آس پاسمعاشرہ اور ثقافت

اے حواؑ کی بیٹی، ہم شرمندہ ہیں!

 شہزاد سلیم عباسی

کئی دنوں کی پولیس اور انٹیلی جنس اداروں کی سڑکوشش کے بعد بالاآخر قصور کی معصوم زینب کا قاتل پکڑ ا گیا۔زینب پر سینکڑوں تحریریں زیب قرطاس ہوئیں ۔ قلم کاروں نے معاشرے کے مختلف زاویوں پر بات کر کے بڑھاس نکا لی، حکمرانوں کو برا بھلا کہا، اور زینب بٹیا کی آہ و بکا کو بیان کر کے اپنے جذبات و احساسات اور خیالات کو قلم بند کیا۔اور کچھ بڑے کالم نگاروں نے زینب کے قاتل عمران کو انسان یا درندہ ہونے پر منطقی اور سائنسی دلائل دے کر اخبارات کے صفحے کالے کیے۔حقیقت تو یہ ہے کہ زینب امید کی کونپل تھی جو معاشرے کی بے ثباتی کے گرداب پھنس گئی اور بن کھلے مرجھا گئی۔امید واثق ہے کہ زینب آج خدا کی مہمان نوازی کے مزے لوٹ رہی ہوگی اور جنت کے اعلی باغات میں ٹیل کراپنے والدین کے لیے صبرو تحمل کی دعا مانگ رہی ہوگی۔ اللہ پاک زینب کے والدین کو صبر جمیل عطا کرے اورزینب کے بدلے انہیں بہتر نعمت عطا کرے جو ان کے دکھوں اور غموں کا مداوا کرے۔

 زینب تو چلی گئی لیکن عاصمہ کو پیچھے چھوڑ گئی۔ زینب کوچ کر گئی لیکن نقیب محسود کو چھوڑ گئی۔زینب امر ہو گئی لیکن پنجاب میں زیادتی کا شکار ہونے والے 1250بچوں اور 12بچیوں کے قاتلوں کے پکڑنے کا اشارہ کرگئی۔ زینب تو اللہ کے کن میں بخوشی فیکن ہوگئی لیکن اس جامد، بے پرواہ اور ظالم معاشرے کو پیغام دے گئی کہ تمہاری بیٹی تمہارے ہی کیے ظلم کا شکار ہوگئی۔اور زینب اس لاحاصل دنیا کو تو خیر آباد کہہ گئی لیکن ان بے ضمیر حکمرانوں کو ہمیشہ کے لیے یہ بھی بتا گئی کہ خدا کی لاٹھی بے آواز ہے وہ ظالموں کی بڑی سخت پکڑ کرتا ہے۔

وزیر اعلی پنجاب نے کہا کہ زینب کیس میں بڑی کامیابی ہماری شبانہ روز محنت اور ٹیم ورک کے نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوران تفتیش 1150سے زائد لوگوں کا پولی گرافک ٹیسٹ لے کر پنجاب فرانزک لیب بھیجوایا گیا اور نمونے میچ ہوئے۔ڈی این اے پروفائلنگ اور سائینٹفک ہیومن انوسٹی گیشن کی بدولت قاتل کی شناخت ہو پائی۔شہباز شریف نے زینب کا قاتل پکڑتے ساتھ ہی زینب کے والد کو ساتھ بیٹھا کر پریس کانفرنس کی اور دوبڑی قابل ذکر باتیں کیں ، (1) مقتولہ زینب کے والد کو ساتھ بیٹھا کر تالیا ں بجوائیں جو کہ انتہائی احمقانہ حرکت تھی۔ (2)انہوں نے کہا اگر میرا بس چلے تو اس قاتل درندے کو سرعام پھانسی پر لٹکا دوں ۔ قصور کے پے درپہ واقعات اور پھر زینب کے دل دہلا دینے والے واقعے نے عوام و خواص سبھی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور ہر کوئی قاتل عمران کو پھانسی پر لٹکانا چاہتا ہے جس کے لیے چیئرمین سینٹ  میاں رضاربانی نے سینٹ ممبران کی آراء لی ہیں جن کی تفصیلی رپورٹ آنے پر سمری وزارت قانون کو بھیجوائی جائی گی تاکہ ایسے گھنائونے جرم کرنے والے کو قانون میں ترمیم کراکر سخت سے سخت (پھانسی وغیر ہ کی) سزا دلوائی جاسکے۔شاید الیکشن، ایک دوسرے پر لعن طعن اور عوام کی بدو بنانے کے چکر میں انصاف رُل جائے گا۔

زینب بیٹی سن لو! ہم نے لکھ کر اپنا حق ادا کردیا لیکن ہم بڑے دکھ سے کہنا چاہتے ہیں کہ انگریز کے بنائے اس قانون میں جب تک بڑی ردوبد ل نہیں ہوجاتی ہم آپ کے بے ایمان اور بے غیرت قاتل کو سزا نہیں دلوا پائیں گے۔ کیونکہ آپ سمیت 9معصوم بچیوں سے زیادتی کر کے انہیں قتل کرنے کے باوجودقاتل عمران کیس میں حکومتی و عدالتی Slow process دیکھنے سے انصاف کا جنازہ نکلتا نظر آتا ہے۔یہاں حاکمیت اور فیصلوں کا اختیار دولت والے کے پاس ہے چاہیے وہ سیاست دان ہے، جج ہے، پولیس والا ہے، فوجی ہے، سرکاری نوکری یا پرائیویٹ بزنس کرنے والا ہے۔ بقول شاعر: میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں ، تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے۔۔

ہمارے ملک کا المیہ یہ ہے کہ یہاں معاشرہ ظلمت و بربریت میں ڈوبا ہے، انصاف بکاؤ مال بن کر اوندھے پڑا ہے۔تعلیم، صحت، ضروریات زندگی، صاف پانی اور بے شمار سہولیات باندیوں اور غلاموں کے روپ میں امیروں اور عیاشوں کے دولت کدوں پر حاضری لگائے بیٹھے ہیں ۔ سیاستدان اداروں کا کام کررہے ہیں اور ادارے کرپشن کی داستانیں رقم کررہے ہیں ۔ جج حضرات اور عدالتیں پولیس اور انسپیکشن عملے کا کام کررہے ہیں جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے جرائم کی بیخ کنی کے بجائے گناہوں کی پناہ گاہوں کی رکھوالی میں مصروف ہیں ۔ دینی و مذہبی جماعتیں فساد فی الارض ختم کرنے کے بجائے بغاوت اور حماقت پر خدا کے بندوں کو اکساو ورغلا رہے ہیں ۔ دنیا کے اس مضر تماشے میں کوئی بشری بی بی کے راگ الاپ رہا ہے، کوئی مجھے کیوں نکالا کی صدائیں لگا لگا کر عوام سے انصاف کا متقاضی ہے تو کسی نے بھٹو کے روٹی کپڑا اور مکا ن کو بنیاد بنا کر پاکستان کھپے کا علم بلند کر کے عوام کو الو بنا رکھا ہے۔خبردارہوشیارباش!مذکورہ تینوں پارٹیاں 2018میں کسی بھی طرح عوامی مینڈیٹ ہتھیا کر اگلے پانچ سال عوام کو مہنگائی کی چکی میں پیسنا چاہتی ہیں ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

  1. سیکولرذہن کےافراد و دانشوران بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کی روک تھام کےلئے اسکولوں میں سیکس ایجوکیشن شروع کرنے کی تجاویز دینا شروع کردی ہیں۔
    ان جاہلوں سے کوئی یہ پوچھے کہ اسکولوں میں پہلے سےہی سماجی، معاشرتی اور اخلاقی تعلیم دی جارہی ہے، اس سے کتنے لوگوں نے سیکھ لیا جو سیکس ایجوکیشن سے سیکھ کر وہ حرام کاریوں سے باز آجائیں گے؟
    ویسے اگر ریپ کیسز کا علاج سیکس ایجوکیشن ہے تو پھر معاشرتی برائیوں کےلئے دینی تعلیم کو فروغ کیوں نہ دیا جائے؟
    اس بات کویہ گندےذہن کے انگریز کبھی بھی تسلیم نہیں کریں گے، کیونکہ دینی تعلیم کے فروغ سےان کاذاتی منافع نہیں ہونےوالاجوہے۔
    یہ معاملہ جرائم کی سرکوبی کا ہے اور اس کا واحد حل پولیس ریفارمز ہیں۔ جب تک پولیس اپنی ڈیوٹی ٹھیک طرح سےانجام دیناشروع نہیں کرےگی، جرائم ختم نہیں ہوسکتے۔ پولیس ریفارمز کےلیے اچھی قیادت منتخب کرنا ہوگی، اور اچھی قیادت منتخب کرنے کےلیے پڑھے لکھے لوگوں کو الیکشن والے دن ووٹ ڈالنے کےلیے باہر نکلنا ہوگا۔

متعلقہ

Back to top button
Close