بیٹوں سے آگےبیٹیاں

احمد جاوید

اسکول ،کالج اوریونیورسیٹیوں کے نتائج امتحانات معمولات کا حصہ ہیں،یہ ہرسال آتے ہیں، ان بچوں اور والدین کے علاوہ جن کو اونچے درجات میں داخلہ یا ملازمت کے مسابقات میں قسمت آزمانے کے لیے نتائج کا انتظار ہوتاہے، کسی اورکی ان میں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی ۔دو ایک دن بعد وہ لوگ بھی ان نتائج اور ان میں پہلے دوسرے مقامات حاصل کرنے والے خوش قسمت طالب علموں کو بھلادیتے ہیں جنھوں نے اس موقع پر ہونہار بچوں کے ساتھ منھ میٹھے کیے ہوں۔کیوںکہ اب نتائج کی کوئی اہمیت نہیں رہی، یہ صرف اعلیٰ تعلیم کے لیے داخلہ کا ٹکٹ یا ملازمت کےمسابقہ میں شامل ہونے کا استحقاق محض ہو کر رہ گئے ہیں لیکن جب 100میں 43بچے فیل ہوگئے ہوں تو پاس کرنے والوں کی خوشی اور ان کی طرف چونک کر دیکھنے والوں کی آنکھوں کی چمک قابل دید ہونا ہی چاہیے۔ بہار اسکول امتحانات بورڈ کے انٹرمیڈیٹ آرٹس (بارہویں)کے نتائج نے کسی کو چونکایا ہو یا نہ ہو،کم ازکم میرے لیے تو ان میں ایک ساتھ کئی غیرمعمولی پیغامات ہیں لیکن اس کے جس نکتہ نےراقم کے ذہن کو دیر تک اپنی گرفت میں لیے رکھا اسے اگر ریاضی کی زبان میں لکھیں تو یہ ہے16:15:2۔

  اس سال یہ امتحان نقل ماری سے پاک صاف ستھرے ماحول میں سختی کے ساتھ لیے گئے تھے،اس لیے پانچ لاکھ دس ہزارنوسو تین امیدواروں میں صرف دولاکھ نواسی ہزارآٹھ سو اکاسی طلبہ و طالبات ہی کامیاب ہوئے لیکن اس امتحان میں اول دس مقامات حاصل کرنے والوں کی تعداد16ہے جن میں 15؍لڑکیاں ہیں اور ان 15؍میں 2 طالبات مسلم ہیں۔ ادھر کئی سال سے ہر امتحان میں لڑکیاں نمایاں مقام حاصل کررہی ہیں، لوگ چونک کر دیکھتے ضرور ہیں لیکن پھر بھول جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ سول سروسز( آئی اے ایس ؍ آئی پی ایس؍آئی ایف ایس) میں بھی وہ نمایاں مقامات حاصل کررہی ہیںلیکن ان کی کامیابیوںکا پیغام بہت دور تک نہیں جاتا۔اس پیغام کو سننے سمجھنے کی زحمت کتنے لوگ کرتے ہیں؟ یہ وہ نکتہ ہے جس پر سماج کے باشعور افراد کو سنجیدگی سے سوچنا چاہیے!

یہ نتائج جب جب آتے ہیں اور ان میں کوئی حلیمہ، کوئی گل افشاں یا کوئی سعدیہ نمایاں مقام حاصل کرتی ہے تو میں اپنے بچپن میں چلاجاتاہوں ، مجھے میری والدہ یاد آتی ہیں اوران کے والدین۔آج بھی یہ نتائج آئے اور خبر آئی کہ طیبہ پروین نے ریاست میں چوتھا اورتسنیم جہاں نے پانچوں مقام حاصل کیا ہے، تو وہ بے حساب یاد آئے اور میں دیر تک سوچتا رہا، ہمارے گھروں میں ایسی کتنی ذہانتیں ہرسال دم توڑ دیتی ہیں ، کتنی طیبہ اور کتنی تسنیم ہیں جن کو اسکول مدرسوں کا منھ دیکھنا بھی نصیب نہیں ہوتا۔اس راہ میں رکاوٹیں تو اور بھی ہیں، کہیں غربت و افلاس حائل ہے، کہیں ہم نے جہالت کوسینوں سے لگا رکھاہے اور کہیں وسائل کی کمیاں درپیش ہیں ،وہ تعلیم حاصل کرناچاہیں بھی توجائیں کہاں لیکن ہربارہمیں زیادہ تکلیف وہ ذہنیت دیتی ہے جو ایک کھاتے پیتے عالم فاضل گھر کی عالمہ فاضلہ بیٹی کی صورت کے ساتھ ہمارے ذہن میں تازہ ہوجاتی اوراس کی ذہانت کو یاد کرکےکانٹوں میں تبدیل ہوجاتی ہے۔انگنت کانٹے چبھنے لگتے اور انگنت چہرے آنکھوں میں ابھرنے ڈوبنے لگتے ہیں۔طیبہ کسی اعلیٰ تعلیم یافتہ اورخوشحال و متمول والدین کی بیٹی ہوتی تو شایدزیادہ قابل توجہ نہ ہوتی، اس کا باپ ایک معمولی دستکارہے،دہلی میں سلائی کا کام کرتاہے، والدہ آشاکارکن ہے، ایک ایسے محنت کش ونیم خواندہ والدین کی بیٹی کی یہ کامیابی جو کچھ کہہ رہی ہے اس کو سننے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ابھی حال ہی میں ہندوستان کے ایک شہرہ آفاق مسلم سرجن سے ہماری ملاقات ہوئی،وہ مسلم معاشرے میں تعلیم کے فروغ کے لیے کام کرتے آئے ہیں، اپنے تلخ تجربات شیئر کر نے کے ساتھ ساتھ وہ اس ذہنیت کی طرف آگئے، کہنے لگے کہ ہم نے جسم کے نصف حصے کوچھوڑ دیا اور باقی کے نصف کی خوب اچھی پرورش و پرداخت کی تو کیا یہ دانشمندی ہوگی۔ وہ اپنے خاندان کی مثال دے رہے تھے کہ ان کے والد جوملک کے ایک بہت ہی مشہور و معروف ڈاکٹر تھے ، اپنی پانچ اولاد میں تین بیٹوں کوجیسی اعلی تعلیم دلائی وہی تعلیم دو بیٹیوں کو دلانے کی ضرورت نہیں سمجھی۔کیوں ؟ یہ وہ سوال تھاجو کئی دنوں تک ذہن میں گردش کرتا رہا۔میں سمجھ سکتا تھا کہ وہ کیا سوچ تھی جس نے مسلم معاشرے میں بیٹیوں کو عضو معطل بنائے رکھا اور آج تک اس سوچ نے کتنے بڑے پیمانے پرہندوستانی سماج کے اس حصہ کو اپنی گرفت میں جکڑ رکھا ہے اور ہندوستانی مسلم سماج ہی کیا تقریباً پورا عالم اسلام اس ذہنیت کا شکاررہاہے اور آج بھی ہے۔

