معاشرہ اور ثقافت

ترقی اورتنزلی کے درمیان انسانیت کے تخت پہ ہے مادّیت حاکم

ابراہیم جمال بٹ
گھڑی کی سوئیاں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں، دن ہفتوں کی مانند، ہفتے مہینوں کے مثل اور مہینے برسوں کی طرح سرعت سے گزر رہے ہیں۔ تیزی سے اس دنیا کی بدلتی صورت حال کے پیش نظر انسان بھی مشین کی طرح اس دوڑ میں پیچھے نہیں ہے بلکہ اسی تیز رفتاری سے عملاً ایک مشینی پُرزہ بن کر میدان میں برسر عمل دکھائی دے رہا ہے۔ پوری دنیا آج تیز رفتاری سے مسابقتی دوڑ میں اپنے گھوڑے دوڑانے میں مشغول ہے، اس تیز گامی کو دور حاضر میں’’ترقی‘‘ کہا جاتا ہے۔ جس سفر میں گھنٹوں اور دنوں کی مسافت طے کرنی پڑتی تھی، وہی سفر آج منٹوں میں طے ہو رہا ہے،جس کام کے لئے مہینے صرف ہوتے تھے وہ کام اس ترقی پسند دور میں منٹوں میں ہو رہا ہے۔ دنیا کی اس تیز رفتاری نے انسان کو مثل مشین بنا ڈالا ہے اور انسان بھی برابر اس دوڑ میں حصہ لے کر سب سے آگے جانے کے لئے مقابلے میں ایک دوسرے کو پچھاڑنے میں سرگرم عمل ہے، جس کی وجہ سے مادّی معنوں میں ترقیوں پہ ترقیاں ہو رہی ہیں۔ چھوٹے چھوٹے جھونپڑے بڑے محلوں اور مکانوں میں تبدیل ہو رہے ہیں، موٹر گاڑیوں کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے، روپیہ پیسہ میں حساب کرنے والے لوگ اب لاکھوں کروڑوں میں گنتی کرنے میں مشغول دکھائی دے رہے ہیں۔اس مادہ پر ستانہ ترقی کی وجہ سے انسان کی شکل وصورت سے بھی بہت حد تک تغیر وتبدل کے آثار وعلامتیں نمایاں ہو رہی ہیں،لیکن اتنی ترقی ہونے کے باجود انسان کے مسائل وہیں کے وہیں اٹکے پڑے ہیں،بلکہ روز بروز یہ اپنی حدت وشدت میں بڑھ ہی رہے ہیں۔آج کے اس ترقی پسند دور سے گزرتے ہوئے کسی بھی مسئلے کا حل نہ تو مستقل طور پر ہو پارہا ہے اور نہ ہی بڑھتے ہوئے تازہ مسائل کی خور وکاشت کسی طرح روکی جارہی ہے، بلکہ گھڑی کی سوئی کی طرح آگے آگے بڑھ کر تیزی سے انسان مسائل کے چیستاں میں اُلجھتا ہی جارہا ہے۔ جن مسائل سے کل تک عام لوگ بے خبر تھے، اگرچہ اس ترقی پسند دور میں وہ مسئلے اور زیادہ نمایاں بھی ہوئے لیکن اس کے باوجود بھی ان کا کوئی حل نہیں نکل پاتاہے۔ ’’جتنی ترقی اُتنا فساد‘‘ کے حساب سے آج کی دنیا کا انسان جی رہا ہے۔ کل کی جنگ اور آج کی جنگ میں آسمان وزمین کا فرق ہے۔ کل کے معاشرے اور آج کے معاشرے میں ایک بہت بڑا فرق ہے۔ کل کے ہمارے گھر اور اہل خانہ اور آج کے گھر اور اہل خانہ میں واضح امتیاز ہے۔ کل کے ماں باپ ،ان کا پیار اور تعلیم وتربیت، آج کے ماں باپ اور ا ن کی تعلیم و تربیت کے طور طریقے بالکل متضاد ہیں۔ اس صورت حال کی وجہ سے آج اور کل میں نمایاں فرق واضح طور سے دکھائی دے رہا ہے۔ کل بھی اس دنیا میں انسان تھا اور آج بھی دو پاؤں اور دو ہاتھ رکھنے والا انسان ہی پایا جاتا ہے، لیکن ایک ہی انسان دو متخالف کردار کے برابر۔ غرض کل اور آج میں بہت ہی تبدیلی آچکی ہے۔ آج کا انسان سامان تعیش کے حوالے سے بہت کچھ حاصل کر چکا ہے جس سے کل تک وہ ناواقف تھا ،لیکن آج کے اس انسان کے مقابلے میں کل کا انسان بہت حد تک اطمینان بخش زندگی گزار رہا تھا۔ اتنی مادی ترقی کے باجود آخر انسان کے قلب وجگرمیں ایسی بے اطمینانی ، نے قراری یا تنزلی کی کیفیات کیوں موجزن ہیں۔۔۔؟ اور کیا حقیقت میں آج کے انسان ترقی پسند کہلانے کے حقدار ہیں یا نہیں۔۔۔؟ بظاہر تو ہر طرف مالی فراوانی و ترقی دکھائی دے رہی ہے لیکن کیا اس نام نہادترقی کی دوڑ میں انسان بحیثیت انسان خوش وخرم زندگی گزار رہا ہے۔۔۔؟
پوری دنیا کی بات کو چھوڑئیے، ہم صرف اپنے گھر، اپنے خاندان، اپنے معاشرے اور اپنی سرزمین کی بات کریں گے۔ کیا ترقی کی اس دوڑ میں ہم کہیں پیچھے ہیں۔۔۔؟ کیاآج ہماری جھونپڑیاں بڑے محلوں اور مکانوں میں تبدیل نہیں ہورہے ہیں۔۔۔؟ہمارے پاس موٹر بائیک سے لے کر بڑی بڑی گاڑیاں نہیں ہیں۔۔۔؟ ہم ٹانگے اور سائیکل چھوڑ کر ہوائی جہاز میں سفر نہیں کر رہے ہیں۔۔۔؟ ہمارے متوسط گھرانوں کے بچے اور بچیاں سرکاری اسکول کی بجائے بڑے بڑے نامور اسکولوں میں زیر تعلیم نہیں ہیں۔۔۔؟ یہ سب کچھ’’ ترقی پسندی‘‘ ہی کے آثار تو ہیں لیکن اس سب کے باوجود کیا آج ہم اپنے آپ سے، اپنے گھر اور خاندان سے، اپنے معاشرے اور ملک سے کسی بھی صورت میں مطمئن ہیں۔۔۔؟ اس کا جواب ہاں میں ہونا ، حقیقت میں نا کے برابر بھی نہیں ہے۔ آخر کیوں۔۔۔؟ ایک باشعورانسان سے اگر یہ سوال کئے جائیں تو جواب ہاں میں ہونے کے باوجود اس سے اطمینان قلب ظاہر نہیں ہو رہا۔ اس کی وجہ نہ تو یہ ترقی پسندی ہے اور نہ ہی تیز گام مادی دھوڑ دھوپ بلکہ اس کی ایک بڑی وجہ خدا بیزاری ہے جس کے ثمرات فرد اور معاشرے کے لئے یکسان طور منفی ہو نا طے ہے۔ بے شک انسان ترقی پہ ترقی کرتا گیا لیکن اس میدانِ ترقی میں آگے بڑھتے بڑھتے وہ خود کو ہی کہیں پیچھے چھوڑ گیا۔ خود کی پہچان، اپنی اصل حقیقت کا عرفان، یہ اہم سوال کہ انسان اس دنیائے فانی میں کیوں بھیجا گیا۔۔۔؟ اسے بھیجنے والا کون ہے۔۔۔؟ ان جیسے سوالات کو چھوڑ کر آج کاانسان صرف اور صرف بے جان مشین بنتا جا رہا ہے اور یہ بات ظاہر ہے کہ مشین کا کام صرف آگے چلنا ہے،سوچنا سمجھنا نہیں ہے،کیونکہ اس کے اندر نہ تو سوچنے کی صلاحیت ہوتی ہے اور نہ ہی اپنے معمولات کے اَنتھک سفر کے علاوہ اور چیز کی طرف دھیان دینا۔ برابر اسی طرح انسان بھی بن چکا ہے، اسے مادی دوڑ دھوپ نے اس قدر جکڑ لیا ہے کہ نہ کھانے کی فکر، نہ سونے کی فکر، نہ گھر کی حقیقی فکر، نہ خاندان کی نیا سیدھے سمت میں پار لگا نے کی تمنا اور صالح معاشرہ تعمیر کر نے کی فکر اور نہ ہی کسی ملی و قومی مسئلے کے حل کا صحیح جذبہ۔ فکر اگر ہے تو صرف ترقی پسندی یا مادیت کی چکا چوندی کی، امارت ومال ومنال میں ایک سے بڑھ کر ایک بننے کی مسلسل فکر اور پریشانی ہے۔
