شخصیت کا ارتقانقطہ نظرہندوستان

ندويوں سے دو ٹوک بات: مرجعيت كس كو حاصل هے؟

 محمد اكرم ندوى

ندوه ايكـ زنده تحريكـ كا نام هے جس كا مقصد هر عهد مين ايسے ذى علم وفكر اور صاحب استعداد وكمال افراد تيار كرنا هے جو اس عهد كے تقاضون كے مطابق اپنى قوم وملت كى قيادت كا فريضه انجام دين، اس اهم ذمه دارى كى ادائيگى اسى وقت ممكن هے جب اس كے فارغين ايكـ طرف سرچشمه هدايت يعنى كتاب الهى سے براه راست رهنمائى حاصل كرنے كے اهل هون اور خدا كے آخرى پيغمبر صلى الله عليه وسلم كى سيرت وسنت پر گهرى نظر ركهتے هون كه آپ صلى الله عليه وسلم نے كس طرح اپنے حالات اور ماحول مين اس كتاب سے فيضيابى كى، اور اس كى روشنى مين كس طرح مثالى افراد تيار كئے اور مثالى معاشره وجود بخشا، چونكه آپ كو تاييد ايزدى حاصل تهى، آپ كى تعليمات خطا سے پاكـ تهين، اور آپ كو قيامت تكـ كے هر حالات اور ماحول كے لئے پيغمبر منتخب كيا گيا تها، اس لئے قرآن كريم كے ساتهـ آپ كا نمونه بهى ابدى هے.

دوسرى طرف اپنے عهد كے تغير پزير حالات كو سمجهين، ان كا براه راست مطالعه كرين، اور ان پر گهرى نگاه ركهين، يه بات اچهى طرح ذهن نشين هونى چاهئے كه اسلامى تعليم وتربيت كا مقصد يه هے كه طلبه قرآن وسنت كى مهارت اور اس سے رهنمائى حاصل كرنے كى صلاحيت پيدا كرين، اسلامى تعليم وتربيت كا هرگز يه مقصد نهين هے كه دينى علوم وفنون كے مختلف الجهات دائمى مراكز قائم كئے جائين جو وقت گزرنے كے ساتهـ قرآن وسنت كى مرجعيت سے دور اور بے نياز هو جائين، بلكه خود مرجعيت كا مقام حاصل كرلين.

ندوه كى يه خصوصيت آج تكـ قائم هے كه اس كے فارغين نے اپنے حالات اور ماحول كے لئے رهبرى كا فريضه انجام ديا، مولانا محمد على مونگيرى، مولانا شبلى نعمانى، اور مولانا عبد الحى حسنى سے ليكر سيد سليمان ندوى تكـ اور پهر سيد ابو الحسن ندوى تكـ يه عظيم روايت تسلسل كے ساتهـ اور بغير كسى انقطاع كے قائم ودائم رهى، ندوه كى ان عبقرى شخصيات كى سيرت كا عام مطالعه بهى يه ثابت كرنے كے لئے كافى هے كه انهون نے اپنے عهد كے مسائل كو كس طرح گهرائى كے ساتهـ سمجها اور مكمل اخلاص اور پورى تڑپ سے ان كے حل وعلاج كى كوششين كين.

تعليمى وتربيتى تحريكون كى صحيح سمت مين پيش رفت كے لئے اسى اصول پر گامزن رهنا ضرورى هے جو فقهى اور كلامى مسالكـ اور تصوف كے طريقون كے لئے ضرورى هے، وه اصول يهى هے كه ان تحريكـون، مسلكـون، اور طريقون كے قائدين كس حد تكـ اپنے حالات سے با خبر هين، اور كس حد تكـ براه راست قرآن وسنت سے استفاده كے اهل، اپنے زمانه كى تقاضون اور حالات كے زير اثر ان تحريكون اور مسلكون كے قائدين نے مراكز قائم كئے، اور كتابين تصنيف كين، ان عظيم افراد، ادارون، اور تصنيفات كى قدر وقيمت سے انكار ممكن نهين، تا هم ان كى حقيقى افاديت اسى وقت تكـ برقرار رهتى هے جب تكـ كه ان كے منتسبين ان سے صحيح استفاده كرين، ان كے متعلق مبالغه آرائى سے كام نه لين، اور نه ان كو مرجعيت كا مقام عطا كرين.

يه بات همارے ذهنون مين هميشه تازه اور زنده رهنى چاهئے كه اس دين كے اندر سارى كتابون كے مابين صرف كتاب الهى كو، اور سارے افراد كے درميان صرف پيغمبر خدا كے نمونه كو مرجعيت حاصل هے، يه مرجعيت اس دين مين نه فقهى، نه كلامى اور نه صوفيانه كتابون كو حاصل هے، نه فقه، كلام اور تصوف كے امامون كو، اور نه هى يه مرجعيت كسى اداره اور مكتبه فكر كو حاصل هے، اسى طرح عصر حاضر كے مسلم علماء وقائدين، ان كى تصنيفات اور ان كے قائم كرده ادارے، مراكز اور مدارس مرجعيت كے حامل نهين، ازهر شريف، ديوبند اور ندوه قيادت كے لائق علماء تيار كرنے كے مراكز هين، يه تعليمگاهين خود مرجعيت كے مقام پر فائز نهين، ان كو مرجعيت عطا كرنے كى غلطى نے اس امت پر فكرى، اجتماعى، ثقافتى اور قانونى عدم مرونت كا بحران مسلط كر ديا هے، جس كا نتيجه يه هے كه سيكڑون جلدون مين پهيلى هوئى ان ادارون كى تصنيفات فكرى، قانونى اور عملى حد بنديون اور فروعى جزئيات كى وه دقيق تفصيلات پيش كرتى هين جن كى موجودگى مين قرآن وسنت كا اساسى مقام ايكـ بے معنى اور غير متعلق نظريه سے زياده حيثيت نهين ركهتا، مسئله يه هے كه يه اصول وتعليمات خواه كس قدر واضح اور فيصله كن هون انهين اتهاريٹى هرگز حاصل نهين هوسكتى، بغير كسى شرط وقيد كے قرآن وسنت كى كامل مرجعيت كا تسليم كرنا كسى بهى فرد يا اداره كى اهليت كا پهلا زينه هے، اسى كے ذريعه هر عهد اور هر ماحول مين، اور دوسرے افراد اور ادارون كو كوئى فكر يا تجزيه يا استدلال تهذيب وشائستگى كے ساتهـ پيش كرنا ممكن هوگا.

ندويون سے گزارش هے كه يه بات كسى پر مخفى نہیں كه دنيا كے حالات جس برق رفتارى سے تبديل هو رهے هين، اس قسم كى تبديلى اس سے پهلے كبهى نهيں پيش آئى، آپ كا عهد هر لمحه تغير پزير هے، اور آپ كا ماحول هر لحظه دگر گوں، اس نازكـ گهڑى مين آپ پر قيادت كى ذمه دارى هے، حالات كو براه راست سمجهنے كى كوشش كريں، قرآن كريم اور سنت سے براه راست رهنمائى حاصل كريں، ان حالات مين بار بار علامه شبلى نعمانى، علامه سيد سليمان ندوى اور مفكر اسلام ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليهم يا ماضى اور حال كى كسى شخصيت، تصنيف، مكتبه فكر اور اداره كا حواله دينا آپ كے شايان شان نهيں، ان بزرگون نے اپنے حالات اور ماحول كے لحاظ سے رهنمائى كا فريضه انجام ديا، اب آپ پر امت كے مسائل سے نپٹنے كى ذمه دارى هے، ضرورى نهيں كه ان كا جو حل ان بزرگون كے عهد ميں صحيح تها وه آپ كے لئے بهى مناسب هو، ايكـ كامياب ڈاكٹر وه نهيں جو بغير كسى تبديلى كے اپنے پيشرووں كے نسخے استعمال كرتا هو، يا مريض كے حالات كى تبديلى پر نگاه كئے بغير ايكـ هى طريقه علاج پر مصر هو.

اگر آپ اپنے عهد اور ماحول سے براه راست واقف نهيں تو آپ كو مشوره دينے يا رهنمائى كا حق هرگز حاصل نهيں، غير معتبر ذرائع ابلاغ اور غير مستند تجزيون پر اعتماد سخت نقصان ده هے، حالات سے سطحى واقفيت آپ كے مقام سے فرو تر هے، جب تكـ حالات وماحول سے صحيح اور قابل وثوق واقفيت نهين هوتى اس وقت تكـ نه آپ كتاب الهى سے هدايت حاصل كر سكيں گے، نه هى پيغمبر خدا كے نمونه سے مستفيض هوسكين گے، اور نتيجتًا آپ قيادت كے بار گران كے متحمل نهين هو سكتے.

اسى طرح اگر آپ براه راست كتاب الهى اور سنت نبوى سے صحيح رهنمائى حاصل كرنے كى همت اور صلاحيت نهين ركهتے تو آپ ميدان قيادت سے كناره كش هوجائين، كيونكه آپ جو حل بهى پيش كرين گے وه يا تو دوسرى قومون سے مستعار هوگا جن كى فطرت وساخت اور جن كے اجزائے تركيبى امت محمديه سے مختلف هين، يا اپنے حالات وماحول كے تقاضون كو نظر انداز كركے اپنے پيش روون كے الفاظ ومعانى دهراتے رهين گے، جبكه ان الفاظ كے معانى بلكه معانى كے معانى بهى تبديل هو چكے هون گے، ياد ركهين كه تقليد آپ كے منصب كے خلاف هے، امامت اور تقليد ايكـ دوسرے كى ضد هين، ان ضدين كے اجتماع پر وهى مصر يا راضى هو سكتا هے جو ان دونون كے مفهوم اور تقاضون سے واقف نهين.

يه تحرير مين نے اس لئے پيش كرنے كى جرأت كى هے كه جب تكـ يه بنيادى اصول طے نهين هوجاتا همارى فكرى، عملى اور اصلاحى كوششين رائيگان هى نهين هون گى بلكه حالات كو خراب سے خراب تر كرتى رهين گى.

مزید دکھائیں

2 تبصرے

  1. بہت سارے نقاط پر بہت مفصل گفتگو کی جاسکتی ہے لیکن اختصارا میرے خیال میں یہ عرض کرنا مناسب انداز میں رائے کے اظہار کا ایک بہتر طریقہ کار ہوگا کہ کتاب وسنت اور قرآن وحدیث کی مرجعیت مسلم اور دائمی ہے اور رہیگی لیکن جیسے کہ فاضل مضمون نگار نے کہا کہ بدلتے حالات اور تقاضوں کی رعایت کرکے ہی مناسب حلول تک پہنچا جاسکتا ہے اور سامنے کھڑے انتہائی پیچیدہ اور مشکل چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے
    اس پس منظر میں ہمیں ندوہ العلماء کے منهج قدیم صالح اور جدید نافع کو ذرا زیادہ وسیع پیمانے پر لینے اور برتنے اور اس کی وسعت کی اتھاہ بڑائیوں کو ہمارے اس زمانے اور اس کے چیلنجوں کے اعتبار سے لینے کی ضرورت ہوگی
    مثال کے طور پر ہمیں اس بات پر غور کرنے کی کوشش کرنا ہیکہ ہم کیوں دنیا کے لئے ایک بے فائدہ اور بے سود قوم کی شکل اختیار کر رہے ہیں پچھلی کئی صدیوں سے ہم نے دنیا کو کیا دیا ہے
    وہ کونسے وسائل راستے اور طریقہائے کار ہیں جن کے ذریعے مسلم قوم اپنا کھویا ہوا مقام واپس حاصل کرسکتی ہے اور دنیا کے سامنے یہ ظاہر کیا جا سکتا ہے کہ ہم ہر اعتبار سے انسانیت کے لئے ایک مفید قوم اور نفع بخش اکائی ہوسکتے ہیں
    دین اور مذہب کا اصل مقصد انسان کو انسان بنانا اور اس کو اخلاقی بلندیوں کی چوٹیوں کی طرف لے جانا ہے اور تہذیب و تمدن معاشرت اور اخلاقیات کے میدان میں ایک تنظیم پیدا کرنا ہے لیکن اسی وقت دین استخلاف فی الارض کی دعوت دےکر میدان کو کھلا چھوڑ دیتا ہے کہ اخلاقیات کے بلند اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ عمارہ الارض کے لئے سارے وہ جائز وسائل اپنائیں جو ممکن ہیں اور اس کا سب سے پہلا مرحلہ تعلیم کا ہے جس کو سب پہلی وحی اور سب سے پہلے سبق میں اقرا کے ذریعے واضح کر دیا گیا ہے
    میرا خیال ہیکہ ہمیں وہیں واپس جانا ہوگا اور پھر وہیں سے نئے سرے سے اپنے سفر کو شروع کرنا ہوگا تو تب جاکر شاید ہمارے سفر کی جہت بھی درست ہوگی اور ہم صحیح منزل کی طرف رواں دواں ہوسکیں گے
    دوسرا بہت اہم نقطہ جسکو میری ناقص سوچ اور معلومات یہاں پہ ذکر کرنا انتہائی ضروری تصور کرتے ہیں وہ ہے اسلام کی وسطیت
    یہ سبق اتنا اہم ہیکہ کہ کسی بھی طریقے سے ہمارے اس زمانے اور عہد میں ہمیں اس کی وضاحت کرنی ہوگی اور پھیلانا ہوگا اور دنیا کو یہ سمجھانا ہوگا یہ دین یہ مذہب ہمیشہ ساری کی ساری انسانیت سے محبت اور بھائی چارگی ہی سکھاتا رہا ہے ہمارے اس مذہب میں انسانیت کے لئے کہیں کوئی نفرت کی گنجائش نہیں ہے بلکہ محبت ہی محبت ہے
    ہم پوری انسانیت کے ساتھ محبت کرتے ہیں اور سب کے ساتھ چین وسکون کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں
    اور ہم ہر سطح پر ساری انسانیت کے لئے مفید ونفع بخش بننا چاہتے ہین

  2. بہت بہترین اور شاندار مضمون ہے-
    جناب محمد اکرم ندوی کی خدمت میں سلام مسنون اور ہدیۂ تبریک پیش کرتا ہوں-
    اللَّه کرے کہ تمام ادارے اس سمت سوچیں، غور و فکر اور تفکر و تدبر سے کام لیں-
    وصی بختیاری.

متعلقہ

Back to top button
Close