شخصیت کا ارتقاکیریئر گائڈنس

ہم نے تو محنت نہیں کی، پر آپ ضرور کرنا

ڈاکٹر أبو معاذ ترابی

مدرسہ سے فارغ ہونے کے بعد  مزید تعلیم حاصل کرنے کی غرض دلی آنا ہوا،  ہم سے کچھ سالوں پہلے دلی و علیگڑھ آنے والےطلبا کی زبان پر نئے آنے والے طلبا کے لیے ایک  نصیحت عام تھی کہ ہم نے تو اپنا وقت سیر وتفریح، کھیل کود و گپ شپ میں ضائع کردیا ” ہم نے تو محنت نہیں کی، پر آپ ضرور کرنا” ہم سوچتے تھے خود تو عیش کیے اور ہمیں نصیحت کررہے ہیں۔ ویسے بھی ناکام انسان کی نصیحت خواہ کتنی بیش قیمت ہو کون سنتا و عمل کرتا ہے۔

سندیپ سنگھ جے این یو میں میرے پہلے  روم پارٹنر تھے۔ جے این یو میں فارغین مدارس کی اچھی تعداد تھی، زبان و بیان، رہن سہن، طور طریقے میں فرق کی وجہ سے مدارس کے فارغین غیر مسلم طلبا کے ساتھ ایک کمرہ میں رہنا اتنا پسند نہی کرتے تھے۔ مدارس کا ایک اہم مقصد دعوت دین کے لیے افراد سازی ہے اور ہندوستان میں غیر مسلمین کی اکثریت بھی ہے پھر بھی مدارس کی تعلیم و تربیت میں غیر مسلمین سے رابطہ بنانے کی ضرورت و اہمیت پر کوئی توجہ نہ ہونے کی وجہ سے فارغین مدارس ‌ایسی صورتحال و مواقع سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں سوچ بھی نہی سکتے۔  لہذا بلا مقصد غیر مسلم طلبا کے ساتھ انکا نہ رہنا فطری امر تھا۔ خیر مدارس بھی دینی و دنیاوی تعلیم کے درمیان امتزاج پیدا کرنے میں ایسا الجھے ہیں کہ نہ خدا ہی مل پارہا ہے اور نہ وصال صنم۔

 سندیپ سنگھ میرے روم پارٹنر ہیں مجھے جب معلوم ہو تو اچھا نہی لگا، کوشش بھی کیا کہ کمرہ بدل جائے، ناکامی ہاتھ لگی۔ لیکن چند ہی دنوں میں اندازہ ہو گیا کہ سندیپ مہذب، سادہ لوح اور انتہائی شریف ہے۔ سندیپ کا تعلق بنارس کے قریب کسی گاؤں سے تھا۔ گھر کی مالی حالت اچھی نہی تھی، چھوٹی موٹی کھیتی کے علاوہ کوئی سہارا نہی تھا۔ سندیپ نے بنارس ہندو یونیورسٹی سے گریجویشن کیا تھا، یہاں بایو ٹکنالوجی میں اسی سال پوسٹ گریجویشن میں داخلہ ہوا تھا، لہذا ہم دونوں یونیورسٹی میں نئے تھے، سندیپ کی اب تک کی تعلیم ہندی میڈیم سے ہوئی تھی اس لیے انگریزی بہت کمزور تھی، اور ہم تو مدرسہ سے گئے تھے، مدرسہ کی تعلیم بھی گاؤں میں رہتے ہوۓ حاصل کی تھی تو ہماری انگریزی کے کیا کہنے، ہمارے پاس تو ا‌نگریزی نہ جاننے کی سند ہی تھی۔ مشترک کمزوری کی وجہ سے جلدی دوستی ہوگئی۔

سندیپ شدھ ہندی بولتے تھے ہم تو کسی طرح سیاق و سباق سے انکی بات سمجھ بھی جاتے تھے لیکن ہماری زبان سے نکلنے والے اردو کے الفاظ سندیپ کے سر سے گذر جاتے تھے۔سندیپ کو اردو الفاظ کی اتنی سمجھ تھی کہ ایک روز ہاسٹل کے لینڈ لائن پر ہمارے ابو کا فون آیا میں کمرے پر نہی تھا، سندیپ ریسیو کرنے چلے گئے، میں جب آیا تو سندیپ نے بتایا کہ آپ کے کسی جاننے والے کا فون آیا تھا اپنا نام "والد” بتارہے تھے اور کہا کہ آپ ان کو فون کرلیں گے۔

سندیپ کے یہاں کلاس میں لیکچرز انگریزی میں ہوتے تھے، سندیپ لیکچرز بالکل نہی سمجھ پاتے تھے، بہت پریشان رہتے تھے، لیکچرز نہ سمجھ پانے کی وجہ سے درجہ میں سندیپ کو کئی بار رسوائیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا،  مجھ سے اکثر اپنا دکھ سنایا کرتے تھے، دکھ سناتے سناتے اکثر انکا دل بھر آتا اور آنکھ سے آنسو جاری ہوجاتے۔ میرے پاس سندیپ کو تسلی دینے کیے لیے دو چار الفاظ کے علاوہ کچھ نہ تھا۔

مجھے تو عربی اور اردو پڑھنا ہوتا تھا، جے این یو میں بی اے میں عربی کا سیلبس مدارس کے بچوں کے لیے بہت آسان بھی تھا، لہذا انگریزی نہ جاننے کی وجہ سے میرے لیے  درجہ میں کوئی دشواری نہ تھی، حسب روایت پاس ہونے کے علاوہ کوئی خاص ہدف بھی نہ تھا، اردو جانتے تھے، سہ روزہ "دعوت” بھی منگواتے تھے، اور جتنے سے کام چل جائے اتنی عربی بھی آگئی تھی۔  انگریزی سیکھنے یا مزید عربی میں مہارت پیدا کرنے کے لیے محنت کرنے کی اہمیت کا احساس دسیوں بار نوکری کے لیے ا‌نٹرویو میں ریجکٹ ہونے پر ہوا، تب تک بہت تاخیر ہوچکی تھی۔

مجھ میں اور سندیپ میں ایک بڑا فرق تھا، سندیپ بہت محنتی تھے،  فجر سے بہت پہلے اٹھ کر پڑھائی کرنے کے عادی تھے، ہم بلا غور و فکر زبان سے جسے عارضی دنیا کہ کر اہمیت نہ دینے کے عادی تھے سندیپ کو اس عارضی دنیا میں کامیاب ہونا تھا اس لیے انتھک محنت کرتے تھے۔ ادھر ابدی دنیا میں کامیابی پانے کا زعم و فریب تھا اور فجر کی فرض نماز بھی قضاء ہی پڑھی جاتی رہی۔

ہم دونوں نے جب پہلا سال مکمل کیا، سندیپ نہ صرف انگریزی سیکھ چکے تھے بلکہ اپنے کلاس میں ٹاپ بھی کیا، اپنی محنت کی بدولت اپنی کلاس میں ایک مثالی طالب علم بن چکے تھے۔ اگلی سال اپنے کلاس سے تنہا جی آر ایف بھی حاصل کیا اور جرمنی میں ریسرچ کرنے کے لیے کوالیفائی بھی کیا، ریسرچ کے دوران ہی نوکری کے لیے بڑے بڑے آفر ملنے لگے، آج امریکہ میں ایک کامیاب سائنس داں کی حیثیت سے نمایاں کامیابی حاصل کرچکے ہیں۔  اور میرے پاس وہی بیش قیمت نصیحت  جو بڑوں سے ملی تھی "ہم نے تو محنت نہی کیا پر آپ ضرور کرنا” پر ایک سیکھ کے ساتھ  کہ کامیاب انسان کی نصیحت خواہ کتنی ہی بیش قیمت ہو نظر انداز کردیں لیکن ناکام انسان کی نصیحت پر ضرور عمل کرنا چاہیے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close