معاشرہ اور ثقافت

اصلاحِ معاشرہ

ابوالحسنات قاسمی

”اصلاحِ معاشرہ ”ایک خوبصورت نام و عنوان ہے، مگر بمصداق  ”تعرف الاشیاء باضدادھا” اس نام کے سنتے ہی ذہن کے دریچوں میں معاشرے کی خوبیوں کی بجائے وہ برائیاں گردش کرنے لگتی ہیں جنھوں نے مسلم معاشرے کو مسقوم و مسموم ( بیمار و زہر آلود) کردیا ہے۔ اصلاحِ معاشرہ کے نام و مقصد سے قومی و بین الاقوامی سطح پر نہ صرف مسلمانوں ( بلکہ دیگر مذاہب، ادیانِ باطلہ ) کی بھی ان گنت تنظیمیں و انجمنیں اور جماعتیں و ادارے قائم و سرگرمِ عمل ہیں، ان کی جانب سے وقتاً فوقتاً اجلاس و کانفرنسوں کا انعقاد بھی ہوتا رہتا ہے۔ ورقی و برقی (  حکومتی و غیر حکومتی ) ذرائعِ ابلاغ بھی اصلاح کے مقصد کے تحت پروگرام نشر و منعقد کرتے رہتے ہیں۔ ان ہمہ جہت مساعیٔ پیہم کے باوجود نتیجہ وہی ‘ ‘  یتیھون فی الارض  ” سے زیادہ کچھ نہیں۔ معاشرہ آج بھی صلاح کی بجائے فساد کی جانب انتہائی برق رفتاری سے گامزن ہے، منکرات و مفسدات کا دائرہ روز بروز وسیع سے وسیع تر ہوتاچلاجارہا ہے۔

کیا ہیں عدمِ ِاصلاح کے اسباب؟

اسباب و وجوہات دریافت کئے جائیں تو معاملہ بالکل واضح ہوجائے گا کہ مرض کی صحیح تشخیص و نباضی کی بجائے اٹکل سے علاج کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، شکار کہیں اور ہے تیر کہیں اور مارا جارہا ہے۔ واقعی مرض کا علاج نہ کرکے رجماً بالغیب (اٹکل اور ظنّ ) سے خیالی مرض تشخیص اور اس کا علاج تجویز کرلیا گیا۔ اور یہ طے شدہ امر ہے کہ اگر کسی بیمار فرد یا معاشرے کے حقیقی مرض و سقم کو تلاش کرکے اس کی جراحی نہ کی گئی تو اس فرد و معاشرے میں فساد و مہلک اثرات کا پھیلنا یقینی اور نتیجہ تباہی و بربادی ہے۔

معاشرے کی کما حقّہٗ اصلاح نہ ہوپانے کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ ( با وجودیکہ کتاب و سنّت میں منکرات اور اس کے انجام کو واضح کردیا گیا ہے پھر بھی ) دُعاۃِ اسلام ( مبلغین، مقررین، ائمّہ و خطباء )  ان کو بیان کرنے میں شش و پنج میں پڑے رہتے ہیں، معاشرے میں پھیلی ہوئی بلکہ جڑ پکڑچکی برائیوں کو واضح نہ کرکے گونگے پن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ کیا نصوص ( کتاب و سنّت ) میں اتّہام، الزام تراشی، استخفاف، تضحیک و تمسخر، خیانت، دروغ گوئی  و کذب بیانی،  زنا، سرقہ ، سبّ و شتم، شراب نوشی، طعن و تشنیع، عیب جوئی، عدمِ ایفائے عہد،  غیبت و چغلخوری، قتل و غارت گری، فتنہ و فساد ، وعدہ خلافی وغیرہ جیسے بے شمار برائیوں اور اس کے انجام و عواقب کو واضح نہیں کیا ہے ؟

پھر داعیانِ اسلام تسامح اور اشارے سے کیوں کام لیتے ہیں ؟ جس مقام،  تعلقہ، بستی، فرد میں جو برائی پائی جارہی ہے اس کو بلاکسی خوف و تردّد اور لومۃ لائم سے بے پرواہ ہوکر برائی کا نام لے کر بیان کیوں نہیں کرتے ؟ ( حج کرنے والے کو حاجی کہنے میں اگر فخر و مباحات محسوس ہوتی ہے، تو شراب پینے والے کو شرابی کہنے میں قباحت کیوں محسوس ہورہی ہے ؟ ) اس سلسلے میں کسی بھی طرح کی مصلحت کوشی معاشرے کے لئے انتہائی نقصان کا باعث ہے۔ اس امت کا بیڑہ غرق کرنے یا ہونے میں مصلحت کوشیوں کا بڑا دخل و کردار رہاہے۔ اس لئے داعیانِ دین اور مبلّغینِ اسلام سے دردمندانہ درخواست ہے کہ معاشرے کے ( افراد ) میں پائی جانے والی، پنپ رہی برائیوں کا کھل کر تذکرہ کریں تاکہ اس سے تا ئب ہونے یا باز آجانے میں ہی عافیت محسوس ہو۔

