معاشرہ اور ثقافت

 اسی روز و شب میں اُلجھ کر نہ رہ جا

شیخ فاطمہ بشیر

 سال 2017 کی رخصتی اور سالِ نو 2018 کا آغاز۔ کیا یہ وقت خوشیاں منانے کا ہے؟ ملّت کے نوجوان، ہمارے وطنی بھائیوں بہنوں کے ساتھ مل کر نئے سال کے جشن کی تیاریوں میں مصروف ہیں ۔ 2018 کا طلوع ہونے والا سورج ہمارے لیے کیا سوغات لائے اس سے ہم ناعلم ہیں لیکن کہیں یہ ہماری زندگی کا آخری سورج نہ ثابت ہو اور یہ سال ہماری سانسوں کے لیے آخری لمحات نہ بن جائے۔

 گلشن میں یہ پھولوں کا تبسم کب تک

 بلبل کے یہ نغمے یہ ترنم کب تک

 دو روزہ ہے یہ جشنِ بہاراں اے دوست

یہ کون بتائے کہ ہیں ہم تم کب تک

اللہ کی مشیّت سے دو روز بعد 2018 میں ہم داخل ہوجائیں گے۔ افسوس کا مقام ہے کہ اُمتِ مسلمہ نئے ہجری سال کے آغاز سے بےخبر ہوتی ہے لیکن اس وقت عیسوی سال کے استقبال کے لیے تمام تیاریوں سے لیس ہیں ۔ بحیثیتِ مسلمان اگر سالِ نو کے جشن کا ہمیں حق ہوتا تو وہ نئے اسلامی سال کی پہلی تاریخ ہوتی، جب سرورِ کائنات صل اللہُ علیہِ و سلم مکّہ کی تکلیفوں سے نکل کر مدینہ تشریف لائے اور ایک نیا اسلامی معاشرہ تشکیل دیا۔ ہجرتِ مدینہ کے بعد 10 برس حیات رہے لیکن ان ایّام میں نہ کبھی خوشیاں منائی اور نہ صحابہ اکرام (رض) کو اس بات کی تاکید و تلقین کی۔ لیکن افسوس کہ آج ہم نئے عیسوی سال کا جشن بڑے جوش و خروش سے منارہے ہیں ۔ جبکہ آیتِ ربّانی ہے، "بےشک تمہارے لئے تمہارے رسول میں ایک ‘بہترین نمونہ’ ہے۔ (سورۃ الاحزاب: 21)۔ "

 اس بیتے ہوئے سال پر ہم سرسری نظر ڈالے تو اندازہ ہوگا کہ 2017 کی ابتداء بھی جشن، دھینگا مستی اور رقص و سرور کی مجالس سے ہوئی تھی لیکن بےشمار تکلیف دہ واقعات، خوشی کے لمحات پر غالب آگئے اور نئے سال کی نیک و مبارک خواہشات بھی ان حادثات کو روک نہیں پائے۔ وطنِ عزیز نے جہاں اگنی-4 کا کامیاب تجربہ کیا وہیں معصوم سنتوشی کماری بھات بهات کہتے ہوئے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ کئی مظلوم جانیں فرقہ واریت کی آگ میں جُھلسا دی گئی۔ سینئر اور بہادر صحافی گوری لنکیش کو ہمیشہ کے لئے ہم سے جُدا کردیا  گیا۔ دو دہائی کی ریکارڈ توڑ برف باری اور تمل ناڈو و دیگر ریاستوں میں اوکھی طوفان نے زبردست تباہی مچائی۔ شام، روہنگیا، عراق و فلسطین فساد، جنگ، نسل کشی، غارت گری اور خانہ جنگی کا شکار رہے تو ترکی میں طیّب اردگان کی جیت نے اسلامی دنیا میں ایک انقلاب برپا کر دیا۔ اس ترقی یافتہ دور میں جہاں روہنگیائی مسلمانوں کو ملک بدری کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑی وہیں دوسری طرف برما کے معصوموں کی تصاویر ایک الگ حقیقتِ حال بیان کرتی ہیں ، جہاں کئی نوجوان شہید، کئی بچے یتیم، کئی عورتیں بیوہ اور کئی ماؤں کی گودیں اُجڑگئی۔ دیش میں GST نے متوسط طبقوں ، غریبوں ، کسانوں اور مزدوروں کی کمر توڑ ڈالی نتیجتاً خودکشی کا گراف بڑھتا چلاگیا۔ گورکھپور کے بی آر ڈی اسپتال میں آکسیجن کی کمی سے 300 معصوموں کی اموات نے دلوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ ریل و ہوائی حادثوں، گاڑیوں کے ایکسڈنٹ، بلڈنگ کے انہدام اور قدرتی آفات نے کئی اپنوں کو جُدا کردیا اور بیک وقت کئی روحیں  ربِّ پرور کی جانب پرواز کرگئیں ۔ ۶2017 کی ابتداء بھی رنگینیوں ، خوشیوں، روپیوں کی فضول خرچی اور وقت کی بربادی سے ہوئی تھی، لیکن رواں سال کے تکلیف دہ اوقات خوشیوں کے لمحات پر غالب آگئے۔

