معاشرہ اور ثقافت

اعتراف!

شیخ خالد زاہد

نا ماننا، کسی بھی فساد کی بنیادی اکائی کہا جائے تو شائد غلط نہ ہو۔ اگر مجھے کوئی بات نہیں سمجھ آئی، یا مجھ سے کوئی کام نہیں ہو سکتا،تو مجھے کہہ دینا چاہئے۔ کہہ دینے سے بوجھ ہلکا ہوجاتا ہے تھکن کم ہوجاتی ہے۔ یہ وہ اعتراف ہے جس کی کوئی سزانہیں۔ میں اس کام کا اہل نہیں ہوں۔ ہاں یہ غلطی مجھ سے ہوگئی ہے۔ دلوں میں گھروں میں دیواریں جو اٹھتی ہیں ان کی ایک بہت بڑی وجہ یہ نا ماننا یا اعتراف نہ کرنا بھی ہے۔ سب اپنے اپنے ڈھب پر۔ اپنے اپنے طور سے چلتے رہتے ہیں۔ میں ٹھیک ہوں۔ نہیں ،میں ٹھیک ہوں۔ دیواریں اونچی اور اونچی۔ دلوں میں پڑنے والی دراڑ ،خلیج کی شکل اختیارکرتی چلی جاتی ہے۔ سب کچھ اس خلیج میں گر کر تباہ ہوجاتا ہے۔ گھر تباہ ہوجاتے ہیں۔ خاندان تباہ ہوجاتے ہیں۔ ادارے تباہ ہوجاتے ہیں۔ ملک تباہ ہو جاتے ہیں۔ ناماننے جو اناکی پیداوار ہے۔ انا کا بت ہر انسان کے اندر موجود ہے۔ کسی کا بت بڑا ہے تو کسی کا چھوٹا مگر ہے۔ جس کی عبادت میں ہم مشغول رہتے ہیں۔ نعوذ بااللہ۔ کوئی معبود (انا) کو ٹھیس پہنچائے یہ قطعی نا قابلِ برداشت اور ناقابلِ تلافی جرم ٹہرتا ہے۔ جس کی سزا کہ طور پر بر بادی کا عمل شروع ہوتا ہے اورسب کچھ تہہ و بالا خاک کردیتا ہے۔ بروقت اعتراف کرنے سے مسائل کھڑے ہونے سے پہلے ہی دم توڑدیتے ہیں۔

روزانہ گھروں میں ، خاندانوں میں ایسے کتنے چھوٹے چھوٹے فساد جنم لیتے ہیں جو کسی نا کسی کو بھینٹ چڑھادیتے ہیں۔ مدتوں بات چیت بند ، شکل نہیں دیکھی جاتی۔ اورجانے کیا کیا۔ مگر اس فساد کی وجہ جاننے اور اسکے حل پر بات کرنے کا کوئی نہیں سوچتا۔ بات حکومت اور طالبان کی مذاکرات کی ہو یا خاندان میں ہونے والے فساد کی۔ کوئی تیسرا حریف اس سے فائدہ ضرور اٹھا رہا ہوتا ہے۔ آپ اپنے اطراف میں بیٹھے بیٹھے ذہن دوڑائیے۔ کتنے چھوٹے چھوٹے معاملات۔ سونامی کی شکل اختیار کر جاتے ہیں۔ گھر کا اگر ایک بجلی کا بٹن یا استری کا پلگ خراب ہوجائے اور آپ اسے کسی اور وقت کہ لئے چھوڑ دیں۔ اور وہ وقت آنے سے پہلے۔ ایک برا وقت کسی حادثے کی صورت اختیار کئے آپکے سامنے کسی چاہنے والے کو سخت تکلیف میں مبتلا کر جائے۔ پھر پچھتاوے کہ سواکچھ نہیں بچتا۔ قابلِ ستائش و تعریف کے لائق عمل پر شاباش دینے سے گریز یا کنجوسی نہیں کرنی چاہئے۔

اشتہارات سبق آموز پیغامات کی ترسیل کے لئے مرتب دئیے جاتے ہیں۔ جیسے   خاموشی کا بائیکاٹ  یا   جڑو گے تو جانوگے ۔ اس طرح کہ بے تہاشا پیغامات  اشتہارات کہ ذریعے آپ تک پہنچ رہے ہوتے ہیں۔ آپ کہ پاس ان پیغامات کی اہمیت اس سے بڑھ کر نہیں کے آپ وہ چیز استعمال کرنے لگتے ہیں جس کا اشتہار اچھا لگتا ہے۔ آج سے چودہ سو سال قبل ہمارے پیارے نبی ﷺ نے دنیا کو اسلام کی روشنی سے منور کیااوراللہ کا کلام ،قرآن پاک بطور نسخہِ کیمیا ،مشلِ راہ  رہتی دنیا کہ لئے چھوڑ گئے۔ مگر ہم نے اس کتاب اللہ کو فقط ثواب کیلئے رکھ لیا۔ قرآن خوانی کرالی۔ کسی کہ انتقال پر ساٹھ قرآن ختم کروادئیے اور اسکی اہمیت اس سے بڑھ کر نہیں(سچ کڑوا ہوتا ہے کسی دوا کی طرح،  جو ہوتی تو کڑوی ہے مگر بیماری دور کردیتی ہے)۔ دراصل ہر اشتہار میں کوئی راز کی بات ہوتی ہے۔ جو اس اشتہار کی اصل وجہ ہے۔ خاموشی کا بائیکاٹ کو لیتے ہیں۔ آپ اس کسی نظام یا کسی شخصیت کہ خلاف کھڑے ہوجائیے جو غلط ہے اور آواز اٹھائیے یہ اس اشتہار کا اصل مقصد تھا۔ مگر کیاہوا۔ اسی طرح قرآن کا کیا مقصد تھا اور ہم نے کیا کیا(سوائے ندامت کہ کوئی جواب نہیں)۔

اگر آپ چاہتے ہیں کہ معاملاتِ معاشرت و زندگی صحیح ڈگر پر چلے تو شروعات اپنے گھر سے کرنا ہوگی۔ ہر گھر بڑوں کی سربراہی میںنظم و ضبط کہ ساتھ ہفتہ وار یا ماہوار میٹنگ کریں۔ جس میں سب کو ادب آداب ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے اپنی بات کہنے کی اجازت دی جائے۔ تمام امور ذیرِ بحث ( برائے اصلاح) لائے جائیں جو کسی خاندان میںنا چاقی نا اتفاقی کا سبب بن سکتے ہیں یا بن رہے ہوں۔ جو فرد بھی کچھ کہنا چاہتا ہے کہنے دیجئے اسکی اصلاح ہوگی یا آپکی۔ اگر کسی نے کوئی اچھا عمل کیا ہے تو سب کو ایک زبان ہوکر اسکی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے۔ غلطی اسے سمجھانا چاہئے کہ اس کا اعتراف کرنا ہمارے فائدے میں ہے۔ یہ وہ طریقہ ہے جس پر عمل کرتے ہوئے تمام مسائل احسن طریقے سے حل ہوجائیں گے یا اٹھنے سے پہلے ہی دم توڑجائنگے۔ اس عمل سے ہم آہنگی پروان چڑھے گی۔ نئی نسل کی پرورش میں یہ عمل انتہائی موثر ثابت ہوگا۔ خود سے بنائے گئے غلط تصورات کا قلہ قمع ہوگا۔ اور بہت سارے امراض سے بھی بچا جائے گا۔

مندرجہ بالا سطور میں جو بحث رکھی گئی اس میں سب سے ضروری ہے سچ کہ ساتھ اعترافِ جرم  کرنا۔ یہ وہ اعترافِ جرم ہوگا جس سے کسی کو سزا نہیں ملے گی بلکہ تعلقات مستحکم ہونگے۔ خاندان مستحکم ہوں گے۔ ادارے مستحکم ہوں گے۔ یہ مضمون یقینا بہت واشگاف لفظوں میں پیغام دے رہا ہے کہ دلوں میں رکھنے سے دل کہ وہ امراض جنم لیتے ہیں جو لا علاج ہوتے ہیں۔ جو بھی بات ہے وہ کیجئے ، کہہ دیجئے۔ اعترافِ جرم ہی سہی مگر کیجئے۔ یہ وہ جرائم ہیں جن کی سزا نہیں جزا ہے۔ دنیا میں بھی اور ان شاء اللہ بعد از مرگ بھی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close