جب پیغمبرِ اسلام ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے فرمادیا : ”  مَن رأی منکم منکراً فلیغیّرہ بیدہ، فاِن لم یستطع فبلسانہ، فاِن لم یستطع فبقلبہ، و ذٰلک أضعف الاِیمانِ . ( رواہ مسلم )  ‘ ‘پھر دُعاہِ اسلام زورِ بازو سے نہ سہی کم از کم زبان سے ہی پُرزور انداز میں ان منکرات اور مرتکبینِ منکرات پر قدغن لگانے کی کوشش کریں، مُنہ میں دہی جماکر ”فبقلبہ ” پر عمل کرکے ضعفِ ایمانی کا مظاہرہ کرنے سے، لاگ لپیٹ اور اشاروں میں بات کرنے سے باز آجائیں، اور وضاحت و صاف گوئی اپنا وطیرہ بنالیں۔

خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں

صاف چھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں

صرف یہ کہنے سے معاشرے کی اصلاح ناممکن ہے کہ : ”  اگرہمارے معاشرے سے برائیاں، خامیاں ( اور ان برائیوں، خامیوں کی نشان دہی و وضاحت نہ کی جائے ) ختم ہوجائیں تو ہمیں آج بھی اوجِ ثریّا پر پہنچنے اور چاند پر کمندیں ڈالنے سے کوئی طاقت روک نہیں سکتی ”۔

بہر کیف ! معاشرہ کیاہے ؟ یہ سب کو معلوم ہے کہ اِنہیں افراد کے مجموعہ کا نام معاشرہ ہے۔ توکیا ان افراد کو اپنی برائیوں، خامیوں اور بگاڑ کا علم نہیں ہے ؟ بالکل ہے ! مگر وہی تجاہلِ عارفانہ ہے کہ جان کر انجان بنے ہوئے ہیں، اس کی دلیل کے لئے صرف اتنا ہی جان لینا، یا کہدیناکافی ہے کہ ( بمصداق : خود را فضیحت، دیگراں را نصیحت)کہ سب لوگوں کی نظر دوسروں کے معائب ٹکی ہوئی ہے اور وہ ان کی اصلاح کی فکر کررہا ہے، اس کا صاف اور واضح مطلب ہے کہ حضرتِ انسان کو معاشرہ کی برائیوں کا علم ہے، مگر اپنی اصلاح کی فکر نہیں کررہاہے، اور جب تک انسان اپنی فکر چھوڑکر دوسروں کی فکر میں رہے گا تب تک معاشرہ اصلاح کی بجائے فساد کی طرف ہی گامزن رہے گا۔

پھر کیسے ہو اصلاح ؟

ہر شخص کو چاہئے کہ دوسروں کی فکر چھوڑکر پہلے اپنی فکر کرے ( اس لئے کہ ہر ایک سے اس کے اپنے اعمال کی بازپرس ہوگی کوئی شخص دوسروں کے متعلق جواب دہ نہیں ہے ، پھر اپنی چھوڑ دوسروں کی فکرچہ معنیٰ دارد ؟ ) اور یہی طریقہ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف عام انسانوں بلکہ خواص (انبیاء علیہم السلام ) کے لئے بھی تجویز فرمایا ہے، چنانچہ مشتے نمونہ ازخروارے ( بطورِ دلیل)چند آیات ہیش کی جارہی ہیں :

یاَیُّھَا  الَّذِیْنَ  اٰمَنُوْا عَلَیْکُمْ  اَنْفُسَکُمْ  لَا یَضُرُّکُمْ  مَّنْ  ضَلَّ اِذَا اھْتَدَیْتُمْ  اِلَی اللّٰہِ  مَرْجِعُکُمْ  جَمِیْعًا   فَیُنَبِّئُکُمْ  بِمَا کُنْتُمْ  تَعْمَلُوْنَ ٭( سورۃ المائدۃ، آیت نمبر ۱۰۵)

ترجمہ: اے ایمان والو تم پر لازم ہے فکر اپنی جان کا، تمھارا کچھ نہیں بگاڑتا جوکوئی گمراہ ہوا جبکہ تم ہوئے راہ پر، اللہ کے پاس لوٹ کر جاناہے، پھر وہ جتلادے گا تم کو جو  کچھ تم کرتے تھے۔