تقدیر کا لکھا کوئی ٹال نہیں سکتا۔ وقت گزرگیا اور گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں کے مصداق جو ہونا تھا وہ ہوگیا۔ لیکن اب یہ وقت ہمارے تزکیے اور احتساب کا ہے۔ تزکیہ اور محاسبہ اس بات کا کہ ہم نے گزشتہ دنوں کیا کھویا اور کیا پایا؟ اپنے زنگ آلود دلوں کو کتنا پاک کیا؟ عمرِ عزیز سے ایک سال بیت گیا اور یہ 365 دن ہم نے کن مشاغل میں صرف کیے؟ کیا ہم نے موت کے لیے خود کو تیار کیا؟ ملّت کی فلاح و بہبودی و خیرخواہی کے کتنے کام انجام دیے؟ لیکن افسوس کہ آج احتساب کے ان اوقات کو بھُلاکر ہم سالِ نو کی ابتداء لایعنی افعال، بےکار رسومات اور بےہودہ و فحش کاموں سے کرکے پورا سال اپنے آپ کو فضول، لغویات اور رقص و سرور کی مجالس کے لیے تیار کررہے ہیں۔ وقت ریتی کے مانند مسلسل پھسلتا چلا جارہا ہے اور بقول حضرت ابو بکر صدیق (رض) کہ اس دن پر آنسو بہا جو تیری عمر سے کم ہوگیا اور اس میں نیکی نہ ہو۔

احتساب کے ان لمحات کا استعمال کرکے ہمیں اپنا جائزہ لینا چاہیئے کہ ہم اپنی موت سے ایک سال قریب اور زندگی سے ایک سال دور ہوگئے ہیں ۔ روزِ قیامت کیا ہم اپنا نامہ اعمال اپنے ہاتھوں میں لینے کے لیے تیار ہے؟ جب ہر گروہ زانو کے بل گرِے ہوئے اپنے نامہ اعمال کی طرف بلایا جائے گا (سورۃ الجاثیۃ: 28)۔ یاد رہے قرآن کہتا ہے، "ہم نے ہر آدمی کا نامہ اعمال اُسکی گردن کے ساتھ لگادیا ہے اور قیامت کے دن ہم اُسکا نامہ اعمال نکال کر سامنے کردیں گے، اپنا نامہ اعمال پڑھ، آج اپنا حساب لینے کے لیے تو ہی کافی ہے (سورۃ الاسراء: 13-14)۔ ” اور پھر انسان کے تاثرات بیان کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے، "ہائے ہلاکت! یہ کتاب نہ کوئی چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے اور نہ کوئی بڑی بات (سورۃ الکہف: 49)۔ ” انسان جو بوئے گا وہی کاٹے گا، یہ دھمکی نہیں بلکہ اللہ ربّ العزت کا وعدہ اور حقیقت ہے کہ اس دن ذرّہ بھر نیکی اور بدی نکال لائی جائے گی اور کسی پر کچھ ظلم نہ ہوگا۔

 اسکے باوجود نامساعد حالات میں اُمیدوں کی ایک کرن اور وعدہ خداوندی ہمارے سامنے ہیں کہ اتنی سرکشی و بغاوت کے باوجود اللہ اُنھیں عذاب نہیں دے گا جنہوں نے بخشش مانگی ہو۔ اس وقت ضرورت ہے کہ ہم اپنے آپ پر نظر دوڑائے اور محاسبہ کرے کہ حیاتِ جاوداں کے کئ قیمتی لمحات ہم نے بےکار ضائع کردیئے ہیں لیکن جو قیمتی سال، مہینے، ہفتے، دن اور گھڑیاں ہمارے قبضے میں باقی ہے۔ ان انمول ساعتوں کو اللہ کی رضا و خوشنودی، اُمّت کی بھلائی و ترقی اور ملّت کے نوجوانوں کو راہِ حق کی سیدھی و صحیح فہم کے جانب راغب کرنے کے لیے صرف کرے۔ خدائے بزرگ و برتر کی خوشنودی کو ملحوظِ خاطر رکھ کر "جنّت” میں اپنے لیے جگہ بنوالی جائے، جہاں نیک اعمال ضائع نہیں کیے جائیں گے۔ ایسی جنّت جسکی تصویرکشی قرآن کچھ اسطرح کرتا ہے،

"اللہ انھیں ایسی جنتوں میں داخل کرے گا، جہاں باغات ہوگے اور ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ وہ اس میں سونے کے کنگن، دیبا اور اطلس کے سبز کپڑے پہنے تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوگے۔ کتنا اچھا ثواب اور بہترین آرام گاہ ہیں ۔ (سورۃ الکہف: 30-31)”

 اسی روز و شب میں اُلجھ کر نہ رہ جا

 کہ  تیرے زماں و مکاں  اور  بھی  ہیں

 (اقبال)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close