متفرقات

سالم سلیم کے شعری مجموعے ‘واہمہ وجود کا’ سے منتخب اشعار

واہمہ وجود کا سالم سلیم کا پہلا غزلیات کا مجموعہ ہے جس نے اپنی اشاعت کے ساتھ ہی ادبی حلقوں میں دھوم مچادی ہے۔ کتاب امیزن ڈاٹ کام پر دستیاب ہے۔ پیش ہے اس مجموعے سے چند اشعار کا نتخاب:

وہ ہاتھ دیتے ہیں ترتیب میرے اجزا کو
پھر اس کے بعد مجھے رائیگاں بناتے ہیں

جز ہمارے کون آخر دیکھتا اس کام کو
روح کے اندر کوئی کارِ بدن ہوتا ہوا

کیا ہوگیا کہ بیٹھ گئی خاک بھی مری
کیا بات ہے کہ اپنے ہی اوپر کھڑا ہوں میں

اک ہاتھ میں ہے آئنۂ ذات و کائنات
اک ہاتھ میں لیے ہوئے پتھر کھڑا ہوں میں

یہ تم نہیں کوئی دھند ہے سرابوں کی
یہ ہم نہیں ہیں کوئی واہمہ وجود کا ہے

یہ میری خامشی بھی لے جائے گی کہاں تک
میں آج صرف اس کی آواز تک رہا تھا

ابھی تک چیخ وہ نکلی نہیں کیا
حویلی میں تو دروازے بہت تھے

میں گھٹتا جارہا ہوں اپنے اندر
تمھیں اتنا زیادہ کر لیا ہے

کون ہے یہ جو مجھے گھورتا رہتا ہے بہت
دیکھتا رہتا ہوں آئینے کو حیرانی سے

ہمارے پاؤں سے کوئی زمیں لپٹی ہوئی ہے
ہمارے سر پہ کوئی آسماں پھیلا ہوا ہے

حصار ذات سے کوئی مجھے بھی تو چھڑائے
مکاں میں قید مجھ میں لامکاں پھیلا ہوا ہے

کارِبیکاری میں ہیں مصروف زور و شور سے
اب کہاں فرصت ہمیں آرام کرنے کے لیے

ابھی تو خود پہ مرا اختیار باقی ہے
ابھی تو کچھ بھی مرے ہات سے نہیں نکلا

یہ میں نہیں مری پرچھائیں ہے ترے آگے
کہ اپنا آپ تو میں گھر پہ رکھ کے آیا ہوں

جو ابتدا ہے کسی انتہا میں ضم تو نہیں
جو انتہا ہے کہیں وہ بھی ابتدا ہی نہ ہو

عجب نہیں کہ ہو اس آستاں پہ جم غفیر
اور اس کو میرے سوا کوئی دیکھتا ہی نہ ہو

ایک پل ہی کے لیے ہم اسے سوچیں اور پھر
جسم کو روح کا احساس کرانے لگ جائیں

یہ لوگ بھاگے ہوئے ہیں ترے وصال سے کیا
جو ترے ہجر کو اپنا وطن بناتے ہیں

لٹا کے بیٹھا ہوں میں سارا ذوقِ حسن اپنا
بس اک جنوں تھا کہ کچھ تجھ سے ماورا لاؤں

بھڑکتا رہتا ہے آنکھوں میں اک چراغ بدن
مجھے ہوس ہے کہ اس کے لیے ہوا لاؤں

سب جہانوں کو سمیٹا گیا مری خاطر
بن گیا میں تو مری خاک اڑا دی گئی ہے

ایک ہی موت بھلا کیسے کرے اس کا علاج
زندگی اپنی تو سو بار کی بیماری ہے

گھر میں رکھتا ہوں اگر شور مچاتی ہے بہت
میری تنہائی کو بازار کی بیماری ہے

یہ فیصلہ تھا کہ جائیں گے روح سے ملنے
تو پہلے جسم کے سامان سے جدا ہوئے ہیں

صرف اک تو ہی نہیں اپنے بدن کے ہم راہ
میرے پیچھے بھی کوئی سایہ لگا رہتا ہے

ابھی آسمان کے بوجھ ہی سے نڈھال ہوں
ابھی اپنے حال پہ میں نظر نہیں کررہا

وگر نہ عشق میں اک آنچ کی کمی ہوگی
یہ دل ہے جاؤ اسے پارہ پارہ کرکے لاؤ

بھرا ہوا ہوں میں پورے وجود سے اپنے
اسی لیے تو خلاؤں میں جھانکتا ہوں میں

کچھ روز ابھی جشنِ ہوا ہوگا یہاں بھی
کچھ روز ابھی گرد کا طوفان رہے گا

جو باہر آئے تو یہ شہر الٹ پلٹ جائے
وہ اپنے گھر میں بہت بے ضرر سا رہتا ہے

نہ جانے کیسی گرانی اٹھائے پھرتا ہوں
نہ جانے کیا مرے شانوں پہ سر سا رہتا ہے

ذرا سی دیر جو ہوتی ہے اس کی بارشِ لمس
تو مدتوں مری مٹی مہکتی رہتی ہے

پہلے اک یار بنائیں کوئی اس کے جیسا
اور پھر ایجاد کوئی دشمنِ جانی کریں ہم

کھینچے تھے کتنے رنج خود اپنی تلاش میں
اک روز اپنے آپ کو پا کر میں خوش ہوا

ہوا سے رشتہ مرا استوار ہوتے ہوئے
وہ دیکھتا رہا مجھ کو غبار ہوتے ہوئے

