شخصیت کا ارتقا

موتی سمجھ کے شان کریمی نے چن لیے

بس آنسؤوں کے چند قطرے گناہ کی ان گندگیوں کو دھونے کےلئے کافی ہیں۔ ان آنسؤوں کی قدر اللہ کے پاس موتی سے بھی زیادہ ہے۔

معراج حبیب ندوی

گناہ سے پاک ہونے کا کون دعوی کر سکتا ہے؟ انسان تو انسان ہے۔ غلطی کرنا اسکی فطرت میں ہے۔ خطا ہونا انسان کی پہچان ہے۔ کیوں کہ اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ اور اسکی سب سے بڑی وجہ یہ ہیکہ انسان  کو اللہ نے ملکوتی اور بہیمی صفات کا جامع بنایا ہے۔ جبکہ معاملہ یہ ہے کہ دیگر مخلوقات اس امتیاز سے خالی ہیں۔ فرشتوں میں صرف ملکوتی صفات ہیں اور حیوانوں میں صرف بہیمی صفات ہیں۔ لیکن انسان میں دونوں صفات ہیں، اسی لئے حضرت انسان کی ذمہ داری بہیمی صفات کو کنٹرول کر کے ملکوتی صفات کو غالب رکھنے کیلئے عظیم ہے۔اسی لئے انسان کو اشرف المخلوقات جیسی بڑی ڈگری دی گئی ہے۔

ان باتوں کے پیش نظر گناہ کا سرزد ہونا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ جو گناہ نہ کرے وہ تو انسان کے دائرہ سے ہی خارج ہے اور اسکا شمار فرشتوں میں ہونا چاہیئے۔ ہمیں تو خطاکرنا حضرت آدم سے ورثہ میں ملا ہے۔ لیکن گناہ کا انتباہ اور احساس ضروری چیز ہے۔ اگر انسان کا احساس زندہ ہے گناہ پر تنبہ ہوجاتا ہے تو وہ جتنا بھی گناہ کرے نہر توبہ میں دھل دھلا کے پاکیزہ اور صاف ستھرا ہو سکتا ہے۔ مگر جس کا احساس ہی مر جائے تو یہ جرم عظیم ہے جسکا انجام بد سے بد تر ہو سکتا ہے۔ میری ان باتوں کی تائید زبان نبوت کے ان سنہرے کلمات سے ہوتی ہے”خير الخطائین التوابون "خطا تو ہر شخص کرتا ہے۔ گناہ میں تو کمی بیشی کے ساتھ سب مبتلا ہیں مگر ان میں سب سے اچھا وہ ہے جو توبہ کر لے۔ گناہ سے توبہ کرنے کے بعد آدمی گنہگار نہیں رہتا بلکہ وہ بالکل سادہ اور صاف ستھرا ہوجا تا ہے "التائب من الذنب كمن لا ذنب له "گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جس نے گناہ کیا ہی نہیں۔  "التوبة تغسل الحوبة "توبہ غسل ہے روح کیلئے گناہ سے پاک ہونے کا۔

  آج سیکنڑوں بندے ہیں جو گناہ کی آلودگیوں میں لت پت ہیں، گناہ پہ گناہ کئے جا رہے ہیں، اندر سے احساس بھی ہوتا ہے کہ وہ گناہ کر رہے ہیں پر وہ ڈرتے ہیں کہ کیا کریں؟ انھیں ڈرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ بس آنسؤوں کے چند قطرے گناہ کی ان گندگیوں کو دھونے کےلئے کافی ہیں۔ ان آنسؤوں کی قدر اللہ کے پاس موتی سے بھی زیادہ ہے۔ لہذا نا امید ہونے کی ضرورت ہر گز نہیں ہے۔اللہ کی رحمت کا دروازہ بہت وسیع ہے۔ اسکی رحمت کے در ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔ وہ ہر دم مائل بہ کرم رہتا ہے۔ بس ہمیں سائل بن کر جانا ہے۔ اور گناہ کی کثرت وضخامت کو نہیں دیکھنا ہے ہمیں تو وسیع رحمت کو دیکھنا ہے۔ اور ہم چند قطرے ندامت کے بہا دیں تو اللہ کے یہاں یہ موتی سے بڑھ کر ہیں۔

موتی سمجھ کے شان کریمی نے چن لئے 
جو قطرے تھے میرے عرق انفعال  کے

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close