اسٹریٹ چلڈرن اور معاشرہ

 شہزاد سلیم عباسی

یونیسکو، گلوبل سروے، ہوم لیس ورلڈ کپ فائونڈیشن، دنیا بھر میں سٹریٹ چلڈرن کے لیے حصہ بقدر جثہ کام کرنے والی ہزاروں تنظیموں اوردستیاب ڈیٹا بیس کے مطابق اس وقت تقریباََ 7بلین کی آباد ی میں سے 1.6بلین آبادی سٹریٹ چلڈرن پر مشتمل ہے۔ اسٹریٹ چلڈرن بچے جب d Unattendeہوتے ہیں تو زمانے کا سب سے بڑا بگاڑ بنتے ہیں ۔ یو ایس جیسے بڑے ملک میں گلی کے آوارہ بچوں کی تعداد 1.7ملین سے زیادہ ہے۔ یو ایس این جی او Do Something.Orgکے مطابق یہاں 75%بچے ڈرگز اورsexual assault کا شکار ہو جاتے ہیں جن میں سے ہر سال پانچ ہزار سے زائد بچے بیماری، معاشرتی تشدد اور خودکشی کی وجہ سے مر جاتے ہیں ۔

The National Network for Youthکی رپورٹ کے مطابق عام بچے کے مقابلے میں اسٹریٹ چائلڈ تین گناہ زیادہ جنسی زیادتی کا شکار ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں اٹھار ہ سال سے کم عمر بچہ جو لا وارث، یتیم، مفلوک الحال،جنسی، جسمانی و ذہنی تشددکا شکارہو وہ بد قسمت سڑیٹ چائلڈکہلا تا ہے۔ معاشرے کے کسی بھی جبر کی وجہ سے بچہ سٹریٹ چائلڈ کا لباد ہ اوڑھ لیتاہے۔سٹریٹ چلڈرن بچے بنیادی طور پر تین قسم کے ہوتے ہیں ۔(1) جو سڑکوں یا گلیوں میں کمائی کی غرض سے بغیر فیملی کے اپنی زندگی بسر کرتے ہیں ، (2)دوسرے وہ جو دن کو پناہ لینے کے لیے سڑکوں اور چوراہوں میں روزی کا بندوبست کرتے نظر آتے ہیں اور شام میں اپنی فیملی کیساتھ کسی چھونپڑے وغیرہ میں سوتے ہیں ۔ (3) تیسری قسم کے سٹریٹ چلڈرن وہ ہیں جن کا مستقل ٹھکانہ ٹھٹھرتی راتوں اور تپتے دنوں میں بھی سڑکیں ،فٹ پاتھ، گٹروں کے ڈھکن،ندی نالوں کے اطراف،پلوں کے سائے اور پارکو ں کے سائبان وغیرہ ہوتے ہیں جہاں وہ اپنے خاندانوں کیساتھ گزربسر کرتے ہیں ۔ مذکورہ تینوں قسم کے بچے ہر وقت کسی نہ کسی استحصال کا شکار رہتے ہیں ۔

اسٹریٹ چلڈرن کا لفظ سب سے پہلے 1948میں ایلن بال نے اپنی کتاب ہسٹری آف ابینڈ نڈ چلڈرن میں استعمال کیا۔ بچوں کے حقوق کے کنونشن آرٹیکل 271کے مطابق ریاست کا بنیادی حق ہے کہ اس کی ہر بنیادی ضرورت باالخصوص تعلیم، صحت، خوراک، رہائش وغیرہ کا بندوبست کرے۔ہر سال 20نومبر کو بچوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔پاکستان میں اٹھارہ سال تک کے بچوں کی تعداد 49فیصد ہے۔ یونیسف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 45لاکھ بچے یتیم ہیں جن کی عمریں 17سال سے سے کم ہیں۔ پاکستان میں صوبوں نے سٹریٹ چلڈرن کے لیے کچھ برائے نام کیا ہے جیسے کہ خیبر پختون خواہ میں چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر ایکٹ 2010ء کا مقصد بچوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے جو کہ عملاسفید جھوٹ کے مترادف ہے۔کے پی کے میں غذائی قلت کی وجہ سے پانچ سال سے کم عمراٹھتالیس فیصد بچے پست قداور سترہ فیصد وزن کی کمی کا شکا رہیں ۔ یہاں 15لاکھ سے زائد پندرہ سے سولہ سال کی عمر کے بچے تعلیم سے محروم ہیں ۔

