معاشرہ اور ثقافت

امہات المومنین اور اصلاحِ معاشرہ

اسامہ شعیب علیگ

قرآن مجید میں اصلاحِ عقیدہ کے بعد جس چیز پر سب سے زیادہ زور دیا گیا وہ اصلاحِ معاشرہ ہے،جس میں سماجی اور اخلاقی برائیوں کو دور کرنے کی جگہ جگہ تلقین کی گئی ہے اوریہ ذمہ داری معاشرے کے ہر فرد کو دی گئی کہ جب وہ کسی کو غلط کام کرتا ہوا دیکھے تو اسے منع کرے اور اس کے سامنے اسلام کی صحیح تعلیمات پیش کرے۔اسلام نے اسے ’امر بالمعروف و نہی عن المنکر‘سے تعبیر کیا ہے۔ امہات المومنین اس میں پیش پیش تھیں۔

امر بالمعروف و نہی عن المنکر ۔ایک فریضہ
اللہ تعالیٰ نے امتِ مسلمہ پر امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ عائد کیا اور اسی میں مسلمانوں کی دنیا و آخرت میں رفعت ومنزلت ، شان و شوکت اور سعادت و خوش بختی رکھی ہے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَلْتَکُن مِّنکُمْ أُمَّۃٌ یَدْعُونَ إِلَی الْخَیْْرِ وَیَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ وَأُوْلَءِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ۔(1)
’’تم میں کچھ لوگ تو ایسے ضرور ہی رہنے چاہییں جو نیکی کی طرف بلائیں،بھلائی کا حکم دیں، اور برائیوں سے روکتے رہیں۔جو لوگ یہ کام کریں گے وہی فلاح پائیں گے۔‘‘
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کا اصلی مشن ’امر بالمعروف و نہی عن المنکر‘ قرار دیا کہ اگرچہ دنیا میں اعلان حق تمام جماعتوں کا فریضہ رہا ہے مگر مسلمانوں کے لیے یہی سرمایۂ زندگی ہے اور معاشرے کے آداب اور قانون کا احتساب بھی اسی اصول پر قائم ہے۔
اسی سورۃ میں ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
کُنتُمْ خَیْْرَ أُمَّۃٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَروَتُؤْمِنُونَ بِاللّہ(2)
’’اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہوجسے انسانوں کی ہدایت اور اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے۔تم نیکی کا حکم دیتے ہو،بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘
مولانا ابوالکلام آزاداس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
’’امر بالمعروف کا حکم عام ہے۔’المعروف‘اور ’المنکر‘پر الف لام استغراق کے لیے آیا ہے تاکہ (بقول امام رازی)معروف و منکر میں کوئی تخصیص و تحدید باقی نہ رہے اور ظاہر ہو جائے کہ وہ ہر نیکی کے لیے آمر اور ہر بدی کے لیے ناہی ہیں۔عام اس سے کہ وہ کہیں ہو اور کسی صورت میں ہو۔‘‘(3)
اللہ تعالیٰ نے اس اہم فریضہ میں مرد وعورت کے درمیان تفریق نہیں کی اور اسے دونوں کے لیے لازمی قرار دیا اور اس میں دونوں کے لیے برابر کا اجر و ثواب رکھا۔قرآن کا فرمان ہے:
وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُہُمْ أَوْلِیَاء بَعْضٍ یَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ وَیُقِیْمُونَ الصَّلاَۃَ وَیُؤْتُونَ الزَّکَاۃَ وَیُطِیْعُونَ اللّہَ وَرَسُولَہُ أُوْلَءِکَ سَیَرْحَمُہُمُ اللّہُ إِنَّ اللّہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ۔وَعَدَ اللّہُ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہَا الأَنْہَارُ خَالِدِیْنَ فِیْہَا وَمَسَاکِنَ طَیِّبَۃً فِیْ جَنَّاتِ عَدْنٍ وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللّہِ أَکْبَرُ ذَلِکَ ہُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۔(4)
’’مومن مرد اور مومن عورتیں،یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں،بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہیں،نماز قائم کرتے ہیں،زکوۃ دیتے ہیں ا ور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔یہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی رحمت نازل ہو کر رہے گی،یقیناً اللہ سب پر غالب اورحکیم و دانا ہے۔ان مومن مردوں اور عورتوں سے اللہ کا وعدہ ہے کہ انہیں ایسے باغ دے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ان سدا بہار باغوں میں ان کے لیے پاکیزہ قیام گاہیں ہوں گی،اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ کی خوش نودی انہیں حاصل ہو گی،یہی بڑی کام یابی ہے۔‘‘
مختلف احادیث بھی اسی پر دلالت کرتی ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
من رای منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ،فان لم یستطع فبلسانہ،فان لم یستطع فبقلبہ،وذلک أضعف الایمان۔ (5)
’’تم میں سے جو کوئی برائی دیکھے وہ اس کو اپنے ہاتھ سے بدل دے،اگر(ہاتھ سے بدلنے کی)استطاعت نہ ہو تو اپنی زبان سے،اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہوتو اپنے دل سے،اور یہ سب سے کم زور ایمان ہے۔‘‘
اس حدیث میں اگرچہ’منکم‘ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے،لیکن اس میں مسلم خواتین بھی شامل ہیں۔ابن قیمؒ لکھتے ہیں:
قد استقرّ فی عرف الشارع ان الاحکام المذکورۃ بصیغۃ المذکرین اذاأطلقت و لم تقترن بالمؤنث فانھا تتناول الرجال و النساء لأنہ یغلب المذکر عند الاجتماع کقولہ تعالیٰ:یا ایھا الذین آمنوا کتب علیکم الصیام۔(6)
’’شارع کے عرف میں یہ بات ثابت ہے کہ جب شرعی احکام کا بیان مونث کے ذکر کے بغیر کے صیغے کے ساتھ کیا جائے،تو اس صیغے میں مرد اور عورتیں دونوں اصناف داخل ہوتی ہیں،کیوں کہ اجتماع کی صورت میں مذکر غالب ہوتا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:اے ایمان والو!تم پر روزے فرض کیے گئے۔‘‘
ان آیات اور احادیث کے باوجود عام طور پر مسلم معاشرے میں بالعموم فکری اور عملی طور پر یہ رائج ہے کہ’ امر بالمعروف و نہی عن المنکر‘ کا فریضہ صرف مردوں تک ہی محدود ہے اور عورتوں کی اس سلسلے میں کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔گھروں میں بھی مسلم خواتین یہ سمجھتی ہیں کہ اہلِ خانہ اور دیگر رشتے داروں کو گناہ اور معصیت سے روکنا اورمنع کرنا شوہر حضرات کی ذمہ داری ہے ،وہ واپس آنے پر خود ہی گھر میں موجود برائیوں سے نپٹ لیں گے۔اگر کہیں مواخذہ کیا بھی جاتا ہے تو خواتین کا جوشِ احتساب اس وقت نقطۂ عروج پر ہوتا ہے جب برائی کا مرتکب اجنبی یا غیر ہواور وہی مرتکب جب اپنا یاقریبی ہو تو ان کی دینی او راخلاقی حمیت وغیرت مکمل طور سے سو جاتی ہے۔
اس سلسلے میں اگرہم سب کی مائیںیعنی امہات المومنین کی زندگیوں کا مطالعہ کیا جائے تو سیرت،حدیث اور تاریخ کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے ’امر بالمعروف و نہی عن المنکر‘ کا فریضہ بحسن وخوبی انجام دیا اور اولاد،رشتے دار،عوام الناس ،عہدے داراور حتی کہ خلیفہ وقت کی کوتاہی،تساہلی اورغلطیوں کی نہ صرف گرفت کی بلکہ ان کی اصلاح بھی کی۔اس لیے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو بخوبی سمجھ لیا تھا :
یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ کُونُواْ قَوَّامِیْنَ بِالْقِسْطِ شُہَدَاء لِلّہِ وَلَوْ عَلَی أَنفُسِکُمْ أَوِ الْوَالِدَیْْنِ وَالأَقْرَبِیْنَ۔(7)
’’ائے لوگو جو ایمان لائے ہو!انصاف کے علم بردار اور خداواسطے کے گواہ بنو،اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو۔‘‘
ان اصلاحات کی ایک لمبی فہرست ہے، لیکن میں نے اپنے مقالے میں امہات المومنین کی طرف سے ان بعض اصلاحات کا جائزہ لیا ہے جو بدقسمتی سے آج بھی ہمارے مسلم معاشرے میں رائج ہیں اور جن کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔
باریک دوپٹہ پہننے کی ممانعت
حضرت عائشہؓ کے سامنے ان کی ایک بھتیجی باریک دوپٹہ اوڑھے ہوئے آئیں توانہوں نے خفگی کا اظہار کیا اور اسے پھاڑ دیا اور انہیں موٹے کپڑے کا دوپٹہ دیا۔علقمہؓ بن ابی علقمہ نے اپنی والدہ سے روایت نقل کی ہے کہ میں نے عبدالرحمٰن بن ابی بکرؓ کی بیٹی حفصہؓکو باریک دوپٹہ میں دیکھا،ان کا گریبان نیچے سے نظر آرہا تھا۔حضرت عائشہؓ نے اسے چیر دیااور فرمایا:
أما تعلمین ما أنزل اللہ فی سورۃ النور؟ثم دعت بخمار،فکستھا۔(8)
’’کیا تمہیں اللہ تعالیٰ کا سورۃ نور میں نازل کردہ فرمان کا علم نہیں؟پھر ایک موٹا دوپٹہ منگا کر انہیں پہنا دیا۔‘‘
موجودہ دور میں مسلم خواتین کا ایک بڑا طبقہ پردہ سے بے نیاز نظر آتا ہے،بعض کے نقاب یا دوپٹے ایسے ہوتے ہیں کہ اس نقاب کو بھی پردے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مائیں پردے میں، لیکن بیٹیاں بے پردہ نظر آتی ہیں۔اس میں ان سادہ لوح دادیوں،نانیوں اور ماؤں کے لیے پیغام ہے جو گھر کے کونوں میں نوافل،تلاوت قرآن اور اوراد ووظائف میں مشغول رہتی ہیں اوران کی بیٹیاں،نواسیاں اور پوتیاں اللہ اور اس کے رسولؐ کے احکام کی نافرمانی کرتی ہیں۔
عشاء کے بعد بے کار گفتگو اور لغو کاموں پر تنقید
حضرت عائشہؓ کے گھر کے بعض قریبی افراد عشاء کی نماز کے بعد محفل کا انعقاد کرتے اور اس میں لغو اور بے کار کی گفتگو کی جاتی۔آپؓ نے ایسا کرنے والوں کو سختی سے منع کیا۔حضرت امام مالکؒ سے مروی ہے کہ:
أن عائشۃ زوج النبی صلی اللہ علیہ وسلم کانت ترسل الیٰ بعض أھلھا بعد العتمۃ فتقول : ألا تریحون الکتّاب؟۔(9)
