معاشرہ اور ثقافتملی مسائل

اسلام میں طلاق کا تصور اور اس کی ضرورت!

عبدالقادر صدیقی

  شادی داراصل دو دلوں کا اگریمنٹ ہے ، اگر دو روح مل جاتے ہیں مزاج مل جاتا ہے عادات و اطوار مل جاتے ہیں تو زندگی خوشگوار ہو جاتی ہے ۔ اگر اس اگریمنٹ میں مزاج نہیں مل پاتا ہے ، ذوق اور شوق نہیں مل پاتا ہے ۔ تب مسائل پیدا ہوتے ہیں اور دونوں کے درمیان آپسی رنجش بڑھتی ہے۔ اس کے حل کے لیے کائونسلنگ کی جاتی ہے ، تدابیریں کی جاتی ہیں اور سب تدبیریں جب الٹی پڑجاتی ہیں تب ’’ کچھ نہ دوانے کام کیا ‘‘ کہہ کر نہیں بیٹھا جا سکتا ہے بلکہ اب اس کا آخری حل جدائی آتا ہے جسے شریعت مطہرہ کے مقدس اصطلاح میں ’’ طلاق کہا جاتا ہے۔ ‘‘ اور جس کی تشریح امام الہند نے یوں فرمائی ہے :’’نکاح کا مقصد یہ ہرگز نہیں ہے کہ ایک مرد یا ایک عور ت لا محالہ طور پر کسی ایک کے گلے پڑجائے ، اور نہ یہ ہے کہ عورت کو مرد کی خود غرضانہ زندگی کا آلہ کار بنا دیا جائے ۔ بلکہ اس کا اصل مقصد یہ ہے کہ اس سے ایک کامل اور خوشحال ازداجی زندگی کاآغاز ہو ۔ اور ایسی زندگی جب ہی ہو سکتی ہے جب آپس میں محبت اور ساز گاری ہو ۔ ۔۔۔ اور خدا نخواسطہ ایسا نہ ہوا تو نکاح کا اصل مقصد فوت ہو گیا اور ضروری ہو گیا کہ دونوں فریق کے لیے تبدیلی کا دروازہ کھو ل دیا جائے ۔ اگر نکاح کے مقصد کے فوت ہو جانے کے بعد مرد و عورت کو علحدگی کا حق نہ دیا جاتا تو یہ انسان کے ازادانہ حق انصاف کے خلاف ظالمانہ رکاوٹ ہوتی اور ازدواجی زندگی کی سعادت سے انسانی سو سائٹی محروم ہو جاتی۔‘‘ ( ترجمانالقران ، جلد 2، ص،198)

  ساتویں صدی عیسوی میں جب اسلام کا ظہور ہوا تب دنیا اس حقیقت سے باکل نا آشانا تھی کہ مردوں کی طرح عورتوں کے بھی حقوق ہو سکتے ہیں ۔اسلام سے قبل دنیا کے مذاہب میں طلاق کے معاملے میں بھی بڑی کمیا ں اور زیادتیاں نظر آتی ہیں ۔ یہودیوں کے یہاں طلاق کی کوئی قید ہی نہیں تھی ، مرد جب چاہے جسیے چاہے طلاق دے کے چھٹکارا حاصل کرلے نہ کوئی روک نہ ٹوک ۔ تلمود کے مطابق بس ایک نکاح نامہ لکھ کر بیوی کے ہاتھ میں تھما دے اور طلاق واقع ہو گئی اس شتر بے مہار آزادی کے برعکس عیسائی مذہب میں طلاق کی گنجائش ہی ختم اور بائبل نے اپنے احکام’’ جسے خدا نے جوڑا اسے آدمی جدا نہ کرے‘‘ اور یہ کہ جو پہلی بیوی کو چھوڑ دے اور دوسری شادی کرلے تو گویا وہ پہلی سے زنا کرتا ہے ۔ اور عورت اگر مرد کو چھوڑ دے تو اور دوسرا بیاہ کرلے تو وہ زنا کرتی ہے۔ اس سختی کا نتیجہ یہ نکلا کہ عیسائی سماج میں دوسری شادی یا طلاق تو ممنوع ہو گیا لیکن ناجائز معاشقے خوب پروان چڑھے۔ اور جب اس کی سختی سے زندگی اجیرن بننے لگی تب پروٹسنٹ فرقہ میں طلاق کی اجازت (جو کہ مارٹن لوتھر اور ان جیسے کے مذہبی اصلاحی تحریک کی کوشش سے )ان شرطوں کے ساتھ ہوئی کہ پہلے عدالت میں کسی فریق کے گواہ سے دوسرے فریق کا ارتکاب زنا اور ظلم ثابت ہو جائے۔ ادھر ہندو ، یونانی اور رومن تہذیب طلاق کے تصور سے عاری رہے۔ (تفسیر ماجدی، جلد ،ا)۔

 منو مہاراج کے قانون ’’منو‘‘ نے عورت کی ہستی کو صرف اس طرح دیکھا تھا کہ وہ مرد کے بچوں کے لیے پیدائش کا ذریعہ ہے ۔اور اس کی نجات صرف اس پر قائم رہی کہ وہ مرد کی خدمت گزاری میں اپنی زندگی ختم کردے ۔( ترجمان القران : جلد ۱ ص ۱۸۷)یا پھر شوہر کے گزر جانے کی صورت میں اس کے ساتھ چتا پر لیٹ کے اس کے ساتھ ہی’’ سورگ باسی‘‘ بن جائے۔ ویدک دور کو چھوڑیے آزاد ہندوستان میں ہندووں مین طلاق کا تصور نہیں تھا۔ وہ تو آزادی کے بعد ج  1956 میں ہندو میرج بل پاس ہو تب جائداد اور طلاق کا حق ملا۔ لیکن قران نے چودہ سو برس پہلے یہ اعلان کر کے ’’ ولھن مثل الذی علیھن بالمعروف‘‘ ( اور حسن سلوک میں بیویوں کے حقوق بھی مرد پر ایسے ہی ہیں جیسے شوہر کے بیوی پر) انسانی سماج میں سب سے بڑے ا نقلاب کا اعلان کردیا ۔ اس اعلان نے گڑی پڑی عورت کو خاک سے اٹھا یا اور عزت کے تخت پر بٹھایا ۔ اسلام نے انسانی مزاج کا پورا خیال کرتے ہوئے اور زندگی کی عملی ضرورتوں اور تقاضوں کو ملحوض رکھتے ہوئے مخصوص حالات میں جبکہ شوہر اور بیوی کے درمیاں مزاج نہ ملنے کی صورت میں زندگی تلخ ہونے لگے تب اس کا آخری علاج یہ بتایا ہے کہ فریقین ہنسی خوشی نکاح کو ختم کر کے ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں ۔ اور اس کے لیے کسی کورٹ کچہری کا چکر لگانے اور وقت برباد کرنے ، تماشا بنانے، ایک دوسرے پر الزام دھرنے ،وکیل کے سامنے جھوٹی سچی قسمیں کھانے، خود کا اور خاندان کا مذاق بنانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ بس تین عدت میں تین طلاق دے کر ایسے ہی آسانی سے جدا ہوجانا ہے جیسے ایک ’’قبول ہے‘‘ کہہ کے شادی کے مقدس بندھن میں بندھ گئے تھے ۔ لیکن اس طلاق کو بھی یوں ہی یہودیوں کی طرح بالکل آزاد نہیں چھوڑ دیا گیا ہے بلکہ اس کے حدودد و قیود اور شرائط عائد کی گئی ہیں ۔

