شخصیت کا ارتقا

ہم ویسے نہیں ہوتے جیسے ہو جاتے ہیں!

شیخ خالد زاہد

شیخ ابراہیم ذوق کے شعر کا ایک مصرعہ ہے کہ اپنی خوشی نا آئے نا اپنی خوشی چلے، معلوم نہیں کتنے یہ بات دل میں ہی لیکر چلے گئے۔ تقریباً انسانیت اپنی پیدائش سے موت تک سفر کسی اور کے بتائے ہوئے راستے پر کرتا ہے، نا تو وہ کوئی راستہ بنانے کا اہل ٹہرتا ہے اور نا ہی کسی کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے سے انکار کرسکتاہے۔ اگر ہم معاشرتی تقسیم کریں تو جن معاشروں میں ابھی تک توازن برقرار ہے ان میں لوگ فرمانبردار اورمروجہ معاشرتی پابندیوں اور اقدار کے پابند ہیں۔ ہمارے منہ میں جو زبان ہے وہ محتاج ہے اس زبان کی جو ہمارے آس پاس بولی جائے گی، ذہن محتاج ہے ان سوچوں کا جنہیں اسے سوچنے کیلئے دی جائینگی، نظریں محتاج ہیں وہ سب دیکھنے کی جو انہیں دیکھایا جائے گا۔ اس توازن کو بگاڑ نے کیلئے ان معاشروں نے جو کبھی توازن کی حالت میں آہی نہیں سکے ہیں، بگاڑنے کیلئے سر توڑ کوششیں کیں ہیں اور اب ان کی یہ کوششیں کامیاب ہوتی دیکھائی دے رہی ہیں۔
ایک تو یہ کہ ہم اور آپ جہاں پیدا ہوئے ہیں وہاں کیا چلتا ہے کیسے زندگی گزاری جاتی ہے یا کسیے گزاری جاتی رہی ہے ہمیں بھی انہیں سب باتوں کی پابندی کرنے کا عادی بنایا جاتا ہے۔

معاشرے کے ہی لوگ تھے جنہوں نے میڈیا کو ذریعہ بنایا شائد اس کی ابتداء صرف اس سوچ پر مبنی ہو کہ عوام الناس کو سستی اور گھر بیٹھے تفریح فراہم کی جائے مگر جیسے جیسے یہ بات سمجھ آنے لگی کہ لوگ تو میڈیا پر بہت دھیان دیتے ہیں تو پھر انکی ذہن سازی پر کام کرنا شروع کیا گیا اور جیسے جیسے معاشرے میں بدلاؤ محسوس ہونے لگا ویسے ویسے کام کو تیز کیا جاتا رہا، پھر دنیا کی ان طاقتوں نے جو انسانوں کی سوچوں اور انکے اعمال پر قبضہ کرنے کے خواب صدیوں سے دیکھ رہے تھے میڈیا انکے لئے ایک آسان اور سہل راستہ بنتا چلا گیا۔ وقت نے ایک بھرپور انگڑائی لی اور سماجی میڈیا کا وجود دنیا میں ہلچل مچانے کیلئے آدھمکا اور دیکھتے ہی دیکھتے ہر معاشرے کا لازمی ترین جز بن گیا۔

ہم داخلی اور خارجی مزاج میں بہت کم ہم آہنگی رکھتے ہیں، دنیا کو دیکھانے کیلئے کچھ اور ہوتے ہیں اور اپنے آپ کیلئے کچھ اور ہوتے ہیں۔ اس تضاد کیساتھ ساری زندگی گزار دیتے ہیں، جی ہاں یہ قابل اختلاف تو ہے مگر غور کرنے سے یہ شائداپنے آپ سے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے مگر یہ بھی اچھا ہے کہ یہ شرمندگی اپنے آپ تک ہی محدود رہے گی۔

کسی کو اپنا آپ نہیں پسند کسی کو اپنے ساتھ وابستہ لوگ نہیں پسند، یہاں تک بھی ہوسکتا ہے کہ آپکی ناپسندیدگی اپنی ساخت سے بھی ہو۔ ہر انسان عمر کے ایک حصے میں کسی نا کسی احساس محرومی کا شکار ہوتا ہے اس محرومی کا تعلق امیری غریبی بھی ہوسکتا ہے، رنگت اور جسمانی ساخت بھی ہوسکتا ہے، بے جا روک ٹوک بھی ہوسکتا ہے، تعلقداروں سے بھی ہوسکتا ہے، تعلیم کے میعار پر بھی ہوسکتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب مثبت اور منفی سوچیں آپ پر قبضہ کرنے کیلئے برسرپیکار ہوتی ہیں۔
یہ جو والدین اپناآپ اپنی اولاد پر مسلط کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اسکی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ اپنی خواہشات اپنی اولاد سے پورا کروانے کے خواہشمند ہوتے ہیں جبکہ اولاد کی اپنی معاشرتی خواہشات ہوتی ہیں۔ یوں تو ہر فرد اپنی سی کوشش کرتا ہے کہ وہ دنیا کو اپنی مرضی سے چلنے پر آمادہ کرے مگر اس کوشش کو وہ اپنے اوپر بھی پوری طرح سے لاگو کرنے میں ناکام ہی رہتا ہے۔ دنیا میں قدرت کی جانب سے بھیجے جانے والے پیغمبروں کو ہٹا کر ایسے بہت کم لوگ گزرے ہیں جنہوں نے معاشرے کی اصلاح کیلئے، کچھ مختلف کرنے کیلئے یا پھر غلط کو صحیح کرنے کیلئے اپنا کردار بھرپور طریقے سے نبھایا ہو۔ اگر اس بات کو سمجھنے کیلئے تھوڑا سا پھیلایا جائے تو ہمیں دنیا کو آسائشیں دینے والے لوگ قابل ذکر ہونگے، ایسے ہی وہ لو گ جنہوں نے انسانیت کی فلاح کے لئے اپنی خدمات انجام دیں، جنہوں نے اس بات کی پروا نہیں کی دنیا میرے اس کام کو لے کر کیا کہے گی، مفکرین، فلاسفر اور ادب کی ہر صنف سے تعلق رکھنے والے لوگ جنہوں نے کائنات کے مختلف رازوں اور رنگوں پر خوب طبع آزمائی کی جن کی وجہ سے انسانیت کو انسانیت کی سمجھ آئی جنہوں نے مختلف مذاہب کا ایک نقطہ مفاہمت پر اپنی اور دنیا کی توجہ مرکوز کروائی۔ ایسے بے تحاشہ لوگ آج بھی ہیں۔ انسانوں کی تعداد ایک سے شروع ہوکر اربوں کی گنتی میں پہنچ چکی ہے لیکن ایسے لوگوں کی تعداد ہمیشہ بہت قلیل رہی ہے لیکن اس بات کی سمجھ تو سب کو ہے کہ آٹے میں اگر نمک نا ہوتو روٹی کا ذائقہ ختم ہوجاتا ہے۔ اب بات یہ ہے کہ کیا ایسا ممکن ہے کہ آپ اپنی مرضی سے زندگی گزار سکیں۔ معاشرے میں ہر فرد اپنا اپنا حصہ ڈالتا ہے، اصلاحات راتوں رات نہیں ہوجاتیں اور معاشرے میں بدلاؤ یہ بھی ضروری نہیں ہوتا کہ جو اس کوشش کا آغاز کرے وہ اس بدلاؤ کو دیکھ بھی سکے۔ دنیا مادی اعتبار سے تو ترقی آسمان کو چھو رہی ہے مگر اقدار پامال ہوگئے ہیں ایک دوسرے کا خیال نہیں رہا یوں سمجھ لیجئے کہ معاشرہ ایک بدبودار لاش کی مانند ہوکر رہ گیا ہے اور ایک ایسی لاش جسے دفنایا بھی نہیں جاسکتا۔

اپنی مرضی کی زندگی کیا ہوسکتی ہے یہ ایک الگ بحث طلب معاملہ ہے، ہر منظم معاشرہ منظم سوچ کی مرہون منت تشکیل پاتا ہے اور منظم سوچ کے پیچھے ایک ضابطہ حیات ہوتا ہے اور اسکے لئے یہ ضروری نہیں کہ آپ کس مذہب سے تعلق رکھتے ہیں معاشرے کو بہترین بنانے کیلئے آپ ان اصلاحات کو نافذ کرنے سے گریز نہیں کرتے جو کسی اور مذہب سے ہو۔ کیا اس بات سے انکار کیاجاسکتا ہے کہ انسان کو معاشرتی امور مذاہب کی بدولت ہی میسر آئے ہیں، کیونکہ تخلیق کی ابتداء بھی تو مذہب کی محتاج رہی ہوگی۔ دنیا کی عافیت اسی میں ہے کہ وہ قدرت کے بتائے ہوئے ضابطہ حیات پر من و عن مانتے ہوئے اس پر چلنا شروع کردے جیسا کہ ہر مذہب کے ماننے والے اپنی عمر کے آخری عیام میں کرتے ہیں۔ ہم سوچیں تو ہم پر واضح ہوجاتا ہے کہ ساری زندگی سوائے تھکنے کے اور ہم نے کیا حاصل کیا ہے سوائے ان چیزوں کے جو نا تو ہمارے ساتھ جائینگی اور نا ہی دنیا میں رہتے ہوئے ہم سے بچھڑکر ماتم کرینگی، یہ تو کسی اور کی ہوجائینگی۔ ایک دوسرے پر اپنا آپ نا تھوپا جائے تو بہتر ہے ورنہ فاصلے بڑھتے چلے جاتے ہیں اور اسی دنیا نے نسلی فاصلہ(جنریشن گیپ) قرار دیا ہے۔ ہم ویسے ہو ہی نہیں سکتے جیسے ہم چاہتے ہیں کیونکہ آخیر میں ہم جیسے ہوتے ہیں ویسے ہی ہونا چاہتے ہیں۔

آسان لفظوں میں اس مضمون کو ختم کرتے ہوئے یہ لکھدیتا ہوں کہ تسلیم خم کیجئے اپنی پیشانی کے رب کو میرے اپنی عبادتوں میں سجدہ سب سے محبوب سجدہ تھا، ہے اور اس کائنات کے رہنے تک رہیگا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close