غذائی قلت کی وجہ سے بچے سمگلنگ، عصمت فروشی، منشیا ت فروشی میں پڑے ہیں اوردہشت گردی کے واقعات میں بھی ملوث پائے گئے ہیں ۔بے سہار ابچوں کے قانون میں پنجاب حکومت کی موجودہ ترمیم کے مطابق بچوں پر ظلم وزیادتی کے تمام جرائم ناقابل ضمانت قراردیے گئے۔اور سیکشن 20A کے تحت بچوں کے قیام و طعام کا بندوبست کرنے والی تنظیموں کے لیے چائلڈپروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیوروز سے رجسٹریشن کرانا لازمی ہوگی۔ بچوں کو تنگ کرنے والے پر تین لاکھ روپے جرمانہ کے ساتھ سات سال قید او ران سے سامان منگوانے اور کچرا اٹھوانے بھی جرم قراردیا گیاہے۔ سندھ چلڈرن ایکٹ1955ء اور سندھ اتھارٹی ایکٹ 2011ء بچوں  کی حفاظت کے لیے خوش آئند قوانین ہیں ۔ افسوس صدر افسو س صوبائی سطح پر پنجاب، خیبرپختون خواہ اور سندھ میں بچوں کے حقوق کی باتیں صرف ہوائی اور کتابی باتیں نظر آتی ہیں جبکہ بلوچستان کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔

Zamoung Korنام کا ایک ادارہ خیبر پختون خواہ میں سٹریٹ چلڈرن کی پرورش کے لیے کھولا گیاہے جس کا باقاعدہ آغاز پشااور سے کیا گیا اورکچھ سٹریٹ چلڈرنز کا داخلہ بھی کیا گیا جو احسن عمل مگر اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترداف ہے۔ الخدمت فائونڈیشن پاکستان اور ایدھی فائونڈیشن جیسے اداروں کو چاہیے کہ وہ ان ٹھکرائے ہوئے بچوں پر توجہ دیں اور ان کو ملک کا بہتر شہری بنانے میں اپنا کردار ادا کریں کیونکہ حکومت کی ترجیحات میں نہیں ہے کہ وہ اپنی عیاشی کی زندگی سے لفظ اشرافیہ کے لقب کو تاراج کرکے معصوم پھولوں کو نئی زندگی دے۔

الخدمت کے شعبہ سٹریٹ چلڈرن کے انچارج علی ارسلان نے بتایا کہ الخدمت کے سترہ سڑیٹ چلڈرن سنٹروں پر 688غریب و لاچار بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں جس میں انہیں بنیاد ی تعلیم وتربیت، ریفریش منٹ، صحت وصفائی، گیمز،سیروسیاحت اور تحائف وغیر ہ دیے جاتے ہیں اور ان کے والدین کی کائونسلنگ بھی کی جاتی ہے۔ الخدمت کے ایک سٹریٹ چلڈرن کا خرچہ 11,58,300روپے  ہے۔ الخدمت کے کام کو قریب سے دیکھنا ایک خوشگوار تجربہ تھا۔ جس طریقے سے الخدمت اپنے مختلف ڈیپارٹمنٹس اور پروگراموں کے لیے پالیسی، مینول، ٹی اور آرزاور گائیڈ بکس بناتی ہے وہ کمال ہے۔ باالخصوص جس طرح سٹریٹ چلڈرن بچوں کے لیے 27صفحات پر مشتمل ایس او پیز کا کتابچہ مرتب کیا ہے وہ قابل تقلید ہے۔ راقم کی رائے میں جو ادارے سٹریٹ چلڈر ن کے لیے کام کررہے ہیں انہیں الخدمت کے ا نSOP’sکا ضرور جائزہ لینا چاہیے۔



⋆ شہزاد سلیم عباسی

شہزاد سلیم عباسی

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

اسٹریٹ چلڈرن اور معاشرہ (2)

پاکستان، بنگلہ دیش، برکینا فاسو، کمبوڈیا، کمیرون، کولمبیا، کوسٹا ریکا، ایتھوپیا، جرمنی، گانا، ہیٹی، بھارت کینیا، مالی، موریشس، موروکو، فلسطین، فلپائن، پولینڈ، رومانیہ، روس، سنیگال، سربیا، سائوتھ افریقہ، سری لنکا، تھائی لینڈ، ٹوگہ، یوگانڈا، ویتنام، زامبیا، زمبابوے، عراق، یمن، شام، افغانستان وغیرہ میں سٹریٹ چلڈرن کی بڑی تعداد موجود ہے۔ انڈیا میں اس وقت ایک ملین سٹریٹ چلڈرن ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے