صرف کرنے کی کوشش کریں گے، اور لایعنی سے بچ جائیں گے۔ دہیان رہے کہ یہ کام بھی روز ِ اوّل سے کرنا ہے، اگر شروع میں سُستی کی، تو بعد میں نوبت یہ ہوگی کہ آپ تو کمبل کو چھوڑناچاہیں گے، مگر کمبل آپ کی جان نہیں چھوڑے گا۔ کوشش کیجیے!کہ یہ کمبل آپ کو چمٹنے ہی نہ پائے!

 فرائض میں کسی قسم کی سُستی وکوتاہی نہ کریں، خاص طور پر جمعرات اور جمعے کے دن، جب آپ اپنے گھروں کو جاتے ہیں۔ کیوں کہ آپ کاعمل آپ کے والدین اور بہن بھائیوں، نیز دوست احباب میں عمل کا جذبہ بیدار کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے، آپ کے اندر آنے والی مثبت تبدیلی انھیں نہ صرف آپ سے، بلکہ دینی مدارس وجامعات سے بھی خوش گمان کردے گی، اس کے برعکس آپ نے فرائض ہی میں سُستی کا ثبوت دیا، فجر کے وقت بھی سوتے رہے، قرآن پاک کی تلاوت بھی نہیں کی، بلکہ جیسا گھر کا اور گلی محلے کا ماحول ہے، اسی کا حصہ بن گئے، ہوٹلنگ، آوارہ گردی، ٹی وی بینی وغیرہ میں مصروف رہے، تو آپ کا یہ عمل نہ صرف آپ سے، بلکہ ان دینی مدارس وجامعات سے بھی انھیں بدگمان کرسکتاہے، جس کا سبب آپ بنیں گے، اور یہ یقینااحسان فراموشی ہوگی، کہ جن اداروں نے آپ کی تعلیم وتربیّت ہی نہیں، قیام وطعام تک کی ذمے داریاں بھی اس مہنگائی وگرانی کے دور میں بھی اپنے ذمے لے رکھی ہیں، آپ ان کی نیک نامی کے بجائے بدنامی کا باعث بنیں۔

 طالبِ علم کے لیے زیادہ نفلی روزے اور نمازیں ضروری نہیں، البتہ اگر صحت اجازت دے اور تعلیم کا بھی حرج نہ ہورہا ہو، تو غیر مؤکدہ سنتوں، اشراق، اوّابین اور تہجّد کی عادت ڈالیں، چاہے دودورکعات ہی پڑھ لیں، چاہے تہجّدکی نماز تکرار ومطالعے سے فراغت کے بعد سونے سے پہلے ہی ادا کرلیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ سے تعلق اُس کے در کا بھکاری بننے سے بڑھتا ہے، اس لیے دعاؤں کی عادت ڈالیں، خوب رورو کر اور گڑ گڑاکر دعائیں مانگیں، رونا نہ بھی آئے تو رونے کی سی ہیئت ہی بنالیں، اس پر بھی اللہ تعالیٰ کو پیار آتا ہے۔

ایک عالم ِ دین اور دینی راہ نما کے پاس اپنی بات عوام وخواص تک پہنچانے کے دو ذرائع ہیں :ایک تقریروخطابت اور دوسراتحریر۔ ان دونوں میں مہارت کے لیے بھی زمانہ ٔ طالب ِ علمی میں ہی کوشش کرنی پڑتی ہے۔ جو طلبہ وطالبات یہ سوچتے ہیں کہ فراغت کے بعد یہ ملکہ حاصل کرلیں گے، وہ کماحقّہ ایسا نہیں کرپاتے۔ دینی مدارس وجامعات میں ہفتہ وارتقریری بزمیں ہوا کرتی ہیں، ان میں حصہ لیں۔ اچھا مقرر اور خطیب بننے کے لیے مقررین اور خطباکی تقاریر وخطابات سننے کی عادت ڈالیں، اس سے بولنے کا انداز آتا ہے، ان کی نقل کرنے کی کوشش کریں، ان کی تقاریر یاد کرکے ان کے انداز میں مجمعے میں سنانے کی کوشش کریں، یوں آپ کے حوصلے بلند ہوں گے، جھجھک ختم ہوگی، اس کے بعد اپنا انداز بنانے اور خود تقریر تیار کرنے کی کوشش رفتہ رفتہ آپ کو ایک اچھا مقرر وخطیب بنادے گی۔ کسی کی لکھی ہوئی تقریررٹنے اور اس کے نتیجے میں ملنے والی داد کو ہی اپنی منزل نہ سمجھ لیں۔ مثل مشہور ہے:گاتے گاتے گویّابنتا ہے۔ بچہ بھی پہلے ماں باپ کے پیروں پر پیر رکھ کر چلتا ہے، اس کے بعد خود چلنا سیکھ جاتا ہے۔ آپ بھی کسی کے مرہونِ منّت رہنے کے بجائے ’’اپنی دنیا آپ‘‘پید اکریں، بقول شاعر:اپنی دنیا آپ پید اکر، اگر زندوں میں ہے۔ اسی طرح ایک دینی راہ نماومقتدا کے لیے تحریری صلاحیّت بھی ضروری ہے۔ جو پڑھیں، اس کا خلاصہ اپنے الفاظ میں لکھنے کی کوشش کریں، روزنامچہ یعنی ڈائری لکھا کریں، اپنے اسباق کو یاد کرنے کے بعد زبانی لکھنے کی عادت ڈالیں، یہ تین کام کرنے سے آپ کو ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ آپ کاخط نکھر جائے گا، اور دوسرا فائدہ یہ ہوگاکہ آپ کو تحریرکا سلیقہ آجائے گا، جو مستقبل میں آپ کو ذراسی مشق سے ایک اچھا مصنّف وادیب بنادے گا۔ ماضی کے اکابر کی تاریخ پڑھیں، ان میں سے ہر ایک صاحب تصنیف تھا، لیکن انھوں نے کوئی روایتی صحافت وتحریر کورس کیا تھا، اور نہ ہی ادب وانشا میں ماسٹرزڈگری کے حامل تھے۔ یہ ان کی زمانہ ٔ طالبِ علمی کی مشق ہی تھی، جس نے ان سے اتنا بڑاتحریری کام کروایا۔

درسی کتابوں کے علاوہ غیر درسی کتابوں کے مطالعے کے لیے بھی وقت نکالیں، لیکن ہر رطب ویابس نہ پڑھیں، ابھی آپ کی دینی معلومات مستحکم نہیں، کچے اذہان کے کسی سے بھی متاثر ہونے کا خطرہ ہوتا ہے، اس لیے منتخب مطالعہ کریں۔ اپنے ذوق اور اساتذہ کے مشورے سے کتابوں کا انتخاب کریں۔ مطالعہ محض وقت گزاری کے لیے نہیں، بلکہ معلومات میں اضافے کے لیے کریں۔ معلومات کو معمولات میں بدلنے کی بھی سعی کرتے رہیں۔

ان باتوں پر عمل کرکے آپ ایک اچھے طالبِ علم، مستقبل کے ایک کارآمد شہری اور مقتداوپیشوا بن سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ تمام طلبہ وطالبات کو ان باتوں پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

مزید دکھائیں

محمد جہان یعقوب

مولانا محمد جہان یعقوب ڈپٹی ایڈیٹر ہفت روز ہ اخبارالمدارس ہیں نیز جامعہ بنوریہ عالمیہ،کراچی کے ریسرچ اسکالر ہیں۔

متعلقہ

Close