اُستاد کا وقار اورمیڈیا کا کردار

Abdullah Mudassirاستاد کا درجہ قدرومنزلت دنیا کی ہر قوم، ہر ذات،ہرنسل کی نظر میں یکساں درجہ رکھتی ہے۔تعلیم سے لے کر ہر فن میں کوئی نہ کوئی اُستاد رکھتا ہے۔ اگر استاد نہ ہوتو زندگی کی ترقیوں کی گاڑی کافی دھیمی ہوتی۔ یہ نہ صرف طلباءکی درس وتدریس کے لیے کتابوں کا سہارا لیتے ہیں حتیٰ کہ اپنی زندگی کے تجربات سے بھی طلباءکے مستقبل کو سنوارتے کرتے ہیں ،جو طلباءکے لیے آنے والی زندگی میں مشعل راہ ہوتے ہیں۔ اسی بناءپر طلباءاپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اطلاق کرتے ہوئے ترقی کی راہ پر گامزن ہوتے ہیں۔ یہ بات اپنی جگہ مصمم ہے کہ بچوں کی پرورش تو ماں باپ اور سرپرست کرتے ہیں جو آگے چل کی اخلاقیات کی بنیادی اکائی بنتی ہیں۔ اِس اکائی کی نشونما سماج کرتا ہے جس میں اہم رول معلمین و معلمات کا ہوتاہے۔ طلباءکی زندگی کا بیشتر حصہ اپنے معلمین ومعلمات کے زیرِنگرانی تربیت پاتی ہے۔ اُستاد کے عادات واطوار میں کوئی لغزش ہوتو طلباء پر اُس کا بُرا اثر پڑتاہے۔ لہذا اساتذہ پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس مقدس پیشے کے ساتھ انصاف کرنے کے لئے کسی بھی غیر سماجی اور غیر مذہبی عادات واطوار سے اجتناب کریں۔

عصر حاضر میں اساتذہ کرام کا وقار پامال ہوتاجارہا ہے اور وہ وقار واپس پانا کافی دشوار کن ثابت ہوپارہا ہے۔چونکہ جدید تکنالوجی کے فنون لطائف نے معلمین ومعلمات کے مقام و مرتبہ کو مزاحیہ درجہ اور منفی کردار پر لاکھڑا کردیا ہے۔ تخلیقی صلاحیت رکھنے والے ماہرین نے اُستاد کو لطیفوں میں استعمال کیا تو دوسری طرف ٹی وی سیریلوں اور فلمی دنیا نے بھی بچی بچائی کسر پوری کردی۔ کہیں اُستاد Joker نظر آتاہے تو کہیں منفی کردار میں اور کہیں تو اُستاد ہوس کا پجاری۔۔۔ ہم جس سماج میں اپنے بچوں کو پڑھا رہے ہیں یا اساتذہ کرام جس سماج کے بچوں کو پڑھانے جارہے ہیں وہ فلمی دنیا سے لبریز ہے۔ اسکولی تعلیم کے نصاب میں ہی موسیقی اور فلمی دنیا کے کسی نہ کسی پہلو کو شامل کرلیا گیا ہے۔ لہذا تعلیمی دنیا میں فلموں کا کوئی نہ کوئی اثر قائم ہوہی جاتاہے۔ ایک دور تھا جب شاگرد اپنے استاد کے گھر کی سمت پیر کرکے نہیں سوتے تھے تو کوئی گرودکشنا (فیس)کی شکل میں اپنا انگوٹھا دے دیتے تھے ۔اُستادکے وقار کواِن فنونِ لطائف نے نیست ونابود کردیا ہے۔ اُستاد کے سامنے زانوئے ادب طے کرکے بیٹھنے کے بجائے ہندوستان کی سب سے مشہور فلم 3ایڈیٹس کے شاگردوں کی طرح موقع بر موقع اُستاد سے بدکلامی اور پیٹھ پیچھے اُن کے غیر معروف نام رکھاکرتے ہیں۔ اگر ہم ماضی کی فلموں کا مطالعہ کریں تو اُستاد کا اہم کردار اپنے شاگردوں کے بیچ شادیاں کرانا پائیں گے جن میں سرفہرست شاہ رخ خان اور امیتابھ بچن کی فلم محبتیں ہے۔فلم ’میں ہوں نا‘ جیسی بی شمار فلموں نے اُستاد اور شاگرد کے بیچ معاشقہ کے تصور کو پاکیزہ محبت کا رنگ دے کر اسکولی ماحول کو ناپاک کرنے کی سازش رچی ہے۔ اِس طرح کی فلموں سے متاثر ہوکر اسکول اور کالجس میں تعلیم حاصل کرنے والے لڑکے اور لڑکیوں کے ذہن میں معلمین ومعلمات کی مقدس شبیہ خراب ہو ر ہی ہے اور اسی معاملہ پر شاگردوں کا مستقبل تاریک ہوتاجارہاہے۔

راقم الحروف کے ایم فل ریسرچ کے دوران فلمی ماہرین وناقدین کے انٹرویو سے پتہ چلاہے کہ جہاں فلمیں سما ج کا آئینہ ہوتی ہیں وہیں فلمیں سماج کو تخلیق بھی کرتی ہیں۔ سماج میں موجوداچھائیوں اور برائیوں کو کئی فلموں نے بڑی خوبصورتی سے پیش کیا ہے جن کی فہرست کافی طویل ہے۔ اس کے برعکس کئی فلمیں ایسی ہیں جنہوں نے سماج میں نت نئے برائیوں کو عام کردیاہے۔اگر کسی علاقہ میں کسی ٹیچر نے کوئی غیر اخلاقی کام کیا ہوتو اُس کی فلم بندی کرکے اُس بُرائی کو عام کردیاجاتاہے۔ اِن جدید فنونِ لطیفہ نے سماج کے اہم معمار کی عظمت کو تارتار کردیاہے۔ راقم السطور کے مطابق بالی ووڈ ازل سے ہی معلم کے صحیح کردار کو پیش کرنے میں ناکام ثابت ہوا ہے۔ حال ہی میں ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کی ایک فلم ’مِس ٹیچر‘ جس کا پوسٹر ہمارے شہر کے عام سڑکوںپر آویزاں ہے جس میں ایک خاتون غیر شائستہ اور غیر مہذب لباس میں ٹیچر کی کردار میں نظر آرہی ہیں۔ جب طلباءوطالبات اِن پوسٹرس کو دیکھ کراسکول یا کالجس جائیں گے اور وہاں پر اُن کے ٹیچروں سے اِن بچوں کا سامنا ہوگا تب اُن کے ذہن سے معلمین ومعلمات کا تقدس، عظمت اور احترام پامال ہوجائے گا۔

عریانیت آمیز پوسٹرس عام سڑکوں کی دیواروں پر آویزاں کرنا غیرمہذبانا اور مجرمانہ حرکت ہے۔ اخلاقیات کو مدنظر رکھتے ہوئے بنگالی حکومت نے 1968ءمیں بدھادیب بوس کی ناول پر مبنی فلم’رات بھور برشٹی‘ کے غیر مہذب پوسٹر پر پابندی لگانے کا حکم جاری کیا تھا۔ پھر یہی مسئلہ 1985ءمیں فلم ’پروجاپتی‘ کے رائٹر سماریش باسو کو بھی پیش آیا تھا۔صوبہ بنگال میں عریانیت آمیز پوسٹروں کی یہ بحث دوبارہ 2012ءمیں وکرم بھٹ کی فلم ’ہیٹ اسٹوری‘ پر چھڑی۔بنگالی حکومت نے ایک قانون (Compulsory Censorship of Film Publicity Materials)ایکٹ 1974پر عمل آوری کرتے ہوئے غیر شائستہ پوسٹروں کی پابندی لگائی۔ یہ قانون ریاست تمل ناڈو میں بھی نافذالعمل ہے۔اسکے علاوہ دستور میں ایک اور قانون Indecent representation of women (Prohibition) Act 1986کارفرماں ہے جس کے تحت اشتہارات ،طباعت ، اشاعت ، تحریر، تصویر، صورت و شکل یا خاکہ یا کسی بھی انداز سے خواتین کی غیر شائستہ پیش کشی پر امتناعی احکام جاری کرتا ہے۔ اسی قانون پر عمل کرتے ہوئے 2000ءمیں آئی فلم ایشوریہ رائے بچن اور ریتک روشن کی فلم ’گذارش‘ کے پوسٹر پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ اس پوسٹر میں ایشوریہ رائے بچن سگارنوشی کرتی نظر آرہی تھیں چونکہ وہ اِس فلم میں ایک ٹیچر کا کردار ادا کررہی تھیں روک لگانے کا اہم مقصد تھاکہ معلمین ومعلمات کے تقدس کو پامال نہ ہونے دیا جائے۔ فی زمانہ فلمیں بڑی بجٹ کی بن رہی ہیں جسکی وجہ سے سنسر بورڈ بڑی حد تک ناکام ثابت ہوتی نظر آرہی ہے۔اِن فلموں کوکامیاب کرنے کے لئے اور فلم بینوں کو تھیٹر تک بلانے کی خاطر بلاوجہ پوسٹروں میں عریاں اور غیرشائستہ مواد کو جگہ دی جارہی ہے۔ تانیثی مفکر وناقدلارا مُلوے کی کتاب Visual Pleasure and narrative cinemaمیں درج ہے کہ فلم میکرس صرف بصری تسکین کے لئے خواتین کو فلموں میں بطورِ شئے(object)کردار دیتاہے۔ بیشتر مقامات پر دیکھاگیا ہے کہ سنیما ہال کے ملازمین برہنہ اور نیم برہنہ پوسٹرس عام شاہراہوں کے علاوہ دینی و عصری درسگاہوں کا بھی لحاظ نہیں رکھتے ہیں۔جو male gaze(مرد شہوت کی نگاہ سے عورت کو گھورنا)اور female gaze(عورت شہوت کی نگاہ سے مرد کو گھورنا)کو بڑھاوا دیتی ہیں۔ یہ دونوں کے طرح کے gazeگناہ کبیرہ (آنکھوں کے زِنا)کے مرتکب کررہے ہیں۔ مذکورہ بالا بالی ووڈ فلم’مِس ٹیچر‘ کے پوسٹر میں نیم برہنہ ٹیچر کو اُس کے تین شاگرد male gazeکرتے دکھایاگیاہے۔یہ غیر مہذب فلمی پوسٹرس ہماری لاپرواہی کی وجہ سے سماج کو اخلاقی گراوٹ کا سبق دینے کا ضامن بن رہی ہیں۔ ہندی فلم ہدایت کار مکیش بھٹ نے عوامی راستوں پر برہنہ اور نیم برہنہ پوسٹروں کو چسپاں کرنے امتناعی قانون کو خوشی کے ساتھ قبول بھی کیا ہے۔ چونکہ اِن پوسٹروں سے نہ صرف شہوتی نگاہ بھڑکتی ہیں بلکہ راستوں پر حادثات کے امکانات بھی بڑھتے جارہے ہیں۔اسلامی تاریخ میں بھی ایسے کئی صحابیوں اور اولیاءاللہ کے واقعات بھرے پڑے ہیں جو صرف پہلی غفلت کی بدنگاہی پر حد درجہ زاروقطار اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں معافی کے طلب گار رہے ہیں۔چونکہ اللہ تعالیٰ بدنگاہی کا شوق رکھنے والے کو اندھا کرکے اپنے پاس بلاتاہے۔یہ گناہ صرف فلم بینی سے نہیں بلکہ پوسٹروں پر دیدہ زنی سے بھی عمل پیراہے۔ موجودہ حالات میں اساتذہ پر مبنی گانے اور فلمیں نہ صرف اسکول یا کالجس میں درس وتدریس کا مقدس پیشہ اپنائی ہوئی خواتین کونیچا دکھارہا ہے بلکہ سرپرستین کو اپنے بچوں کے روشن مستقبل پر بھی سوالیہ نشان نظرآرہا ہے۔موبائیل فون کی جدید تکنیک اسمارٹ فون اب پرائمری کے طلباءوطالبات کے ہاتھوں ہاتھ آگئے ہیں۔ بڑی شرم محسوس ہوتی ہے جب بچوں کے موبائیل میں ایسے گانے بجتے ہیں جس میں معلمین ومعلمات کے لیے کافی بھدے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں اور ساتھ ہی اُس فلم کی نازیبا تصویر موبائیل اسکرین پر نظر آتی ہے۔ یہی معاملہ فلم ’مِس ٹیچر‘ کے گانوں کا بھی ہے۔ اب بچوں کے سرپرستوں اور اسکول میں مدرسین کو بھی شرم محسوس ہوتی ہوگی جب اُن کے معصوم بچے اِن پوسٹروں پر بات چیت کرتے ہوں گے۔



⋆ محمد عبداللہ مدثر

مضامین ڈیسک

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

شاعر، ادیب، ناقد، محقق ،معلم: پروفیسر نازؔ قادری

نازقادری کو ان کی کتابوں پر بہار ، اترپردیش اور مغربی بنگال اردو اکادمیوں نے انعامات دیے ہیں ۔ انہیں آل انڈیا میر اکادمی لکھنؤ کے امتیاز میر ایوارڈ (1993)، آئی آئی ایف ایس نئی دہلی کے وجے شری ایوارڈ ( 2006) آئی آئی ایف ایس کے شکشا رتن ایوارڈ (2008)یو نی ورسٹی گرانٹس کمیشن کے ایوارڈ آف امیرٹس فیلو شپ (2010)، بہار اردو اکادمی کے وقاری حسن عسکری ایوارڈ (2013)سے سرفراز کیا جا چکا ہے۔