خصوصیشخصیت کا ارتقا

کیا ضروری ہے کہ…

  ڈاکٹر شکیل احمد خان

انیسویں صدی کی آخری دہائیوں میں امریکہ میں افریقی نژاد کالے لوگوں سے نسلی امتیاز اور تعصب عروج پر تھا۔ یہاں تک کے تعلیمی اداروں کے دروازے بھی ان پر بند تھے۔ اور اس دور میں ایک کالے نوجوان کو تعلیم حاصل کرنے کا جنون تھا۔ جب اسے پتہ چلا کے ایک یونیورسٹی میں کالے لوگوں کو داخلہ دیا جاتا ہے تو وہ چار سو میل کا فاصلہ طے کر کے وہاں پہنچا۔ مگر ستم ظریفی دیکھیے کہ یونیورسٹی میں داخلے مکمل ہو چکے تھے اور اُسے داخلہ نہیں مل سکتا تھا۔ لیکن اسے یونیورسٹی میں جھاڑو مارنے، پونچھا لگانے اور بستروں کو صاف کر کے بچھانے کے کام کی پیشکش کی گئی۔ جسے اُس نوجوان نے قبول کیا۔ لیکن اس نوجوان نے جھاڑو پونچھے اور بستروں کی صفائی کا کام اس احسن طریقہ سے انجام دینا شروع کیا کہ بہت جلد اسے یونیورسٹی میں داخلہ دے دیا گیا۔ اس نوجوان نے نہایت کم وقت میں بھر پور توجہ اور لگن سے تعلیم حاصل کی اور امریکہ کے قابل ترین لوگوں میں شمار کیا جانے لگا۔ بعد ازاں یہی نوجوان Taskegeeیونیورسٹی کا پرنسپل بنا یا گیا اور ساری دنیا میں عزت کی نگاہوں سے دیکھا جانے لگا۔ ان نوجوان کا نام تھا بوکر۔ ٹی۔ واشنگٹن۔ بوکر کی اس جدوجہد اور کامیابی کی داستان میں ایک اہم سماجی حقیقت بھی پوشیدہ ہے۔

دراصل ہم کیا کام کرتے ہے اس کی اہمیت نہیں ہے بلکہ اہمیت اس بات کی ہے کہ یہ کام ہم کس طریقے سے کرتے ہیں۔ ایمانداری اور مہارت  Excellance   ہمصر دنیا میں بقا کی کلید ہے۔ مزید براں ایمانداری اور بحسن و خوبی انجام دیا جانے والاکام سرد مہری اور تعصب کی دیواروں کو توڑنے میں بھی کارگر ثابت ہوسکتا ہے۔ بوکر سفید فام لوگوں کے کھیت میں کام کر نے والی افریقی غلام خاتون کے بطن سے جنم لیا تھااور انھیں اپنے والد کا نام بھی نہیں معلوم تھاکیونکہ وہ غلاموں کے ساتھ کی جانے والی جنسی  زیادتیوں کے نتیجے میں پیدا ہوئے تھے۔ لیکن جہد مسلسل، لگن اورحسن کارکردگی کے باعث شدید غریبی، نامساعد حالات کو بھی شکست دے کر بوکر نے  وہ مقام حاصل کیا کہ آج دنیا انھیں ایک عظیم رہنما، ادیب، ماہر تعلیم اور امریکی صدر کے مشیر کے طور پر یاد کرتی ہے۔

اکثر لوگ یہ بھی سوچتے ہیں کہ بوکر اور اس طرح کے دیگر چند افراد استہثنائی مثال کی حیثیت رکھتے ہیں۔  لیکن اس ضمن میں یہ بات  پیش نظر رہے کہ یہ استہثنائی واقعات بھی اسی دنیا میں تو واقع ہوئے ہیں۔  دراصل عمل اور رد عمل  کی اس مادی دنیا میں کامیابی  اور ترقی  کا اپنا ایک مخصوص نظام، طریقہ اور اصول ہے جو نہ تو آپ کے رنگ و روپ  یا جنس سے جڑا ہے یا آپ اعتقادات  سے۔ جو بھی ان اصولوں کو اپناے گا، کامیابی اس کے قدموں میں ہو گی۔ یہ نظام کونسا ہے ؟  یہ اصول کیا ہے؟ نہایت مختصر انداز میں بتانا ہو تو علامہ اقبال کا یہ مصرع کافی ہے:

یقیں محکم، عمل پیہم ، محبت فاتح عالم

   یقین اور اعتماد کامیابی کی روح ہے۔ مشہور ترین امریکی اداکار  ول ا سمیتھ کے الفاظ میں :  کامیابی کا سب سے پہلا قدم یہ ہے کہ آپ کہیں،  ہاں  میں یہ کر سکتا ہوں۔   مشہور یونانی ادیب نکوس کزانٹزاکس  ( 1883-1957) کے مطابق :’’ کامیابی کے لیے سب سے پہلے ہمیں یہ یقین کرنا چاہیے کہ ہم کامیاب ہو سکتے ہیں‘‘۔  ولیم جیمس  (1842-1910)کو  جدید علم فلسفہ و نفسیات کا باوا آدم مانا جاتا ہے۔ ان کا ایک قول بہت مشہور ہے کہ: ’’کسی مشکل کام کی تکمیل پر جو چیز سب سے زیادہ  اثرانداز ہوتی ہے  وہ کام کو شروع کرنے سے پہلے   اس کام کے تیں ہمارا رویہ  و  انداز فکر ہوتا ہے‘‘۔ مزید براں اس اعتماد کے ساتھ ساتھ عمل پیہم بھی لازمی ہے۔ یہ   کاز اینڈ ایفیکٹ  کی دنیا ہے ۔ صرف اعتماد  اورٖ  خواہش سے تصور میں تو پھول کھِل سکتے ہیں زمین پر نہیں۔ جہد ِ مسلسل اور استقلال کامیابی کے لئے جزوِ لا ینفک ہیں۔ نیپولین ہل (1883-1970) امریکا کے مشہور ترین ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں جب کی کتابیں کروڑوں کی تعداد میں فروخت ہوتی ہیں۔ انھوں نے ایک جگہ لکھا ہے کہ : ’’کچھ لوگ کامیابی کے صرف سپنے دیکھتے رہتے ہیں جبکہ اس دوران دیگر افراد جاگ پڑتے ہیں اور اسکے لئے سخت محنت کرتے ہیں‘‘۔

مشہور یورپی ایسی لاڈور نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ : ’’میں نے کامیابی کے صرف سپنے کبھی نہیں دیکھے، بلکہ انکے لئے کام کیا۔‘‘ بدقسمتی سے ہمارا قومی مزاج سپنے دیکھنے اور تقریریں کرنے اور سننے کا زیادہ ہے۔ اور جدوجہد کا نہایت کم۔ اگر ہم جہدوجہد شروع بھی کرتے ہیں تو جلد ہی تھک کر نا امید بھی ہوجاتے ہیں۔ جب کہ اعتماد کے ساتھ انتھک و طویل جدوجہد کامیابی کے لئے لازمی ہے۔ ہمارے اکثر نوجوان فوری کامیابی کے خواہ ہوتے ہیں اور اسی لئے بہت جلد حوصلہ ہار بیٹھتے ہیں  یہ رویہ اس  دنیا کے نظام سے میل نہیں کھاتا۔

مشہور سائنسداں تھامس ایڈیسن نے کہا تھا کہ:  ’’زندگی میں ناکام اکثر لوگ وہ ہوتے ہیں جنھیں اس بات کا اندازہ نہیں ہوتا ہے کہ جس وقت انھوں نے حوصلہ ہار دیاتھا وہ کامیابی کے کتنے قریب تھے‘‘۔ پس بوکرٹی واشنگٹن کی کامیابی کو ہم  محض اتفاق یا استسنائی مثال نہ سمجھیں بلکہ یوں سوچیں کہ  جو بات بوکر کے ساتھ پیش آسکتی ہے وہ میرے ساتھ کیو ں نہیں پیش آسکتی۔ آئیے ہم بھی  اخلاق وکردار، حسن کارکردگی کے ساتھ ساتھ وہ یقین و اعتماد پیدا کریں  جسکااظہار مرزا  غالبؔنے اس شعر میں کیا تھا کہ:

کیا ضروری ہے کہ سب کو ملے ایک سا جواب

آئو نہ  ہم    بھی  سیر کریں کوہ  طور  کی!

مزید دکھائیں

ڈاکٹر شکیل احمد خان

اسوسیٹ پروفیسر، شبعہ انگریزی، انکوش راو ٹوپے کالج، جالنہ۔ ۸۳۰۸۲۱۹۸۰۴

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close