معاشرہ اور ثقافت

اے کاش۔۔۔! پھوٹ پڑیں روشنی کی لکیریں

ابراہیم جمال بٹ
چراغ ایک ایسی شۂے جس سے روشنی پھیلتی ہے، جس کمرے اور مکان میں اندھیرا چھا چکا ہو وہاں اس کی ضرورت پڑتی ہے اور جہاں پہلے سے ہی روشنی میسر ہو وہاں کسی اور مصنوعی روشنی کی ضرورت نہیں پڑتی البتہ اس کی اہمیت سے واقف ہونا ضروری ہے، کیوں کہ کبھی کبھی پُر روشن مسکنوں میں بھی اندھیرا چھا جاتا ہے، اس وقت اگر وہاں رہنے والے لوگ چراغ کی روشنی کی اہمیت سے ناواقف ہوں تو ان کی زندگی تاریکی میں ہی بسر ہو کے رہ جاتی ہے۔
چراغ کی اہمیت کا علم اس قدر ضروری ہے کہ کچھ بھی ہو جائے یہ سب کو معلوم ہونا چاہیے کہ چراغ کسے کہتے ہیں۔۔۔؟ چراغ کے فوائد کیا ہیں۔۔۔؟ چراغ کی ہماری زندگی میں اہمیت اور افادیت کیا ہے۔۔۔؟ان جیسے سوالوں کا جواب ہر گھر کے بچے، جوان اوربزرگ کو معلوم ہونا چاہیے، تب ہی گھر تاریکی سے بچ سکتا ہے اور اگر انسان ان سے نافہم رہا تو تاریکی اس گھر کا مقدر بن جائے گی۔
چراغ کیا ہے۔۔۔؟ روشنی پھیلانے کا ایک ذریعہ اور آلہ۔ جلتے ہی تاریکی کو ختم کر کے روشنی پھیلاتا ہے، جس قدر جلتا رہتا ہے اسی قدر اس کی روشنی میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے، جلتے جلتے ایک لمحہ ایسا بھی آتا ہے کہ اس کی روشنی بہت تیزہو جاتی ہے لیکن اُس وقت تیز روشنی دینے کے باوجود لڑکھڑاتی ہوئی اس کی تیز روشنی آخر کار یک دم ختم ہو کے رہ جاتی ہے اور اس طرح اس چراغ کا نام و نشان بظاہر ختم ہو کے رہ جاتا ہے، پھر دوسرے چراغ کی زندگی شروع ہو جاتی ہے اور اس طرح جلتے بجھتے اور مکمل طور سے ختم ہوتے ہوتے بے شمار چراغ جلتے رہتے ہیں۔
انسان جسے اگر اپنی زندگی کے مقصد کا خلاصہ معلوم کرنا ہو تو اسے چراغ کو سامنے رکھ کر اس پر غور کرنا چاہیے۔ انسان اس پر غور کرے اور زندگی کا مقصد سمجھ نہ آئے یہ ہو ہی نہیں سکتا۔ غور سے اگر دیکھا جائے تو انسان کی زندگی برابر چراغ کی مانند ہے۔ ماں کے پیٹ میں کئی مہینوں تک پلنے والا بچہ جب اس عارضی دنیا میں جنم لیتا ہے تو گھر میں ہر طرف خوشی ہی خوشی چھا جاتی ہے۔ ماں باپ، دادا دادی،نانا نانی اور اسی طرح دوسرے قریبی رشتہ دار، دوست واحباب خوشی کے مارے جھوم اٹھتے ہیں۔ ایک دوسرے کو مبارک بادی پیش کرتے ہیں، بچے کو دعائیں دیتے ہیں، اس کا اچھا سا ایک نام رکھتے ہیں اور اسی طرح بے شمار طریقوں سے اس بچے کی آمد پر خوشیوں کا اظہار کیا جاتا ہے۔ بچہ بچپن سے نکل کر جوانی کو پہنچ جاتا ہے لیکن ماں باپ کی نظروں میں ہمیشہ بچہ ہی کہلاتا ہے، جوانی بھی کتنی دیر ٹھہرے آخر کار چھوڑ ہی جاتی ہے اور اس طرح یہ جوانی کو خیر باد کر کے بڑھاپے میں قدم رکھتا ہے اوریوں اس کی زندگی چلتی رہتی ہے اور آخر کار ایک دن ایک ایسا لمحہ آتا ہے کہ یہ بچہ جو بوڑھا ہو چکا، اس دنیا کو ہی چھوڑ کے چلا جاتا ہے۔ اس کی یادیں رہ جاتی ہیں، لیکن وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس عارضی دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔
یہ ہے انسان کی زندگی۔ غور طلب بات یہ ہے کہ کیا انسان اس دنیا میں بچپن سے لے کر بڑھاپے تک کھانے پینے، عیش و مستی کرنے، دولت کماکر جمع کرنے اوراسے اپنے اوپر اپنی پسند کے مطابق خرچ کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔۔۔؟ یا اس کا کوئی اورمقصد بھی ہے۔۔۔؟ انسان نے جب چراغ کو ایجاد کیا تو اس کے پیچھے ایک مقصد کارفرما تھا، وہ مقصد تھا روشنی، جب ایک چراغ ایجاد کرنے کے پیچھے ایک مقصد ہو، تو کیا انسان کو اس دنیا میں بھیجنے کا کوئی مقصد نہیں ہو گا۔۔۔؟
انسان کو بنانے کے پیچھے ایک بہت بڑا راز ہے جو چھپا ہوا نہیں بلکہ واضح ہے۔ انسان کی زندگی کے مقاصد بہت سارے ہیں اور ان میں سے ایک واضح مقصد اس زمین کو فساد سے پاک کر کے پُرامن فضا کا ماحول پیدا کرنا ہے۔ فساد نام ہے اندھیرے کا اور پُرامن فضا نام ہے روشنی کا۔ گویا انسان بھیجنے کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد اس دنیا کو روشن کرنے کی کوشش ہے۔ جس قدر روشنی پھیلے گی اسی قدر اس دنیا کی اصل پہچان ہو گی۔ روشنی پھیلے گی اور اندھیرا چھٹ جائے گا اور اس زندگی کا اہم مقصد پورا ہو جائے گا۔ گویا انسان مثل چراغ ہے اسے اس بات کا علم ہونا چاہیے کہ وہ روشنی پھیلانے کے لیے اس دنیا میں بھیجا گیا ہے، نہ کہ کسی خوب صورت ڈبے میں رہنے کے لئے۔
آج کی دنیا کو دیکھا جائے تو اسی مقصد اور اہمیت سے انسان دور نکل چکا ہے۔ زندگی کا مقصد کھانا، پینا،سونا اور کمانا بن چکا ہے۔ انسان مثل حیوان بن چکا ہے، صرف اور صرف اپنی فکر، اپنی زندگی سلامت رہے، چاہے اس کے لیے دوسروں کا ناحق خون بہانا پڑے، اپنا گھر اور ملک محفوظ رہے چاہے اس کے لیے دوسروں کے گھر وں اور ملک پر آگ ہی برسانا کیوں نہ پڑے، اپنے پاس عیش وآرام ہو، چاہے دوسرے بھوکوں مرے، یہ ساری خصلتیں انسان کی نہیں بلکہ حیوانات کی ہیں۔ انسان کا کام بنی النوع انسان کو روشن کرنا تھا، لیکن جب انسان خود اپنا ہی مقصد بھول جائے تو اس گھر اور ملک کا کیا ہو گا۔۔۔؟ آج کا انسان انسان کو ہی کاٹ کھا رہا ہے، صرف اس لیے کہ میرا یہ عارضی گھر محفوظ رہے۔ اپنی اَنا کو برقرار رکھنے کے لیے ،اپنا دبدبہ قائم رکھنے کے لیے ، دوسروں کے حقوق سلب کر کے انہیں ظلم کا نشانہ بنانا، ان پر گولیاں برسانا اور اس طرح دنیا کو روشنی سے منور کرنے کے بجائے اسے تاریک سے تاریک تر کرنے پر تلا ہوا ہے۔ اگر یہ روش انسان کی اسی طرح برقرار رہی تو عنقریب ایک ایسا دن آنے والا ہے کہ دور دور تک حقیقی انسان نام کی چیز اس دنیا میں نظر نہیں آئے گی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب انسان اپنی اصل حقیقت سے بے خبر رہ اپنی ہی اَنا پر ڈٹا رہا تو اس پر بے شمار طریقوں سے عذاب نازل ہوئے، قوموں کے قوم اس زمین سے نیست ونابود کئے گئے۔ آج بھی جب کبھی ان کا تذکرہ چھڑ جاتا ہے تو دل کانپ اُٹھتے ہیں، پاؤں تلے زمین کھسکنے لگتی ہے۔ غرض انسان اس دنیا میں انسان جب تک رہتا ہے اس کے ذریعے سے روشنی پھیلتی ہے اور جب اس میں انسانی خصائل ختم ہو جاتے ہیں تو روشنی کے بدلے اس کے ذریعے سے اندھیرا ہی چھا جاتا ہے اور اندھیرے میں زندگی گزارنا موت سے بھی بدتر ہے۔ مسلسل اندھیرا انسان کو خود سے ہی خوف محسوس کرواتا ہے۔
انسان اگر اس زمین پر امن کا خواہاں ہے تو اسے روشن چراغ بن کر رہنا ہو گا، نہ کہ انسان کے نام پر درندہ،جابر، قاتل اور حیوان بن کر۔ انسان انسان کے حقوق سلب نہ کرے اس سے بڑھ کر انسانی روشنی کیا ہو گی۔۔۔؟ انسان انسان پر رحم کرے اس سے بڑھ کر اس کے لیے فائدہ مند چیز کیا ہو گی۔۔۔؟ پُرروشن ماحول میں اندھیرا پیدا کرنا بڑی بات نہیں ہے بلکہ خود چراغ کی طرح جل کر روشنی پھیلانا بڑی بات ہے۔ آج کی دنیا میں روشنی کم ہی دکھائی دے رہی ہے، ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا نظر آرہا ہے۔ دنیا کے کسی بھی خطے پر نظر ڈالئے، ہر طرف قتل و غارت گری دکھائی دیتی ہے، ایک دوسرے کا ناحق خون بہانا اب آئے روز کا معمول بن چکا ہے۔ کوئی عالمی چودراہٹ کے نشے میں چور ہو کر تاریکی پھیلانے کا سبب بن رہا ہے اور کوئی اَنا کو برقرار رکھنے کے لیے دوسروں کا مسکن اندھیر نگری میں تبدیل کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔
غرض آج ہر طرف تاریکی پھیلانے والے پائے جاتے ہیں، روشنی پھیلانے والے بہت ہی کم دکھائی دے رہے ہیں، ان حالات میں انسان کو بحیثیت انسان اٹھ کھڑا ہونا ہو گا، تاریکی کو روشنی میں تبدیل کرنے کے لیے موثر اقدامات کرنے ہوں گے۔ انسان انسان بنے اس کے لیے کوشش انسان کو ہی کرنی ہے، انسانیت کے داعی بن کر، آسمان کے نیچے اس زمین کو پُر امن فضا میں تبدیل کرنے کے لیے، روشنی پھیلانے کے لیے،مثل چراغ بننا ہی ہو گاتاکہ دنیا روشنی سے منور ہو جائے اور انسانیت پھر سے اس فضا کو پالے جس میں ہر طرف خوشبو ہی خوشبو اور روشنی ہی روشنی ہو۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ابراہیم جمال بٹ

کشمیر کے کالم نگار ہیں

متعلقہ

Close