شخصیت کا ارتقا

ہماری سب سے اہم ضرورت (قسط 1)

سچائی، اخلاق عالیہ اور اخلاقی جرأت

تحریر: مولانا ابواللیث اصلاحی ندوی – ترتیب: عبدالعزیز
جدید تمدن نے ہم پر جہاں اور اثر ڈالے ہیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہم نے اجتماعی ترقی کے میدان کو طے کرنا شروع کر دیا ہے اور تغیر و انقلاب کے ایک نہایت اہم دور سے گزر رہے ہیں۔ ایسی حالت میں چند چیزیں ہمارے لئے نہایت اہم اور ضروری ہیں۔
جن اسباب و عوامل نے موجود تمدن کو پیدا کیا ہے، ان میں سے اکثر ایسے ہیں جن کی ہمیں ضرورت ہے اور جن سے وہ قومیں کسی حال میں مسغنٰی نہیں ہوسکتیں جو ہماری حالت سے گزر رہی ہوں۔ مثلاً تعلیم کو ترقی دینا، اجتماعی حالت کی اصلاح کرنا اور اقتصادی مشکلات کو رفع کرنا وغیرہ وغیرہ، لیکن عوامل ارتقاء میں سب سے زیادہ اہم ان اخلاقی خوبیوں کو اختیار کرنا ہے جن پر قوموں کے عروج و ارتقاء کا دار و مدار ہے۔
اخلاقِ عالیہ: قوموں کے عروج و ارتقاء کا اندازہ سب سے پہلے اخلاق سے کیا جاتا ہے۔ دنیا کی ہر قوم اخلاق کی بدولت عروج و انحطاط، عزت و ذلت اور سیادت و محکومی کے منازل طے کرتی ہے۔ عروج و انحطاط کا دار و مدار تمام تر اخلاق کی بلندی و پستی پر ہے نہ کہ علوم و فنون اور دولت و ثروت کی قلت و کثرت پر۔ گزشتہ اور موجودہ قوموں کی تاریخ پڑھ جاؤ، تم دیکھو گے کہ وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو اعلیٰ اخلاق کی مالک ہوتی ہیں۔ رومیوں نے جس وقت میدان ترقی میں قدم رکھا ہے ان کے پاس علم و فن کا سرمایہ نہ تھا، دولت و ثروت کی کثرت نہ تھی، نہایت جاہل، وحشی اور تنگ حال تھے لیکن چونکہ ان میں حکومت اور سیادت کے اخلاقی جوہر موجود تھے اس لئے تھوڑے ہی زمانہ کے اندر بحر متوسط کے ارد گرد کے تمام متمدن ممالک کو فتح کرلیا اور اپنی ایک نہایت زبردست حکومت قائم کرلی۔ جن قوموں کو رومیوں نے محکوم بنایا تھا وہ مال و دولت میں ان سے کم نہیں تھیں اور نہ علوم و فنون میں ان کا درجہ ان سے فرو تر تھا بلکہ ان میں بعض قومیں تو ایی تھیں جو علم و فلسفہ میں اپنا جواب نہیں رکھتی تھیں، مثلاً یونان ہمیشہ سے علوم و فنون کا سر چشمہ رہا ہے اور جس کے باشندے فلسفہ وغیرہ میں اپنا جواب نہیں رکھتے تھے لیکن چونکہ ان کے اخلاق زنگ آلود ہوچکے تھے اور وہ تمام صفتیں ان سے ایک ایک کرکے رخصت ہوچکی تھیں جن کے بغیر کوئی قوم دنیا میں عزت کے ساتھ زندہ نہیں رہ سکتی اور اس کے برعکس ان کے حریف شجاعت، بسالت، استقلال، اتحاد اور دوسرے اوصاف کمال سے متصف تھے، اس لئے یہ قومیں ان کے مقابلہ کی تاب نہ لاسکیں۔
اسلام کے ابتدائی دور میں عرب اپنے بے آب و گیاہ جزیرہ سے آندھی کی طرح اٹھے اور تمام عالم پر چھاگئے، حالانکہ وہ اس وقت علم و فن سے بے بہرہ اور دولت و ثروت سے بالکل محروم تھے۔ ہاں؛ ان میں ایک خصوصیت یہ تھی اور وہ یہ کہ وہ مروت، فیاضی، ایثار، استقلال، عزم، بہادری اور قربانی وغیرہ اوصاف کے مالک تھے۔ انہی اوصاف کی بنا پر انھوں نے ان رومیوں کو شکست دے دی، جن کے آباء و اجداد نے کسی زمانہ میں بڑی بڑی حکومتوں کا تختہ الٹ کر فاتحین کا لقب حاصل کیا تھا اور یہ اس حال میں ہوا جبکہ دولت، علم، فلسفہ، کثرت، جنگی سر و سامان ہر لحاظ سے عربوں کا درجہ رومیوں کے مقابلہ میں پست تھا۔ عربوں ہی پر جرمنوں کو بھی قیاس کرلو، جنھوں نے شمال کی جانب سے روما کی عظیم الشان سلطنت پر حملہ کیا تھا۔ عربوں کی طرح جو جانب جنوب سے حملہ آور ہوئے تھے، یہ لوگ بھی وحشی اور غیر مہذب تھے؛ لیکن اس کے باوجود انھوں نے رومی حکومت کی اینٹ سے اینٹ بجادی اور اسے مٹاکر اپنی ان حکومتوں کی بنیاد رکھی جو اب تک باقی ہیں اور جو اس زمانہ میں یورپ کی ترقی یافتہ حکومتیں سمجھی جاتی ہیں۔ ان حکومتوں میں سب سے زیادہ وسیع اور طاقت ور وہ حکومت ہے جو بعض اخلاقی خصوصیا میں سب پر فوقیت رکھتی ہے، یعنی انگریزوں کی حکومت۔ آج انگریز اپنی ان اخلاقی خصوصیات ہی کی بدولت ان بڑی بڑی قوموں پر حکومت کر رہے ہیں جو تعداد میں ان سے کہیں زیادہ ہیں اور ان میں بعض قومیں تو ایسی ہیں جو علم و دولت اور ذہانت و ذکاوت میں بھی انگریزوں پر فوقیت رکھتی ہیں۔
صِدق: سچائی تمام اخلاقی خوبیوں میں سردار کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ بہت سے بہترین خصائل اسی سے پیدا ہوتے ہیں، اسی لئے مشہور ہے کہ ’’اپنے بچوں کو سچائی سکھاؤ، وہ خود انھیں دوسری نیکیاں سکھا دے گی‘‘۔ اس کے ہم معنی ایک حدیث نبویؐ بھی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک آدمی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر ایمان لایا اور عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے صرف ظاہری گناہوں کا مواخذہ ہوگا، حالانکہ میں خفیہ طور پر چار بری باتوں کا ارتکاب کرتا ہوں، زنا، چوری، شراب نوشی اور جھوٹ۔ آپ ان میں سے جسے فرمائیں میں چھوڑ دوں‘‘۔ آپؐ نے فرمایا: جھوٹ بولنا چھوڑ دو۔ وہ وہاں سے لوٹا تو ایک بار زنا کا ارادہ کیا، لیکن معاً اسے خیال آیا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے دریافت کریں گے، اگر میں انکار کردوں گا تو یہ عہد کے خلاف ہوگا۔ اگر اقرار کروں گا تو مجھ پر حد جاری ہوگی۔اس لئے اس نے زنا کا ارادہ ترک کر دیا۔ پھر اس نے باری باری چوری اور شراب نوشی کا ارادہ کیا، لیکن اسی خیال نے اسے ان دونوں فعلوں سے باز رکھا۔ کچھ دنوں بعد وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ خبر دی کہ ’’میں تمام برائیوں سے باز آگیا‘‘۔
