معاشرہ اور ثقافت

اُف یہ مہذب لٹیرے!

وصیل خان

تعلیم اگر انسان کو انسان نہ بناسکے تو وہ کس کام کی دور جدید میں تعلیم کے ساتھ آج یہی  معاملہ درپیش ہے۔  آج ہم ہر اس شخص کو جو کسی کالج یا یونیورسٹی کی سند نہ رکھتا ہو بڑی آسانی سے جاہل کہہ دیتے ہیں یہاں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ جاہلیت کی کچھ وضاحت کردی جائے۔  جاہل آج جس معنی میں مستعمل ہے وہ بہت زیادہ درست نہیں عام طور پر ہمارے نزدیک جاہل کی تعریف یہی مان لی گئی ہے جس نے کسی مدرسے یا کالج و اسکول سے باقاعدہ تعلیم نہ حاصل کی ہو، لیکن یہ صحیح نہیں ۔ قرآنی اصطلاح میں جاہل انہیں کہا گیا ہے جو حق شناسی کے باوجود کٹ حجتی پر قائم ہوں اورسورج کی طرح روشن دلائل کو مسترد کرتے ہوئے اپنی بات پراڑے رہیں ۔ ماضی میں لوگ اکثر جاہل ہوتے تھے لیکن ان کی اخلاقی حالت اچھی رہتی تھی وہ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں دل و جان سے شریک رہتے تھے، ان کے اندر جذبہ ٔ اخلاص ہمہ وقت موجزن رہتا تھا، ان میں آج کے تعلیم یافتہ افراد کی طرح نظریاتی طور پر کوئی سیاست کارفرما نہیں ہوتی تھی وہ اپنے فکر و عمل میں نہ صرف آزاد رہتے تھے بلکہ دوسروں کی آزادی کا خیال رکھتے تھے۔

وہ اگر کسی سے ناراض ہوجاتے تو کھل کراس کا اظہار کرتے وہ کبھی ایسا نہیں کرتے کہ دورخی بات کریں گویا ان کا ظاہر و باطن ایک ہوتا تھا۔ لیکن آج کے پڑھے لکھے افراد کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے اور عمل میں بھی وہی فرق نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے۔ یہ جب کسی سے ناراض ہوتے ہیں تو بظاہر مسکراتے ہیں لیکن اندرہی اندر انتقامی کارروائی کابڑا خطرناک منصوبہ بناتے ہیں اور جیسے ہی موقع ملتا ہے ایسا بھرپور وار کرتے ہیں کہ حریف بری طرح تلملااٹھتا ہے اور اس کی روح تک زخمی ہوجاتی ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ دانش بے دانشی کے چبوترے پر بیٹھی بکواس کررہی ہے۔  یہ بات کون نہیں جانتا بڑے کالجوں اوریونیورسٹیوں میں جب اسناد کی تقسیم ہوتی ہے تو طلباءسے عہد لیا جاتا ہے کہ انہیں سماج اور معاشرے میں ایک ایسے اعلیٰ ترین انسان کا کردار ادا کرنا ہے جس سے لوگ زیادہ سے زیادہ مستفید ہوں کیونکہ تعلیم کا مقصدانسانی خدمت ہے جس کے لئے وہ کسی طرح کا بھی غیر انسانی سودا نہیں کریں گے چاہے انہیں کتنی ہی مصیبتوں اور تکلیفوں کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے۔

کیا آج ایسا ہی ہورہا ہے، ظاہر ہے اس کا جواب نفی میں ہی ہوسکتا ہے کیونکہ آج جو کچھ بھی ہورہا ہے اس کے بالکل برعکس ہی ہورہا ہے۔ آج حصول زر اور اپنے لئے زیادہ سے زیادہ سامان تعیش جٹانے کی ہوڑ لگی ہوئی ہے سب ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کیلئے ریس لگائے ہوئے ہیں اس کے نتیجے میں انسانیت جہنم زار بن جائے تو بنے لوگ بھوکوں مررہے ہیں تو مریں انہیں کیا ’بس اپنا کام بنتا بھاڑ میں جائے جنتا ‘۔ ابھی گذشتہ دنوں کی بات ہے ایک اسپتال کی خبر نے سبھی کو حیرت زدہ کردیا تھا جب ڈینگو سے متاثرہ ایک سات سالہ بچی کے والدین کواسپتال انتظامیہ نے ۱۸؍لاکھ روپئے کا بل تھمادیا اور ان کے پیروں سے زمین ہی سرک گئی۔ یہ معاملہ دہلی کے قریب گروگرام کے فورٹس اسپتال کا ہے خبروں میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس کے باوجود وہاں کے ڈاکٹر، آگھا نامی اس بچی کو پھر بھی نہیں بچا سکے اور وہ موت کے منھ میں چلی گئی۔ والدین کو جو بل دیا گیا تھا وہ ۱۹؍ صفحات پر مشتمل تھا جس میں علاج کے دوران جن اشیاء کا استعمال کیا گیا اس کی تفصیل درج تھی مثلا ً فہرست میں ۶۶۱سرنج اور ۷۰۰۲دستانوں کے علاوہ کچھ قیمی اور مہنگی دواؤں کے علاوہ دیگر اشیاءجن کا استعمال دوران علاج کیا گیا تھا شامل تھیں ۔

 دہلی کے دوارکا میں رہنے والے بچی کے والد جینت سنگھ کے مطابق انہوں نے کچھ رقم ایڈوانس میں پہلے ہی دے دی تھی ان کا کہنا ہے کہ بعد میں بل کی رقم میں اضافہ کردیا گیا اور بل بنانے میں اتنی زیادہ من مانی کی گئی با لآخر انہیں ۱۸؍لاکھ روپئے کا بل پکڑادیا گیا۔  وہ کہتے ہیں کہ اتنے مہنگے علاج کے باوجود بچی کی صحت کیلئے کوئی مناسب دیکھ بھال بھی نہیں کی گئی۔ نیوز ۱۸سے گفتگو کرتے ہوئے جینت سنگھ نے کہا کہ فورٹس میں رکنا ہمارے لئے ابتدا سے ہی ایک جہنم کی طرح تھا لیکن انہیں یہ نہیں معلوم تھا کہ اسپتالوں میں ایسا بھی ہوتا ہے وہ کہتے ہیں کہ جب ہم نے بچی کو داخل کیا تو اسپتال کا عملہ پہلے ہی دن سے ان پر زور ڈال رہا تھا کہ بچی کو آئی سی یو میں داخل کرایا جائے گا، بالآخر ان کی ہدایت پر عمل کرنا ہی پڑا، آئی سی یو میں اسے ہرروز چالیس انجکشن دیئے جانے لگے اور سستی ادویات کے متبادل کے باوجود اسے اسپتال کی جانب سے جان بوجھ کر بل بڑھانے کیلئے مہنگی ادویات دی گئیں جس سے ان کی تو کمر ہی ٹوٹ گئی۔

 یہ کسی ایک اسپتال کا معاملہ نہیں ہے یہ لعنت ملک گیر سطح پر پھیل چکی ہے اور لوگ برسوں سے اسپتالوں کے اس استحصالی عمل سے پریشان ہیں کہیں کہیں یہ لعنت جب حد سے باہر ہوجاتی ہے تو اس کی خبر میڈیا تک پہنچ جاتی ہے اور عام لوگوں کو اس کا پتہ چل جاتا ہے ورنہ زیادہ تر واقعات دبے ہی رہ جاتے ہیں ۔ ذہن پر زور ڈالئے آج سے زیادہ نہیں دس پندرہ برسوں قبل بچوں کی پیدائش عموما گھروں میں ہواکرتی تھی اس کے لئے مشاق گھریلو نرسیں معمولی اجرت پر یہ خدمات انجام دیا کرتی تھیں لیکن بعد میں جب ترقیاتی منصوبوں کی تیز ہوائیں چلنے لگیں تو یہ کام اسپتالوں میں ہی انجام پانے لگا اور دھیرے دھیرے ان گھریلونرسوں ( دائیوں ) کی چھٹی ہوگئی پھر ان اسپتالوں نے عوامی استحصال کرنے میں سب کو پیچھے چھوڑدیا اب تو مضافات اور چھوٹے بڑے شہروں کے سارے شفاخانے نارمل ڈیلیوری نہ کئے جانے پر متفق ہوگئے ہیں۔

گذشتہ دنوں ایسی ہی ایک فیملی سے ملاقات ہوئی جس نے ڈیلیوری کیلئےنرسنگ ہوم میں زچہ کو داخل کیا  وہاں کے منتظمین نے صاف طور پر کہہ دیا کہ یہ آپریشن کا کیس ہے آپ فیس کا انتظا م کریں ورنہ کیس بگڑسکتا ہے اور زچہ بچہ دونوں کی موت ہوسکتی ہے غریب فیملی پیسوں کا فوری انتظام نہ کرسکی مریضہ رات بھرتڑپتی رہی لیکن انتظامیہ نے کوئی خاص دلچسپی نہیں لی بس وہ پیسوں کا مطالبہ کرتی رہی لیکن صبح میں بڑی آسانی سے نارمل ڈیلیوری ہوگئی اوراسپتال انتظامیہ منھ دیکھتا رہ گیا۔ اسی طرح امراض قلب کے معاملے میں بھی زیادہ تر یہی ہورہا ہے بس ذرا سا کسی کو دل کا معاملہ پیش آیااسپتال انتظامیہ اور ڈاکٹرمصرہوجاتے ہیں کہ فوراً انجیوگرافی، انجیوپلاسٹی یا پھر اوپن ہارٹ سرجری کرالی جائے نہیں تو موت یقینی ہے پھر مریض کی پریشانیوں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ عجیب بات ہے کہ وہی مریض برسوں زندہ رہتے ہیں ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

وصیل خان

ممبئی اردو نیوز

متعلقہ

Close