گوشہ خواتینمعاشرہ اور ثقافت

ایک دن عورت کے نام۔۔!

سیدہ تبسم منظور ناڈکر

یوم خواتین(women’s day ) 8 مارچ کو دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن بڑے زور و شور سے منایا جاتا ہے.. آج پھر 8 مارچ پورے سال میں ایک دن عورتوں کے نام کا منایا جا رہا ہے۔سال میں ایک دن عورتوں کو خوش کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ کہنے کو تو عورت کے پیروں تلے جنت رکھ دی گئی۔ پر ساری زندگی عورت کے حصے میں تڑپنا اور جھلسنا درد تکلیف طنز باتیں سننا ہی لکھا ہے۔

حیرت ہوتی ہے ایسے مردوں پر جو آنکھ تو عورت کی آغوش میں کھولتا ہے اور یہی آغوش اسے دنیا کی سختیوں اور صلاحیتوں کو پرکھنے کا ہنر سیکھاتی ہے پر افسوس یہ جیسے ہی بلوغت کی عمر کو پہنچتے ہیں تو ان میں غیرت جاگ جاتی ہے۔  اس ایک دن خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے ان کے حقوق کی بات کی جاتی ہے اور اس ایک دن شاید تسلیم بھی کی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے اس کے ذریعے عورتوں کے مسائل کو سمجھنے میں اور حل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اسکول اور کالج اور بہت سی جگہوں پر تقریبات منعقد کرکے بے شمار پیسے خرچ کئے جاتے ہیں اور یہ دن منایا جاتا ہے۔ پر کیا سچ میں آج عورتوں کو ان کے حقوق مل رہے ہیں۔

 آج جگہ جگہ ماں بہن بیٹیاں  لٹ رہی ہے ۔ ننھی معصوم کلیوں کو کھلنے سے پہلے ہی مسلا جا رہا ہے۔ طلاق جیسے شریعی حقوق کو پامال کیا جارہا ہے۔ کہاں محفوظ ہے عورت ؟ کیوں یہ ایک دن عالمی خواتین کا دن منایا جاتا ۔ مسائل حل کرنے کی باتیں ہوتی ہیں!!!! ۔کیا مسائل میں کمی آئی ہے؟؟؟؟ یا مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے؟؟؟؟؟؟موجودہ دور کی بات کی جائے تو اب بھی عورتوں کو مرد کے مقابلے میں وہ اہمیت نہیں دی جاتی جس کی وہ حق دار ہیں ۔۔۔۔۔حقوق نسواں پر کوئی بھی بات کرنا ہی نہیں چاہتا ۔

عورت کو جسمانی اور دہنی طور پر مرد سے کمزور ہی سمجھا جاتا ہے ۔اس لئے معاشرے میں عورت کا مقام مرد سے کم تر ہی سمجھا جاتا ہے ۔ اور شاید جاتا رہے گا۔ آج بھی بیٹے کی پیدائش پر خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے ۔بیٹی کی پیدائش پر کندھے جھک جاتے ہیں۔ بیٹی کی پیدائش پر قصور وار بھی عورت کو ہی ٹھہرایا جاتا ہے۔ گالیوں کی زبان میں بات کی جاتی ہے تو ماں بہن بیٹیوں کا ہی سہارا لیا جاتا ہے ۔عورت کو مسائل کی آگ میں ڈھکیل دیا جاتا ہے اور وسائل کی بات آتی ہے تو عورت کو اس کا حق دینے سے انکار کیا جاتا ہے۔