 حنفیہ کے نزدیک طلاق کی تین قسمیں ہیں ، طلا ق احسن ، طلاق حسن اور طلاق بدعت۔ اس میں طلاق احسن یہ ہے کہ بیوی کو ایک طلاق دی جائے اور پھر حیض کی تین مدت کے گزر جانے کا انتظار کیا جائے ا س اثنا میں بیوی شو ہر کے گھر ہی رہے ( البتہ چند مخصوص کیس میں اگرمعاملا فحاشی کا ہو تو اسے ا س کے گھر بھیجی جا سکتی ہے۔) ۔ یہ بات ملحوظ رہے کہ اس دوران شوہر اس سے جنسی رابطہ نہیں رکھ سکتا ہے۔ جب تک کہ اس سے رجوع نہ کرلے یعنی طلاق واپس نہ لے لے۔ جیسا کہ قران نے کہا ہے: ’’ اے نبی آپ لوگوں سے کہ دیجیے کہ جب تم عورتوں کو طلاق دینے لگو تو ان کی عدت پر طلاق دو اور عدت کو خیال ( یاد) رکھو، اور اپنے پرور دگار سے ڈرتے ر ہو،انہیں ان کے گھر سے نہ نکالو اور نہ (وہ) خود نکلیں بجز اس کے کہ وہ بے حیائی کا ارتکاب کریں ۔ یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں جو کوئی اللہ کے حدود سے تجاوز کرے گا اس نے اپنے اوپر ظلم کیا۔ تمہیں خبر نہیں کہ اللہ شاید اس کوئی نئی بات پیدا کردے‘’سورہ طلاق:1 ( ایسے ہی طلاق حسن میں بھی مرد تین مہینہ انتظار کریگا لیکن اس درمیان وہ ہر مہینے حیض سے پاکیزگی کے بعد اسے ایک طلاق دے گا تیسری عدت میں خواہ وہ طلاق دے یا نہ دے اگر عدت گزر گئی اور اس نے رجوع نہیں کیا تو طلاق ہو جائے گی ۔ بقول امام لہند مولانا آزاد : طلاق دینے کا طریقہ یہ ہے کہ وہ تین مرتبہ تین مجلس میں تین مہینوں میں ایک کے بعد ایک واقع ہوئی ہے ۔ اور وہ حالت جو نکاح کو قطعی طور پر رشتہ نکاح کو ختم کر دیتی ہے وہ تیسرے مہینے اور تیسری طلاق کے بعد میں وجود میں آتی ہے ۔ اس وقت تک جدئی کے ارادے سے باز آجانے اور ملاپ کرلینے کا موقع باقی رہتا ہے۔ پس نکاح کی بات کو ئی ایسی چیز نہیں کہ جب چاہا پل کے پل میں توڑ کر رکھ دیا ۔ اس کے توڑنے کے لیے آخری منزل سے گزرنے اچھی طرح سوچنے سمجھنے اور تمام تر مصالحت کی کوشش کی ناکامی کے بعد آخر میں مایوسی کی صورت میں آخری فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ اور شوہر کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ بیوی کو جو کچھ دے چکا ہو وہ واپس لے لے جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ کیا کرتے تھے ( اور جدید جاہلیت میں لیو ان ریلشن شپ میں ہو تا ہے )۔ اب جب کہ عدت کا زمانہ پورا ہو گیا اور طلاق ہو گئی تو عورت کو پورا حق اور اختیار حاصل ہے کہ اپنی پسند کا دوسرا دولہا دھونڈھ لے اور اس کے ساتھ اپنا گھر بسا لے , اسے نہ کو ئی روک سکتا ہے اور نہ ٹوک سکتا ہے ۔

طلاق کی ایک تیسری قسم طلاق بدعت ہے جسے سخت نا پسند کیا گیا ہے اس میں ایک مرد اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاق دے دے تو ایسی صورت میں احناف ( حنفی مسلک یا اسکول) کے نزدیک طلاق واقع ہو جائے گی ۔وسرے خلیفہ حضرت عمر کے پاس جب بھی اس طرح کا کیس آتا تو وہ ایسے شخص کی پیٹھ پر کوڑے لگا تے تھے ۔ اس لیے طلاق کا پہلا دو طریقہ حسن اور احسن ہی علما ء فقہا اور اسلامی اسکالرس کے نزدیک درست ہے طلاق بدعت کی وہ مذمت اور حوصلہ شکنی کرتے ہیں ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عبدالقادر صدیقی

ریسرچ اسکالر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ، حیدرآباد

متعلقہ

Back to top button
Close