معاشرہ اور ثقافت

اب ہمیں کون سمجھائے!

وصیل خان

گذشتہ دنوں سرراہ ایک ایسا واقعہ دکھائی دیا جس سے طبیعت پر ایک عجیب قسم کا اضمحلال طاری ہوگیا، اور دیر تک دل  بوجھل رہا۔ ایک گھر کے دروازے پر دو ضعیف و ناتواں والدین زاروقطار رورہے تھے، چہرے اداس اور ستے ہوئے جن پر کرب و پریشانی کی لکیریں صاف دیکھی جاسکتی تھیں۔ کچھ لوگ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے ان کا حال دریافت کررہے تھے۔ ضعیف والدین اپنی روداد غم سناتے ہوئے کہہ رہے تھے، ہماری ایک ہی اکلوتی اولاد ہے ہم نےاس کے سکھ کیلئےہمیشہ اپنی جانیں قربان کیں لیکن آج وہ ہمارے بڑھاپے کا سہارا بننے کو تیار نہیں، اس نے ہمیں گھر سے نکال دیا ہے، وہ گالیاں دیتا ہے یہاں تک کہ مارنے پیٹنے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ ہم بے حد پریشان ہیں اور اب ہم نے بھی یہ طے کرلیا ہے کہ دوسروں کے جھوٹے برتن صاف کرلیں گے، بھیک مانگ کر گزارہ کرلیں گے لیکن اس کے ساتھ نہیں رہیں گے یہاں تک کہ موت ہمیں اپنی پناہ میں لے لے۔ اس طرح کے واقعات اب روز مرہ کے معمول بن گئے ہیں۔ قدروں کا زوال اس قدر تیز رفتار ہے کہ اب یہ کہانی ہر تیسرے گھر میں دوہرائی جارہی ہے۔ اخلاقی بگاڑ اپنے شباب پر ہے۔

اس صورتحال کی عکاسی اکبرالہ آبادی نےبڑے موثر انداز میں کی ہے۔ ؎

 جب سر میں ہوائے طاعت تھی سرسبزشجر امید کا تھا 

جب صر صر عصیاں چلنے لگی اس پیڑ نے پھلنا چھوڑدیا 

ایک اور واقعہ ذہن میں ابھر رہا ہے اتفاق سے اس کا بھی میں ہی راوی ہوں۔ دو سگے بھائی ہنسی خوشی ایک ساتھ رہتے تھے ضعیف بیوہ والدہ بھی ساتھ تھیں، بچوں کی شادیاں ہوئیں تو پھر آپسی اختلاف و انتشار کی بھی آندھیاں چلیں اور دونوں بھائیوں میں بٹوارہ ہوگیا، آنگن میں دیوار کھڑی ہوگئی۔ ماں کا بوجھ اٹھانے کو کوئی تیار نہیں اس طرح ماں کو بھی تقسیم کردیا گیا بالآخر ایک ایک ماہ ساتھ رکھنے پر سمجھوتہ ہوگیا اس طرح زندگی کی گاڑی کھسکتی رہی، ایک دن جب ماں چھوٹےبیٹے کے ساتھ تھی بڑے بیٹے کے گھر گئی، بڑی بہونے کچھ خاص پکوان ماں کے سامنے رکھ دیا، اسی دوران بڑا بیٹا آگیا بھائی کی رقابت میں اس نے ماں کو الٹی سیدھی سنائی اور طیش میں آکر ماں کے سامنے سے پلیٹ چھین، ماں دل مسوس کر رہ گئی اسے اتنی تکلیف پہنچی کہ اس کےمنھ سے بددعا نکل گئی، اللہ نے اس کی سن لی، دوسرے ہی دن سے بیٹے کو بیماری لگ گئی اور کچھ ہی دنوں میں اسے کوڑھ ہوگیا انجام کار اسی مرض میں اس کی موت ہوگئی۔مولانا روم ؒنے کتنی درست ترجمانی کی ہے۔

 بترس از آہ مظلوماں کہ ہنگام دعا کردن 

 اجابت از در حق بہر استقبال می آید 

عجیب بات ہے جس قوم کو خیر امت کےاعزاز سے نوازا گیا آج اسے ہی سب سے زیادہ اصلاح کی ضرورت درپیش ہے۔ کون سی برائی ایسی ہے جو ہمارے درمیان نہیں پنپ رہی ہے۔ ہماری زندگی کے دھارے ہی غلط سمت بہنے لگے ہیں تبھی تو اقبال کہہ پڑے۔ ۔۔بجلیاں جن میں ہیں خوابیدہ وہ خرمن تم ہو۔ اب یہی دیکھ لیجئے آج مسلمان کہاں جارہا ہے اور کس قدر بے راہ روی کا شکار ہے۔ پہلے ہی خطاؤں کا بوجھ کیا کم تھا، اب سوشل میڈیا اور فیس بک کا ایک نیا عذاب بھی سر پر مسلط کرلیا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اللہ کی ایک بڑی نعمت ہے جس کے ذریعے ڈھیروں مثبت کام کئے جاسکتے ہیں۔ دعوت و تبلیغ اور اشاعت دین کیلئے ماضی میں بھی اس سے بہتر مواقع نہیں حاصل تھے لیکن اس سے کوئی مثبت فائدہ نہیں اٹھایا جارہا ہے جو کچھ کیا جارہا ہے بالکل برعکس اور منفی کیا جارہا ہے اور نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اپنا قیمتی وقت بری طرح ضائع کررہی ہے۔

سوشل میڈیا پر لایعنی اور غیر ضروری سوالات و جوابات اور بحث و مباحثے کئے جارہے ہیں جو کسی بھی صورت نہ ان کے حق میں بہتر ہیں نہ ہی قوم و ملت کو اس سے کوئی فائدہ پہنچنے والاہے۔ لوگ اپنی بڑی بڑی تصویریں فیس بک پر شو کرتے ہیں اور ماشا ءاللہ، بہت خوب، نہایت شاندار کے جوابات کے شدید منتظر ہوتے ہیں اور اسی سے سکون و طمانیت حاصل کرتے ہیں۔ ذرا ٹھہریں کچھ توقف کریں اور سوچیں کہ کیا یہی علامتیں ہیں دنیا میں عظیم اور نمایاں انسان بننے کی۔ ایک اور خرابی ہے جس نے ہمیں بری طرح سے جکڑرکھا ہے آج ہمارے پاس ایک نہیں کئی کئی چہرے ہوگئے ہیں اور جہاں جیسا موقع ہو ان چہروں کا استعمال کررہے ہیں۔ ندافاضلی نے کیسی درست عکاسی کی ہے   ؎

ہر آدمی میں ہوتے ہیں دس بیس آدمی 

 جس کو بھی دیکھنا ہے کئی بار دیکھئے 

جیسا دیس ویسا بھیس ایک مثل ہے جو انسانی مکاری، فریب دہی اور مطلب پرستی کیلئے وضع کی گئی تھی آج اپنے قول و عمل کے ذریعے ہم اسی کی تصدیق و تائید کررہے ہیں۔ ہمارے پاس نہ کوئی اصول ہے اور نہ ہی ہم اسلامی تعلیمات کو اپنا کر جرأت مندی اور ہمت کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ اب تو ہم نے یہ عادت بھی بنالی ہے کہ سامنے تعریف کے پل باندھ دیتے ہیں اور پشت گھومتے ہی غیبت، چغلیوں اور برائیوں کے انبار لگادیتےہیں، ان خرافات کا ہم اتنا زیادہ شکار ہوگئے ہیں، کہ زندگی کا کوئی بھی شعبہ ہو یہ لعنتیں پوری طاقت سے ہر جگہ اپنا قبضہ جمائے ہوئے ہیں اور کبھی کبھی تو یہ مغالطہ ہونے لگتا ہے کہ غیبت، بہتان اور جھوٹ جیسی برائیاں ہم پر مباح تو نہیں ہوگئی ہیں۔ ماضی میں مسلمانوں نے اپنے اعلیٰ ترین کردارو عمل سے ایسی شناخت بنائی تھی کہ غیرمسلم بھی کہہ پڑتے تھے کہ مسلمان جھوٹ نہیں بولتا اور وہ اثبات و نفی کے درمیان نہیں رہتا، یعنی  ’ ہاں  ‘ اور ’ نہیں ‘ کے بیچ کی کوئی چیز وہ نہیں جانتا، ظاہر ہے اثبات و نفی کے درمیان کا جو عمل ہوتا وہ خود غرضی اور فساد کا سبب بنتا ہے اور سماج و معاشرے کیلئے انتہائی تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔ لیکن اب ہماری شناخت یہی ہوگئی ہے کہ ہم ہاں اور نہیں کے درمیان ہی پناہ لئے ہوئے ہیں۔ ہمارا کوئی معیار ہی نہیں رہ گیا ہے۔

آج جب حالات کا جائزہ لیتے ہیں تو یہی نظر آتا ہے کہ ہمارا وجود اللہ و رسول کے وضع کردہ نظام واصول پر کہیں فٹ نہیں بیٹھتا، ہمارے اندر فکری بے راہ روی جڑپکڑتی جارہی ہے۔ ایک دوسرے پر غلبہ حاصل کرنے کیلئے اور ایک دوسرے کو زیر کرنے کیلئے ساری اخلاقی حدیں پار کررہے ہیں۔ اصلاح معاشرہ کیلئے قرآن اور اسوہ ٔ رسول سب سے بڑا مآخذہے، اس سے تعرض و انحراف انتہاکو چھوتا جارہا ہے۔ علماءو دینی مدارس تو ہیں لیکن سب نفسانفسی کا شکار ہیں۔ خانقاہیں تو ہیں مگر وہاں سے وہ روحانی نظام غائب ہے۔ فرقہ بندی اور مسلکی انتہاپسندی عروج پر ہے،کیا ہمارے پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

وصیل خان

ممبئی اردو نیوز

متعلقہ

Close