میں ہوں مشینی دور کا مصروف آدمی
خود سے بھی بات کر نے کی فرصت نہیں مجھے
اس لا حاصل ذہنی جدوجہد میں انسان اس طرح پھنس چکا ہے کہ اسے خود کی طرف بھی کوئی دھیان نہیں۔ اس کی سوچ صرف اور صرف اس فانی اور لاحاصل ترقی کو حاصل کرنے میں خرچ ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے نہ تو اس کا گھر، اس کا خاندان، اس کا معاشرہ اور سوسائٹی اور نہ ہی اس کا ملک و ریاست حقیقی معنوں میں صحیح سمت سفر پر دکھائی دے رہا ہے اور نہ ہی اس کی خود کی ذات ہی کبھی اپنے اندر حقیقی اطمینان محسوس کر پا رہی ہے۔ اگر انسان مطمئن ہوتا تو ہمارے گھر بے معنیٰ لڑائی جھگڑوں کے اکھاڑے نہ بن چکے ہوتے۔ اگر انسان صحیح معنوں میں ذہنی بلوغیت اور اخلاقی صحت مندی کے ساتھ ترقی یافتہ ہوتا تو ہمارا یہ معاشرہ گندگی کے ڈھیر میں تبدیل نہ ہو چکا ہوتا۔ اگر ہماری یہ ظاہر ی کر وفر صحیح معنوں میں ترقی کی نشاندکرتی تو ہماری یہ وادئ گلپوش (کشمیر)جنت سے جہنم میں تبدیل نہ ہو چکی ہوتی۔ ہمارے ہاں ناحق قتل وغارت گری نہ ہوتی، بے وجہ پکڑ دھکڑ نہ ہوتی، آپس میں رسہ کشیاں، پھوٹ اور تنازعات نہ ہوتے، دھوکہ دہی ، جعلسازی اور فریب کاری کے کارخانے جا بجا رو بہ ترقی نہ ہو تے۔ حقیقت یہی ہے کہ انسان نے بظاہر مادّی دوڑ میں بہت حد تک نام نہادترقی کی منزل پار کر لی ہے لیکن اصلاً وہ زیورِ ترقی سے بہت دور جا کھائیوں اور کھڈوں میں پڑا ہوا ہے۔ آج کے مادیت پسندانسان کے جسم میں دل ہے لیکن وہ دھڑکتا نہیں، دماغ ہے لیکن ابلیس کا کارخانہ ہے ،اس بے حس وحرکت دل اور مثبت سوچ سے تہی دامن دماغ کو اگر دل اور دماغ کہیں تو یہ بات مضحکہ خیز ہو گی۔ اللہ کی طرف سے قلب سلیم اور سلیقہ شعار دماغ دو ایسی انمول نعمتیں ہیں جو انسان کی صحیح پہچان کراتی ہیں، جیسا دل و دماغ ویسے اس کے اعمال وافعال۔ اس کے برعکس آج ہم جیسے انسانوں کے پاس دل ہے لیکن بے جان، دماغ ہے لیکن بے روح اور کسی بے جان دل اور بے روح دماغ سے کوئی امید رکھنا فضول بلکہ پاگل پن ہے۔ یہی حقیقت حال آج کے ابن آدم کی ہے ا لا ماشاء اللہ۔ دو ٹانگوں پر کھڑاحیوان ناطق ترقی اور مادی دوڑ میں اس قدر گم صم ہو چکا ہے کہ اسے یاد ہی نہیں کہ وہ کیا ہے، کیوں ہے اور کب تک ہے؟ اس کی نظروں کے سامنے اس کا گھر، اس کا خاندان، اس کا معاشرہ اور اس کے وطن میں برائیوں، تباہی، ظلم وفساد میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے اور ہو ہے کہ اسے کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا۔ اب اگر کوئی بندۂخدا اس جانب توجہ مبذول کرانے کی کوشش کرتا ہے تو یا تو اس کی طرف دھیان ہی نہیں دیتا یا اگر دھیان دیا بھی تو اس کی باتوں کو نظر انداز کر کے اسے قدامت پسند ، ناکام ، فرسودہ خیال اور مفلس وکنگال جیسے لقب سے یاد کر کے زمینی حقائق سے فرار کی راہ اختیار کر لیتا ہے اور طرح طرح کے خار زاروں اور اسقام کی نذر ہو کر رہا جا تا ہے۔
اس لحاظ سے یہ خود فریبی کا شکار انسان خسارہ در خسارے ہی کا مستحق ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ آج ہمارے گھر بار، خاندان اور رشتے سکون واطمینان کے آشیانے نہیں بلکہ فساد وعناد اور بغض وحسد کے اکھاڑے بن چکے ہیں۔ ہمارے علاقے، محلے اور گاؤں نہ تو انسانیت کی پرچھائیاں ہیں نہ میل موانست کی چاشنی بلکہ ہم سب تھوڑے بہت فرق کے ساتھ آپس میں لڑنے والی بلا وردی فوج میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ اب کیا تو کیا کیا جائے؟ مذکورہ حالات سے گزر کر بھی اگر ہم نہ جاگے تو ہم سے بڑھ کر خسارے کا سودا کرنے والا کون ہو سکتا ہے؟ اس نام نہاد ترقی اور ماڈرن ازم سے جو ناکارہ اثرات ہم پر اور ہماری اجتماعی زندگی مرتب ہوچکے ہیں انہیں دیکھ کر بھی ہم نہ سدھریں اس سے بڑھ کر بدقسمتی اور کیا ہو سکتی ہے؟ حقیقی ترقی پانے کے لئے ایک ہی راستہہے کہ ہم اپنے قلب وذہن کے روگوں کا علاج کرائیں اور انسانیت ، محبت ، ہمدردی اور خداخوفی کے ماہر معالجین کے پاس جاکر ان کے عطا کردہ نسخے پر عمل کرنے میں کو ئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں۔ ہم سب کو یہ بات گرہ میں باندھ لینی چا ہیے کہ بہ حیثیت انسان ہم خود سے بیگانہ ہو چکے ہیں، ہمیں مادیت سے مارواء اپنے انسانی تشخص کی شناخت کرنا ہو گی، ہمیں جا ننا چا ہیے کہ انسان نے اپنی حقیقت کو بھلا کر صرف مادی دوڑ میں آگے بڑھنے کے لئے زور وشور سے مادیت کی حکمرانی تسلیم کی ہے اور جب تک اسے حقیقی ترقی اور حقیقی مسابقتی دوڑ کے اخلاقی سرحدوں کی واقفیت نہ ہو جائے تب تک وہ سب کچھ تو بن سکتا ہے لیکن حقیقی معنوں میں انسان نہیں بن سکتا۔ انسان بننے کے لئے اپنے اندر انسانی خصائل پیدا کرنا ضروری ہیں اور انسانی خصائل کی پہچان صرف اور صرف انسان بنانے والے واحدمعالج یعنی خداکے ہی پاس ہے۔ لہٰذا خدا بیزاری سے نکل کر خدا داد صلاحیتوں کا سہارا لے کر آگے آنے کے لیے کوشش کرنی ہو گی تب ہی ممکن ہے کہ انسان حقیقی انسان بن جائے گا ورنہ انسان انسان نہیں بلکہ مشین بن کر ایک دن بے کار ہو کر پُرزے پُرزے ہو جائے گا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ابراہیم جمال بٹ

کشمیر کے کالم نگار ہیں

متعلقہ

Close