معاشرہ اور ثقافت

ایک دوسرے کو معاف کرنا سیکھیں

احساس نایاب

جو دوسروں کے عیب چھپاتا ہے، قیامت کے دن اللہ اسکے عیب چھپائے گا۔

بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ کسی کے عیبوں کو سرِعام نہ اچھالو کیونکہ دنیا میں ایسا کوئی انسان نہیں ہے جو عیبوں سے پاک ہو , کوئی پوشیدہ طریقے سے گناہ کرتا ہے تو کوئی کھلے عام لیکن گنہگار تو ہر کوئی ہے چاہے وہ گناہ چھوٹا ہو یا بڑا اور سماج کے لئے خطرہ ایسے گناہوں سے ہے جو جان بوجھ کر کھلے عام کئیے جائیں جسکا دیکھا دیکھی آگے چل کر سماج معاشرے پہ غلط اثرات پڑیں، ان حالات میں ہر مسلمان کا فرض بنتا ہے کہ ایسے گناہوں کر روکنے کی کوشش کریں لیکن اس بات کا خیال رکھین کے ہماری اس کوشش میں کسی کو تکلیف نہ پہنچے کیونکہ کسی کو سرِعام شرمندہ رسوا ذلیل کرنا بھی گناہ ہے اگر کسی کی اصلاح کرنی ہے کسی کو راہِ راست پہ لانا ہے تو سب سے پہلے انہیں پوشیدہ طریقے سے سمجھائیں , انہیں انکی غلطی کا احساس دلائیں کیونکہ اللہ نیک بندوں کا حساب پردے میں کرینگے  اور نیک لوگوں مین شمار ہونے والے وہ لوگ ہیں جو دنیا میں  دوسروں کے عیب گناہ چھپایا کرتے تھے اور ایسا گناہ چھپانا واجب بھی ہے جس سے کسی قسم کا نقصان ہونے کا خدشہ نہ ہو … لیکن جہان پہ کھلے عام گناہ یا غلط ہوتے ہوئے  دیکھیں جسکا دیکھا دیکھی معاشرہ میں بگاڑ آنے کی گنجائش ہو تو اس کو روکنا بھی ہر مسلمان کی ذمیداری ہے لیکن حکمت سے ورنہ خود بھی گنہگاروں کہ فہرست میں شامل ہوجائیں گے۔

اور کسی نے گناہ کیا جسے چند لوگون کے سوا کوئی نہیں جانتا وہ اللہ کی بارگاہ میں بیشک گنہگار ہے , لیکن وہ لوگ جنہونے اس گناہ کی خبر سینکڑوں میں ظاہر کی سینکڑوں تک پہنچائی وہ بھی گنہگار ہی کہلائیں گے۔

جب اللہ اپنے بندوں کے گناہ راز رکھتے ہیں تو ہم ادنٰی سے بندے آخر کیوں اپنے ہی بھائی بہنوں کی عزت کو اچھالتے پھر رہے ہیں؟؟؟؟

 یاد رکھیں خون کو پانی سے تو ضرور صاف کیا جاسکتا ہے لیکن خون سے خون کو صاف کرنا ناممکن ہے ,, اسی طرح غلطیوں کو غلط طریقوں سے روکنے کی کوشش کرنا بھی غلط ہے گناہوں کو نیک عمل نیک روئیہ سے تو بدلاجاسکتا ہے لیکن گناہ سے گناہ کو مٹانا بھی گناہ ہی ہے۔

 آج ہمارے ارد گرد یہی سب کچھ ہورہا ہے کوئی گناہ کررہے ہیں تو کوئی اسکو روکنے کی نئیت سے گنہگار بن رہے ہیں ,,  اسکی وجہ کہیں نہ کہیں یہی ہے کہ ہمارا طریقہ غلط ہے ,,,, ہم مسلمان نیکی بھی کرنا چاہتے ہیں تو غلط طریقے سے ,,, جیسے آجکل کیا جارہا ہے سوشئیل میڈیا کے ذریعہ جہاں چند ناسمجھ لوگ بنا سوچے سمجھے کسی کی تصویریں شئر کر کے یہ سمجھتے ہیں کہ انہونے کوئی بہت بڑا کارنامہ انجام دیدیا یا کوئی نیکی کا کام کردیا پر افسوس یہ انکی غلط فہمی ہے .. اور اسطرح کی حرکت کرنے سے پہلے یہ کیوں نہیں سوچتے کہ لوجہاد کے نام پہ  جسطرح بی جے پی آر ایس ایس کے لوگ مسلمانوں کو جابجا ہراساں کررہے ہیں قتل و غارت مچارہے ہیں کہیں ہماری اسطرح کی بیوقوفی سے ہم بھی انہیں کی پیروی کر انہین میں شامل تو نہیں ہورہے؟  اپنی ہی عزت کو سوشئل میڈیا پر اپلوڑ کرنا اس سے بڑی بیوقوفی  گھٹیا بات اور کوئی ہو ہی نہیں سکتی … مسلمان ہوکر اگر ہم اسطرح کی حرکت کرینگے تو ہم میں اور ان بھگوادھاری دہشتگردوں میں کیا فرق رہجائیگا ؟؟؟؟؟؟ اور اس بات کو کبھی نہ بھولیں کہ ہم مسلمان ہونے کے ساتھ آقا دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں جنہونے کافرون کی بہن بیٹئوں کے سر پہ بھی چادر اُڑائی تھی اور ہمیشہ انکی عظمت کو برقرار رکھا۔

اور ہم یہ بھی نہیں کہہ رہے کہ آجکل لڑکے لڑکیاں جو کر رہے ہیں وہ صحیح ہے کیونکہ یہ ہرصورتحال مین غلط ہی ہے مثلاً غیر لڑکوں کے ساتھ بائکس پہ گھومنا انکے ساتھ تصویریں نکالنا پارٹی کرنا یا دوستی کے نام پہ میل جول بڑھانا یہ سب کچھ تاقیامت گناہ ہی کہلائیگا بھلے دنیا کتنی بھی موڈرن کیون نہ ہوجائے بھلے ہمارا کونسٹیٹؤشن  ہمیں جو بھی اجازت دے  یا ہم کتنا بھی سیکئولریزم سیکئولریزم کہتے رہیں ,, پر ان سب کے آگے ان سب سے بڑھ کر ہماری شریعت اور اسلام میں دئیے گئے احکامات ہم مسلمانوں کے لئے اہمیت رکھتے ہیں ,, اور اسلام کے احکامات کے مطابق جب چچاذاد , قالازاد , پھوبھا زاد ,مامازاد بھائیون کو اللہ نے نامحرم قرار دیا ہے جبکہ ہمارا انکے ساتھ خون کا رشتہ ہے ہم نے اپنا بچپن انکے ساتھ کھیل گود کر گذارا ہوا ہے پھر بھی انکے آگے پردہ کرنا ان سے میل جول نہ کرنا  ہر مسلمان لڑکیوں عورتون پہ لازم ہے تو ذرا سوچیں اسکول کالجس کے نام پہ لڑکے لڑکیوں کا ساتھ میں گھومنا پھرنا کیسے جائز ہوگا اور اس بات کو سمجھتے ہوئے اپنے بچون کو سمجھانا مان باپ کا فرض بنتا ہے کہ بچوں کو روکیں ان پہ نظر رکھیں بھلے آپ کے بچے کتنے بھی پاکیزہ کردار کیوں نہ ہوں , کیونکہ انسان جتنا بھی نیک سیرت ہو آخر ہے تو انسان کوئی فرشتہ نہیں اور انسانوں کو بہکنے کے لئے ایک پل کافی ہے  مانا تمام والدین کے لئے انکے بچے بہت اچھے ہوتے ہیں اور بچوں کے لئے ایسی سوچ رکھنا ،بے پناہ محبت  ان پہ بھروسہ اعتبار , یقینً قدرتی ہے لیکن اپنی محبت کو اس قدر اندھی بھی نہ بنائیں جسکی وجہ سے آپ کے بچے انجانے میں گناہوں کے دلدل میں دھنستے چلے جائیں یا انکی غلطیاں غیروں کے ہاتھوں لگ جائیں جسکی وجہ سے انہیں ذلت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑے , جب مان باپ اپنے بچوں کو انکی غلطیوں سے روبرو کرواتے رہینگے  قدم قدم پہ انکی رہنمائی کرتے ہوئے ان پہ نظر رکھینگے تو انشاءاللہ ہمارے بچے کبھی کسی غیر کے ہتھے نہیں چڑھ سکتے اور ہر مسلم بچے بچیوں کا آج اور مستقبل ماں باپ کے ساتھ قوم کی بھی ذمیداری ہے اور ہر مسلمان کی عزت ہم سب پہ امانت ہے اسلئے قوم کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ بھی ہر بچے کو اپنے بچوں کی طرح سمجھیں جسطرح ہم اپنے بچوں کی عزت انکی تحفظ کے بارے میں سوچتے ہیں اسی طرح ہر بچے کے بہتر مستقبل کو ذہن میں رکھیں کوئی بھی ایسا قدم نہ اٹھائیں جسکی وجہ سے کسی کی عزت پامال ہو , جو لوگ اوروں کے گھروں کی عزتوں کو سوشئل میڈیا پہ وائرل کرتے ہیں ہمارا ان سبھی سے سوال ہے کہ اللہ نہ کرے کسی اور کی بہن بیٹیوں کی جگہ آپکی بہن بیٹیان  ہوتی تو کیا آپ اُنکی بھی تصاویر اسی طرح فیس بک واٹس پہ وائرل کرتے ؟

اور یہ سوال ہر اس انسان کے لئے ہے جو اس طرح کی حرکتیں کرتے ہیں , اسلئے ہر ایک کو اپنا مان کے چلیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کہ چکر میں غلط کو صحیح اور صحیح کو غلط کا جامع پہنا کر آپس مین رنجشین پیدا نہ کریں۔

