شخصیت کا ارتقا

ندويوں سے دو ٹوک بات: مرجعيت كس كو حاصل هے؟

ندويون سے گزارش هے كه يه بات كسى پر مخفى نہیں كه دنيا كے حالات جس برق رفتارى سے تبديل هو رهے هين، اس قسم كى تبديلى اس سے پهلے كبهى نهيں پيش آئى، آپ كا عهد هر لمحه تغير پزير هے، اور آپ كا ماحول هر لحظه دگر گوں، اس نازكـ گهڑى مين آپ پر قيادت كى ذمه دارى هے، حالات كو براه راست سمجهنے كى كوشش كريں، قرآن كريم اور سنت سے براه راست رهنمائى حاصل كريں، ان حالات مين بار بار علامه شبلى نعمانى، علامه سيد سليمان ندوى اور مفكر اسلام ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليهم يا ماضى اور حال كى كسى شخصيت، تصنيف، مكتبه فكر اور اداره كا حواله دينا آپ كے شايان شان نهيں، ان بزرگون نے اپنے حالات اور ماحول كے لحاظ سے رهنمائى كا فريضه انجام ديا، اب آپ پر امت كے مسائل سے نپٹنے كى ذمه دارى هے، ضرورى نهيں كه ان كا جو حل ان بزرگون كے عهد ميں صحيح تها وه آپ كے لئے بهى مناسب هو، ايكـ كامياب ڈاكٹر وه نهيں جو بغير كسى تبديلى كے اپنے پيشرووں كے نسخے استعمال كرتا هو، يا مريض كے حالات كى تبديلى پر نگاه كئے بغير ايكـ هى طريقه علاج پر مصر هو.

مزید پڑھیں >>

غرور انسانی کردار کو گھن کی طرح کھا جاتا ہے!

اوّلین اور بدترین عیب، جو ہر بھلائی کی جڑ کاٹ دیتا ہے؛ کبر و فخر، غرور، خود پسندی اور تعلّی ہے۔ یہ ایک سراسر شیطانی جذبہ ہے جو شیطانی کاموں کیلئے ہی موزوں ہوسکتا ہے۔ خیر کا کوئی کام اس کے ساتھ نہیں کیا جاسکتا۔ اس لئے کہ بڑائی صرف اللہ تعالیٰ کیلئے ہے۔ بندوں میں بڑائی کا گھمنڈ ایک جھوٹ کے سوا کچھ نہیں ۔ جو شخص یا گروہ اس جھوٹے پندار میں مبتلا ہو وہ اللہ تعالیٰ کی ہر تائید سے محروم ہوجاتا ہے کیونکہ اللہ کو سب سے بڑھ کر یہی چیز اپنی مخلوق میں ناپسند ہے۔

مزید پڑھیں >>

مسلم طلباءتنظیمیں:وقت کی ضرورت اور کرنے کے کام

ایک طویل فکری زوال کی وجہ سے آج مسلمانوں کی حالت قابل رحم ہوچکی ہیں۔آج اس ملت کے نوجوان کو ہر پرجوش مقرر اپنا قائد لگتا ھے۔اس سوشل میڈیا کے دور نے ہمیں اپنے حقیقی قائدین سے دور اور خود ساختہ قائدین کے بہت قریب کردیا ھے ۔شہلا رشید اور کنہیا کمار ہمارے محبوب ہیں انکی چند تقریروں سے ہم اتنے متاثر ہیں کہ ہماری عقلیں کام نہیں کررہی۔لیکن ہمارے نوجوان اس بات سے بیخبر ہیں کہ یہ دونوں افراد جن تنظیموں سے وابسطہ ہیں وہ تنظیمیں اسلامی دشمنی میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتی ۔یہ وہی لوگ ہیں جو ہم جنس پرستی کی کھل کر حمایت کرتے ہیں ۔ہاں ین کے نزدیک لیونگ ریلشن شپ میں کوئی برائی نہیں ۔ان کہ نزدیک محمد عربی صل علیٰ وعلیہ و سلم بھی تو ایک انسان تھے وہ تنقید سے ماوراء کیوں ہوں۔

مزید پڑھیں >>

اختلاف: کب رحمت کب زحمت؟

اختلاف اگر اختلاف رہے تو رحمت ہے، لیکن اگر اختلاف خلاف بن جائے تو زحمت بن جاتا ہے۔ اختلاف توصحابہ میں بھی تھا لیکن خلاف نہیں تھا۔ اگر ہم یہ بات ذہن میں بٹھا لیں کہ کبھی بھی کسی علمی اختلاف کو باہمی خلاف میں نہیں بدلیں گے تو پھر اختلاف نقصان دہ نہیں رہتا۔حضرت عمرؓ اور عبداللہ بن عباس کا آپس میں سو سے زائد مسائل میں اختلاف تھا لیکن اس اختلاف کی وجہ سے کبھی ایک دوسرے پر فتوے نہیں لگے اور نہ ہی ملنا جلنا ختم ہوا۔

مزید پڑھیں >>

عمر یوں ہی تمام ہوتی ہے

جدت پسند حضرات کے مطابق نئے سال کا سورج نئی امنگوں اور جذبات کے ساتھ طلوع ہوتا ہے۔حالاں کہ ایسا نہیں ہے کیوں کہ سورج وہی ہے ۔طلوع بھی اپنے وقت پر ہوتا ہے ۔ہر کسی کو برابر روشنی پہنچاتا ہے ۔گردش کے ایام متعین ہیں ۔سال کے مہینے بارہ ہیں ۔صرف افکار بدل گئے ہیں ۔ہم ہر چیز میں جدت اور نیا پن چاہتے ہیں ۔نیا سال منانا اسی کی پیداوار ہے ۔لوگوں کی اکثریت نئے سال کی منصوبہ بندی کرتی ہے۔کسی کو معاش کی فکر ہوتی ہے ،تو کسی کو تعلیم کی ۔ہر شخص ایک نئی فکر کے ساتھ صبح کرتاہے۔اور نئے سال کی بہتر شروعات کرنا چاہتا ہے ۔خوشی منانا غلط نہیں ہے ۔لیکن اس میں غلط طریقہ اختیار کرنا برا ہے۔

مزید پڑھیں >>

انسان کی کمزوریاں (تیسری قسط)

یہ وصف خاص طور پر تعمیر و اصلاح کی اس اسکیم کو نافذ کرنے کیلئے اور بھی زیادہ ضروری ہے جو اسلام نے ہمیں دی ہے کیونکہ وہ بجائے خود توازن و اعتدال کے انتہائی کمال کا نمونہ ہے۔ اس کو کتابوں کے صفحات سے واقعات کی دنیا میں منتقل کرنے کیلئے تو خصوصیت کے ساتھ وہی کار فرما اور کارکن موزوں ہوسکتے ہیں جن کی نظر اسلام کے نقشۂ تعمیر کی طرح متوازن اور جن کا مزاج اسلام کے مزاجِ اصلاح کی طرح معتدل ہو۔ افراط و تفریط میں مبتلا ہونے والے انتہا پسند لوگ اس کام کو بگاڑ سکتے ہیں ، بنا نہیں سکتے۔

مزید پڑھیں >>

کیا مسلمانوں کو کسی قائد یا امام کی تلاش ہے؟

میرے خیال سے جو لوگ کسی امام یا امام مہدی کے انتظار میں ہیں وہ خام خیالی کے شکار ہیں ۔ انھیں نہ کسی بہتر جماعت کی تلاش ہے اور نہ ہی کسی امام یا قائد کا انتظار ہے۔ وہ محض تضیع اوقات کیلئے بحث برائے بحث کرتے ہیں ،جس کا کوئی حاصل نہیں ہوتا۔

مزید پڑھیں >>

ترقی کیلئے ‘لائن’ میں لگنا پڑیگا!

ہمیں اگر ترقی کرنی ہے تو اپنی تہذیب و تمدن کے بل بوتے پر کاربند ہونا پڑے گا، اپنے قومی تشخص کو بڑھاوا دینا پڑیگا، اپنی قومی زبان دنیا کہ منہ میں دینی پڑے گی۔ ہمیں اندھی تقلید سے گریز کرنا ہوگا، ہمیں دنیا سے "ڈکٹیشن" لینا بند کرنا پڑے گا، اپنے "تھنک ٹینک" تیار کرنا پڑینگے، ٹریفیک سگنل کو اہمیت دینا ہوگی اور سب سے بڑھ کر لائن میں لگ کر اپنی باری کا انتظار کرنا پڑے گا۔ترقی ہمارے اعمال میں پوشیدہ ہے اپنے اعمال سدھار لیجئے ترقی کی شاہراہ خود بخود ہمارے قدموں میں ہوگی۔

مزید پڑھیں >>

ایک سال میں دوسو کتابیں کیسے پڑھیں؟

اب ہم انھیں کلکیولیٹ کرتے ہیں توپتا چلتاہے کہ دوسو نان فکشن کتابوں کے کل الفاظ دس ملین(ایک کروڑ)ہوتے ہیں ،دس ملین الفاظ کو چار سو ورڈز فی منٹ میں تقسیم کریں تو کل پچیس ہزار منٹ بنتے ہیں اور پچیس ہزار منٹ کو ساٹھ سکنڈس میں تقسیم کرتے ہیں ،تو چار سو سترہ(417)گھنٹے بنتے ہیں ۔معلوم ہوا کہ ہمیں سال بھر میں دوسو کتابیں پڑھنے کے لیے محض چار سو سترہ گھنٹے خرچ کرنے ہوں گے ۔

مزید پڑھیں >>

اگر ہے دل، تو چلو دل سے مل کے دیکھتے ہیں!

دراصل دل سے ملنے کے لئے جسم والی تنہائی کم اور خیالات والی تنہائی زیادہ ضروری ہے، دل سے ملنے کا مضبوط ارادہ کریں، طے کریں کہ جب دل سے ملیں گے تو صرف دل سے ملیں گے۔ ساری توجہ اور سارا دھیان دل کے احوال پر مرکوز کردیں۔ یہ مشکل کام ہے، اس کے لئے ریاض درکار ہے، تنہائی کے حقیقی تجربہ سے گزرنا ضروری ہے۔ اصل تنہائی وہ ہے جب تھوڑی دیر کے لئے دل سے ہر شخص کا خیال رخصت ہوجائے، آپ ہوں اور آپ کا دل ہو، اور آپ دل کے اندر دل کی طرف متوجہ ہوں نہ کہ دل میں کسی اور کے ساتھ مصروف ہوں۔

مزید پڑھیں >>