ہمارا معاشرہ عورت کے اسلامی حقوق سے واقف ضرور ہے پر عورت کو اس کے حقوق دینے کے لئے بلکل تیار نہیں ۔ کیسی حیرانی والی بات ہے نا ! جو عورت انسانی نسل کی بقا اور خاندانوں کا سبب بنتی ہے ۔وہ عورت آج اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے ۔ ہونا تو یہ چاہے تھا کہ معاشرہ خود ہی عورت کو اس کے حقوق دیتا۔اسے وہ عزت و احترام دیتا کہ عورت خود کو محفوظ تسلیم کرتی۔پر یہاں تو عورت کو کمزور سمجھ کر زندگی کے ہر موڑ پر اس کے حقوق کو پامال کر دیا جاتا ہے اور احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ کمزور ہےاور مرد ہی اس پر حکمرانی کرسکتا ہے۔ عورت کائنات کی خوبصورت مخلوق ہے۔بادشاہ نے اس کی یاد میں تاج محل بنوایا۔۔۔کسی نے دودھ کی نہر نکلی۔۔۔۔کسی نے داستان لکھی۔۔۔۔کسی نے شعر و شاعری لکھی۔۔ کسی نے تخت چھوڑا۔۔۔۔۔عورت کی وجہ سے ہی کائنات میں رنگ ہے۔۔۔۔پھر بھی کیوں عورت مظلوم ہے؟؟

اسلام کے سوائے کیسی بھی مذہب میں عورت کو انفرادی حیثیت میں قبول نہیں کیا ۔دور جہالت میں عورتوں کے حقوق پامال تھے۔ نہ ہی ان کی عزت ہوتی تھی اور نہ ہی ان کی عظمت کی حفاظت ہوتی تھی۔ پر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو پورے پورے حقوق دیے۔عورت سے متعلق احکامات مقرر کئے یہاں تک پوری سورہ النساء عورت پر اتاری گئی ۔ اسلام وہ واحد مذہب ہے جس میں عورتوں کو جتنی عزت حاصل ہے کسی اور مذہب میں نہیں۔

 اسلام ہی روشن راہ ہے جس کی روشن کرنوں سے ایک مسلمان عورت کو عزت شان مان تحفظ اور تسکین حاصل ہے۔اللہ تبارک و تعالی ہر مسلمان عورت کی حفاظت فرمائے اور اپنے تحفظ میں رکھے۔ آمین

مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

  1. عورت
    کوہی اشتہار دیکھیں، کوئی موضوع بحث سنیں، کوئی معاشرتی پہلو دیکھیں ،
    عورت ہی زیر بحث ہوتی ہے۔ آخر کیوں ہوتا ہے ایسے؟
    جو طوفان چل رہا ہے اسے بند باندھنا آسان نہیں کہ عورت بھی یہی خواہش رکھتی ہے۔ لیکن کیا مرد کی ذات و صفات کو زیر بحث لانا معاشرتی معاملات کو حل کرنے کے لیے بہتر نہ ہو گا؟
    مثلاً
    اچھی پڑھی لکھی سلجھی، سگھڑ عورت کی خواہش کے ساتھ
    مرد کواچھا اور تعلیم یافتہ، وفا شعار، شریف النفس، باروزگار،صاحب عزت اور صاحب دین ہونا چاہیے
    مرد عورت کو عزت و پیار و احترام دے کہ یہ اس کے بدن کا حصہ ہی ہے اور وہ خوش رہ سکے۔
    مرد ڈکٹیٹر نہ بنے بلکہ پیار کا راہی ہو عورت کی زندگی میں اسے مکمل تحفظ دے۔
    مرد ناں نفقہ ، چادر چاردیواری دے اپنی ساتھی کو
    عزت نفس کا خیال رکھے۔ عزت کی دھجیاں نہ بکھیرے۔
    احسان کرے تو جتلاے نہ
    عورت کو ٹیڑھی پسلی سمجھے اور پیار کرے اسے سیدھا نہ کرنے کی کوشش کرے کہ فطرت کے خلاف ہے
    ہمیشہ ڈرتا رہے اللہ سے اپنی عورت کے معاملہ میں۔
    عورت کی چھوٹی خامیوں سے درگزر کرے اور بڑی خوبیوں سے فائدہ اٹھاۓ ۔
    اس سلوک کے ساتھ اس بڑھتے طوفان کا زور ٹوٹ جاے گآ
    پہل مرد کو ہی کرنی ہو گی

متعلقہ

Back to top button
Close