 اکثر اس عمر کے بچوں میں نادانی لڑکپں ہوتی ہے اور جس ماحول میں ہم اپنی زندگی بسر کررہے ہیں اسکی وجہ سے بڑی عمر کے لوگ بھی بہک جاتے ہیں تو یہ تو کم عمر ناسمجھ ہیں تو ان سے غلطیاں ہوجانا کوئی بڑی بات نہیں لیکن بڑوں کا فرض بنتا ہے انکی غلطیوں کو حکمت سے سدھاریں  نہ کہ بچوں کی طرح خود بھی بچے بنکے غلطیاں کر بیٹھیں اور ایک بات ذہنشین کرلیں بچے چاہے کوئی بھی ہوں کسی بھی مذہب سے کیوں نہ ہوں انہیں بھی صحیح رہنمائی اور اصلاح کی ضرورت ہے کیونکہ یہی اس عمر کا تقاضہ ہے چاہے وہ کسی بھی مذہب سے کیوں نہ ہوں۔

اس لئے مذہب کے نام پہ لوگوں میں انتہشار نفرت نہ پھیلائیں , ہماری اس ناسمجھی کا بھرپور فائدہ فصتائی طاقتیں اٹھائینگی اور انکی تو کوشش  بھی یہی ہے کہ ملک کا ماحول بگڑے ہر جگہ مذہب کے نام پر فسادات ہون بیگناہوں کا خون بہے اور سب سے بڑھ کر ہم مسلمانوں میں اختلافات پیدا ہوں  اور ہماری اس کمزوری کی قیمت ہمارے نوجوانون کی جان اور خواتین کی عظمت سے چکانی پڑے۔

 ویسے بھی کوئی سیاسی پارٹی یا سیاستدان کبھی کسی کے سگے ہمدرد نہیں ہوتے , یہ تو کسی کی چتا پہ بھی سیاسی روٹیان سیکنے سے باز نہیں آتے , وہ کیا کسی کا بھلا کرینگے وہ کیا کسی کو انصاف دلوائینگے , فلحال تو ہر سیاسی جماعت کو اپنے اپنے ووٹ بینکس بچانے ہیں جسکی وجہ وہ ایسے معملے کو مدعہ بناکر مسلمانوں کو آپس میں لڑواکر ہمارے درمیان آگ بھڑکائینگے تاکہ ہم مسلمانون میں اختلافات بڑھ جائیں اور مسلمان بکھر جائے خدا کے لئے انکی سازشوں کو انکی منصوبہ بندیوں کو سمجھیں اپنی اپنی انا کے چکر میں قوم کا مستقبل داعو پہ نہ لگائیں۔

اور اخبارات میڈیا چینلس سے بھی ہماری عاجزانہ گذارش ہے کہ وہ بھی اپنی ذمیداریوں کو سمجھتے ہوئے وقت اور حالات کی نزاکت کے مطابق خبریں شائع کریں جس سے کسی کو کوئی تکلیف نہ پہنچے اور نہ ہی مذہبی ڈیبیٹس کرواکر شر پسندوں کو نفرتیں پھیلانے کا پلاٹ فارم مہیا نہ کروائیں چاہے وہ کنڑا , اردو , انگلش یا کسی بھی زبان کا نیوس چینل کیوں نہ ہو۔

کیونکہ مسلمانوں میں بھلے جتنے بھی آپسی اختلافات کیوں نہ ہوں  جہان وطن پرستی , دین اور قوم کی بات آئیگی وہاں مسلمانوں کے لئے کوئی چیز اہمیت نہیں رکھتی نہ رشتے داری نہ دوستی اسلئے چند بیوقوف ناسمجھوں کی غلطیوں بیان بازیوں کو اتنا بڑھا چڑھا کر نہ دکھائین کی اسکی سزا ملک اور تمام قومیں بھکتیں , اور کوئی بھی مومن مسلمان یہ گوارہ نہیں کرینگے۔

کیونکہ 2014 سے مسلمان جن حالات سے دوچار ہورہے ہیں اسکے علاوہ جو ایک اور خبر سوشئل میڈیا پہ گشت لگارہی ہے کہ اپریل 3 کو مسلم پنشمینٹ ڈے کے نام سے بنایا جائے ابھی ایسی سازشون کو ناکام کرنا ہے۔

 اسلئے ہم مسلمانوں کو ایک ہونا ہوگا اپنی ذاتی اختلافات کو درگذر کرکے ملک اور قوم کی فلاح کے لئے آگے آکر  قوم کی خاطر اپنی سوچ کا دائرہ وسیع کریں اور ایک دوسرے کو معاف کرنا سیکھیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

احساس نایاب

ایڈیٹر گوشہ خواتین واطفال بصیرت آن لائن، سب ایڈیٹر روزنامہ آجکا انقلاب

متعلقہ

Back to top button
Close