شخصیت کا ارتقا

کھلا ہے جھوٹ کا بازار آؤ سچ بولیں

عبدالعزیز 
سچ بولنے کیلئے جرأت اور ہمت کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو شخص جرأت و ہمت نہیں رکھتا وہ سچ نہیں بول سکتا ہے۔ ہر شخص کی چاہت اور خواہش ہوتی ہے بلکہ مطالبہ ہوتا ہے کہ اس کا مخالف اس سے معاملہ کرنے والا جھوٹ نہ بولے، کیونکہ جھوٹ اس کیلئے خسارہ اور نقصان کا سبب ہوتا ہے اور جھوٹ اسے دوسروں کی نظروں سے گرا دیتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ جھوٹ بول کر اس کا کام نکل جائے گا، نکل بھی جاتا ہے۔ جو لوگ جھوٹے ہوتے ہیں ان کا جھوٹ طشت از بام ہوجاتا ہے تو اسے اپنے کئے کی سزا بھگتنی پڑتی ہے۔ جو لوگ جھوٹے ہوتے ہیں وہ اپنے بچوں کوبھی جھوٹ سکھاتے ہیں۔ مثلاً وہ گھر میں رہتے ہیں مگر اپنے بچے سے بہت آسانی سے کہہ دیتے ہیں کہ دروازے پر دستک دینے والے سے جاکر کہہ دو کہ ’’پاپا گھر میں نہیں ہیں‘‘۔ کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ بچہ اپنے باپ سے پوچھتا ہے کہ ’’آپ تو گھر میں ہیں؟‘‘ تو باپ کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہوتا۔ وہ بچے کو ڈانٹ دیتا ہے کہ جاؤ اپنا کام کرو۔ یہی بچہ جب باپ کی عادت کو سیکھ لیتا ہے اور باپ چاہتا ہے کہ بچہ سچ بولے تو بچہ سچ بولنے کو اپنے لئے نقصاندہ سمجھ لیتا ہے اور جھوٹ سے کام لیتا ہے۔ باپ کو بچہ پر غصہ آتا ہے مگر وہ اپنے کئے پر پچھتاتا نہیں کہ یہ اسی کا کیا دھرا ہے، جس کی وجہ سے بچہ سچا ہونے کے بجائے جھوٹا ہوگیا۔ خود تو دوسروں کی نظروں میں گر گیا، بچے کو بھی اپنی طرح دوسروں کی نظروں میں گرادیا۔
ایسی بہت سی کہانیاں اور حکایتیں بیان کی گئی ہیں جن سے جھوٹے کو بہت ہی نقصان پہنچتا ہے۔ ایک کہانی بہت ہی مشہور ہے کہ بکریوں کا ایک چرواہا گاؤں کے لوگوں کو ایک بار نہیں دو بار جھوٹ موٹ پکارا کہ ’بھیڑیا، بھیڑیا آگیا ہے بچاؤ، بچاؤ‘۔ گاؤں کے لوگ وہاں دوڑے دوڑے آئے مگر دیکھاکہ بھیڑیا کا کوئی نام و نشان نہیں تو چرواہے کو ڈانٹ پھٹکار لگاکر چلے گئے۔ دوسری بار پھر چراوہے کو مذاق سوجھا اور وہ پھر مزا لینے کیلئے جھوٹ کا وہی عمل دہرایا۔ گاؤں والوں نے آکر پھر اسے لعنت وملامت کی اور واپس چلے گئے۔ تیسری بار ایسا ہوا کہ سچ مچ بھیڑیا آگیا اور چرواہا چلاتا رہا مگر گاؤں کا ایک شخص بھی اس کی پکار پر اعتبار نہیں کیا جس کی وجہ سے کوئی آیا ہی نہیں۔ بھیڑیا اس کی کئی بکریوں کو کھا گیا اور کئی بکریوں کو ساتھ لے گیا۔اس طرح اس جھوٹے کو اپنے کئے کی سزا مل گئی۔ وہ بیحد شرمندہ ہوا اور سوچنے لگا کہ جھوٹ اسے کہیں کا نہیں رکھا۔ کئی بکریوں سے بھی محروم ہوگیا اور گاؤں والوں کی نظروں سے بھی گرگیا۔
جھوٹے کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ایک جھوٹ کو چھپانے کیلئے اسے سو جھوٹ بولنا پڑتا ہے۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ’’دروغ گو حافظہ نباشد‘‘(جھوٹوں کا حافظہ نہیں ہوتا)۔ سچ کے تو بہت فائدے گنائے گئے ہیں اور سچی حکایتیں بھی بیان کی گئی ہیں۔ حضرت عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا واقعہ بہت مشہور ہے کہ جب ڈاکؤں کے ایک گروہ نے انھیں راستہ میں پکڑا اور ان کی تلاشی لینے لگا تو ڈاکوؤں کے پوچھنے پر انھوں نے صاف صاف بتایا کہ ان کے پاس چھ اشرفیاں ہیں جو ان کی ماں نے دے رکھی ہیں۔ ڈاکوؤں کو عجیب سا لگا کہ لڑکے نے جھوٹ سے کام نہیں لیا۔ اشرفیاں تو اس کی ماں نے جسم میں ایسی جگہ باندھ دی تھیں کہ شاید وہ ڈاکوؤں کے ہاتھ نہیں لگتیں۔ ڈاکو انھیں اپنے سردار کے پاس لے گئے اور سارا ماجرا سنایا۔ یہ سن کر ڈاکوؤں کا سردار حیرت میں ڈوب گیا اور سوچنے لگا کہ ایک وہ ہے جو ڈکیتی سے کام لیتا ہے، جھوٹ کو اپنا پیشہ بنالیا ہے اور ایک یہ لڑکا ہے کہ جس نے اپنی چیز کو آسانی سے ہم جیسے ڈاکوؤں کے حوالے کر دیا۔ اس نے لڑکے سے پوچھا کہ تم نے ایسا کیوں کیا؟ تم جھوٹ سے کام لیتے تو شاید تمہاری اشرفیاں تمہارے پاس ہی رہتیں اور تم نقصان اٹھانے سے بچ جاتے۔
لڑکے نے کہاکہ میری ماں نے چلتے وقت نصیحت کی ہے کہ جھوٹ کبھی نہیں بولنا، سچ ہی بولنا، اس لئے میں نے سچ بولا اور جھوٹ سے کام نہیں لیا۔
ڈاکوؤں کا سردار اس قدر شرمسار ہوا کہ اس نے ڈکیتی نہ جیسے جرم اور عادت کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے چھوڑ دینے کا فیصلہ کرلیا۔ اس نے چھ اشرفیوں کو لڑکے کے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہاکہ تمہاری ماں نے ایسی چیز سکھائی ہے کہ تم فائدہ میں رہوگے، کبھی بھی تمہیں نقصان نہیں ہوگا۔ دیکھا آپ نے! سچ نے ایک ڈکیت کو اس قدر بدل دیا کہ اب وہ سچائی کی نصیحت کرنے لگا اور اس نے اپنی زندگی کا رخ بدل لیا۔
امام حمید الدین فراہیؒ جید عالم دین اور فلسفی گزرے ہیں۔ وہ مولانا شبلیؒ کے ماموں زاد بھائی تھے۔ انھوں نے قرآن مجید کی تفسیر عربی میں لکھی ہے تاکہ ہر ملک کے علماء اسے پڑھ سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر علماء کی اصلاح ہوگئی اور قرآن کو اچھی طرح سمجھ سکے تو پھر عوام کی اصلاح آسان ہوجائے گی۔