وہ میری والدہ تھیں، علم و فضل کا دریا، اپنے عالم فاضل باپ کی صحیح علمی جانشیں، قرآن کریم کے کئی پارے ان کو یاد تھے، احادیث اورعربی فارسی کی حکایات کا خزانہ ،مرحومہ کی ذہانت اور حافظہ کا یہ عالم تھا کہ کوئی نظم یا آیا ت و احادیث ایک بار آپ نے پڑھیں اور ان کو بالترتیب یاد ہوگئیں لیکن صرف پڑھناہی پڑھنا تھالکھنا بالکل نہیں آتا تھاکیونکہ ان کے والد کا عمل اس فتوے پر تھا کہ بیٹیوں کو لکھنا نہ سکھایا جائے۔وہ اکثر اپنی ذہانت کے قصے چھیڑ دیتیں اورکہتیں کہ اگر وہ مرد ہوتیںتو ان کا ہاتھ کون پکڑسکتاتھا۔مولوی محمد میاں نور حسن کی چار بیٹیاں تھیںاورایک بیٹا۔سب کے سب ذہین وفطین ۔وہ یہ بھی بتاتیں کہ جب وہ مکتب میں زیرتعلیم تھیں تو ایک دن ان کے والد نے اپنے بیٹے سے سبق سنانے کو کہاجو وہ سنانہ سکا اور یہ جو اپنے بھائی سے چھوٹی تھیں بھائی کی مددمیں اسی سبق کو فرفر سناکر اس سے کہنے لگیں کہ بھیا یہ کیوں نہیں کہہ دیتے اور ابا کو یہ دیکھ کر بیٹے پر مزید غصہ آگیا۔بھیا کو طمانچے تو پڑے ہی یہ بھی سننا پڑا کہ’ جس کو بیٹا ہونا تھا وہ بیٹی ہوگئی‘۔ اس دن ڈاکٹر صاحب کہہ رہے تھے کہ ان کے خاندان میں ہمیشہ سے تعلیم پر توجہ تھی، اس زمانے میں جب بیرون ملک جاکر تعلیم حاصل کرنا بہت مشکل تھا ان کےوالد کواعلیٰ تعلیم کے لیےانگلینڈ بھیجا گیا لیکن یہی توجہ خاندان کی بیٹیوں کی تعلیم پر نہیں دی گئی۔سوال یہ ہے کہ کیا اس اکیسویں صدی کے جمہوری معاشرے میں بھی ہم اپنی بیٹیوں کو ان کا حق دینے کو تیار ہیں؟ شاید ہاں اور شاید نہیں! کیا آج بھی ہم کو بہت بڑے پیمانے پر اس سوچ نے جکڑ نہیں رکھاہے کہ اگریہ مرد ہوتی یا یہ کہ جس کو بیٹا ہونا تھایا یہ کہ یہ تو بیٹی ہے؟ سوال تو یہ ہے کہ جب اسلام نے تعلیم و تربیت کو ابتدا ہی سے بنیادی اہمیت دی اور حصولِ علم کو مردا ورعورت دونوں کے لیے یکساں ولازمی قرار دیا تویہ سوچ کہاں سے آئی اور یہ تفریق کیوں روارکھی گئی؟

اللہ نے فرمایا:ان سے پوچھو! کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے دونوں کبھی یکساں ہوسکتے ہیں؟(الزمر:90)۔اللہ کے رسول ﷺ نے حکم دیا: ہر مسلمان پر خواہ وہ مردہو یاعورت علم حاصل کرنا فرض ہے(ابن ماجہ)۔اسلام نے عورتوں کو تعلیم و تربیت میں مردوں کے برابر قرار دیا اوران کے لیے تعلیم لازمی قرار دی کہ وہ بھی شریعت کے مطابق اپنی زندگی گزار سکیں۔آپﷺ نے خواتین کی تعلیم کی طرف خصوصی توجہ فرمائی ۔خود آپ نے ہفتہ میں ایک دن صرف خواتین کی تعلیم و تربیت کے لیے مخصوص کیاتھا۔ اس دن خواتین آپ کی خدمت میں حاضر ہوتیں اور آپ سے مختلف قسم کے سوالات اور روزمرہ مسائل کا حل پوچھتیں۔ آپﷺ نے امہات المو منین کو بھی حکم دے رکھا تھا کہ وہ خواتین کی تعلیم وتربیت کیا کریں۔ ابتدائی دورِ اسلام میں پانچ خواتین لکھنا پڑھنا جانتی تھیں : امّ کلثومؓ ، عائشہ بنت سعدؓ، مریم بنت مقدادؓ،شفاءبنت عبد اللہؓ اورامّ المومنین حضرت عائشہؓ ۔حضرت شفاءؓ حضرت حفصہؓ کو کتابت سکھاتی تھیں تو آپ نے فرمایا کہ انہیں خوش خطی بھی سکھاؤ۔نبی کریم کی ان توجہات کا نتیجہ تھا کہ تمام اسلامی علوم و فنون مثلاً تفسیر،حدیث ، فقہ و فتاویٰ ، خطابت ، شاعری اور طب وجراحت میںبے شمار صحابیات نے کمال حاصل کیا(بلاذری:انساب الاشراف)۔عہد ِنبوی کے بعد خلفائے راشدین کے دور میں بھی خواتین کی تعلیم و تربیت کی طرف بھرپور توجہ دی گئی۔

