اعترافِ حق

محمد جمیل اخترجلیلی ندوی

رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ شارعِ عام پر گاڑیوں کی آمد ورفت تقریباًبند ہوچکی تھی۔معمول کے مطابق سیما یونیورسٹی کے کیمپس سے باہر آئی اور شارعِ عام پر پیادہ پاچلتے ہوئے اپنے ہاسٹل کی جانے لگی۔دراصل سیما کا ہاسٹل یونیور سٹی کیمپس سے چند گز کے فاصلے پر تھااوروہ بلاخوف وخطرشب ِدیجورکے سناٹے میں بھی یونیورسٹی کیمپس کی لائبریری سے استفادہ کے بعد اپنے ہاسٹل آجایاکرتی تھی۔

  آج بھی وہ اپنے اسی معمول کے مطابق اپنے ہاسٹل کی طرف جارہی تھی کہ اچانک اُس کے سرپر ایک اُفتادآپڑی۔ چار نوجوانوں نے اُسے گھیر لیا اورباوجودلاکھ ہاتھ پاؤں مارنے کے اپنی گاڑی پربٹھاکرایک نامعلوم منزل کی طرف لے جانے لگے۔ سیماکی آواز کو بند کرنے کے لئے ان لوگوں نے اُس کے حلق تک کپڑابھی ٹھونس دیاتھا۔ تقریباً آدھے گھنٹے کی مسافرت کے بعد گاڑی رُکی اوراُسے نیچے اترنے کو کہا گیا۔ یہ کھیتوں کے بیچ ایک فارم ہاؤس تھا۔سیمانے اُن چاروں کے اندرقہقہ لگاتے ہوئے شیطان کو دیکھ لیا تھا؛ اِس لئے اُن کے سامنے ماں بہن کا واسطہ دے کر اُن سے منت سماجت کرنے لگی۔ہاتھ جوڑنے اورپاؤں پکڑنے لگی۔

  کہتے ہیں کہ بدی کا عفریت جب دماغ کے نہاں خانہ میں داخل ہو جاتاہے توانسان انسانیت سے غافل اورماں بہن، بیٹی بھتیجی کی تمیز سے بے نیاز ہوجاتاہے۔ ان چاروں کے دماغ کو بھی بدی کے عفریت نے اپنا مسکن بنالیاتھا؛ اِس لئے اُنھوں نے نہ توسیما کے ہاتھ جوڑنے اورپیرپکڑنے کی پرواہ کی اورنا ہی ماں بہن کے واسطہ کا لحاظ کیا؛ بل کہ باری باری سے سیماکی ردائے عفت کو تارتار کرکے نیم بے ہوشی کی حالت میں ہاسٹل کے قریب شارع عام پر پھینک دیا۔

  شب کے تقریباً تین بجے وہاں سے گزرتی ہوئی گشتی پولیس سیماکے کراہنے کی آوازسن کراُس کی طرف متوجہ ہوئی اور نیم بے ہوشی کی حالت میں اُسے ہاسپٹل میں داخل کیا۔ دودن تک سیما پر غنودگی کی کیفیت طاری رہی، پھرشدہ شدہ اُسے سب کچھ ایک ڈراؤنے خواب کی طرح یادآنے لگا۔سیما کی طبیعت جب کچھ بحال ہوگئی توانویسٹی گیشن افسرنے تفصیل پوچھی اوراپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کرجلدہی مجرمین کی گریبان میں ہاتھ ڈال دیا۔پہلے توخود ہی اُن کی خوب خبرلی، پھرعدالت کے روبروپیش کیا۔ جج نے مجرمین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:

 ’’تمہیں شرم نہیں آئی ایسی گھناؤنی حرکت کرتے ہوئے؟کیاتمہاری ماں بہن نہیں ؟تمہارے چہروں پرتوشرافت کی ایسی لکیریں نظرآرہی ہیں ، جنھیں دیکھ کرزاہدبھی خوداحتسابی پرمجبورہوجائے اورحرکتیں ایسی کہ تھوتھوکیاجائے۔نگاہیں نیچی نہ کرو؛ بل کہ یہ بتاؤکیا تمہیں اپنے جرم کا اقبال ہے؟‘‘۔

 ’’ہاں ! اپنے جرم کا اقرار ہے؛ لیکن…‘‘۔مجرمین نے چشم ِ نیم باز سے جج کو دیکھتے ہوئے جواب دیا۔

’’لیکن کیا؟‘‘۔ جج نے دریافت کیا۔

’’ لیکن اِس جرم کے ارتکاب میں کلی قصوروارہم ہی نہیں ‘‘۔مجرمین نے جج کومخاطب کرتے ہوئے ایک ساتھ جواب دیا۔

  ’’پھر اورقصوروارکون ہے؟‘‘۔ جج نے پوچھا۔

’’خودیہ اوراِس جیسی دوسری لڑکیاں ‘‘۔ مجرمین نے کہا۔

جج نے آنکھیں جھپکائیں اورحیرت زدہ انداز میں بڑبڑایا: ’’یہ لڑکی؟‘‘۔ جج کے چہرے بشرے پرایک ساتھ کئی سوال ابھرے۔مجرمین جج کے چہرے پر اُبھرے تمام سوالات پڑھ چکے تھے؛ اس لئے جج کو مخاطب کرتے ہوئے جواب دیا:

’’می لارڈ! ہم سب کی عمریں بیس پچیس کے درمیان ہیں ، ہم مختلف آفسوں میں چھوٹے چھوٹے کاموں پرمامورہیں ، روزانہ صبح آٹھ بجے گھرسے نکلتے ہیں اورشام پانچ بجے واپس آتے ہیں ، ٹھیک یہی وقت اسکول اورکالج آنے جانے کاہے۔ بسیں کھچاکھچ بھری ہوتی ہیں ، تل دھرنے کی بھی جگہ نہیں رہتی۔ بسوں میں مردوں کے شانہ بہ شانہ کالج واسکول کی لڑکیاں اورآفسوں میں کام کرنے والی دیگرخواتین بھی ہوتی ہیں ۔ اُن کے لباس ایسے ہوتے ہیں کہ اللہ کی پناہ!بھڑکیلا، چمکیلا اورچست ہی نہیں ؛ بل کہ ایسے بھی کہ ہمالیہ کی برفانی چوٹی سے لے کر سینا کی خودرَو پودوں سے بھری ہوئی وادی تک نظر آتی ہے،پھراُس پر مستزاد عطریات وپرفیومس کی مہک، گالوں کی ڈھہک اورچالوں میں لچک! کہ زاہدبھی دیکھ کے پھسل جائیں ، نتیانندپھسل گئے، آسارام پھسل گئے، می لارڈ! اگرہم پھسل گئے تواس میں ہمارے قصورسے زیادہ خود ان لڑکیوں کاقصورہے؛ اس لئے جج صاحب ! ہم جیسے پھسلے ہوئے چندمجرمین کو سزادینے کے بجائے اِن پھسلانے والی لڑکیوں کو سزادیجئے، جب تک انھیں سزانہیں دی جائے گی، ایسے پھسلے ہوئے مجرمین کی تعدادمیں کمی کے بجائے اضافہ ہی ہوگا‘‘۔

 مجرمین کی زبان سے اِس اعتراف حق کو سن کرجج نے اپنی جبینِ ناز پرآئے ہوئے نمکین قطرات کوصاف کرتے ہوئے گومگوں کی حالت میں فیصلہ کی تاریخ بڑھادی اورکرسیِ عدالت سے اُٹھ کر باہرکا رخ کیا۔



⋆ محمد جمیل اختر جلیلی

محمد جمیل اختر جلیلی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے