معاشرہ اور ثقافت

تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

عبدالعزیز
اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا کی نام و نہاد متمدن، مہذب اور سپر پاورس (Super Powers) نے دہشت گردی کا جو بیج بویا تھا وہ برگ و بار لارہا ہے، جنھوں نے War on Terror (دہشت گردی کے خلاف جنگ) کا عنوان دے کر پوری دنیا کو مسلم ملکوں کا نقشہ بدل دینے کی دعوت دی تھی وہ اپنے آپ کو کامیاب اور کامران سمجھ رہے ہیں کیونکہ عراق، افغانستان اور شام تباہ و برباد کر دیا گیا۔ ترکی، ایران اور پاکستان کو بھی تباہ و برباد کرنے کا منصوبہ ہے۔ پاکستان پوری طرح زد میں آگیا ہے۔ ایران جو کبھی امریکہ کے خلاف تھا اب وہ بھی امریکہ کے جھانسے میں آتا نظر آرہا ہے۔ واحد ملک ہے ترکی جو ایک حد تک آزاد ملک ہے مگر اس کی آزادی کو بھی خطرہ لاحق ہے۔ امریکہ اور برطانیہ پوری طاقت لگا رہے ہیں اور اسے بھی مصر اور سعودی عربیہ کے راستہ پر ڈال دینا چاہتے ہیں۔
استنبول، ڈھاکہ اور بغداد میں جو کچھ ہوا ہے اس میں جو لوگ مارے گئے ہیں وہ نوے فیصد مسلمان ہیں۔ جولوگ اس کام میں ملوث ہیں ان کے نام مسلمانوں جیسے ہیں۔ گویا نام نہاد مسلمانوں کا ایک حصہ دہشت گردی کا بازار بڑی طاقتوں کی ایما اور اشارے پر گرم کئے ہوئے ہے۔ مسلم ملکوں سے یہ طاقتیں کہہ رہی ہیں کہ اگر ان کو قابو میں نہیں کرسکتے ہو (جن کو ہم نے جنم دیا ہے) تو ہمارے اندر اتنی طاقت اور صلاحیت ہے کہ ان کو ہم ڈرون حملے کے ذریعہ قابو میں کرسکتے ہیں۔ پاکستان نے سپر بابا کی بات مان لی جس کی وجہ سے پاکستان دہشت گردی کا کارخانہ بن گیا ہے۔ بنگلہ دیش کی حکومت اپنے سیاسی مخالفین کو Crush کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ پورے ملک میں ایمرجنسی جیسی صورت حال ہے انسانی حقوق پامال ہورہے ہیں۔ پچاس ہزار سے زائد لوگ جیلوں میں ہیں آئے دن کسی نہ کسی کو پھانسی کے پھندے میں لٹکانے کی خبریں بھی آتی ہیں مگر یہ سب حقوق انسان کی نہ پامال میں شمار ہونے کے لائق ہوتی ہیں اور نہ ہی ان کو حکومت کے تعاون سے ہونے والی دہشت و فساد سے جوڑا جاتا ہے۔ امریکہ اور برطانیہ میں سیکولرسٹ بلاگرس کی تربیت دی جاتی ہے جو قرآن یا پیمبرؐ خدا اور ازواج مطہراتؓ پر آئے دن کیچڑ اچھالتے ہیں۔ تسلیمہ نسرین ہمارے ملک میں پناہ گزیں وہ ملکی معاملات تک میں حصہ لیتی ہیں اور اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتیں۔ کلکتہ میں جب تک تھیں عیش پرستوں کے چنگل میں تھیں، وہی ان کی رہبری کرتے تھے اور وہی انھیں عقل و دانش فراہم کرتے تھے۔ اب وہ دہلی میں ہیں پوری دنیا کے جاہل عقلمندوں کی انھیں حمایت حاصل ہے۔ ایسے بے دین عیش پرستوں کے خلاف جو لوگ اکسا رہے ہیں اور جو ان کو تعاون دے رہے ہیں یہ وہی طاقتیں ہیں جو تسلیمہ اور راجیو حیدر جیسے لوگوں کو جنم دے رہی ہیں۔ ڈھاکہ کے گلشن باغ کے ریستوران میں جن نوجوانوں نے دہشت گردانہ حملے کرکے بے گناہ انسانوں کا خون کیا ہے ان کی پہچان بتائی جارہی ہے کہ یہ سب کے سب بنگلہ دیش کی سر زمین سے تعلق رکھتے ہیں، یہاں تک کہ ایک نوجوان کا تعلق حکمراں جماعت کے ایک ذمہ دار سے ہے جو ڈھاکہ یونٹ کا صدر ہے۔
استنبول کے ایئر پورٹ پر حملہ کرنے والوں کی شناخت آہستہ آہستہ ہورہی ہے ،ان میں کئی روس کے باشندے بتائے جارہے ہیں۔
اگر میڈیا یہودیوں اور نصرانیوں کے ہاتھوں میں نہ ہوتی تو بہت آسانی سے دنیا کو معلوم ہوجاتا کہ دہشت گردوں کی تربیت یا ٹریننگ کہاں ہورہی ہے اور ان کا اصل مقصد کیا ہے؟ جو لوگ میڈیا میں تھوڑی بہت سچائی سے کام لے رہے ہیں ان کی باتیں منظر عام پر مشکل سے آتی ہیں مگر مسلم مخالف میڈیا اس حقیقت کو کیسے چھپا سکتی ہے کہ دہشت گردی کو جو لوگ اسلام کے نام پر کر رہے ہیں خواہ ان کا کوئی نام ہو وہ اسلام اور مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن ہیں اور وہ سب سے زیادہ اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ وہ عالم وجود میں لائے ہی گئے اس لئے کہ مسلمانوں کو War on Terror کے نام پر نیست و نابود کر دیا جائے اور اسلام کو اس قدر داغ دار بنا دیا جائے کہ اس کا کوئی نام لیوا نہ رہ جائے۔ بس اسی گھٹیا پالیسی کے تحت دہشت گردی کے علمبردار دنیا بھر میں عمل پیرا ہیں۔ علامہ اقبالؒ نے ان کو بہت پہلے پہچان لیا تھا اور کہا تھا ع پیتے ہیں لہو دیتے ہیں تعلیم مساوات۔
اب تو کلیم عاجزؔ کی زبان میں تعلیم مساوات دینے والے کرامات کر رہے ہیں ؂
دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ ۔۔۔ تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close