غرض سچائی بہت سے صفات حمیدہ کی جامع ہے۔ اب ہم یہاں ان اخلاقی خوبیوں کا تذکرہ کرتے ہیں جو صدق سے نکلتی ہے، ان میں زیادہ اہم یہ ہیں: اخلاقی جرأت، غلطی کا اعترف، امانت، وفا، احساس فرض، حقیقت پرستی اور کام میں شتابی کرنا۔
الف۔ اخلاقی جرأت: اس صفت کا قوام جرأت اور صاف گوئی ہے، یعنی یہ کہ انسان بغیر کسی خوف اور پروا کے اپنی رائے کا اظہار کر دے۔ غالباً اس سے کسی کو انکار کی جرأت نہ ہوگی کہ اظہار رائے میں تمام قوموں سے زیادہ بودے ہم ہیں۔ ہم میں کون ایسا ہے جس کی رائے کسی مسئلہ میں دریافت کی جائے اور وہ مخاطب کی رعایت کئے بغیر صاف صاف اس کا اظہار کر دے؟ بڑے اور اہم مسائل کو تو چھوڑ دو، وہ روز مرہ کے مسائل جو اخبارات میں آتے رہتے ہیں ان کے متعلق بھی جب تم کسی کی رائے پڑھوگے تو ضرور اس میں رعایت اور پاس داری کی بو آئے گی۔ اس سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ ایسے بھی ملتے ہیں جو ایک ہی مسئلہ کے متعلق دو متضاد رائیں رکھتے ہیں اور اپنی مصلحت کا لحاظ کرتے ہوئے دو مختلف حالات میں ان کا اظہار کرتے ہیں۔
اخلاقی جرأت میں یہ بات بھی داخل ہے کہ جب تحریر یا تقریر کے ذریعہ عوام کی رہبری اور نصیحت کی خدمت انجام دی جائے تو صحیح اور ٹھیک باتوں کا ان کے جذبات و خیالات یا عادات و اطوار کا لحاط کئے بغیر اظہار کر دیا جائے۔ ارشاد و نصیحت کے موقع پر اخلاص کا پابند رہنا بہت بڑی جواں مردی ہے۔ اس صفت کے بعد دوسرے اوصاف کی چنداں ضرورت باقی نہیں رہتی۔ غور کرو ہمارے رہنماؤں میں بھی یہ صفت پائی جاتی ہے؟ کیا تمہارے دوستوں میں ایک شخص بھی ایسا ملے گا کہ تم کسی اہم معاملہ میں اس کا مشورہ طلب کرو اور یہ یقین رکھو کہ وہ رعایت و پاس داری کے بغیر اپنا مشورہ پیش کر دے گا؟ کیا تما دیکھتے نہیں کہ بہت سے لوگ محض لوگوں کی ناخوشی کے ڈر سے اپنی رائے ظاہر کرنے سے گریز کرتے ہیں اور مختلف قسم کے حیلے بہانے کرکے اپنا پیچھا چھڑا لیتے ہیں اور بسا اوقات تو تمہیں خوش کرنے کیلئے اپنی اصلی رائے کے خلاف رائے ظاہر کرتے ہیں۔ یہ خرابی ہمارے اندر اس لئے عام ہوگئی ہے کہ ہماری مشرقی تہذیب میں یہ کچھ ضروری سا سمجھ لیا گیا ہے کہ جس طرح بھی ہوسکے ’’ہم نشیں کو ہر حال میں خوش رکھنا ضروری ہے‘‘ حالانکہ اگر ہم غور کریں تو اس کا فائدہ اور خوشی اسی میں ہے کہ ہم اپنی صحیح رائے ظاہر کر دیں۔ اگر بالفرض اس کے متعلق تمہارا خیال ایسا ہو جو اسے برا لگے تو ہمارا عذر واضح ہے کہ ہم نے خلوص کی بنا پر جو حق سمجھا اس کا اظہار کر دیا۔ عموماً دیکھا جاتا ہے کہ یہ ناخوشی زیادہ دیرپا نہیں ہوتی اور جب اسے رائے دینے والے کے خلوص کا یقین ہوجاتا ہے تو اس کا غم و غصہ محبت اور خوشی سے بدل جاتا ہے۔ بہر حال ایک سچے انسان کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنی رائے اخلاص اور صفائی کے ساتھ پیش کر دے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو گویا وہ جھوٹ اس لئے نہیں بولتا کہ جھوٹ بولنے کی اسے خواہش ہے یا اس سے اسے کسی نفع کی توقع ہے؛ بلکہ اسے محض یہ شرم و دامن گیر ہے کہ کہیں اس کی بات کی مخاطب کو ناگوار نہ گزرے، حالانکہ یہ بہت بڑی بزدلی ہے۔ عموماً ایسا ہوتا ہے کہ جب کوئی شخص کسی بڑے آدمی کے پاس اپنی درخواست لے کر جاتا ہے تو بغیر سوچے سمجھے اس کا کام نکال دینے کا وعدہ کرتا ہے، لیکن بعد کو اس کی ذمہ داری محسوس نہیں کرتا اور برابر اسے ٹالتا رہتا ہے یا تو اس لئے کہ وہ اس کی درخواست پوری کرنا نہیں چاہتا یا اس لئے کہ اس کی قدرت نہیں رکھتا، حالانکہ اگر وہ پہلے ہی صاف صاف جواب دے دیتا تو اس میں اس کا کوئی نقصان نہ تھا۔
اصل یہ ہے کہ یہ مرض ہم لوگوں میں پوری طرح جڑ پکڑ گیا ہے۔ اس کا سبب محض اخلاقی جرأت کا فقدان ہے۔
ب۔ غلطی کا اعتراف: غلطی کا اعتراف، ترقی اور علو کی بہت بڑی علامت ہے۔ یہ صفت انہی لوگوں میں پائی جاتی ہے جو صحیح معنوں میں اپنے اخلاق و کردار کے اعتبار سے بہت بلند پایہ ہوتے ہیں۔ مثل مشہور ہے کہ ’’غلطی کا اعتراف، صواب اور عجز کا اقرار قوت ہے‘‘۔ اس شخص سے زیادہ جھوٹا اور ذلیل کون ہوسکتا ہے، جو اپنی غلطی کو پہچانتا ہے لیکن پھر بھی ہٹ دھرمی کرکے اس پر پردہ ڈالنا چاہتا ہے۔ وہ اپنے نفس کو دھوکہ دیتا ہے۔ بے عیبی میں خدا کا شریک بن جاتا چاہتا ہے۔ اس زمانہ کی تمام ترقی یافتہ قومیں اپنے بچوں کو بچپن ہی سے قصوں اور کہانیوں کے ذریعہ اعتراف خطاکا خوگر بنانا چاہتی ہیں اور غالباً انگریز اس بارے میں تمام قوموں سے آگے ہیں۔ ان کی ابتدائی مدارس میں جو کتابیں پڑھائی جاتی ہیں انھیں اٹھاکر دیکھ لو، ان میں ایسے قصے بہت ملیں گے جنھیں پڑھنے سے یہ صفت بچوں کے دلوں میں راسخ ہوتی ہے۔ ان کے حکماء کی زبانوں پر ہمہ وقت اس صفت کی مدح میں اقوال جاری رہتے ہیں۔
ہم بھی اگر ان قوموں کی تقلید کرتے ہوئے اپنے بچوں میں یہ روح پیدا کرنے کی کوشش کریں تو یقیناًوہ جوان ہوکر اس کے اچھی طرح عادی ہوجائیں گے اور جب کوئی ان کے کسی کام یا عادت پر نکتہ چینی کرے گا تو اسے توجہ سے سنیں گے اور اس پر ٹھنڈے دل سے غور کریں گے۔ اگر اسے صحیح سمجھیں گے تو خفا اور رنجیدہ ہونے کے بجائے خوش ہوں گے۔ نکتہ چینی کرنے والے کا شکریہ ادا کریں گے اور پھر اپنی اصلاح کی کوشش کریں گے۔ اصلاح حال کا یہی ایک راستہ ہے۔ وہ نوجوان جو بلا تامل اپنی غلطیوں کا اعتراف کرلیتے ہیں، سمجھ لو کہ اس کا مستقبل نہایت روشن اور درخشاں ہے، لیکن وہ نوجوان جن کو عزت نفس کا خیال اعتراف خطا سے باز رکھتا ہے اور وہ ہٹ دھرمی کرکے اپنی غلطیوں کو چھپانا چاہتے ہیں، سمجھ لو کہ اس کا سدھرنا اور راہ راست پر آنا بہت دشوار ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close