’’ حضرت عائشہؓنے اپنے گھر کے کچھ لوگوں سے کہا کرتی تھیں کہ کیا تم (نامہ اعمال)لکھنے والے(فرشتوں) کو آرام نہیں کرنے دو گے؟۔‘‘
موجودہ دور میں دیکھا جائے تو یہ وبا عام ہو چکی ہے اور اکثرلوگ خواہ مرد ہو ںیا عورتیں،دیررات تک بے کا رکی باتوں اور کاموں میں مشغول رہتے ہیں،جس کے نتیجے میں فجر کی نماز بھی قضا ہو جاتی ہے اور دن بھر سستی اور کاہلی بھی چھائی رہتی ہے۔
نکاح کرنے کی ترغیب
حضرت حفصہؓ کو جب معلوم ہوا کہ ان کے بھائی حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے شادی نہ کرنے کا قصد کیا ہے توآپؓ نے ان کو شادی کاحکم دیا اور بھائی کا احترام اور رعب غالب نہ آیا۔ عمرو بن دینارؒ سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے نکاح نہ کرنے کا ارادہ کیا تو حضرت حفصہؓ نے ان سے فرمایا:
تزوج،فان ولد لک ولد،فعاش من بعدک،دعالک۔(10)
’’شادی کرو،اگر بیٹا ہوا،اور وہ تمہارے بعد زندہ رہا،تو تمہارے لیے دعا کرے گا۔‘‘
حالت نماز میں پھونک مارنے سے روکنا
ام المومنین حضرت ام سلمہؓنے اپنے ایک (رشتے دار) نوجوان کو نماز میں سجدہ کرنے سے پہلے زمین پر پھونک مارتے ہوئے دیکھا تواس کو ایسا کرنے سے منع کیا۔ ابوصالح بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ام سلمہؓ کے پاس تھا،ان کا ایک رشتے دار نوجوان آیا اور جب وہ نماز کے لیے کھڑا ہوا تو اس نے زمین پرپھونک ماری۔حضرت ام سلمہؓ نے فرمایا:
یا بنیّ!لا تنفخ فانی سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول لعبد لنا أسود:أی رباح !ترب وجھک۔(11)
’’اے میرے چھوٹے بیٹے!پھونک نہ مارو،کیوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے ایک کالے غلام سے فرماتے ہوئے سنا :ائے رباح!اپنے چہرے کو غبار آلود کر۔‘‘
حضرت عائشہؓ کابچے کو لوہے کے پائل وغیرہ پہنانے سے منع کرنا
حضرت عائشہؓ کے پاس پھوڑے کے علاج کی غرض سے ایک بچے کو لایا گیا،جسے شفاکے لیے لوہے کی پائل پہنائی گئی تھی۔آپؓ نے ایساکرنے پر اس کے گھر والوں کی گرفت کی اور اس سے منع کرتے ہوئے چاندی کے پائل پہننے کی ترغیب دی۔امام حاکم نے بکیر سے روایت نقل کی ہیکہ ان (بکیر)کے بھائی مخرمہؓ کو عائشہؓ کے پاس بھیجا۔وہ بچوں کے پھوڑے کا علاج کرتی تھیں۔جب عائشہؓ ان کے علاج سے فارغ ہو چکیں،تو انہوں نے بچے کے پاؤں میں دو نئی پائلیں دیکھیں۔اس وقت انہوں نے فرمایا:
أظننتم أن ھٰذین الخلخالین یدفعان عنہ شئیا کتبہ اللہ علیہ؟لو رأیتھا ما تداوی عندی،و ما مس عندی،لعمری!لخلخالان من فضۃ أطھر من ھٰذین۔(12)
’’کیا تم یہ گمان رکھتے ہو کہ یہ پائل اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے لیے لکھی ہوئی مصیبت کو ٹال سکتی ہیں؟اگر میں ان کو (پہلے)دیکھ لیتی تو میرے ہاں اس کا علاج نہ کیا جاتا،بلکہ اس کو چھوا بھی نہ جاتا،یقیناً چاندی کی پائلیں ان سے زیادہ پاکیزہ ہیں۔‘‘
موجودہ دور میں خواتین اپنے بچوں کو عقیدے میں کم زوری کی وجہ سے مختلف آفات اور بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے بہت سی ایسی چیزیں پہناتی ہیں جن کو شریعت نے حرام قرار دیا ہے۔
سعی کے دوران صلیبی کپڑا پہننے پر تنبیہ
ام المومنین حضرت عائشہؓ نے سعی کے دوران ایک عورت کو صلیب والی چادر پہنے ہوئے دیکھا تو اسے اتارنے کا حکم دیا۔امام احمدؒ نے دقرہؒ سے روایت نقل کی ہے ،وہ بیان کرتی ہیں کہ میں عورتوں کے ساتھ عائشۃؓ کی معیت میں صفا اور مروہ کے درمیان سعی کر رہی تھی۔میں نے ایک عورت کے اوپرصلیب والی چادر دیکھی،تو آپؓ نے فرمایا:
انزعی ھٰذا من ثوبک فان رسول اللہ اذا رأہ فی ثوب قضبہ ۔ (13)
’’ اس کو اتار دو،کیوں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کپڑے میں اس کو دیکھتے تو اسے کاٹ دیتے تھے۔‘‘
آج مسلم گھروں میں ایسے کپڑے اور چادریں استعمال ہو رہی ہیں جن پر شرکیہ جملے اور تصاویر وغیرہ چھپی ہوتی ہیں اور انہیں احساس بھی نہیں ہوتا ہے۔
بچیوں کوبال چھپانے کی ترغیب
ام المومنین حضرت عائشہؓ نے ایک بچی کو بے پردہ اور کھلے بالوں کے ساتھ دیکھا تو اسے چھپانے کی ترغیب دی۔آپ نے اس سلسلے میں چھوٹی عمر کا بھی لحاظ نہیں کیا۔قابوسؓ نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ انہوں نے ایک عورت عائشہؓ کے پاس بھیجی،(اس نے بتایا کہ ) عائشہؓ نے ایک بے پردہ لٹوں والی بچی کو دیکھ کر فرمایا:
لو استترت ھٰذہ کان أحریٰ بھا۔(14)
’’اگر یہ ان کو چھپا لیتی تو اس کے لیے زیادہ مناسب تھا۔‘‘
حضرت عائشہؓ کی اس تاکید سے معلوم ہوتا ہے کہ بچیوں کو پردے کی تلقین شروع سے ہی کرنی چاہیے کہ بلوغت تک وہ ا س کی عادی ہو جائیں اوریہ ان کی طبیعت کا حصہ بن جائے۔عموماً مسلم خواتین اپنی بچیوں کو بچپن میں پینٹ شرٹ یا کھلی فراک وغیرہ پہنایا کرتی ہیں اور بلوغت کے بعد پردے کی تلقین کرتی ہیں جس کے بسااوقات مضراثرات سامنے آتے ہیں۔
مردوں سے مشابہت اختیار کرنے کی ممانعت
حضرت عائشہؓ کے سامنے ایک ایسی عورت کا ذکر کیا گیا جو مردوں کی طرح کے جوتے پہنتی تھی۔آپؓ نے اس پر تنقید کی اور اس سے منع کیا۔ابن ابی ملیکہؒ سے مروی ہے کہ حضرت عائشہؓکو بتایا گیا کہ ایک عورت مردوں والی جوتی پہنتی ہے۔اس پرانہوں نے فرمایا:
لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الرجلۃ من النساء۔ (15)
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی عورت پر لعنت فرمائی ہے جو لباس اور وضع قطع میں مردوں سے مشابہت کرتی ہے۔‘‘
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتنا سنگین جرم ہے،لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ بہت سے مسلم گھروں میں لڑکیاں پینٹس، شرٹس، جیکٹس،جوتے اور مردوں کی طرح ہیئر اسٹائل رکھنا قابلِ فخر سمجھتی ہیں۔اس کی ایک اہم وجہ والدین کا شروع میں دھیان نہ دینا بھی ہے۔
(2)عام لوگوں اورجماعتوں کا احتساب
امہات المومنین نے نہ صرف اعزہ و اقارب کا غلطی کرنے پر محاسبہ کیا بلکہ عوام الناس یا مختلف جماعتوں کی طرف سے ہونے والی کوتاہیوں اور غلطیوں پر تنقید کی اور ان کی قرآن وسنت کی روشنی میں اصلاح کی۔ سماج میں پیدا ہونے والے غلط رجحانات پر ان کی گہری نظر تھی۔جن کی اصلاح کو انہوں نے اپنے فکر و نظر کا مرکز و محور بنایا۔
