معاشرہ اور ثقافت

 بگڑتے معاشرے پر ایک نظر

مجسم  شیراز خان

موجودہ دورمیں نوجوان اعلیٰ تعلیم ہونے کے باوجود ہم انپڑ ھ اور جاہل والی زندگی گزارتے ہیں۔ ہمارے سماج میں طرح طرح کی بیماریاں پھیلی ہوئی ہیں۔ جوعام طور پر آج کے ہمارے نو جوانوں میں پائی جاتی ہیں۔ آج ہم نے مغربی طور طریقے اور رسم و رواج اپنائے ہوئے ہیں اور مشرقی اور خاص طور سے اسلامی شریعت کو پسِ پشت ڈالے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے آج ہمارے نوجوان منشیات جیسی وبائوں میں جھکڑے ہوئے ہیں اور فحاشی، جوابازی، زناکاری، اور جنسی خبس جیسی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ یہ سب کارہم بِنا کسی سے سیکھے دوسروں کو دیکھ کر اپناتے ہیں۔ ہم پر فلموں، ڈراموں اور ٹیلیویزن سے منفی اثرات پڑھتے ہیں۔ جس سے ہم آئے دن اپنے مذاہب اپنے سماج اپنے کلچر کو چھوڑ کر مغربی کلچر کو اپنارہے ہیں جو ہماری دُنیا وآ خرت دونوں کو برباد کر رہا ہے آج ہم اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجودانپڑھوں جیسی زندگی بسر کر رہے ہیں کیونکہ ہماری تعلیم محض نوکری پانے کے لئے ہے۔ نہ کہ سماج اور معاشرے کو سدھارنے کے لئے۔ ہم سماج کو سدھارنے کے بجائے زیادہ بگاڑ رہے ہیں جو کہ ہماری آئندہ نسلوں کے لئے کافی نقصان دہ ہے۔ ہمیں ایسی وبائوں سے بچنا چاہئے۔ اور ہمیں اپنے سماج اور معاشرے میں پھیلی ہوئی گندگی کو صاف کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

ایک زمانہ تھا، جب لوگوں میں تعلیم بہت کم تھی۔ لوگ بہت غریب ہوا کرتے تھے۔ مشکل سے ایک دن میں ایک وقت کا کھانا صرف ایک بار ہی میسر کر پاتے تھے۔ پہننے کو کپڑے بہت کم ہوا کرتے تھے۔ اس سب کے باوجودوہ دل سے صاف اور پرہیزگار ہوا کرتے تھے۔ اُن میں اتفاق واتحاد اتنا تھاکہ آج دُنیا بھر میں اس کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ اُن لوگوں میں پیار ومحبت اور اتحاد اتنا تھا کہ وہ ایک دوسرے کے لئے جان کی بازی لگانے کیلئے بھی تیار ہوجاتے تھے۔ وہ لوگ معاشی اعتبار سے بہت غریب اور دل سے بہت امیر اور نیک ہوتے تھے۔ اُس کی نسبت آج کے دور میں پڑھائی، لکھائی، تعلیم و تربیت، دولت و شہرت سب کچھ میسر ہونے کے باجود اتفاق و اتحاد نہیں۔ معاشرے میں بڑوں کی عزت بالکل نہیں کی جاتی۔ اُساتذہ کو بُرا بھلا کہا جاتا ہے۔ ماں باپ کی عزت بالکل نہیں کی جاتی حرام و حلال کی پہچان نہیں، عزت وذلت کی پرواہ نہیں۔ یہاں تک کہ طلبہ بھی اِن تمام طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ ہر طالب علم طرح طرح کے نشے کرتا ہے جن میں تمباکو، سیگریٹ، بیڑی وغیرہ کافی حد تک استعمال ہوتے ہیں۔ معاشرے کے بزرگوں، ماں باپ، اساتذہ کی قدر ہمارے آج کے طلبہ کے اندر موجود نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے اُنہیں کئی بار ناکامیوں سے ہاتھ ملانا پڑتا ہے۔

آئیے ہم سب مل کر اپنے معاشرے پر لگ رہے اس بد نما داغ کو مٹانے کی کوشش کریں۔ اور اپنے ہر کام کو بطور فرض پورا کریں۔ اور تعلیم کی اہمیت اور اس کی قدر اپنے اندر پیدا کریں۔ موبائل فون کا غلط استعمال نہ کریں۔ فیس بک، واٹسایپ اور اسی طرح کے مختلف ذرائع ابلاغ پر زیادہ وقت نہ گزاریں اگر ہمیں انہیں استعمال کرنا ہے تو مُثبت طریقے سے کریں ہم سوشل میڈیا کے ذریعے سے کچھ سیکھ سکتے ہیں اگر چہ ہم سیکھنا چاہیں ورنہ منفی طریقے سے استعمال کے اثرات آج کے دور میں دیکھنے کے لئے بہت مل سکتے ہیں۔ کیونکہ سب سے زیادہ فحاش اور بے سود تصویریں اور ویڈیوز اسی سوشل میڈیا کی دین ہیں۔ ہمیں سوشل میڈیا پر پھلائے جا رہے اسلام و اِنسانیت دسمن عناصر سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے تاکہ ہمارے معاشرے میں پھوٹ پیدا نہ ہو سکے اور بھائی چارہ برقرار رہے۔ اپنے دل میں دوسروں کے لئے نفرت نہ پیدا کریں۔ معاشرے کو مذہب، مِلت، قوم، برادری، رنگ اور جنس کی بیناد پر تقسیم نہ کریں۔ تمام مذاہب انسانیت کی بِنا پر آپسی اتحاد رکھیں۔ جس کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ اگر ہم اتحاد اور اتفاق سے ایک جھٹ ہو کر رہیں گئے تو کوئی بھی دشمن عناصر ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ تمام مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کی عزت کیا کریں اپنے ماں باپ اور اساتزہ کی قدر کریں۔

نشے جیسی  وبائوں کو فوری طور پر الوداع کہیں مغربی رسم و رواج کو ترک کریں تعلیم صرف نوکری پانے کے لئے حاصل نہ کریں، بلکہ اپنے آپ کواور اپنے معاشرے کو سدھارنے کی کوشش بھی کریں۔ اپنے آپ کو ہر کسی سے حقیر سمجھیں۔ جتنا ہم حود سیکھیں اُتنا دوسروں کو بھی سیکھانے کی کوشش کریں۔ تا کہ ہمارے علم حاصل کرنے سے پورے سماج میں تبدیلی آئے۔ ہم کسی بھی محفل میں بیٹھیں تو لوگ سمجھیں کہ کوئی پڑھا لکھا اور اچھا طالب علم ہے بلکہ یہ نہ سمجھیں کہ کوئی واہئیات ہے اور ہماری محفل میں کیوں آیا ؟اپنے لباس کو غیروں کے طرز پر نہ بنائیں۔ میرا ایسا کہنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کا مستقبل صرف ہمارے (نوجوانوں )کے ہاتھ میں ہے۔ آئیے ہم سب مل کر سماج میں بدلائو لانے کے لئے ایک مہیم چلائیں تاکہ ہمارا معاشرہ مستقبل میں بد سے بدتر ہونے سے بچ سکے۔ بقولِ شاعرــ   ؎

فضا نہیں ہے ابھی کھل کر بات کرنے کی

بدل رہے ہیں زمانے کوہم اشاروں سے

ْْایک نوجوان نے اپنے دادا سے پوچھا :داداجان!  لوگ پہلے کیسے رہتے تھے۔ نہ کوئی ٹیکنالوجی تھی، نہ کوئی جہاز، نہ ٹرین، نہ انٹرنیٹ، نہ کمپیوٹر، نہ ڈرامہ، نہ ٹی وی، نہ اے سی، نہ گاڑیاں اور نہ ہی موبائل۔ ؟دادا نے جواب دیا:جیسے تم لوگ اب رہتے ہو:نہ قرآن، نہ روزہ، نہ زکوۃ، نہ شفقت، نہ محبت، نہ آداب، نہ اخلاق، نہ شرم اور نہ حیا۔ ؟

موجودہ دور کو لے کرکسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے   ؎

 صبح ہوتے ہی نکل آتے ہیں بازاروں میں لوگ

گٹھریاں سر پہ اُٹھائے ہوئے  ایمانوں کی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close