نکل ہی جاتا میں زندانِ روز و شب سے مگر
پکڑ لیا گیا مجھ کو فرار ہوتے ہوئے

یہ مرا سینۂ خالی چمک اٹھے گا ابھی
میرے اندر اگر ایجاد کیا جائے اُسے

کھڑی ہے دیوار آنسوؤں کی مرے برابر
تو کس طرح میں تری تمنا کے پار دیکھوں

تمھارے نام پر آغاز و خاتمہ ہوگا
نکل بھی جاؤ اگر درمیان سے باہر

یہ ٹھنڈے سائے ہلاکت کا پیش خیمہ ہیں
کوئی نکالے مجھے سائبان سے باہر

زماں مکاں سے بھی کچھ ماورا بنانے میں
میں منہمک ہوں بہت خود کو لا بنانے میں

جلا گیا ہے لہو میں کوئی چراغِ سخن
بہت دنوں سے طبیعت مری بجھی ہوئی تھی

روز بڑھتی ہی چلی جاتی ہے بینائی مری
روز رکھ دیتا ہوں آنکھوں کو تری پوشاک پر

نکل کے دنیا میں ہوں قیام پذیر
کہاں ٹھہرنا تھا مجھ کو کہاں سکونت کی

کس کے ناخن نے کھرچ ڈالا ہے سارے جسم کو
کون ہے جو میری دیواروں میں در کرنے لگا

تم آگئے ہو تو پھر عمر بھر یہیں ٹھہرو
بدن سے کوئی بھی رستہ نہیں نکلنے کا

میرے پھیلاؤ کو کچھ اور بھی وسعت دی جائے
اب مجھے خود سے نکلنے کی اجازت دی جائے

بھرے بازار میں بیٹھا ہوں لیے جنسِ وجود
شرط یہ ہے کہ مری خاک کی قیمت دی جائے

تم بھی مر جاؤ کسی دن مری جاں
ہم بھی اک روز ٹھکانے لگ جائیں

اپنے ہی آپ میں ڈوبا ہوں نہ جانے کتنا
زندگی ناپ رہی ہے ابھی گہرائی مری

جرم یہ تھا کہ اسے دیکھ لیا تھا یوں ہی
اور سزا یہ ہے کہ جاتی رہی بینائی مری

اس بار تو تم بھی مجھے پانے میں لگے ہو
اس بار تو میں بھی تمھیں کھونے میں لگا ہوں

میں تھک کے بیٹھ گیا ہوں خود اپنے سائے میں
کہ تیرا دشتِ طلب بے کنار ہوگیا ہے

کوئی دل، دیکھ شمعِ بے مہری
برف جیسا پگھل رہا ہوگا

اب وہ آوارگی نصیب کہاں
کیا دن تھے کہ گھر رہا ہوں میں

سنو کہ گھر پہ کئی خواب منتظر ہوں گے
چلو یہاں سے کہ اب رات ہونے والی ہے

مڑ کے دیکھا تو فقط اپنی ہی پرچھائیں تھی
ہم یقینوں کے تعاقب میں گماں تک پہنچے

اگر باقی رہا یہ مشغلہ بننے سنورنے کا
تمھارے حسن کو اک روز آئینہ پکڑ لے گا

ہمیں باندھے ہوئے رکھتی ہے پہلے وصل کی شدت
اگر ماضی سے چھوٹیں گے تو آئندہ پکڑ لے گا

یہ مجھ میں ٹھہرے ہوئے کچھ عجیب دنیا دار
خراب سارا ہی دل کا نظام کرتے ہیں

کچھ تو ہمیں بھی اس نے انسانیت سکھا دی
ہم نے بھی اس کو تھوڑا شیطان کردیا ہے

مجھ میں اک روز کوئی قتل ہوا تھا اور پھر
مری آنکھوں سے بہت خون کے دھارے نکلے

اب اس کے بعد کچھ بھی نہیں اختیار میں
وہ جبر تھا کہ خود کو خدا کرچکے ہیں ہم

یہ کیا کم ہے کہ کچھ تو کام کرتے جارہے ہیں
مبارک باد انھیں جو لوگ مرتے جارہے ہیں

بہت ہم کو بلاتی ہے وہ خوشبو جان لیوا
سو چلتے جا رہے ہیں اور ڈرتے جا رہے ہیں

مجھ کو میری بہت ضرورت ہے
کررہا ہوں میں خود کو پس انداز

ایک قطرے کی طرح ہوں اس کی آنکھوں میں ابھی
اب نہ ٹپکوں گا تو وہ طوفان کردے گا مجھے

کہکشائیں مری مٹی کی طرف آتی ہوئیں
میرے ذرات ستاروں کی طرف جاتے ہوئے
آج مکمل ہے دنیا
آج میں بالکل تنہا ہوں

کرنی ہے ہمیں اک نئے دشت کی تعمیر
اس بار کسی شہر کا ہوکر نہ رہا جائے

زمین پاؤں کے نیچے سے ہٹتی جاتی ہے
اب آسمان کو ہی زیرِ قدم رکھا جائے

سالم سلیم کے شعری مجموعے پر تبصرہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔ 

کتاب واہمہ وجود کا حاصل کرنے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔

ریختہ پر سالم کی غزلیں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close