قرآن، احادیث اور تاریخ وسیر میں ان شواہد کی موجودگی میں اس ذہنیت نے مسلم معاشروں کو کب اور کیسے اپنی گرفت میں لیا اور یہ آج بھی اس سماج کو کیوں اپنی گرفت میں جکڑے ہوئی ہے، سمجھ میں نہیں آتا۔ قرآن و سنت کی اتنی تاکید کے باوجود بھی ہم لوگ لڑکیوں کی تعلیم کی طرف سے غافل کیوں ہیں۔جہاں قدم قدم پرمدرسے اوریتیم خانے ہیں وہاں لڑکیوں کابھی کوئی مدرسہ ہے؟جواب نفی میں آئے گا۔ بیداری کے اس دور میں بھی آپ پوری پوری ریاست میں مسلم لڑکیوں کے مدرسے اور یتیم خانے انگلیوں پر گنیں تو گنتی کم پڑجائےانگلیاں زیادہ ہوجائیں۔جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہمیں اپنی بچیوں سے نوکری نہیں کرانی ہے یا اپنی بیویوں کی کمائی نہیں کھانی ،وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ایک عورت کو تعلیم دلانا پورے خاندان کو تعلیم دلانا ہے، کیوں کہ ماں کی گود ہی بچے کی اولین درس گاہ ہے ۔اگر وہ تعلیم یافتہ ہو گی تو اپنے بچوں کی صحیح تربیت کر سکے گی ورنہ ان کے بچے ان ہی جہالتوں کو اگلی نسلوں تک ڈھونے کو مجبور ہوںگے جو وہ ان کو منتقل کریں گی۔ ہم تو یہی کہیںگے کہ صبح کا بھولا پنچھی شام کو لوٹ آئے تو اسے بھولانہیں کہتے، کیا ہم اب بھی ہوش کے ناخن لیںگے؟ کیاطیبہ اور تسنیم ہم سے یہ نہیں کہہ رہی ہیں کہ آپ اگر ہماری صلاحیتوں پر بھروسہ کریں تو ہم ان سےبہتر ثابت ہوںگے جن کی نازبرداریوں میں آپ جسم کےنصف بہتر سے غافل ہیں؟ اور اقبال کی زبان میں قوم مسلم اگر’ مرد بیمار‘ ہے تواس میں اس تلخ حقیقت کا سب سے زیادہ کردار ہے کہ ہم نے جسم کے نصف حصہ کو حالات کے رحم وکرم پرچھوڑ دیا ہے اور نصف پر ساری توجہ مرکوزکرکے توقع رکھتے ہیں کہ جسم بیمار صحت یاب ہوجائےگاجوسراسر جہل ہے،حماقت ہے اورمحال ہے۔ کاش کہ ہم اب بھی ہوش کے ناخن لیں!



⋆ احمدجاوید

احمدجاوید

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

فکرفردا- کیا شخص تھا اوروں کے لیے جیتاتھا

احمدجاوید شام کوخبرآئی کہ ایدھی فاؤنڈیشن کے بانی عبدالستار ایدھی کی طبیعت ایک بار پھربگڑگئی …