فَاسْتَقِمْ کَمَآ اُمِرْتَ  وَمَنْ تَابَ مَعَکَ ٭(سورۃ ھود، آیت نمبر ۱۱۲)

ترجمہ : سو تو سیدھا چلاجا جیسا تجھ کو حکم ہوا اور جس نے توبہ کی تیرے ساتھ اور حد سے نہ بڑھو، بے شک وہ دیکھتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔

یاَیُّہَا  الَّذِیْنَ  اٰمَنُوْا قُوْٓا  اَنْفُسَکُمْ وَاَھْلِیْکُمْ  نَارًا وَّقُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ  ٭ ( سورۃ التحریم، آیت نمبر ۶)

 ترجمہ : اے ایمان والو بچا ؤ اپنی جان کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے جس کی چھپٹیاں  ( ایندھن ) آدمی اور پتھر ہیں۔

 فائدہ :  ہر مسلمان کو لازم ہے کہ اپنے ساتھ اپنے گھر والوں کو بھی دین کی راہ پر لائے سمجھاکر، ڈراکر، پیار سے، مار سے جس طرح ہوسکے دین دار بنانے کی کوشش کرے۔ اس پر بھی  اگر وہ راہِ راست پر نہ آئیں تو ان کی کم بختی، یہ ( ذمہ دار )بے قصورہے۔

 فَذَکِّرْاِنَّمَآ اَنْتَ مُذَکِّر’‘ ہ  لَسْتَ عَلَیْھِمْ بِمُصَیْطِر٭ٍ (سورۃ الغاثیۃ، آیت نمبر  ۲۱، ۲۲)

 ترجمہ : سو تو سمجھائے جا تیرا کام تو یہی سمجھانا ہے۔ تو ان پر داروغہ نہیں ہے۔

 فائدہ :   یعنی جب یہ لوگ باوجود قیامِ دلائلِ واضحہ غور نہیں کرتے تو آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم )  بھی ان کی فکر میں زیادہ نہ پڑیئے، بلکہ صرف نصیحت کردیا کیجئے کیونکہ آپ (  صلی اللہ علیہ وسلم ) نصیحت کرنے اور سمجھانے کے لئے بھیجے گئے ہیں۔ اگر یہ نہیں سمجھتے تو کوئی آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ان پر داروغہ بناکر مسلط نہیں کئے گئے کہ زبردستی منواکر چھوڑیں، اور ان کے دلوں کو بدل ڈالیں، یہ کام تو مقلب القلوب ہی کا ہے۔

ان (مذکورہ بالا آیات ) میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ معاشرے کی اصلاح کا سلسلہ ہر ایک اپنے آپ  سے شروع کرے، پھر اہل وعیال، پھرمحلّہ و بستی، پھر آس پاس کی بستی اور پھر بستی سے باہر اصلاح کی کوشش کرے تب جاکر کامیابی نصیب ہوگی۔

شمال مشرقی ہندوستان میں تقریبِ شادی و چند دیگر مواقع پر رائج  ان (رسومات ) معاشرتی برائیوں کی طرف توجہ مبذول کرانا چاہتاہوں جو برادرانِ ہند سے مسلم معاشرے میں در آئی ہیں جن پر عمل کرنے میں مسلمان بالخصوص خواتیں کوئی عار محسوس نہیں کرتیں، حالانکہ فرمانِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم مَن تشبّہ بقوم فھو منھم کے تحت یہ امور ارتکاب گناہ کے زمرے میں آتے ہیں، ان سے اجتناب ازحد ضروری ہے۔

  ترسم کہ نہ رسی بکعبہ اے اعرابی

   کیں راہ کہ تومی روی بترکستان است

شادی اور اس کے متعلقات:

۱) غسل کے لئے ساگر(گڈھا) کھودنا:

شادی کے روز دولہا کے غسل کے لئے ساگر کھودنا، یہ اس لئے ہوتا ہے کہ اس کے غسل کردہ پانی کو مبارک تصور کیاجاتا ہے، لہٰذ ا یہ پانی بہہ کر نالی میں نہ جائے بلکہ اسی ساگر (گڈھے ) میں جمع ہوجائے، ( بھلا جو پانی نہ طاہر ہو نہ مطہّر وہ مبارک کیسے ہوسکتا ہے ؟  نعوذباللہ من ذٰلک )۔

۲) دولہاسنوارنے کے لئے عورتوں کا جمع ہونا:

دولھا سنوارنے کے لئے عورتوں (نامحرمات) کا جمع ہونا۔ اگر دولہا اپاہج ہوتو تھوڑی دیر کے لئے یہ تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ اس کی آرائش و زیبائش ( سنوارنے ) کے لئے مدد کی ضرورت ہے، مگر پھر بھی یہ کام اس کے دوست احباب، اعزاء و اقرباء، یا عورتوں میں سے اس کی محرمات ابدیہ انجام دے سکتے ہیں، نامحرمات کا اجتماع و اختلاطِ بے ہنگم کسی طور جائز نہیں۔

۳)دولہے کا دوستوں کے ساتھ آنگن میں جانا:

دولھے کا دوستوں کے ساتھ  (تعارف کرانے کے نام پر ) سسرال کے آنگن میں جانا یہاں بھی بے مہابا اختلاط ِنامحرمات ہوتا ہے، اور نئے نویلے مہمان وہ بھی مؤمن مہمان کے ساتھ مذاق کرنا یہ بھی کسی صورت میں درست نہیں، یہ حرکت سراسر اِکرام مسلم (جوکہ اسلام کا اک شعبہ ہے )کے خلاف ہے۔

۴)جوتا چرائی:

جوتا چرانا، مزید برآں، چوری سینہ زوری یہ کہ مالِ مسروقہ( جوتا) واپس کرنے کے عوض رقم لینا۔ کیا چوری کسی معاشرے و مذہب میں جائز ہے ؟

۵) دلہن کو خاص چاول دینا:

دلھن کو رخصت کرتے وقت چاول دینا، جس کو ہندی میں، (کھوئنچا)کہتے ہیں، یہ عمل دلہن کو راستے میں نظرِ بد، یا دیگرآفات و حادثات سے محفوظ رہنے کے لئے انجام دیا جاتا ہے۔

حالانکہ کسی (مرد و زن ) کو رخصت کرتے وقت بطور تحفظ و نیک فال سلام اور دعاء سے اچھا کوئی عمل نہیں ہے۔

لہٰذا پہلے تو حسبِ ضاطۂ اسلامی سلام کہے اور سلامِ مسنون کے بعد یہ دعاء اس کے حق میں کہے :  (۱)  اَستَودِعُ اللہَ دینکَ و اَمانَتَکَ و خَواتِیمَ عَمَلِکَ،  یا یہ کہے  (۲)  زَوَّدَکَ اللہُ التقویٰ، و غَفَرَ ذَنبَکَ، و یَسَّرَ لَکَ الخَیرَ حَیثُ ما کُنتَ۔ یا دونوں ہی کہے۔

۶)دلہن کی گودبھرائی:

دلھن کو سسرال پہنچتے ہی ڈولی، پالکی یا رائج الوقت سواری سے اترتے ( اسقبال کے)وقت گود بھرنا (اس کی گود میں دودھ پیتا بچہ (نَر) دے دینا، وہ بھی بچی (مادہ)  نہیں ) کہ اس کی برکت سے دلہن بھی صاحبِ اولاد ہوگی اور بانجھ پن سے محفوظ ہوجائے گی۔یہ فعل بھی اسلامی نقطۂ نظر سے فال ِ بد، بدشگونی کے زمرہ میں آتاہے، کہیں سے مہیں تک بھی جائز نہیں، سراپا ناجائز ہے، اس لئے کہ اولاد دینا یا نہ دینا یہ تو اللہ تعالیٰ نے اپنی مصلحت پر موقوف کررکھا ہے۔

 فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

’’ لِلّٰہِ  مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ  یَخْلُقُ مَا یَشَآئُ یَھَبُ لِمَنْ یَّشَآئُ اِنَاثًا وَّ یَھَب لِمَنْ  یَّشَآئُ  الذُّ کُورَ اَوْ یُزَوِّجُھُمْ ذُکْرَانًا وَّاِنَاثًا  وَیَجْعَلُ  مَنْ  یَّشَآئُ  عَقِیْمًا اِنَّہٗ  عَلِیْم’‘ قَدِیْر’‘  ‘‘ ٭(سورۃ الشوریٰ، اایت نمبر ۴۹، ۵۰)

ترجمہ:   اللہ کا راج ہے آسمانوں میں اور زمین میں پیدا کرتا ہے جو چاہے بخشتا ہے جس کو چاہے  بیٹیاں اور بخشتا ہے جس کو چاہے بیٹے۔یا ان کو دیتا ہے جوڑے بیٹے اور بیٹیاں، اور کردیتا ہے جس کو چاہے بانجھ، وہ ہے سب کچھ جانتا، کرسکتا ۔

