گوشہ اطفالمعاشرہ اور ثقافت

اسٹریٹ چلڈرن اور معاشرہ (2)

شہزاد سلیم عباسی

پاکستان، بنگلہ دیش، برکینا فاسو، کمبوڈیا، کمیرون، کولمبیا، کوسٹا ریکا، ایتھوپیا، جرمنی، گانا، ہیٹی، بھارت کینیا، مالی، موریشس، موروکو، فلسطین، فلپائن، پولینڈ، رومانیہ، روس، سنیگال، سربیا، سائوتھ افریقہ، سری لنکا، تھائی لینڈ، ٹوگہ، یوگانڈا، ویتنام، زامبیا، زمبابوے، عراق، یمن، شام، افغانستان وغیرہ میں سٹریٹ چلڈرن کی بڑی تعداد موجود ہے۔ انڈیا میں اس وقت ایک ملین سٹریٹ چلڈرن ہیں۔ ہم روزانہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ ہم اپنے سے کم ترکو انسانیت کے درجے سے گرا محسوس کرتے ہیں اور خود کو اشرف المخلوقات سے بھی آگے کی کوئی توپ چیز سمجھتے ہیں۔ حالانکہ اللہ کے ہاں معراج اور درجہ اگر کسی انسان کا ہے تو وہ صرف متقی کا ہے، حسب و نسب، جاہ و جلال، نزاکت و خوبصورتی اورمال و دولت توسب آزمائش ہیں۔ گاڑی کے شیشے پر کپڑا مارنے والا بچہ، جوتے پالش کرنا والا، گاڑی کا مکینک، معذور، تیسرے درجے کی مخلو ق، پاگل، بھکاری، میراثی اور موچی سب ایک آدم کی اولاد ہیں اور کسی کو طعنہ یا نیچ ذات کہنا العیاذ باللہ دراصل خدا کی بناوٹ کی توہین و تذلیل ہے۔

سرکاری سروے کے مطابق تقریبا 1.5 ملین بچے پاکستان کی گلیوں پر رہتے ہیں اورپاکستان میں 22.6 فیصد بچے سکول نہیں جاتے۔ یہاں 6سے 18سال تک سڑکوں پر چلنے والے 66 فیصد بچے وہ ہیں جنہوں نے گھر، کام کی جگہ اور تعلیمی اداروں میں تشدد کا سامنا کرنے کے بعد اپنے گھروں کو چھوڑا ہے۔ سڑک پر رہنے والے بچوں میں روزانہ کی بنیاد پر جنسی بدعنوانی Protitiusion کی شرح 90 فیصد سے زیادہ ہے۔ پاکستان میں سڑکوں پر رہنے والی صرف آٹھ فیصد خواتین ہیں۔ گلیوں میں خانہ بدوشوں کی سی زندگی گزارنے والے اکثر بچوں کو مخصوص مقاصد کے لیے اٹھالیا جاتا ہے اورانڈر ورلڈ کی مارکیٹ (کالے جرائم کی دنیا) میں 25,000سے لیکر 40,000میں فروخت کیا جاتا ہے۔ بعد میں انہیں بھیک مانگے، چوری، ڈاکے مارنے اور دھندے کی مخبری جیسے غلیظ کاموں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اور لڑکیوں کی صورت میں حوا کی بیٹی کی عزت سرعام اور سرشام ہوٹلوں میں نیلام ہوتی ہیں اور یہ کاروکاری ہوٹل انتظامیہ، ایڈ منسٹریشن، پولیس اور گینگ مافیہ کی ملی بھگت سے ہوتا ہے اور اکثر اوقات تو اس میں علاقے کا ایم این اور ایم پی اے تک شامل ہوتا ہے۔

وائس آف امریکہ کی عائشہ خان کی ایک ویڈیو رپورٹ کے مطابق کراچی میں 70ہزار سے زائد بچے سڑکوں پر زندگی گزارتے ہیں اور ان میں سے 20,000بچے ایسے ہیں جو بلکل لاوارث ہیں اور صمد بونڈ، سگریٹ، بیڑی، چرس، نسوار اور گانجا کا نشہ کرتے ہیں۔ اور ان سے ہر قسم کے برے کام جبراکروائے جاتے ہیں جن کاانہیں یومیہ پچاس سے سو روپیہ دیا جاتا ہے۔ کیا کبھی ہم نے دل کے دریچوں سے ان بے آسرا بچوں کے بارے میں سوچا ہے کہ یہ کہاں سے سڑکوں اور گلیوں میں آجاتے ہیں ؟کیا یہ وہ بچے ہیں جو ہمارے ڈر، خوف اور ذہنی و جسمانی تشدد کی وجہ سے گھر وں سے بھاگ جاتے ہیں یا وہ بچے ہیں جو پریشانی، غربت یا کمپلیکس کا شکار ہو کر گھروں کو خیر آباد کہہ دیتے ہیں ؟کیا یہ وہ بچے ہیں جو ہماری لاپرواہی کا ماتم کرتے ہیں یا ہیومن ٹریفکنگ یا کڈناپنگ کی بھینٹ چڑھتے ہیں ؟غلطی گھر والوں کی ہے یا سیکورٹی اداروں کی ؟ یہ سب وہ سوالات ہیں جن سے بالاآخر ہمیں نبر دآزما ہونا ہے۔

بچوں پر لاکھوں صفحات زیب قرطاس کیے جاسکتے ہیں لیکن تحریر کی تنگ دامنی کی وجہ سے چند عملی نقاط کا تذکرہ ضروری ہے جن کا تعلق Children rightsسے ہے۔ (1)۔ 5سے 16سال کے بچے کو مفت لازمی تعلیم دی جائے۔ (2)۔ پہلی سطح پر سٹریٹ چلڈرن بچوں کے لیے فارمل ایجوکیشن (Formal Education) اور دوسرے مرحلے پر غیر رسمی (Non-Formal) طریقہ تعلیم سے انہیں قومی دائرے میں لانے کی کوشش کی جائے۔ (3)۔ 12 اپریل سٹریٹ چلڈرن اور 20نومبر یونیورسل چلڈرن ڈے کو Celebrateکرنا اتنا ہی ضروری قرار دیا جائے جتنا کہ یوم پاکستان ہے۔ (4)۔ سوشل سیکٹر کے بجٹ ( تعلیم، صحت اور بچوں کے حقو ق )میں سٹریٹ چلڈرن کا بھی خیال رکھا جائے۔ (5)۔ معاشی و معاشرتی انسانی پہلوئوں کا از سر نو جائز لے کر کوتاہیوں اور غلطیوں کا ازالہ کیا جائے۔ (6)۔ ہیومن ٹریفکنگ اور کڈناپنگ کے ذمہ داروں کو پکڑ کر قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ (7)۔ افغان پناہ گزینوں پر کڑی نگاہ رکھی جائے۔ (8)۔ ہریوسی میں ایک نمائندہ مقرر کیا جائے جو کہ بچوں اور خواتین کے حقوق کے لیے Dedicatedہواور مختلف این جی اوز، ہیومن رائٹس تنظیموں اور حکومتی اداروں کے ساتھ مل کر انہیں نارمل، سیکیور اور سٹیبل زندگی میں لانے کے لیے کوشاں رہے۔ (9)سب سے آخری اور اہم بات کہ اگر کوئی بچوں کو کسی مقصد کے لیے استعمال کرتا ہوا پایا جائے تو اسے سزائے موت دی جائے تاکہ آئندہ کوئی ایسے گھنائونے فعل کا گمان بھی نہ کرسکے۔ مگر افسوس ملک میں موجود چائلڈ پروٹیکشن سینٹرز، بیوروز کی حالت زار اور حکومت کی بچوں کے معاملے میں عدم دلچسپی دیکھنے سے یہ گمان ہوتا ہے جیسے ان بے آسرا بچوں کی زندگی کیساتھ کھلواڑکا دروازہ کبھی بند نہیں ہو گا۔

(پچھلے کالم میں غلطی سے الخدمت فائونڈیشن کے پروگرام چائلڈ پروٹیکشن سنٹر کے تحت ایک سٹریٹ چائلڈ کی سالانہ سپانسرشپ 11,58,300لاکھ لکھی گئی تھی جو کہ دراصل 50ہزار روپے سالانہ ہے)۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close