معاشرہ اور ثقافت

اخلاقیات کا جنازہ!

شیخ خالد زاہد

علم کے بارے میں سنا تھا کہ جتنا بانٹواتنا ہی بڑھتا ہے۔  دنیا کو اخلاقیات سے روشناس کرانے والے اور اخلاقیات کا درس دینے والے دنیا کو جہالت کے اندھیروں سے نکالنے والے آہستہ آہستہ خود ہی جہالت کے گھیرے اندھیروں میں ڈوبتے چلے جا رہے ہیں ۔ اس بات سے شائد کسی کو اختلاف نا ہو کہ دنیا جہالت کی غلاظت میں لتھڑی پڑی تھی کہ اسلام علم کا سورج بن کر طلوع ہوا اور اپنی روشنی سے ساری دنیا کو منور کردیا۔ اس روشنی سے ساری دنیا خیرہ ہوئی اور وہ سب کچھ سیکھا جو فلاح و بہبود سے لیکر ترقی تک کیلئے اہم تھا۔ آج دنیا میں ان تمام ترقی یافتہ ممالک کا کا جائزہ لے لیجئے آپ کو وہ تمام خصوصیات نظر آئینگی جس کا درس اسلام نے کسی بھی منظم معاشرے کیلیے اخذ کی ہیں ۔ مساوی حقوق،  انصاف کی بالادستی، بیت المال کا کردار غرض یہ کہ ایک چھوٹی سے چھوٹی بات بھی اسلام اور ہمارے پیارے نبی ﷺ نے بہت واضاحت سے بتااور سمجھا دی ہے۔

آج دنیا میں بہت کم ایسی اسلامی ممالک ملینگے جہاں امن ہو یا پھر حقوق کی تقسیم کا برابری کا نظام ہو۔ ان ممالک میں زیادہ تر تو عربی زبان بولنے والے لوگ ہیں جو بہت اچھی طرح جانتے ہیں اور سمھتے ہیں کہ یہ جو زبان بولتے ہیں و ہ ہی زبان آسمانوں میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ آج ترقی بے حیائی اور غیر اخلاقیات کے روپ میں پروان چڑھ رہی ہے کیونکہ مروجہ اصول کے تحت جو دکھتا ہے وہ بکتاہے۔ گزشتہ کچھ سالوں سے پاکستان کا ماحول نامعلوم سمت کی جانب پیش قدمی کر تا چلا جا رہا ہے اور اس نامعلوم سے جو کچھ معلوم ہو رہا ہے وہ یہی ہے کہ کچھ اچھا نہیں ہونے جا رہا۔ پاکستان کی عوام مسلسل مشکلات کی ذد میں ہے جسکی ایک عمومی وجہ سیاست دان ہیں اور دوسری ان سیاست دانوں کی سماجی میڈیا پر چھا جانے کی خواہشِ بے جا۔

اچھا کام کرنے والوں کی تعداد کوئی شک نہیں کہ بہت زیادہ ہے مگر ان میں سے بہت کم ایسے ہوتے ہیں جو اپنی اچھائیوں کی بدولت عام سے خاص بن جاتے ہیں اور خاص بن کر بھی عام انسانوں کی طرح رہنے کو ترجیح دیتے ہیں ، اچھے کام کر کے دنیا سے داد و تحسین وصول کرنا آسان نہیں ہوتا جبکہ اسکے مخالف آپ برا کام کرلیجئے راتوں رات شہرت کے ریکارڈ ٹوٹ جائینگے اور کسی بھی طرح سے دنیا آپ کو جاننے لگ جائے گی ہوسکتا ہے حکومت وقت آپکے گرد حفاظتی حصار بھی لگوادے اور آپ کی گاڑی کی حرکت پر باقی گاڑیاں بھی رکوادے اور پھر عوام الناس کیلئے یہ بات زیادہ اہم نہیں رہتی کہ آپ کی مشہوری کی کیا وجہ ہے بس عوام تو آپ کے ساتھ سیلفی بنوانے اور آپکے ساتھ کھڑے ہونے کو باعث عزت و تکریم سمجھنے لگے گی۔ جو کسی بیمار معاشرے کی دلیل کیلئے کافی ہے۔

