معاشرہ اور ثقافت

اک آئینہ ہوں جو تصویر کے مقابل ہے!

عالم نقوی

بچے ویسے ہی ہوتے ہیں جیسا ہم اُنہیں بناتے ہیں۔ وراثت، ماحول اور تربیت تینوں مل کر یہ طے کرتے ہیں کہ کوئی بچہ کیسا ہو گا۔ موروثی اثرات پر تو ہمارا اِختیار  نہیں کہ اُس کا تعین جین (GENE )کرتے ہیں ماحول بھی صد فی صد ہمارے بس میں نہیں ہوتا۔ لیکن تربیت کے ذمہ دار پوری طرح پہلے والدین اور پھر اساتذہ ہوتے ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ تربیت کے ذریعے ہم وراثت اور ماحول کے اثرات کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔ اس لیے کردار سازی میں تربیت ہی بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ اب اگر نئی نسل ہمارے ہاتھوں سے نکلی جارہی ہے اور  دن  بہ دن ہمارے قابو سے باہر ہوتی جا  رہی ہے تو اِس کے اصل ذمہ دار ہم خود ہیں۔ صرف جین اور ماحول کو مورد الزام ٹھہراکر ہم بری ا لذمہ نہیں ہو سکتے۔

ضد اور نافرمانی کی جڑیں بچپن  ہی میں مستحکم ہوتی ہیں۔ بڑے ہونے کے بعد ہم چاہیں کہ جادو کی چھڑی گھماکر اپنے بچوں یا شاگردوں کو فرماں بردار بنا لیں تو یہ ممکن نہیں۔ اِس کے بر خلاف بعد میں ہونے والی سختی اور سزا بچوں کو باغی اور سرکش بنا سکتی ہے۔ نئی نسل کی سرکشی، نافرمانی اور بغاوت ماں کے پیٹ میں استقرار حمل سے لے کر پیدائش کے بعد چار سے چھے برسوں کے دوران ہونے والی ہماری ہی  کتھنی اور کرنی کا پھل ہیں۔

ہم بچپنے میں بیشتر اپنے بچوں کی ہر جا اور بے جا، وقت اور ناوقت، بر محل اور بے محل، خواہشوں، مطالبوں، ضدوں کو پورا کرنے کی غلطی کرتے ہیں، نتیجے میں وہ، یہ نہیں سیکھ پاتے کہ یہ  دنیا ہماری  ہر خواہش کے ہر وقت پوری ہونے کی جگہ ہے ہی نہیں۔

وہ اپنے بڑوں سے سن کر گالی سیکھتے ہیں اور اپنی توتلی زبان سے جب، ظاہر ہے کہ بغیر سمجھے،اُسے  دہراتے ہیں تو ہم خوش ہوتے ہیں۔ حالانکہ یہ رونے کا محل ہوتا ہے۔ ہم گھر میں ہر آنے جانے والوں کو فرمائش کر کے ننھے منے  معصوم بچوں سے وہ توتلی گالیاں سنواتے ہیں اور مزہ لیتے ہیں۔ پھر جب بڑے ہوکر وہی بچے فرَّاٹے سے مادر پدر آزاد گالیاں بکتے ہیں، یہاں تک کہ سبھی’ گاف، لام، میم  اور چے‘ اُن کا تکیہ کلام بن جاتے ہیں تو شکایت کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ محل بھی بچوں کی شکایت کے بجائے رو رو کر اللہ سے توبہ کرنے کا ہوتا ہے۔

ہم بچوں کے سامنے اِطمینان سے جھوٹ بولتے ہیں، اُنہیں بہلانے، پھسلانے اور چپ کرانے کے لیے اُن سے جھوٹے وعدے کرتے ہیں، کوئی ایسا شخص دروازے پر آجائے جس سے ملاقات کا ’موڈ ‘ نہ ہو تو بچے یہ کہلوا دیتے ہیں کہ ’ابو، ابا یا بابا ‘ گھر پر نہیں ہیں اور جب بعد میں وہی بچے اپنے ماں باپ  ہی  سے سیکھ کر جھوٹ اور وعدہ خلافی کو اپنا شعار بنا لیتے ہیں تو ہم نئی نسل کے خراب ہوجانے کا شکوہ   کرتے ہیں۔  اُس وقت بھی ہم اگر بچوں کی شکایت کے بجائے اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں تو وہ جو مقلب ا لقلوب ہے اس کے لیے کوئی مشکل نہیں کہ وہ دلوں کو بدل دے۔ اور ان کی زبان میں تاثیر پیدا کردے۔ ورنہ بچوں کو سکھانے کی عمر تو وہ گنوا چکے ہوتے  ہیں۔

بعض بچے بچپن میں اپنے ماں، باپ، یا دادادادی کو اپنے ننھے منے ہاتھوں سے  مار کر اپنے غصے کا اظہار  کر تے ہیں  اور بڑے انہیں روکنے یا تنبیہ کرنے کے بجائے یہ بے ضرر مار کھا کر خوش ہوتے ہیں جب کہ اس معاملے میں بچے کی ہمت افزائی ہرگز ہرگز نہیں ہونی چاہئے۔

بزرگوں اور عورتوں کی عزت کرنا بچے اسی عمر میں سیکھتے ہیں۔ اگر بڑوں کو مارنے پیٹنے کی اس بچکانی ادا پر پہلے ہی مرحلے میں روک نہ لگائی جائے تو یہ پختہ ہو کر عادت بن جاتی ہے۔ اور بعد میں بچوں کو یہ سکھانا بہت مشکل ہو جاتا ہے کہ بڑوں سے مار پیٹ کرنا جرم ہی نہیں گناہ بھی ہے۔  اپنی بیویوں کی پٹائی کرنے والے اور سڑکوں پر بات بات پر ’روڈ ریج ‘ کا مظاہرہ کرنے اور مار پیٹ کرنےوالے لڑکے اور مرد بیشتر وہی ہوتے ہیں جو بچپنے میں اپنی ماں، بڑی بہنوں، نانی، دادی، پھو پی یا خالہ کو مارتے تھے اور انہیں روکا نہیں جاتا تھا۔ بچہ جب پہلی بار اپنی ماں یا گھر کے کسی اور بزرگ کو مارے تو’’گُربَہ کُشتَن روزِ اَوَّل‘‘ کےمصداق اُسی وقت اُس کی سرزنش ہونی چاہیے جبھی وہ یہ سیکھے گا  کہ اُس نے کوئی ایسا غلط کام کیا ہے جو اُسے ہرگز نہیں کرنا چاہئے۔

پہلی غلطی پر بچے کو سزا دے کر اُس کا رونا پیٹناچیخنا اور چلانا  برداشت کر کے اُسے بہت آسانی سے یہ  سکھایا جا سکتا ہے کہ ماں اور بڑوں پر ہاتھ ہرگز نہیں اُٹھاتے۔

جو بچے اپنے ماں باپ کو لڑتے جھگڑتے اور گالم گلوچ کرتے دیکھتے ہیں اور جو بچے ماں باپ کے جھگڑے میں، اُن میں سے کسی  ایک یا دونوں کے غصے کا شکار بن کر مار کھاتے ہیں اور جو بچے چھوٹی چھوٹی باتوں پر گھر میں روز شور و غل اور ہنگامہ دیکھتے ہیں، اُن سے یہ توقع فضول ہے کہ وہ آگے چل کر ایسے ہی مواقع پر تحمل اور برداشت سے کام لیں گے۔

یہ جو آج ہم اپنے چاروں طرف  آئے دن صبر و تحمل اور برداشت کافقدان دیکھ رہے ہیں اُس کا سبب یہی ہے۔ جو بات ہم نے اپنے بچوں کو اپنے عمل سے نہیں سکھائی، جس سلوک اور برتاؤ کا خود ہم نے اپنے بچوں کے سامنے کبھی عملی مظاہرہ نہیں کیا، اُس کی توقع ہم اُن سے آخر کیسے کرسکتے ہیں ؟ بچہ آخر وہی تو سیکھتا ہے جو وہ سنتا ہے، اور اپنے چاروں طرف ہوتے ہوئے دیکھتا ہے۔ والدین کے ذریعے  خود اپنے ماں باپ اور بڑوں کی نافرمانی کر کے بچوں کو اپنی فرماں برداری کا سبق نہیں سکھایا جا سکتا۔ جن بچوں نے اپنے بڑوں کو کبھی صبر، برداشت  مظاہرہ کرتے دیکھا ہی نہیں  وہ بڑے ہو کر  ان اعلیٰ انسانی قدروں والی خصوصیات کے حامل  کیسے ہو سکتے ہیں ؟

حرام کی کمائی سے ہم اپنے بچوں کا پیٹ بھریں اور پھر اُن سے یہ توقع بھی کریں کہ وہ بڑے ہوکر ایماندار، دیانت دار، اطاعت شعار، فرماں بردار اور خدمت گزار بنیں  گے تو ایسا نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ ایسا  ہو ہی نہیں  سکتا۔ اس دنیا کا نظام ایسا ہی ہے کہ یہاں ببول کے پیڑ میں گلاب نہیں کھلائے جا سکتے اور جَو بو کر گیہوں نہیں کاٹا جا سکتا۔ لہٰذا یاد رکھیے ہمارے بچے ویسے ہی ہیں جیسا ہم نے اُنہیں بنایا ہے !

ظلم ہے، مگر ایسے ظلم کی سزا کیا ہے ؟۔ ۔کھیل کھیل میں بچے تتلیاں مسلتے ہیں !؟!

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عالم نقوی

مضمون نگار ہندوستان کے معروف تجزیہ نگار اور سینیر صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close