مسجد میں جنازہ لانے کو ناپسند کرنے پر تنقید
امہات المومنین کی خواہش پر حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے جنازے کومسجد میں لایا گیا اور انہوں نے آپؓ کی نمازِ جنازہ پڑھی۔بعض لوگوں کی طرف سے اس پر اعتراض کیا گیا تو حضرت عائشہؓ نے ان کو ٹوکا اور بتایاکہ ازدواجِ مطہرات کا عمل سنت نبوی کے خلاف نہیں ہے ۔ جب حضرت سعد بن ابی وقاصؓکی وفات ہوئی تو امہات المومنین نے پیغام بھیجا کہ ان کا جنازہ مسجد میں سے گزارا جائے،تاکہ وہ ان کی نماز جنازہ پڑھ لیں۔لوگوں نے ایسا ہی کیا،جنازے کو ان کے حجروں کے سامنے رکھا گیااور انہوں نے ان کی نماز جنازہ پڑھ لی،پھر جنازے کو باب الجنائز کے راستے جو مقاعد کے قریب تھا،باہر لے جایا گیا۔امہات المومنین کو اطلاع ملی کہ لوگوں نے اس پر اعتراض کیا ہے کہ جنازے تو مسجد میں داخل نہیں کیے جاتے تھے۔اس پر حضرت عائشہؓ نے فرمایا:
ماأسرع الناس الیٰ أن یعیبوا ما لا علم لھم بہ!عابوا علیناأن یمر بجنازۃ فی المسجد!وما صلی رسول اللہ علیہ وسلم علی سھیل بن بیضا ء الا فی جوف المسجد۔(16)
’’جس بات کا لوگوں کو علم نہیں،اس پر تنقید کرنے میں انہوں نے کتنی جلدی کی ہے۔جنازے کو مسجد میں سے گزارنے پر اعتراض کیا گیا ہے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن بیضاءؓ کی نماز جنازہ مسجد کے اندر ہی ادا کی تھی۔‘‘
حضرت علیؓ کو برا بھلا کہنے والوں پر تنقید
بعض افراد کی موجودگی میں حضرت علیؓ کو برا بھلا کہا گیا،مگر انہوں نے نہ انہیں منع کیا اور نہ کوئی سزا دی۔ام المومنین حضرت ام سلمہؓ کو جب اس کی اطلاع ہوئی تو انہوں نے خاموش رہنے والوں پر تنقید کی اور فرمایا:
سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول:من سبّ علیّاً فقد سبّنی۔(17)
’’ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا:جس نے حضرت علیؓ کو گالی دی،یقیناًاس نے مجھے گالی دی۔‘‘
(3)دیگرصحابہ کرام کا احتساب
امہات المومنین نے مفتیان کرام اورعلماء کرام کی فتووں اور رایوں سے اختلاف کیا بلکہ بسا اوقات انہیں مکمل طور سے رد کر دیا کیوں کہ بہت سے معاملات میں انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست استفادہ کیا تھا۔امہات المومنین کا مقصد عوام الناس میں اسلام کی صحیح نمائندگی کرنا تھا اس لیے انہیں کسی عالم یا فقیہ کی رائے سے اختلاف کرنے میں کوئی ترد نہ ہوا۔چند مثالیں ملاحظہ ہوں:
حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے قول پر حضرت عائشہؓ کی تنقید
حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی رائے تھی کہ اگر میت کے گھر والے روئیں گے تو میت کو عذاب دیا جائے گا۔ام المومنین حضرت عائشہؓ کو جب اس کی اطلاع ملی تو انہوں نے اس پر نقد کیا اور فرمایا:
رحم اللہ أبا عبدالرحمن!سمع شئیاً فلم یحفظہ۔انما مرّت علیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جنازۃ یھودی،و ھم یبکون علیہ،فقال أنتم تبکون و انہ لیعذب۔(18)
’’اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمن کو معاف فرما دے!انہوں نے جھوٹ تو نہیں بولا،لیکن وہ بھول گئے ہیں،یا ان سے چوک ہوئی ہے۔(اصل صورت حال یہ تھی کہ)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی عورت کے (جنازے کے)پاس سے گزرے،جس پر رویا جا رہا تھا،تو آپؐ نے فرمایا:وہ تو اس پر رو رہے ہیں،اور اس کو یقیناًقبر میں عذاب دیا جائے گا۔‘‘
پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کرنے کے فتویٰ پر تنقید
ام المومنین حضرت ام سلمہؓ کو بتایا گیا کہ حضرت ابوہریرۃؓ نے لوگوں کوپکی ہوئی چیز کھانے کے بعد نماز پڑھنے سے پہلے وضو کرنے کا حکم
دیا ہے ۔آپؓ نے سنت رسولؐ کے حوالے سے اس کی تردید کی ۔امام احمدنے عبداللہ بن شدادؒ سے روایت کی ہے کہ میں نے ابوہریرۃؓ کو مروان سے یہ کہتے سنا:آگ کی پکی ہوئی چیز سے وضو کرو۔انہوں نے فرمایا:مروان نے مزید استفسار کے لیے حضرت ام سلمہؓ کے پاس قاصد بھیجا،توآپؓ نے اس سے فرمایا:
نھس النبی صلی اللہ علیہ وسلم عندی کتفاً،ثم خرج الی الصلاۃ،ولم یمس ماءً۔(19)
’’میرے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شانے کے گوشت کو دانتوں کے کناروں کے ساتھ کھایا،پھر نماز کے لیے تشریف لے گئے اور پانی کو چھوا بھی نہیں۔‘‘
(4)حکم رانوں کا احتساب
امہات المومنین نے مختلف عہدے داروں ، گورنروں اور حتیٰ کہ خلیفۂ وقت کی طرف سے ہونے والی کوتاہیوں اور غلطیوں پرآدابِ شریعت کے مطابق سرزنش کی اور ان کی اسلام کے مطابق رہ نمائی کی تاکہ اسلام کی اصل روح باقی رہے۔انہوں نے اس سلسلے میں ان کے عہدوں اور طاقتوں کا لحاظ نہیں کیا اور نہ خوف کھایا۔بطور نمونہ چند مثالیں پیش ہیں۔
زیاد بن ابی سفیان پر تنقید
زیاد بن ابی سفیان نے بیت اللہ کی طرف قربانی کے جانور بھیجے اور عام لباس اتار کر حالت احرام میں داخل ہوگئے۔ام المومنین حضرت عائشہؓ کو جب اس کا علم ہوا تو انہوں نے اس پر شدید تنقید کی اور اس کی اصلاح کی۔امام عروہؒ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کیا ہے کہ:
ان کنت لأفتل قلائد بدن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ثم یبعث بالھد،و ھو مقیم عندنا،لا یجتنب شیئاً مما یجتنب المحرم۔بلغنا أن زیاداً بعث بھدی و تجرد،فقالت:و ھل کانت لہ کعبۃ یطوف بھا حین لبس الثیاب،فانا لا نعلم أحداًتحرم علیہ الثیاب،ثم تحل لہ،حتیٰ یطوف بالکعبۃ۔(20)
’’میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کے اونٹوں کے قلادوں کو بٹا کرتی تھی،پھرآپؐ ان کو بھیجنے کے بعد ہمارے درمیان مقیم رہتے اور کسی ایسی چیز سے اجتناب نہ کرتے،جن سے محرم اجتناب کرتا ہے۔ہمیں یہ خبر ملی کہ زیاد نے قربانی کے جانور بھیجنے کے بعد کپڑے اتار دیے،کیا وہاں اس کا کوئی کعبہ تھا جس کا طواف کرنے کے بعد اس نے دوبارہ کپڑے پہنے؟کیوں کہ ہمارے علم کے مطابق کوئی شخص ایسا نہیں کہ اس پر کپڑوں کا پہننا حرام ہوا ہواور پھر طواف کے بنا ہی دوبارہ اسے پہن لینا مباح ہوا ہو۔‘‘