فائدہ :  یعنی سختی ہو یا نرمی سب احوال خدا کے بھیجے ہوئے ہیں۔ آسمان و زمین میں سب جگہ اسی کی سلطنت اور اسی کا حکم چلتا ہے جو چیز چاہے پیدا کرے اور جو چیز جس کو چاہے دے، جس کو چاہے نہ دے۔ دنیا کے رنگا رنگ حالات کو دیکھ لو۔ کسی کو سرے سے اولاد نہیں ملتی، کسی کو ملتی ہے تو صرف بیٹیاں، کسی کو صرف بیٹے، کسی کو دونوں، جڑواں یا الگ الگ۔ اس میں کسی کا کچھ دعویٰ نہیں۔ وہ مالک حقیقی ہی جانتا ہے کہ کس شخص کو کس حالت میں رکھنا مناسب ہے اور وہ ہی اپنے علم و حکمت کے موافق تدبیر کرتا ہے کسی کی مجال نہیں کہ اس کے ارادہ کو روک دے یا اس کی تخلیق و تقسیم پر حرف گیری کرسکے، عاقل کا کام یہ ہے کہ ہر قسم کے نرم و گرم حالات میں اسی کی طرف رجوع کرے اور ہمیشہ اپنی ناچیز حقیقت کو پیش نظر رکھ کر تکبر یا کفران نعمت سے باز رہے۔

۷) دلہن کا راستہ روکنا:

گھر کے صدر دروازے پر نئے مہمان ( دلہن )کا راستہ روکنا (دُوار چھکائی کرنا) اور اس کے بدلے اس کے شوہر سے رقم اینٹھنا۔

برادرانِ اسلام ! یہ سب خرافات و رسومات ہندو انہ معاشرے سے مسلمانوں میں درآئی ہیں، اسلام کا ان سے دور دور تک کا واسطہ نہیں ہے۔ اسلام میں رسومات ( خرافات )کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ سوچنے اور غور کا مقام ہے کہ شادی تو غیر اسلامی طور طریق پر انجام پارہی ہے اور لوگ خیر کی توقع باندھے رہتے ہیں۔ خیر تو اللہ تعالیٰ نے اسلام اور ایمان میں مضمر رکھا ہے۔ ”الایمان کلہٗ خیر، والکفر کلہٗ شرّ ” ایمان مکمل خیر اور کفر مکمل شر ہے۔

 میت:

۸) بوقتِ نزع مہر معاف کرانے کی رسم:

مسلم معاشرے میں مہر کی معافی کی رسم بھی کافی پرانی اور، آج بھی اس دورِ ترقی و تعلیم میں مسلمانوں کی کثیر تعداد مہر ادائیگی کی بجائے اس کی معافی کی بات کرتے ہیں۔ چونکہ یہ بات ایسے موقعہ ( شبِ زفاف) میں پہلی ہی زیارت میں بیوی کے سامنے رکھ دیتے ہیں جو کہ ایک طرح کا دباؤ ہے، ایسے میں بیوی بیچاری مہر معاف نہ کرے تو کیا کرے۔

حالانکہ شریعت نے بیوی کو مہر کے لے لینے ( رکھ لینے ) اور معاف کردینے کا ( دونوں ) کا اختیار دیا ہے، مگر جو طریقہ معاشرے مین رائج ہے وہ غلط ہے۔

ارشادِ باری ہے :  ” وَاٰتُوا النِّسَآئَ صَدُقٰتِھِنَّ  نِحْلَۃً ”( النساء، آیت نمبر ۴ )’’ اور عورتوں کو ان کا مہر خوشی سے دے دو‘‘۔ یہ کہہ کر عور توں کو ان کے مہر د ینے کی بات کہی ہے، ساتھ ہی ساتھ یہ بھی فرمایا :  ”فَاِنْ طِبْنَ لَکُمْ عَنْ شَیْْئٍ  مِّنْہُ نَفْسًا فَکُلُوْہُ ھَنِیْٓئًا مَّرِیْٓئًا ”  ’’  اور گر وہ  اپنی خو شی سے تمہیں اس میں سے کچھ دے دیں تو اسے شوق سے کھاؤ ‘‘۔

مذکورہ آیتِ کریمہ میں عورتوں کی جانب سے مہر کی رقم معاف کرنے پر اس سے فائدہ اٹھانے کی بات کہی گئی ہے، مگر یہ اس صورت میں ہے جب عورت اپنی کوشی سے مہر معاف کرے اس پر کسی قسم کا دباؤ نہ ہو۔

  اور ایک جگہ فرمایا :   فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِہٖ  مِنْھُنَّ فَاٰ تُوْھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ فَرِیْضَۃً وَلَا جُنَاحَ  عَلَیْکُمْ   فِیْمَا تَرٰضَیْتُمْ بِہٖ مِنْ م بَعْدِ  الْفَرِیْضَۃِ   اِنَّ   اللّٰہَ  کَانَ  عَلِیْمًا  حَکِیْمًا  ٭   ( سورۃ النساء، آیت نمبر ۲۴  )

پھر جو ازدواجی زندگی کا لطف تم ان سے اٹھاؤ اس کے بدلے اُن کے مہر بطور فرض ادا کرو، البتہ مہر کی قرارداد ہو جانے کے بعد آپس کی رضامندی سے تمہارے درمیان اگر کوئی سمجھوتہ ہو جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں، اللہ علیم اور دانا ہے۔

حاصل کلام:یہ بات کچھ عجیب سی ہے کہ جب نکاح ہی کے وقت یا بوقت ارتباطِ باہمیٔ اول ( شبِ زفاف میں )نقد رقم یا زیور یا کسی بھی شکل میں مہر طے اور ادا کردیا گیا تو پھر معاف کرانے کا کیا مطلب ؟

شمالی ہند اور کچھ دیگر علاقوں بھی اس سے بھی  بُری رسم یہ ہے کہ زوجین میں سے کوئی ایک قریب المرگ ہے اور دونوں یکجا ہیں تو اگر خاوند قریب المرگ، بحالتِ نزع ہے تو بیوی اس کے پاس جاکر کان میں کہے گی کہ ’’ میں نے مہر معاف کردیا ‘‘۔ اور اگر بیوی کا دمِ آخری ہے تو شوہر کہے گا کہ ’’ مہر معاف کردیجئے ‘‘ ۔ اور اگر دونوں میں سے کوئی ایک مرگِ کا شکار ہوگیا اور معافی، تلافی اور گفت و شنید کا موقعہ نہ مل سکا تو باوجودیکہ ان کے اعضاء مفقود العمل ہوچکے ہیں، اور یقیناً سماعت بھی ساتھ چھوڑ چکی ہے پھر بھی ایک دوسرے کے کان میں ’’ مہر معافی ‘‘ کی بات کہہ کر پاک دامن ہونے کی کوشش کرتا ہے۔

۹) دودھ بخشوانا:

 جب کسی کی والدہ مرنے کے قریب ہوتی ہیں تو ان کے پاس ان کی اولاد جاتی ہے اور کہتی ہے کہ’’امی جان! آ پ نے مجھے دودھ پلا یا ہے، آپ کا مجھ پر احسان ہے، میں آپ کی خدمت کا جو مجھ پر حق تھا وہ نہیں ادا کرسکا، مجھے معاف کردیجئے‘‘۔

حالانکہ دودھ کی ذمہ داری تو ماں پر ہی عائد ہوتی ہے، پھر اسے معاف کرنے نہ کرنے کا کیا مطلب ؟اور یہ گمان کرنا کہ اگر ماں نے دودھ معاف نہیں کیا تو بروز قیامت سخت گرفت و بازپُرس ہوگی اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔

ماں کی ناراضگی اگر کسی جائز وجہ سے ہے تو یہ ویسے ہی نہ صرف آخرت بلکہ دینا میں بھی خسارے کا ذریعہ ہے۔

 ذیل میں دودھ پلانے سے متعلق ایک آیت مع ترجمہ و تفسیر اور ایک فتویٰ پیش کیا جارہا ہے، جس کے تناظر میں آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ دودھ بخشوانا سراسر غیر اسلامی عمل ہے۔

مسئلہ ٔ  رضاعت قرآن کی روشنی میں :

 وَالْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ   اَوْ لَادَھُنَّ   حَوْلَیْنِ   کَامِلَیْنِ    لِمَنْ   اَرَادَ   اَنْ  یُّتِمَّ  الرَّضَاعَۃَ     وَ عَلَی   الْمَوْلُوْدِ   لَہٗ   رِزْقُھُنَّ    وَ کِسْوَتُھُنَّ  بِالْمَعْرُوْفِ لَا تُکَلَّفُ نَفْس’‘  اِلَّا  وُسْعَھَا  لَا تُضَآرَّ وَالِدَۃ’‘ م بِوَلَدِھَا وَلَا مَوْلُوْد’‘ لَّہٗ بِوَلَدِہٖ  وَعَلَی الْوَارِثِ مِثْلُ  ذٰلِکَ  فَاِنْ  اَرَادَا   فِصَالًا  عَنْ  تَرَاضٍ  مِّنْھُمَا  وَتَشَاوُرٍ  فَلاَ  جُنَاحَ عَلَیْھِمَا   وَاِنْ  اَرَدْتُّمْ  اَنْ  تَسْتَرْضِعُوْٓا اَوْلَادَکُمْ  فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ اِذَاسَلَّمْتُمْ مَّآاٰتَیْتُمْ بِالْمَعْرُوْف وَاتَّقُوااللّٰہَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْر’‘ ٭ ( سورہ البقرۃ آیت نمبر  ۲۳۳)