امام محترم کے شاگرد رشید مولانا امین احسن اصلاحی اپنے استادِ محترم کی سچائی اور صبر کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ’’سچائی اور صبر کی عادت مولانا میں ابتدا سے نہایت پختہ تھی ۔ سختیوں اور تکلیفوں کو برداشت کرنے اور ہر موقع پر سچ بولنے میں انھوں نے اس وقت بھی کوئی کمزوری نہیں دکھائی جب وہ ذہنی اور علمی اعتبار سے ابھی خام تھے۔ وہ فرمایا کرتے تھے کہ جن مواقع پر لوگ جھوٹ بول دینے میں کوئی ہرج نہیں سمجھتے میں ان مواقع پر بھی ہمیشہ سچ ہی بولنے کی کوشش کرتا تھا اور میرا ابتدا سے تجربہ ہے کہ سچ بولنے والا کبھی خسارہ میں نہیں رہتا۔ ایک مرتبہ انھوں نے اپنا ایک دلچسپ واقعہ بھی سنایا۔ فرماتے تھے کہ جب میں مولانا فیض الحسن مرحوم سے ادب کی تحصیل کیلئے لاہور روانہ ہونے لگا اور والدہ سے رخصت ہوکر زنان خانہ سے باہر نکلا تو دروازہ پر والد نے پوچھا کہ ’’بیٹے تمہاری والدہ نے تم کو کتنے روپئے دیئے؟‘‘ مولانا نے فرمایا کہ والد کے اس سوال پر خیال کیا کہ اگر میں نے والد کو والدہ کی دی ہوئی رقم ٹھیک ٹھیک بتادی تو ممکن ہے والد جو کچھ دینے والے ہیں اس میں کمی کر دیں، لیکن مجھے جھوٹ بھی نہیں بولنا تھا، اس وجہ سے میں نے صاف صاف کہہ دیا کہ ’’میں نہیں بتاؤں گا‘‘۔ مولانا فرماتے تھے کہ والد میرے اس بے ساختہ جواب سے نہایت خوش ہوئے اور نہایت محبت سے فرمایا کہ ’حمید جھوٹ نہیں بول سکتا‘ اور خوش ہوکر میری توقع سے زیادہ مجھے روپئے دیئے‘‘۔
دیکھا آپ نے سچ کا نتیجہ کتنا اچھا اور بہتر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن مجید میں سچائی کی تعلیم دی ہے۔ سچائی کو سیدھا راستہ بتایا ہے۔ سیدھے راستہ پر چلنے والے کو انعام دنیا میں بھی اور آخرت میں دینے کا وعدہ کیا ہے۔ سچ بولنے والے کو گروہِ انسانیت کا سرسبز گلدستہ بتایا ہے۔انعام یافتہ جماعت سے تعبیر کیا ہے جس میں انبیاء، صدیق، شہداء اور صالحین جیسی عظیم المرتبت شخصیتیں شامل ہیں۔
جھوٹوں کی جماعت اللہ کے غضب کا شکار ہوتی ہے۔ منعم علیہ جماعت سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ جھوٹوں کی جماعت کا ٹھکانا دوزخ بتایا ہے جبکہ سچوں کی جماعت کو جنت میں جگہ دینے کا وعدہ کیا ہے۔ ایک طرح سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ جھوٹا دوزخی ہوتا ہے اور سچا جنتی۔
آج مسلمانوں میں بھی پہلے کے مقابلے میں جھوٹ بولنے کی عادت عام ہوگئی ہے۔ جب مسلمان جھوٹ کو زہر ہلاہل سمجھتا تھا تو جھوٹ کے کنارے بھی جانا گوارا نہیں کرتا ہے۔ وہ دنیا والوں کیلئے معزز اور باعزت تھا مگر آج مسلمان جھوٹ کی لعنت میں ایسا مبتلا ہوگیا ہے کہ جو لوگ مسلمانوں میں سچ بولتے ہیں غیر ان پر بھی مشکل سے اعتبار کرتے ہیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سوال کے جواب میں فرمایا ہے کہ مسلمان میں بزدلی اور دوسری کمزوریاں ہوسکتی ہیں مگر وہ جھوٹا نہیں ہوسکتا۔ اس کیلئے آپؐ نے قسم بھی کھائی تاکہ یہ بات اچھی طرح سے واضح ہوجائے کہ مسلمان جھوٹا نہیں ہوتا۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے منافق کی چار علامتیں بیان کی ہیں۔ ان میں سے پہلی علامت ہے جھوٹ۔ منافق کی پہلی علامت بتاتے ہوئے فرمایا ہے کہ جب وہ بولتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے۔ وعدہ خلافی، خیانت اور گالی گلوچ کو بھی منافق کی علامتیں بیان کی گئی ہیں جس میں یہ چاروں علامتیں ہوتی ہیں اسے اللہ کے رسولؐ نے خالص منافق بتایا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جھوٹ بولنے والوں میں آہستہ آہستہ تینوں خصلتیں پیدا ہوجاتی ہیں اور اسے مکمل منافق بنا دیتی ہیں۔ منافق سب کچھ ہوسکتا ہے مگر مسلمان نہیں ہوسکتا۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب مقدس میں فرمایا ہے کہ ’’کیوں وہ بات کہتے ہو جو کرتے نہیں۔ اللہ کے نزدیک سخت ناپسندیدہ حرکت ہے کہ تم کہو وہ بات جو کرتے نہیں‘‘۔ (سورہ صف:3-4)
جھوٹ کی حقیقت کو جو اچھی طرح جان لے گا وہ جھوٹ جیسی قبیح اور زہریلی چیز کو کبھی بھی نہیں اپنائے گا اور سچ کی حقیقت کو جو اچھی طرح سے جان اور پہچان لے گا وہ کبھی سچ کے سوا جھوٹ نہیں بولے گا۔ آج ہر طرف جھوٹ کا بازار گرم ہے۔ آدمی بازار میں جھوٹ بولنا پسند کرتا ہے کیونکہ وہ سوچتا ہے کہ سب تو جھوٹ کے خریدار ہیں، سچ بولنے سے بھلا نہ ہوگا لیکن ایسے وقت جب انسانیت کی قدروں پر سکوت چھایا ہو تو سچ کے اظہار کی قیمت پہلے سے کہیں بڑھ جاتی ہے۔ ایسے وقت میں تو یہی کہنا چاہئے ؂
ہمیں گواہ بنایا ہے وقت نے ۔۔۔ بنام عظمت کردار، آؤ سچ بولیں
تاکہ کوئی کہہ نہ سکے ؂
تمام شہر میں ایک بھی منصور نہیں ۔۔۔ کہیں گے کیا دار و رسن، آؤ سچ بولیں
’’قافلۂ حجاز میں ایک بھی حسین نہیں ‘‘
راقم کو یاد آتا ہے کہ یہ بہت دنوں کی بات نہیں ہے۔ بابری مسجد کا انہدام نہیں ہوا تھا۔ میں ٹرین کے ذریعہ اپنے گاؤں جارہا تھا کہ اکبر پور اسٹیشن پر گاڑی دیر سے پہنچی اور اکبر پور ہی میں مجھے رکنا پڑا۔ جس کے گھر میں میں ٹھہرا تھا ، رات کے وقت ایک اَسی سالہ ہندو آیا اور بات کے دوران کہنے لگا کہ جب ہم ہندوؤں میں جھگڑا ہوتا تھا تو ہم لوگ میاں (مسلمان) کے گھر کی دیوار اور دروازے کو اتنا مقدس سمجھتے تھے کہ میاں کے دیوار یا دروازے پر ہاتھ رکھ کر قسمیں کھاتے تھے کہ ’ہم‘ یا ’میں‘ جھوٹ نہیں بول رہا ہوں۔ اسی واقعہ کے دو چار سال بعد بابری مسجد منہدم کر دی گئی۔ ایک زمانہ تھا کہ مسلمانوں کے گھر ہندو بھائیوں کیلئے اتنے مقدس تھے کہ ہندو اسے اپنے مندروں سے بھی زیادہ پَوتر سمجھتے تھے لیکن آج صورت حال یہ ہے کہ ہماری مسجدیں بھی ان کی نگاہ میں پوتر یا مقدس نہیں ہیں۔جھوٹ نے ہمیں یہاں تک پہنچا دیا ہے کہ ہم پر غیروں کا بالکل اعتبار جاتا رہا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close