حاکمِ مدینہ پر تنقید
ام المومنین حضرت عائشہؓکے دورِ مبارک میں مدینہ کے گورنر مروان بن حکم کی بھتیجی کو طلاق دی گئی،ان کے والدعبدالرحمن بن حکم دورانِ عدت ہی اسے اپنے گھر لے گئے۔اس پر آپؓ نے ان پر سخت تنقید کی اور گورنرِ مدینہ مروان بن حکم کو پیغام بھیجا کہ وہ اپنی بھتیجی کو شوہر کے گھر واپس بھیجیں۔حضرت سلیمان بن یسارؒ سے مروی ہے کہ یحیی بن سعید بن عاص نے عبدالرحمن بن حکم کی بیٹی کو طلاق دی توان کے والد عبدالرحمن نے انہیں اپنے طرف منتقل کر لیا۔حضرت عائشہؓ نے مروان کو پیغام بھیجا ،وہ امیر مدینہ تھے:
اتق اللہ و ارددھا الیٰ بیتھا۔ (21)
’’اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اس کو واپس اس کے گھر بھیجو۔‘‘
امراء پر تنقید
ام المومنین حضرت ام سلمہؓ کو اطلاع ملی کی بعض امراء نماز کے مستحب اوقات میں تبدیلی کرتے ہیں تو آپ سخت ناراض ہوئیں اور آپؓ نے ان پر تنقیدکی۔مسند احمد میں ہے:
’’جب نماز کے اوقات میں بعض امراء نے تغیر و تبدل کیا یعنی مستحب اوقات چھوڑ دیے توحضرت ام سلمہؓ نے ان کو تنبیہ کی اور فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر جلدی پڑھا کرتے تھے اور تم عصر جلدی پڑھتے ہو؟۔‘‘(22)
خلاصہ یہ کہ امہات المومنین نے معاشرے کی اصلاح میں فریضۂ احتساب کے کردار کی اہمیت وافادیت کو سمجھا اور اسے بحسن و خوبی ادا کرنے کا شدت کے ساتھ اہتمام کیا۔ان کے دائرۂ احتساب میں تمام قسم کے لوگ شامل تھے۔انہوں نے دورانِ احتساب نرمی و محبت سے کام لیا،بقدر ضرورت سختی اورڈانٹ ڈپٹ سے بھی کام لیا۔
امہات المومنین کی ان تنبیہات سے یقیناًامتِ مسلمہ کو بہت فائدہ پہنچااوران کی قائم کردہ روایات آنے والی نسلوں کے لیے نقوش راہ ثابت ہوئیں۔چناں چہ تاریخ کے مختلف مراحل میں اصلاحِ معاشرہ کے حوالے سے جو انفرادی اور اجتماعی سطح پر کوششیں کی گئیں،ان میں ازدواج مطہرات کی قائم کردہ اصلاحی روایات کا اہم کردار رہا۔موجودہ دور میں بھی مسلم خواتین کی طرف سے ان روایات کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ ایک صالح معاشرہ وجود میں آسکے۔

حواشی و حوالہ جات

(1) آل عمران:104
(2) آل عمران:110
(3) صدائے حق،مولانا ابوالکلام آزاد،مکتبہ جمال،لاہور،۲۰۰۷ء،ص۳۱
(4) التوبۃ:71-72
(5) مسلم:78
(6) اعلام الموقعین:1/92-93
(7) النساء:135
(8) الطبقات الکبریٰ:8/72
(9) المؤطا:2/987
(10) ترتیب مسند الامام الشافعی:31
(11) المستدرک علی الصحیحین:1/271
(12) المستدرک علی الصحیحین :4/217
(13) المسند:6/225
(14) المصنف:2/229
(15) ابوداؤد:4093
(16) مسلم:2/668
(17) المسند:6/323
(18) مسلم:931
(19) مسند احمد : 6/306
(20) مسند أبی یعلی،مسند عائشہ:4394
(21) بخاری:5321
(22) مسند:6/289

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

اسامہ شعیب علیگ

مضمون نگار جامعہ ملیہ اسلامیہ کے گیسٹ فیکلٹی ہیں۔ آپ نے ایک کتاب کے علاوہ ۱۵ مقالے اور ۷۰ کے قریب مضامین تصنیف کیے ہیں۔

متعلقہ

Close