ترجمہ:

اور بچے والی عورتیں دودھ پلاویں اپنے بچوں کو دو برس پورے جو کوئی چاہے کہ پوری کرے دودھ کی مدت۔

 اور لڑکے والے یعنی باپ پر ہے کھانا اور کپڑا ان عورتوں کا موافق دستور کے تکلیف نہیں دی جاتی کسی کو مگر اس کی گنجائش کے موافق نہ نقصان دیا جاوے ماں کو اس کے بچہ کی وجہ سے اور نہ اس کو کہ جس کا وہ بچہ ہے یعنی باپ کو اس کے بچہ کی وجہ سے۔ اور وارثوں پر بھی یہی لازم ہے۔ پھر اگر ماں باپ چاہیں کہ دودھ چھڑا لیں یعنی دو برس کے اندر ہی اپنی رضا اور مشورہ سے تو ان پر کچھ گناہ نہیں۔

اور اگر تم لوگ چاہو کہ دودھ پلواؤ کسی دایہ سے اپنی اولاد کو تو بھی تم پر کچھ گناہ نہیں جب کہ حوالہ کر دو جو تم نے دینا ٹھہرایا تھا موافق دستور کے۔

 اور ڈرو اللہ سے اور جان رکھو کہ اللہ تمہارے سب کاموں کو خوب دیکھتا ہے۔

تفسیر:

  یعنی ماں کو حکم ہے کہ اپنے بچہ کو دو برس تک دودھ پلائے اور یہ مدت اس کے لئے ہے جو ماں باپ بچہ کے دودھ پینے کی مدت کو پورا کرنا چاہیں ورنہ اس میں کمی بھی جائز ہے جیسا آیت کے اخیر میں آتا ہے اور اس حکم میں وہ مائیں بھی داخل ہیں جن کا نکاح باقی ہے اور وہ بھی جن کو طلاق مل چکی ہو یا ان کی عدّت بھی گزر چکی ہو ہاں اتنا فرق ہوگا کہ کھانا کپڑا منکوحہ اور معتدہ کو تو دینا زوج کو ہر حال میں لازم ہے دودھ پلائے یا نہ پلائے اور عدت ختم ہوچکے گی تو پھر صرف دودھ پلانے کی وجہ سے دینا ہوگا اور اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ دودھ کی مدت کو جس ماں سے پورا کرانا چاہیں یا جس صورت میں باپ سے دودھ پلانے کی اجرت ماں کو دلوانا چاہیں تو اس کی انتہاء  دو برس کامل ہے۔ یہ معلوم نہیں ہوا کہ علی العموم دودھ پلانے کی مدت دو برس سے زیادہ نہیں۔ یعنی باپ کو بچہ کی ماں کو کھانا کپڑا ہر حال میں دینا پڑے گا۔ اوّل صورت میں تو اس لئے کہ وہ اس کے نکاح میں ہے، دوسری صورت میں عدّت میں ہے اور تیسری صورت میں دودھ پلانے کی اجرت دینی ہوگی اور بچہ کے ماں باپ بچہ کی وجہ سے ایک دوسرے کو تکلیف نہ دیں مثلا ماں بلاوجہ دودھ پلانے سے انکار کرے یا باپ بلا سبب ماں سے بچہ جدا کر کے کسی اور سے دودھ پلوائے یا کھانے کپڑے میں تنگی کرے۔ یعنی اگر باپ مرجاوے تو بچہ کے وارثوں پر بھی یہی لازم ہے کہ دودھ پلانے کی مدت میں اس کی ماں کے کھانے کپڑے کا خرچ اٹھائیں اور تکلیف نہ پہنچائیں اور وارث سے مراد وہ وارث ہے جو محرم بھی ہو۔ یعنی اگر ماں باپ کسی مصلحت کی وجہ سے دو سال کے اندر ہی بچہ کی مصلحت کا لحاظ کر کے باہمی مشورہ اور رضامندی سے دودھ چھڑانا چاہیں تو اس میں گناہ نہیں، مثلا ماں کا دودھ اچھّا نہ ہو۔ یعنی اے مردو اگر تم کسی ضرورت و مصلحت سے ماں کے سوا کسی دوسری عورت سے دودھ پلوانا چاہو تو اس میں بھی گناہ نہیں مگر اس کی وجہ سے ماں کا کچھ حق نہ کاٹ رکھے بلکہ دستور کے موافق جو ماں کو دینا ٹھہرایا تھا وہ دے دے اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ دودھ پلانے والی کا حق نہ کاٹے۔

   دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ:

   سوال :   ہمارے یہاں کچھ لوگ بہار سے آکر بسے ہیں، وہ اس طرح کرتے ہیں کہ جب ان کی والدہ مرنے کے قریب ہوتی ہیں تو ان کے پاس ان کی اولاد جاتی ہے اور کہتی ہے کہ’’امی جان! آ پ نے مجھے دودھ پلا یا ہے، آپ کا مجھ پر احسان ہے، میں آپ کی خدمت کا جو مجھ پر حق تھا وہ نہیں ادا کرسکا، مجھے معاف کردیجئے‘‘ اس رواج کو دودھ معاف کرنا کہتے ہیں اور اس کے ساتھ کھانا پینا وغیرہ کا پروگرام رکھے جاتے ہیں۔ براہ کرم، بتائیں کہ اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟قرآن وحدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

جواب # 27380

فتوی(ب): 2012=1617-12/1431

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔

یہ دودھ بخشوانا بے اصل ہے، قرآن وحدیث سے اس کا کوئی ثبوت نہیں اور اس کے ساتھ کھانے پینے کا پروگرام رکھنا صرف رسم ورواج ہے اس کو ترک کردینا چاہئے۔البتہ والدین کے انتقال سے قبل اپنی کوتاہیوں اور نافرمانیوں کو معاف کروالینا بہترہے۔  واللہ تعالیٰ اعلم

  دارالافتاء ،  دارالعلوم دیوبند

۱۰)  پردیس کے لئے رخصت کرنا:

آج مسلمانوں میں یہ عام رواج ہوگیا ہے کہ کسی کو پردیس جاتے (رخصت کرتے وقت ) عورتیں رونا دھونا شروع کردیتی ہیں، مانا کہ بوقتِ فراق غم ہوتا ہے مگر یہ نیک فال نہیں ہے۔ جب کسی کو اچھے کام کی نسبت سے رخصت و وِداع کیا جاتا ہے تو اس سے امیدیں وابستہ ہوتی ہیں، ایسے وقت میں رونا کوئی معنیٰ نہیں رکھتا۔ اس سلسلہ میں  ابتدائے اسلام کی مسلم خواتین سے سبق حاصل کرنے کی ضرارت ہے کہ : وہ خواتینِ اسلام اپنے جیالوں ( خاوندوں یا بچوں ) کو محاذِ جنگ پر ( جہان سے زندہ ’’ غازی بن کر ‘‘ آنے کی بھی امید کم ہی رہتی تھی ) بخوشی بلکہ ترانے گنگناکر ان میں جوش و جذبۂ شہادت بھرکر بھیجتی تھیں، اور ان کے چہروں پر غم کے آثار تک نمایاں نہیں ہوتے تھے۔

 بہر حال کسی کو رخصت کرنے کی دعاء سطورِ بالا میں گذر چکی ہے پھر بطور قندِ مکرریہاں بھی ذکر کردی جارہی ہے اس کو عمل میں لاکر اسلام پر عمل پیرائی کا ثبوت دیجئے۔

اوّلاً تو جس کو رخصت کرنا ہے اس کو سلام پیش کرے ( رخصت ہونے والا بھی سلام عرض کرسکتا ہے) اور سلامِ مسنون کے بعد یہ دعاء اس کے حق میں کہے :  (۱)  اَستَودِعُ اللہَ دینکَ و اَمانَتَکَ و خَواتِیمَ عَمَلِکَ،  یا یہ کہے  (۲)  زَوَّدَکَ اللہُ التقویٰ، و غَفَرَ ذَنبَکَ، و یَسَّرَ لَکَ الخَیرَ حَیثُ ما کُنتَ۔ یا دونوں ہی کہے۔

اور جو شخص سفر پر جانے والا ہے وہ یہ دعاء پڑھے :  اللّٰھُمّ اِنّی أسئلکَ خیرَ المَولَجِِ ِ و خَیرَ المَخرَجِ ِ، بسمِ اللہِ وَلَجْنا و بسمِ اللہِ خَرَجْنا و علی اللہِ ربَّنا توَکَّلنا۔

تلکَ عشرۃ کاملۃ

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ابوالحسنات قاسمی

دار الثقافہ، اسونجی بازار، ضلع گورکھپور

متعلقہ

Back to top button
Close