شخصیت کا ارتقا

وژن: بامقصد زندگی کا ایک بنیادی عنصر

شادمحمد شاد

ہرشخص یہ چاہتا ہے کہ جب اس کو موت آئے اور وہ اپنی زندگی پر ایک نظر ڈالے تو بےاختیار کہہ اٹھے کہ واقعی میں خوب جیا، بھرپور جیا اور میری زندگی حقیقی معنوں میں بامقصد گزری۔ کوئی یہ نہیں چاہتا کہ مرتے وقت مجھے یہ احساس ہو کہ میرا وجود اس زمین پر محض بوجھ تھا۔ بامقصد زندگی (Meaningful Life) کیا ہے؟ اس کے کئی اہم عناصر ہیں۔ ان میں سے ایک عنصروژن(Vision) ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنی زندگی کے اہداف ومقاصد متعین کریں۔ آپ یہ طے کریں کہ آپ کا خواب کیا ہے اور پھر اس کے لیے کمر کس لیں۔ خواب آپ کے مستقبل کی وہ روشن تصویر ہے جسے آپ زمانہ حال میں  اپنے چشمِ تصور سے دیکھتے ہیں اور اس کی جستجو کرتے ہیں۔ خواب وہ نہیں ہے جو آپ کو سونے کی حالت میں آئے، خواب وہ ہے جو آپ کو سونے نہ دے۔ وژن کا تعلق آنکھوں سے نہیں، دل سے ہے۔

“A Vision is the picture of the future that we want to see.”

آسمانوں پر نظر کرانجم ومہتاب دیکھ

صبح کی بنیاد رکھنی  ہے تو پہلے خواب دیکھ

آپ کا وژن اور خواب آزاد (Independent)اور درست(Correct)ہونا چاہیے۔ اسی کو حکمت عملی پر مبنی وژن(Strategic Vision)کہتے ہیں۔ کچھ اہداف  تو وہ ہیں جو شریعت نے آپ کو دیے ہیں، لیکن ان سے ہٹ کر بھی  آپ کی زندگی کے اہداف اور وژن ہونا ضروری ہے۔ یہ ذہن میں رہے کہ   وژن کا ہونا اور اس کے لیے کوشش کرنا ضروری ہے، اس کا حصول اور کوشش کےنتیجہ کو پالینا ضروری نہیں ہے۔ یہ رب کے ہاتھ میں ہے، لیکن کوشش سے منزل مل ہی جاتی ہے۔

شوق سفر ایسا کہ اک عمر سے ہم نے

منزل بھی نہیں پائی، رستہ بھی نہیں بدلا

وژن کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ یہ آپ کو رُخ دیتا ہے۔ یہ راستے کے انتخاب میں آپ کی راہنمائی کرتا ہے۔ اگر آپ کا کوئی وژن نہیں ہے تو آپ زندگی کے سفر کے درست رُخ پر چل ہی نہیں سکتے۔ اس کے لیے ایک مختصر سے کہانی پڑھ لیجیے:

لیوس کیرول(Lewis Carrol)[1832-1898] مشہور انگریزی مصنف ہے۔ انہوں نے کہانیوں کی شکل میں ایسی کئی کتابیں لکھی ہیں جن میں بامقصد زندگی کے لیے کوئی نہ کوئی سبق ہوتا ہے۔ ان کی ایک کتاب ہے[Alice’s Adventure in Wonderland]۔ اس كتاب میں ایک بچی (ایلکس)، اس کا خرگوش اور ایک بلی ہوتی ہے۔ ایک دن یہ بچی چلتے ہوئے پھسل جاتی ہے اور کسی طلسماتی اور جادوئی دنیا میں جاپہنچتی ہے۔ طلسماتی دنیا میں چلتے چلتے آگے دو راستے نظر آتے ہیں۔ یہ بچی اپنی بلی سے پوچھتی ہے کہ مجھے کونسے راستے پر جاناچاہیے؟بلی جواب دیتی ہے کہ راستے کا انتخاب اس بات پر منحصر ہے کہ آپ کہاں جاناچاہتی ہے؟بچی نے جواب دیا کہ مجھے نہیں معلوم کہ مجھے کہاں جانا ہے۔ بلی نے کہا:جب آپ کو منزل کا علم نہیں ہے تو پھر آپ کوئی بھی راستہ اپنا لے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑےگا۔

ہماری زندگی بھی ایک سفر ہے۔ اگر اس سفرکا منزل ومقصد اور وژن معلوم نہ ہوتو ہمیشہ اس الجھن میں زندگی بے کار بیت جائیگی کہ کونسا راستہ اپناؤں اور کس رستے پر چلوں۔

اللھم اھدنا الصراط المستقیم

مزید دکھائیں

شادمحمد شاؔد

فاضل ومتخصص جامعہ دارالعلوم کراچی

متعلقہ

Close