آخر یہ معاشرے کے میعار کہاں طے ہو رہے ہیں اور ان کو نافذ کون کر رہا ہے۔ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اپنے ارد گرد موجود اپنے ہی جیسے لوگوں کو دیکھ کر خوف سا آنے لگتا ہے جیسے یہ میرے جسے کی موجودگی سے بہت زیادہ نالاں ہیں اور یہ اسے ختم کرنا چاہتے ہیں ۔ گاڑی چلاتے ہوئے برابر والی گاڑی چلانے والے کو دیکھو تو بھی ایسا ہی لگتا ہے۔  معلوم نہیں ہمارے اندر اس خوف کی پرورش کون کر رہا ہے۔  مگر یہ تو طے ہے کہ ان ساری تخریبی کاروائیوں کے پیچھے کوئی نا کوئی تو ہے۔

کم و بیش تمام ہی لکھنے والے معاشرتی اخلاقیات کیساتھ ساتھ سیاست میں بھی اخلاقیات کے عمل دخل پر قلم درازیاں کرتے رہتے ہیں جس کا مقصد اپنے ملک کے معزز سیاستدانوں (جنہیں ملک کا حکمران بھی بنناہوتا ہے) کو باور کرانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے نا چھوڑیں کیونکہ دیکھائی یہ دے رہا ہے کہ اخلاقیات نامی لفظ بھی بہت سارے دیگر الفاظ کی طرح اپنی موت مر چکا ہے یا پھر ماردیا گیا ہے۔ ان سیاستدانوں کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ انکی بد اخلاقیات کی بوئی ہوئی فصل کل انہیں ہی کاٹنی پڑے گی اور پڑتی آرہی ہے۔ در حقیقت سیاست اپنے کردار اور اپنی سیاسی جماعت کے منشور پر کرنی چاہئے ناکہ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنا چاہئے۔  یہ کیا کہ میڈیا میں موجود رہنے کیلئے آپ کا جب دل چاہے کسی پر بھی جھوٹا سچا الزام لگایا اور ایک ہلچل سی مچادی اور بعد میں میڈیا ہی کے سامنے بیٹھ کر اپنے الزامات کی تردید یا تائید کردی۔

مذکورہ باتیں آجکل ہمارے ملک کے تما م سیاستدانوں نے اپنا لی ہیں ۔ ہم اگر ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کی جلسوں میں تقاریر کا موازنہ کریں تو غیراخلاقی باتیں ان کا خاصہ ہوتا جا رہا ہے۔ ملک کیلئے کون کتنا مخلص ہے یہ آپ اپنے آپ سے ہی پوچھ لیجئے،  کم ازکم سیاستدانوں کا تو کوئی بھروسہ نہیں رہا۔ اخلاقیات کاحدیں چھونے کی سیاست کا آغاز اگر میں غلط نہیں ہوں تو وہ ہمارے محترم شہباز شریف صاحب ہیں اور پھر انکے نقش قدم پر چلتے ہوئے عمران خان صاحب، خان صاحب اپنی بداخلاقی کا جواز اپنے اندر بھری کڑواہٹ کو دیتے ہیں جو ملک کے کرپٹ اور بے انصافی کے ماحول نے بھر دی ہے وہ اس بد اخلاقیات کا سارا کا سار االزام اس نظام کو دیتے ہیں جنہوں نے میاں نواز شریف کو تین دفعہ وزیر اعظم بنوادیا جس نے آصف علی زرداری کو ملک کا صدر بنوادیا ہے اور مولانا صاحب کو ہر بار اسمبلی کا رکن منتخب کروا دیا۔  اب ایسی یا اس سے ملتی جلتی سیاست اور بہت سارے سیاستدان کرتے سنائی دے رہے ہیں جوکہ بہت ہی دکھ اور تکلیف کی بات ہے۔  درحقیقت یہ سیاست دان جو پڑنٹ اور ٹیلی میڈیا پر چھائے ہوتے ہیں ملک کے معماروں پر آہستہ آہستہ چھاتے چلے جاتے ہیں ۔ انکا اس طرح سے سوار ہونا قطعی نقصان کا باعث ہے۔

کراچی میں سیاسی گہما گہمی کچھ معدوم سی دیکھائی دے رہی ہے کیونکہ ساری گہما گہمی حکومتی جماعت نے لگا رکھی ہے جن کے خلاف کرپشن ثابت ہوچکی ہے مگر وہ عدالتوں کو بھی سازشی قرار دے چکے ہیں ۔ ان سے کوئی یہ کیوں نہیں پوچھتا کہ آپ کو تین باریاں ملیں مگر آپ کسی بھی نظام کی طرح قانون کے نظام کو بھی ٹھیک نہیں کرسکے۔ جب آپ کسی چیز کو ٹھیک نہیں کرسکتے تو اسکی خرابی پر شور بھی نا ہی مچائیں تو بہتر ہے۔ آپ اخبارات اٹھا کرپڑھ لیجئے اور میڈیا پربطور عینی شاہد دیکھ لیجئے مسلم لیگ (ن) نے ناصرف عدالتی نظام بلکہ اعلی عدالتوں میں تعینات ججوں کو بھی بھرپور تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ انکی کردار کشی کی جو کسی بھی طرح سے ناقابل معافی جرم ٹہرتا ہے اوریہ سب کچھ (جو ابھی تک جاری ہے )قائد متحدہ کی اس تقریر سے کہیں زیادہ ہورہاہے جس کے بعد انکی پاکستانیت ہی منسوخ کردی گئی۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے سیاسی اخلاقیات کے ساتھ ساتھ عدالتی اخلاقیات کی بھی دھجیاں اڑادی ہیں جو کسی بھی طرح سے ملک سے بغاوت سے کم نہیں ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو مجرم قرار پائے جانے کے باوجود حکومتی اختیارات کا استعمال بھرپور طریقے سے کر رہے ہیں اور وہ تمام لوگ بھی جو ان کی معاونت کر رہے ہیں قابل گرفت ٹہرنے والے ہیں ۔

کراچی کے سیاسی افق پر ایک نومولود سیاسی جماعت نے متحدہ قومی موومنٹ کے بانی سے شدید اختلافات کی بنا ء پر یا پھر کسی اور وجہ سے عملی سیاست میں قدم رکھا اور انہیں ایسا لگا کہ وہ راتوں رات پاکستان اور پاکستانیوں کی آنکھ کا تارا بن جائینگے جو کہ کسی دیوانے کے خواب سے زیادہ نہیں نکلا۔ برسوں کا ساتھ ایک جھٹکے میں ٹوٹتا تو ہے مگر دل سے اترنے میں کچھ وقت تو لگتا ہے خیر پاک سرزمین پارٹی کی اعلی قیادت جن میں جناب سید مصطفی کمال صاحب جن کی متحدہ قومی موومنٹ کے سائے تلے کراچی کی گرانقدر خدمات کا سہرا بندھا ہوا تھا جس کی وجہ سے انکی ناصرف کراچی والے بلکہ بیرونِ ملک بھی لوگ ان کی قابلیت کے معترف تھے۔ لیکن انہوں نے اخلاقیات کی ساری حدیں پار کردیں کیا یہ صحیح ہے کہ آپ کسی خراب انسان سے ملنے کیلئے خراب بن کر جائیں ،  قطعی نہیں سب اپنے اپنے کردار سے پہچانے جاتے اور یاد رکھے جاتے ہیں ۔ ہم یہ بھی مان لیتے ہیں کہ مصطفی کمال صاحب جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ سب ٹھیک ہی ہو مگر یہ جس طرح سے کہہ رہے ہیں یہ کسی بھی طرح سے قابل قبول نہیں ہونا چاہئے۔ تہذیب اور شائستگی ہمارا خاصہ ہے صرف وقتی شہرت حاصل کرنے کیلئے ہم اپنے آباؤ اجداد اپنے اسلاف کی روایات کا ترک کردینگے اور اپنا ورثہ دفن کردینگے کیونکہ آنے والی نسل کو آپ لوگ بدتہذیبی اور بداخلاقی کا عملی درس دینے پر تلے ہوئے ہیں ۔ آپ یہ بھی بھول گئے ہیں کہ اقتدار اور اختیار سب وقتی ہوتے ہیں حقیقت میں دنیا اپنے عملی کردار کو یاد رکھتی ہے۔

پاکستان کی بقاء کی خاطر اداروں کا احترام کیجئے اپنی انا کی تسکین کیلئے اداروں کا تقدس پامال مت کیجئے دنیا تو پہلے ہی پاکستان اور پاکستانیوں کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی اور آپ یہ موقع خود فراہم کرنا چاہتے ہیں ۔ خدارا ہوش کے ناخن لیجئے اپنے پیروں کو زمین پر رکھیئے اور ذرا دیر کیلئے اس جھلستی ہوئی دھوپ میں اپنے باغیچوں میں کام کرنے والے مالی کے پاس جا کر کھڑے ہوجائیے اور محسوس کیجئے کہ اصل پاکستان اور پاکستانی کیسے ہیں ۔

چھوٹے چھوٹے عہد ہماری زندگیوں میں تبدیلی لاسکتے ہیں یہ عہد اپنے ملک کے ساتھ کیجئے اپنے ملک کے لوگوں کے ساتھ کیجئے۔  وفاقی اور صوبائی حکومت صرف دال روٹی کو سستا کرنے کیلئے ایسی کوششیں کریں کے عام آدمی کو نظر بھی آئے اور پتہ بھی چلے ایسے ہی چھوٹے چھوٹے عہد کریں اپنے اپنے حلقوں میں یا علاقوں میں روز ہی کوئی نا کوئی لقمہ اجل بن جاتا ہے جب جب پتہ چلے نماز جنازہ میں شرکت کیجئے کوئی وعدہ نا کیجئے اور کچھ بھی نا کیجئے بس جا کے لواحقین سے گلے مل لیجئے اور انکے غم میں شریک ہونے کا احساس دلا دیجئے۔  تبدیلی لانے کیلئے ہنگامی اقدامات تو کرنے پڑینگے مگر بغیر اخلاقیات کے کچھ بھی دیر تک نہیں چلنے والااور یہ بات ہم سب جانتے ہیں ۔ یہ زور یہ طاقت سب کچھ وقتی ہے۔  ہمارے پیارے نبی ﷺ نے رہتی دینا تک کیلئے معاشرے کو مرتب کیا،  قانون کو نافذ کیا اور معیشت کو فروغ دیا اور اخلاقیات کو سب کا ماخذ قرار دیا۔ یہ اخلاقیات ہی تھی کہ آپ ﷺ نبوت سے پہلے ہی مکہ والوں کے دلوں میں اپنے آپ کو صادق اور آمین ثابت کر واچکے تھے۔

ہم تو وہ ہیں جن کی بنیاد ہی اخلاقیات کو بنایا گیا، آج ہمارا ہرعمل ہی اپنے نبی ﷺ کی تعلیمات کی نافرمانی کرتا چلا جا رہا ہے۔  اگر ہم اخلاقیات کا دامن تھام لیں جو ہمارے ایمان کا ایک جز ہے تو ناصرف ہماری انفرادی بلکہ اجتماعی زندگی بھی پرسکون ہوجائے گی اور ملک میں پھلتی پھولتی انارکی بھی دم توڑتی جائے گی۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم پاکستان اور اپنے آپ کو بچانا چاہتے بھی ہیں ؟بصورت دیگر اخلاقیات کا جنازہ نکل تو پڑا اب اس کو کاندھا دے کر دفنانا باقی ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

  1. دین بہرحال ایمان و اخلاق ہے اور انسان کو علم و عمل کے بہترین مدارج تک لے جاتا ہے، ذہنی اِفلاس اور سماجی اپاہج پیدا کرنا کبھی دین کا منشا نہیں آج اگر پیغمبر تشریف لاتے تو علم و فن و ہنر میں ترقی کو اپناتے و فروغ دیتے ہوئے اسکی سمت متعین کرتے اور اس تمام ترقی و فلاح کو اصلاً ایمان و اخلاق کے گرد گھماتے کہ اساس یہی ہے ـ جن کرمفرماؤں نے دین کو عرب تہذیب اور ساتویں صدی میں مقید کرنے کی غلط فہمی پالی ہے وہ دین و پیغمبر پر ایک الزام لگا رہے ہیں کہ وہ آفاقی نہیں مقامی ہے اور یہ کہ دائمی نہیں وقت و زمان سے محدود ہے اور ایسا کر کے بہتوں کو متنفر کرنے کا سبب بنے ہیں اور بیزاری و فتنہ کی ایسی کیفیت پیدا کر گئے ہیں جس سے قرآن کا بیان کردہ مومن پناہ مانگتا ہے کہ اے رب ہمیں ظالموں کافروں کیلیے فتنہ نہ بنا دینا ـ آمین ـ ضرورت اس امر کی ہے کہ دین کو اسکی اساسات میں سمجھا جائے اور حکمت میں جانا جائے نیز پیشہ وری سے بچا کر ایمان و اخلاق و کردار کےحوالے سے برتا جائے کہ حُلیہ و حِلیہ کبھی اصل نہیں ہوتے ـ

متعلقہ

Close